موت وحیات کی حقیقت

قرآن کا نظریہ

*موت وحیات کی حقیقت قرآن کی نگاه میں…..

✍ :مصطفی علی روحانی*

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اللہ کے نام سے شروع کرتاہوں جو بڑا مہربان رحم کرنے والہ ہے۔
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱﴾
۱۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضے میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ ۙ﴿۲﴾
۲۔ اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون بہتر ہے اور وہ بڑا غالب آنے والا، بخشنے والا ہے۔
(وھو الذي خلق الموت والحياة ليبلوكم ايكم احسن عملا)
مذکورہ آیت کریمہ سے نکتہ عرض کروں گا:
۱۔ موت اور حیات مخلوق ہے۔
۲۔ وجہ تخلیق موت و حیات بہترین عمل ہے۔
اللہ تعالی نے اس جملے میں لفظ ”خلق“ کے ذریعے سے صاف بیان فرمایا ہے کہ موت اور حیات مخلوق خدا ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ موت کیسے مخلوق ہوسکتاہے جبکہ اس کا خارج میں کوئی وجود نہیں کوئی حقیقت کوئی مصداق کوئی افراد نہیں ہیں اگر مخلوق ہے تو ہمیں کیوں نظر نہیں اتاہے؟
تو اس سوال کا جواب ان لوگوں کیلئے مشکل ہے جو موت کا معنی معدوم لیتےہیں وہ جو انسان کے فناء ہونے کے قائل ہیں جبکہ ہمارے نزدیک موت کا معنی معدوم نہیں بلکہ انتقال من الحیات الی لقاءاللہ ہے ہماری روح کا جسم کی قید سے آزاد ہونے کا نام موت ہے بلکہ موت کا مطلب ترقی ہے یا نقل مکانی ہے وہ بھی کرائے کے مکان سے اپنے حقیقی اور ابدی مکان کی طرف منتقل ہوناہے۔ کیونکہ امام الھادی علی النقی علیہ السلام فرماتےہیں: ”الدنيا سوق ربح فيھا قوم وخسر آخرون“۔
دنیا ایک بازار ہے جس میں کچھ لوگ فائدہ لیتے ہیں اور کچھ لوگ گھاٹہ اٹھاتے ہیں۔
جس انسان کا ہدف بازار نہیں بلکہ وہ بازار سودا لینے گیا تھا اب سودا لیکر واپس گھر اجاتاہے۔ دن تجارت کرنے کیلئے بازار جاتاہے رات اپنے گھر واپس اجاتاہے ، اسی طرح انسان اس دنیا میں رہنے کیلئے نہیں ایا بلکہ اس کا اصل اصل مسکن آخرت ہے۔ انسان نفع و نقصان میں بھی سب یکساں نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ جنہوں علم (معیشت) پڑھاہو ان کو جتنا فائدہ ہوگا اتنا فائدہ عام تعلیم یافتوں کو نہیں ہوگا اسی طرح جتنا فائدہ تعلیم یافتہ لوگوں کو ہوگا اتنا فائدہ غیر تعلیم یافتوں گا سو کچھ لوگ زیادہ فائدے لیتےہیں تو کچھ کم تو لوگوں کو زیادہ نقصان ہوتاہے کچھ لوگوں کم نقصان ہوتاہے۔
اسی طرح اس کائنات میں بھی اطاعت گزارای کے لحاظ عمل صالح،احسن عمل کے لحاظ سب برابر نہیں بلکہ عابد اور عالم کی عبادت میں فرق ہے ہم سب کی عبادت اور ائمہ اطھار کی عبادت گزاری میں فرق ہے بلکہ احسن عمل کا کامل ترین اور عظیم ترین اور واضح مصداق،فرد اتم رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ والسلم اور انکے اہلبیت ہیں اسی لئے وجہ تخلیق کائنات کے سلسلے میں اللہ تعالی حدیث قدسی میں ارشاد فرماتاہے : ”لولاك لما خلقت الافلاك “ احسن عمل میں رسول اللہ کا ہمسر کوئی بھی نہیں ہوسکتاہے۔ اور کون احسن عمل کرتاہے کون نہیں کرتاہے کون قابل ہے لائق ہے کون نا قابل ہے نا لائق ہے یہ آزمائش سے ہی پتہ چلتاہے لھذا اللہ تعالی موت اور حیاۃ کے بارے میں فرمایاکہ ”لیبلوکم ایکم احسن عملا“ تاکہ آزمائے کون احسن عمل کا مصداق ہے کون نہیں ہیں۔ پس اگر ہم سب کو خلق کرکے اس کائنات میں لایاہے تو امتحان کیلئے آزمائش کیلئے لایا پیغمبر ؐ کی سیرت عمل کا دنیا کو پتہ چلے آپ جیسا کون ہوسکتاہے اخلاق میں خلق عظیم کا مالک ہے علم میں آپ معلم ہے ساری کائنات کیلے سایه رحمت ہے ایک شخص نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ میں سنا عرش الٰہی پر دایاں طرف حضرت ابراہیم کا نام اور بائیں طرف آپ کا اسم گرامی لکھا ہواہے اسکی کیا وجہ ہے جبکہ دایاں طرف افضل ہے تو آپ نے فرمایا چونکہ دایاں طرف جنت ہے بایاں جہنم ہے لھذا میرا نام وہاں اس لئے لکھا تاکہ میرا نام میری کیلئے امت کو جہنم کی آگ سے ڈھال بنے۔ آپ نے پوری زندگی اسلام کیلئے وقف کردیا زحمتیں ٹھائیں صبر کیا داندان اطہر شھید ہوئے۔
آپ پر کوڑا کرکٹ پھینکے گئے حتی کہ طائف کے بچوں نے آپ پر پتھر مارے آپ جسم زخموں سے چور چور ہوا آپ کا نعلین خود سے بھر گیا تھا تب بھی آپ نے بدعا نہیں کی بلکہ فرمایا خدا یا آپ ان لوگوں کو ھدایت عطا فرمائے ان پر عذاب نازل نہیں کرنا یہ لوگ یہ نہیں جانتےہیں کہ میں کون ہوں آخری سانس تک آپ امت کی فکر کرتےرہیں۔…
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More