مصر کے نومنتخب صدر نے عوام کے سامنے حلف اٹھالیا

مصرے کے نومنتخب صدر محمد مرسي نے آج ملک کي آئيني عدالت کے روبرو اپنے عہدے کا حلف اٹھايا ليکن اسے پہلے انہوں نے جمعے کي رات قاہرہ کے التحرير اسکوائر پر لاکھوں کے اجتماع ميں عوام کے سامنے علامتي طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھاليا تھا۔

مصرکے نومنتخب صدر نے عوام سے جو وعدہ کيا تھا اس کے مطابق جمعے کي رات قاہرہ کے التحرير اسکوائر ميں لاکھوں کي تعداد ميں موجود مصري عوام کے سامنے اپنے عہدے کا حلف ليا۔

اس موقع پر انہوں نے پورے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اور طاقت کا سرچشمہ مصري عوام ہيں۔ انہوں نے کہا کہ کوئي بھي ادارہ يا کوئي بھي طاقت عوامي طاقت سے بالاتر نہيں ہے۔محمد مرسي نے اسي طرح زور دے کر کہا کہ مصر ميں آمريت اور فرد واحد کي حکومت کا دور ختم ہوگيا ہے اور اب اس ملک ميں انصاف اور قانون کي حکمراني کا آغاز ہوچکا ہے۔

مصري عوام کے انقلاب کي کاميابي کے بعد پہلے عوامي صدر نے عوام سے وعدہ کيا کہ وہ پورے ملک ميں قانون کي حکمراني کو يقيني بنائيں گے اور مصر کو اس کا اصلي مقام دلائيں گے۔مصر کي خارجہ پاليسي کے بارے ميں بھي محمد مرسي نے کہاکہ وہ خارجہ تعلقات کي برقراري ميں کسي کا بھي دباؤ قبول نہيں کريں گے اور اس سلسلے ميں وہ کسي کي پيروي بھي نہيں کريں گے- انہوں نے کہا کہ داخلہ اور خارجہ پاليسي ميں ان کے نزديک معيار ملک کا مفاد ہوگا۔

مصر کي تاريخ ميں ايسا پہلي بار ہوا ہے کہ ايک صدر عوام کے درميان اس طرح حاضر ہوا ہو اور اس نے اپنے عہدے کا حلف عوام کے سامنے اٹھايا ہو۔عوام کے سامنے تقريب حلف برداري اگر چہ علامتي نوعيت کي تھي ليکن اس سے اس بات کو کوشش کرنے کي کوشش کي گئي کہ انہوں نے مينڈيٹ اور اعتماد عوام سے حاصل کيا ہے اور عوام نے انہيں اس کي اجازت دي ہے۔اس کےعلاوہ ان کي جانب سے فوجي کونسل کو ايک طرح کا پيغام بھي ہوسکتا ہے۔ بہرصورت محمد مرسي کا يہ اقدام ان کے لئے ايک مثبت پوائنٹ تصور ہوسکتا ہے کم ازکم اس زاويئے سے کہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کرديا اور مصري عوام کے سامنے قاہرہ کے التحريراسکوائر پر جو اب مصر کے عظيم انقلاب کي علامت بن چکا ہے اپنے عہدے کا حلف اٹھايا۔

ايسا لگتا ہے کہ محمدمرسي نے ملکي مفادات کو ہر دوسري چيز پر ترجيح ديا ہے کيونکہ فوجي کونسل نے کچھ دنوں قبل اعلان کيا تھا کہ اگر مرسي نے آئيني عدالت کے روبرو اپنے عہدے کا حلف نہيں اٹھايا تو وہ اپنے عہدہ صدارت کي خلاف ورزي کريں گے۔

اس ميں شک نہيں کہ اخوان المسلمين اور خاص طور پر مصري عوام کے منتخب صدر جنھوں نے عہدہ صدارت تک پہنچنے کے لئے سخت مراحل کو طے کيا ہے مصر کي مصلحت اسي ميں سمھجھي ہے کہ وہ کم ازکم فوجي کونسل کے اس مطالبے کو مان ہي ليں جو ابھي بھي اقتدار پر قابض ہے۔ مصر کو اس وقت خطرناک صورت حال کا سامنا ہے- فوجي کونسل نے ابھي اقتدار عوام کے منتخب صدر کے حوالے نہيں کيا ہے اور ابھي ملک کے بہت سے اہم فيصلوں کا اختيار اور ويٹو پاور فوجي کونسل کے ہي پاس ہے- اس بات کو محمد مرسي بھي جانتے ہيں اسي لئے انہوں نے کوشش کي کہ اپنے مشکل راستے کا آغاز کسي درد سرکے بغير کريں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.