مسير تشيع

امام حسين کي شہادت کے بعد ائمہ نے اس بات کو بخوبي درک کرليا کہ ابتدائي گروہ کے جانے بعد اب صرف يہي باقي ہيں اور ان ميں عقيدتي وہ پختگي نہيں آئي ہے جو قيام کي مطلوبہ اہليت کي حامل ہو اور اس کو حاصل کرنے کے لئے جسماني قرباني بہت پيش کي ہے، لہٰذا انھوں نے ادھر سے رخ موڑ ليا، ايک نئي چيز کي جانب وہ تھي شيعوں کي ثقافتي تربيت ان کے قلب و دماغ ميں عقيدوں کي پختگي اور انحرافي راہوں سے ان کي حفاظت، جو کہ عباسي سلاطين کے دور حکومت اور زير سايہ

امام حسين کي شہادت کے بعد ائمہ نے اس بات کو بخوبي درک کرليا کہ ابتدائي گروہ کے جانے بعد اب صرف يہي باقي ہيں اور ان ميں عقيدتي وہ پختگي نہيں آئي ہے جو قيام کي مطلوبہ اہليت کي حامل ہو اور اس کو حاصل کرنے کے لئے جسماني قرباني بہت پيش کي ہے، لہٰذا انھوں نے ادھر سے رخ موڑ ليا، ايک نئي چيز کي جانب وہ تھي شيعوں کي ثقافتي تربيت ان کے قلب و دماغ ميں عقيدوں کي پختگي اور انحرافي راہوں سے ان کي حفاظت، جو کہ عباسي سلاطين کے دور حکومت اور زير سايہ جنگي صورت ميں جنم پائي تھي، لہٰذا امام سيد سجاد نے اس تحريک کو اسلام کي حقيقي تعليم کي صورت ميں لوگوں تک پھيلانا شروع کرديا اور ايسے محافظين کي تربيت شروع کي جو اسلام کي راہ و رسم کو زندہ رکھ سکيں اور سنت نبوي کو اجاگر کرسکيں، ہر چند کہ شہادت امام حسين کے بعد بہت ہي مشکل کام تھا اور اموي سلطانوں نے شيعوں پر عرصہ حيات تنگ کر کے ان کو بہت گھٹن ميں مبتلا کرديا تھا اور اہل بيت کي نقل و حرکت پر گھات لگائے تھے، سيد سجاد کي تحريک بعض مشکلات کے روبرو تھي ،جب آپ کے فرزند امام محمد نے امامت سنبھالي تو حالات کچھ بہتر ہوئے، اس وقت اموي حکمرانوں کي گرفت تھوڑي ڈھيلي پڑ رہي تھي اور امام کو اتني مہلت مل گئي کہ گذشتہ دنوں کے بنسبت شيعوں کوجمع کر کے علوم اسلامي کو ان تک پہنچا سکيں، جب ان کے فرزند امام صادق کا دور امامت آيا تو اموي حکومت کا سورج بس غروب کے پردے ميں جانے ہي والا تھا اور جابر سلطانوں کي ساري مشغوليت خانہ جنگيوں کو کچلنا رہ گئي تھي، عباسي خلفاء کي سلطنت کا طلوع امام صادق کے لئے سنہري موقع تھا کہ وہ علوم اسلامي کو دل بخواہ کيفيت ميں لوگوں تک منتقل کرسکيں-

آپ مسجد نبوي ميں تشريف فرما ہوتے اور مختلف شہروں سے طلاب علوم آپ کے گرد حلقہ بنا ليتے، ان کي تعداد ہزاروں ميں پہنچ گئي تھي يہ واقعاً شيعوں کے لئے ايک طلائي فرصت تھي کہ امام سے ملاقات کرسکيں اور علوم آل محمد سے سيراب ہو سکيں، ان کے مقابل ان انحرافيوں کا مکتب و مرکز تھا جن کے باني اموي سلاطين تھے وہ اپني فکروں کو فروغ دينے ميں دن ورات مشغول تھے-

ائمہ اہلبيت  مسلحانہ انقلاب سے دوري اختيار کرچکے تھے جو حکومت کي بيخ کني کرے، اس لئے کہ اس وقت شيعوں کي تعداد اتني نہيں تھي جو مقصد کو حاصل کرسکے اور انقلاب کي ذمہ داري کو سنبھال سکے اور جن قربانيوں کي ضرورت تھي ان کو پيش کرسکے، اس وقت ثقافت و تعليم کي جانب رخ موڑ دينا کامياب نہ ہونے والے انقلاب سے کہيں بہتر تھا، اور اس بات کي پوري تائيد حضرت زيد بن علي کا مسلحانہ انقلابي اقدام ہے جو انھوں نے اموي سلاطين کے خلاف کيا تھا اور ان کے قتل پر ختم ہوگيا تھا اوراہل کوفہ نے ان کا ساتھ اسي طرح چھوڑ ديا جس طرح ان کے آباء و اجداد کے ساتھ غداري کي تھي-

يہ اس بات کي غماز ہے کہ وہ لوگ خيمہ انقلاب کي حفاظت کي بالکل صلاحيت و لياقت نہيں رکھتے تھے-

عباسي حکمرانوں کي ابتدائي زندگي ميں نسبتاً سہولت تھي اور يہ موقع شيعہ حضرات کے لئے غنيمت تھا تاکہ اہل بيت سے علوم اسلامي کو حاصل کرسکيں خاص طور سے امام صادق جن کي وجہ سے مذہب اہل بيت مذہب جعفري کہلايا-

ہاں يہ اور بات ہے کہ اس طلائي فرصت کو اس وقت گہن لگ گيا جب لوگوں کا ہجوم در اہلبيت پر ديکھا تو عباسيوں کو بہت قلق ہوا، خاص طور سے اس عباسي دعوت کي حقيقت واضح ہوگئي جس کي بنياد ظاہراً اس بات پر تھي کہ آل محمد کے پسنديدہ شخص کي طرف لوگوں کو دعوت دي جائے-

جب لوگوں کے سامنے ان کي اس دعوت نامہ کي قلعي کھل گئي اور لوگوں کي شورش اور آل محمد کے جھنڈے تلے جمع ہونے سے خائف ہوگئے، تو ائمہ اور ان کے ساتھيوں پر سختي شروع کردي، اور سادات کرام کي جانب سے اٹھنے والے ہر انقلاب کو نہايت بيدردي کے ساتھ دبا ديا-

شيعوں پر شکنجے کس ديئے ائمہ کرام پر کڑي نظر رکھني شروع کردي حد يہ کہ برسہا برس کے لئے زندانوں ميں قيد کرديا، جيسا کہ رشيد نے امام موسيٰ کاظم کے ساتھ کيا، يا ان کے آبائي وطن مدينہ منورہ سے جبراً نکال کر ان کو عباسي حکومت کے دار السلطنت ميں رہنے پر مجبور کيا، جيسا کہ امام رضا کے بعد باقي تمام ائمہ، امام حسن عسکري تک، سب کے ساتھ يہي برتاؤ کيا-

وہ زمانہ بہت ہي سخت تھا عباسي حکمرانوں نے جو پہرہ بٹھايا تھا ان دنوں کوئي شيعہ آزادانہ طور پر اپنے امام سے ملاقات نہيں کرسکتا تھا، يہ زمانہ چلتا رہا يہاں تک کہ امام حسن عسکري کو يرغمال بناليا جب ان کو حضرت حجت کي ولادت کي خبر ہوئي، جو کہ الٰہي تدبير کے سبب لوگوں کي نگاہوں سے غائب رہے، آپ کي غيبت صغريٰ تقريباً ستر (70) سال کے عرصہ پر محيط تھي، آپ اور آپ کے شيعوں کے درميان رابطہ نواب اربعہ ”‌جو کہ ان کي وکالت کا کام کرتے تھے“ ان کے ذريعہ رہا، يہاں تک کہ غيبت کبريٰ کا زمانہ شروع ہوگيا، اہل بيت کے بعد شيعہ مراجع کرام، علمي ، ديني، سياسي طور پر مکمل مرکز قرار پائے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

16 − ده =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More