شیعوں پر وھابیوں کے اعتراضات

شیعہ مذھب کے وجود میں آنے سے متعلق وھابیوں کے اعتراضات

وھابیوں کے اذیت کنندہ اور خائنانہ اعتراضوں میں سے ایک یہ بھی ھے شیعہ مذھب کو یھودیوں سے منسوب ھے، اور تعجب کا مقام تو یہ ھے کہ یھی وہ حربہ ھے کہ جسے “گلدزیھر” جیسے یھودیوں کی خدمت کرنے والوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ھے اور ایک افسانہ عبدالله بن سبا کے نام سے بھی گڑھا ھے، اور اس میں اتنا زیادہ دروغ گوئی اور جھوٹ سے کام لیا گیا ھے کہ جس کی حد نھیں، کبھی تو شیعہ مذھب کو مجوسیوں اور آتش پرستوں کی ایجاد کردہ بتایا ھے تو کبھی شیعہ مذھب کو یھودیوں کی ایجاد بتایاھے تو کسی جگہ پر “فراماسیو نوں ” ( تہذیب و تمدن کا نعرہ لگانے والے) کا موجد بتایا گیا ھے، جبکہ ان کے پاس اس بات کے لئے کوئی دلیل موجود نھیں ھے، یہ ھے وھابیوں کا واقعی طریقہ کار کہ بغیر ثبوت کے بولتے اور کتابیں لکھتے ھیں اور ایسا ظاھر ھوتا ھے کہ گویا انھوں نے شیعوں سے متعلق سارے مسائل اور حقائق کو عالَم غیب سے حاصل کیا ھے اسلئے کسی ثبوت کو پیش کرنے کی ضرورت نھیں سمجھتے۔

کسی بھی طرح کی کوئی تھمت لگانے میں دریغ نھیں کرتے، اور نہ ھی کسی قسم کی کوئی سند اپنے ان شیطانی اور آزار دھندہ الزامات کے سلسلہ میں پیش کرتے ھیں، در اصل اس مذھب میں فکر اور اندیشہ کی حیثیت ، اور یہ ھے اسلامی وحدت کے شعار اور نعروں کی حقیقت ! اور یہ ھے آزادی و آزادطلبی کی صدا جو کعبہ سے بلند کی جاتی رھی ھے ، بلا وجہ اپنے مخالفین کی فکروں پر پردہ ڈالنا، گالیاں دینا اور بے ھودہ الفاظ سے یاد کرنا در حقیقت یہ ھے اصلاح کا نعرہ لگانے والوں، توحید کے حامیوں، دین کی نسبت فکرمند رھنے والوں اور اپنے سلف صالح کی فکروں کو زندہ رکھنے والوں کا طریقہ کار، آپ انصاف سے بتائیں کب پیغمبر (ص) کا طرز عمل ایسا تھا ؟ وہ رسول (ص) جو اپنے پیروکاروں کو غور و فکر، تدبر اور دلیل سے کام لینے کا حکم دیتا ھے ” قُل ہَاتُوا بُرہَانَکُم اِن کُنتُم صَادِقِینَ۔”

یہ سیاہ قلب، متعصب اور ملحد گروہ، خدا کے دین کو اپنی ھوا و ھوس پر قربان کئے ھوئے ھے، کسی قسم کی کوئی بھی تھمت لگانے سے دریغ نھیں کرتے، اسی لئے کہتے ھیں کہ یہ مذھب فراماسونیوں کی ایجاد ھے، جبکہ وہ بچہ بھی جو مذھب شیعہ کی الفباء کو جانتا ھو ، اس کو معلوم ھے کہ فقط شیعہ مذھب ھی وہ مذھب ھے جو پوری تاریخ میں ظالموں، خفیہ ایجنٹوں سامراجوں کی روٹیوں پر پلنے والوں، ظالم حکومتوں اور رسول (ص) کی خلافت کو غصب کرنے والوں سے بر سر پیکار رھا ھے، اور تاریخ میں تجاوز کرنے والوں اور جلادوں سے جنگ کرتا رھا ھے، کیا فراماسیونوں کے ایسے ھی اعمال تھے؟ کہ اپنے ھاتھوں ایک ایسا مذھب ایجاد کریں کہ جو خود انھیں سے ھمیشہ برسرپیکار رھے، شیعہ مذھب تو وہ مذھب حقہ ھے جس نے خود ھی فراماسونیوں اور ان کے نوکروں سے جھاد کیا ھے ، وھابی حضرات کی یہ بیھودہ اور باطل باتیں ھماری نظر میں اس قابل ھی نھیں کہ ان کے بارے میں بحث کریں لیکن صرف اسلئے کہ کسی کے ذھن میں کوئی شبہ باقی نہ رھے ، تھوڑی وضاحت کئے دیتے ھیں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More