دلائل اثبات امامت

سلسلہٴ نشستھائے معارف اسلامی کی یہ چوتھی نشست ھے جس میں امامت کے متعلق گفتگو کرنا ھے اور یہ گفتگو نو دلیلوں پر مشتمل ھو گی ۔
تمام علمائے اسلام اس بات پر متفق ھیں کہ انبیائے الٰھی میں مندرجہ ذیل صفات کا ھونا ضروری ھے۔ ان صفات و خصوصیات کے متعلق اھلسنت و شیعہ کے درمیان کوئی اختلاف نھیں ھے ۔

(۱) پھلی صفت جو ایک نبی کے لئے ضروری ھے وہ یہ ھے کہ اس کے پاس وسیع علم ھونا چاھئے یعنی وہ تمام چیزیں جو ھدایت بشر کے لئے ضروری ھیں نبی انھیں جانتا ھو ۔ ایسا کوئی بھی مسئلہ جو لوگوں کی ھدایت کے لئے ضروری ھو اور نبی اس کو نہ جانتا ھوتو پھروہ نبی نھیں کھلایا جاسکتا۔

(۲) دوسری صفت یہ ھے کہ وہ عظیم قدرت و طاقت کا حامل ھو ۔ھماری کتابوں میں اس طاقت کو بعنوان معجزہ ذکر کیا جاتا ھے ۔ آدم سے لے کر خاتم تک کسی نبی نے یہ نھیں کھا کہ ھم عام لوگوں کی طرح صرف معمولی کام انجام دے سکتے ھیں غیر معمولی کام انجام دینے سے قاصر ھیں ۔ اگر کوئی نبی اس بات کو کھے تو یقینا وہ نبی نھیں ھو سکتا لھذا نبی کو حتماً صاحب اعجاز ھونا چاھئے۔ اگر وہ چاھے تو درخت چلنے لگے ،ایک خشک درخت کو ھرا بھراا ور پھل دار بنا دے اور یہ سب کچھ آن واحد میں ھو جائے ۔علم کلام کی روشنی میں اسے ولایت تکوینی سے موسوم کیا جاتا ھے یعنی نبی تکوینیات میں بھی دخیل ھو سکتا ھے ۔معجزہ وہ دلیل ھے جس کی بنا ء پر لوگ ایک نبی کی نبوت کو تسلیم کرتے ھیں لھذا نبی کے پاس وسیع علم کے ساتھ ساتھ معجزہ بھی ھونا چاھئے ۔
یہ ایک طویل بحث ھے ۔مختصر یہ کہ نبی اور ایک معمولی انسان کے درمیان یہ فرق پایا جاتا ھے کہ نبی خارق عادات و غیر طبیعی امور کو انجام دے سکتا ھے لیکن معمولی انسان غیر طبیعی امور کو انجام نھیں دے سکتا ۔

(۳ ) تیسری صفت جو ایک نبی میں ھونی چاھئے وہ عصمت ھے یعنی نبی عالم غیب سے ایک آئین زندگی حاصل کرے اور لوگوں کے حوالے کر دے تاکہ لوگ اس آئین زندگی کو اپنے وجود کا حصہ بنا کر منزل کمال سے ھم کنار ھوسکیں ۔اس کا عالم غیب سے آئین زندگی کا حاصل کرنا ،اپنے پاس محفوظ کرنا اور لوگوں تک پھنچاناوغیرہ جیسے تمام مراحل کے لئے عصمت کا ھونا ضروری ھے ۔ یھی وجہ ھے کہ نبی تمام صورتوں اور حالات میں غلطی سے محفوظ ھوتا ھے ۔

(۴ ) چوتھی صفت جو ایک نبی کے لئے ضروری ھے وہ یہ ھے کہ عالم وحی اور فرشتوں سے اس کا ارتباط ھو۔ یہ صفت مذکورہ صفات کا لازمہ ھے۔ اگر کوئی نبی یہ کھے کہ اسکا عالم وحی سے کوئی رابطہ نھیں ھے توقطعاً نبی نھیں ھو سکتا ۔بھرحال کسی نہ کسی صورت میں اس کا رابطہ عالم وحی سے ھونا چاھئے خواہ براہ راست ھو یا با لواسطہ حتیٰ عالم خواب میں ، اس لئے کہ یہ رابطہ اس کو ان تمام گذشتہ صفات کا حامل بناتا ھے ۔

( ۵ ) پانچویں صفت ان انبیاء سے مخصوص ھے جواولو العزم اورصاحب کتاب و شریعت ھیں ۔انھیں تمام فضائل و کمالات کی بنا پر وہ تمام افراد سے افضل ھوتے ھےں اور لوگ ان کی اتباع کرتے ھیں ۔ اگر یہ فضائل ان کے اندر نہ پائیں جائیں تو ان کی لائی ھو ئی کتاب و شریعت کا نفاذ معاشرہ میں نھیں ھو سکتااور نہ ھی انھیں کوئی تسلیم کر سکتا ھے۔کیونکہ مزاج انسانی اس بات کی اجازت نھیں دیتا کہ کمال سے عاری انسان کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے ۔

(۶ ) چھٹی صفت یہ ھے کہ نبی کا انتخاب صرف خدا کر سکتا ھے ۔ بندہ کو یہ حق حاصل نھیں ھے کہ وہ نبی کو انتخاب کرے کیونکہ اس کے لئے کہ صلاحیت درکار ھوتی ھے ۔ جو خصوصیات انبیا ء کے لئے بیان کی گئیں ھیں وہ ایسی خصوصیات نھیں ھیں جنھیں عوام الناس تشخیص دے سکیں مثلاًوسیع علم ، معجزہ ، عصمت اور عالم غیب سے رابطہ وغیرہ ۔یہ عام لوگوں سے بالاتر چیزیں ھیں لیکن ان میں صرف معجزہ ھی ایسا امرھے جس کو عوام تشخیص دے سکتے ھیں ۔پوری تاریخ میں یہ کھیں نھیں ملتا کہ کسی نے کبھی یہ کھا ھو کہ نبی کا انتخاب ھم کریں یا خدا ، یا پھلے ھم منتخب کریں بعد میں خدا تصدیق کر دے، یا پھلے خدا تعارف کرا دے بعد میں ھم منتخب کرلیں ، یا ھم تعارف کرا دیں اور خدا اسے منتخب کرے،سب صورتیں مساوی ھیں ۔

(۷)ساتویں صفت یہ ھے کہ نبی معزول نھیں ھوتا یعنی کبھی بھی کوئی یہ نھیں کھہ سکتا کہ فلاں نبی ایک مدت تک نبی تھا اور بعد میں لوگوں نے جمع ھو کریہ کھہ دیا کہ تم اب نبی نھیں رھے۔ اس لئے کہ خدا وند متعال نبی کے کردار کو مستقبل کے آئینہ میں دیکہ کر درجہٴ نبوت پر فائزکرتا ھے تاکہ بعد میں معزول کرنے کی نوبت ھی نہ آئے ۔پوری تاریخ میں ایسی کوئی مثال نھیں ملتی کہ اللہ نے کسی نبی کو معزول کیا ھو ۔ اجتماعی مسائل میں تو لوگوں کو انتخاب و معزول کرنے کا اختیار ھے لیکن مسئلہ پیغمبری میں لوگوں کو یہ حق نھیں ھے ۔

(۸) آٹھویں صفت یہ ھے کہ نبی مستعفی نھیں ھو سکتا یعنی وہ یہ نھیں کھہ سکتا کہ ایک عرصہ سے کام کرتے کرتے میں تھک گیا ھوں لھذا اب اپنے عھدے سے استعفی دینا چاھتا ھوں ۔بسا اوقات اپنے معاشرہ میں نظر آتاھے کہ ایک شخص اھلیت نہ ھونے کے با وجود یہ کھتا ھے کہ آخر ھم کتنا کام کریں دس سال ، بیس سال یا تیس سال ،اب ھمت جواب دے گئی ھے لھذا اب میں اپنے عھد ہ سے سبکدوش ھونا چاھتا ھوں مگر نبوت ایسا عھدہ نھیں ھے کہ خدا جب چاھے معزول کردے اور جب چاھے نبی استعفی دے دے ۔

(۹) نویں صفت یہ ھے کہ نبی کے لئے سن و سال کی قید نھیں ھوتی ھے۔جب کہ معاشرہ کے تمام عھدوں کے لئے عمر کی قید حتمی ھوتی ھے ۔خدائی عھدوں کے لئے سن و سال کی کوئی قید نھیں ھوتی ھے اور اس کے متعلق ھمارا عقیدہ ھے کہ یہ عھد ہ عالم غیب سے متعین ھوتا ھے ۔چونکہ اس عھدے میں کچھ خصوصیات ھوتی ھیں جن کی بنا پر اللہ نبی کو مبعوث کرتا ھے ،خود قرآن مجید میں بھی اس کی تصریح موجود ھے ۔حضرت عیسیٰ (ع) کا قول نقل کیا گیا ھے کہ انھوں نے کمسنی میں فرمایا : وجعلنی نبیاً و جعلنی مبارکاً ۔

(۱۰) دسویں صفت یہ ھے کہ وہ زاھد و عابد ھو۔ جیسا کہ دعائے ندبہ میں موجود ھے ” ان شرطت علیھم الزھد فی درجات ھذہ الدنیا الدنیة“ اس لئے کہ دنیا پرست نبی نھیں ھو سکتا ۔نبی کے لئے زھد شرط ھے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں خلوص اور صبر و تحمل جیسے صفات کا ھونا بھی ضروری ھے ۔رسول اکرم فرماتے ھیں :” مااوذی نبیاً مثل ما اوذیت“ کہ جتنی اذیت مجھے دی گئی اتنی کسی نبی کو نھیں دی گئی ۔ لھذ ا نبی کو صابر بھی ھونا چاھئے۔
یہ تمام صفات و خصوصیات جو انبیا ء کے لئے بیان کی گئی ھیں امام میں بھی ھونا چاھییں ۔اس لئے کہ مذھب تشیع میں ایک بنیادی بحث یہ ھے کہ امامت نبوت ھی کا سلسلہ ھے۔ اب سوال یہ ھے کہ امام کس طرح سلسلہٴ نبوت سے ھے ۔اس سوال کے جواب کے لئے عقلی و نقلی دلائل مندرجہ ذیل ھیں :
عقلی دلیل

اگر عقائد و کلام کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے توواضح ھو جاتا ھے کہ جو دلائل ضرورت نبوت کے لئے بیان کئے گئے ھیں وھی دلائل ضرورت امامت کے لئے بھی پیش کئے گئے ھیں ۔ علم کلام میں ایک موضوع یہ ھے کہ کیوں ضروری ھے کہ خدا نبی کو بھیجے ؟اس بحث میں جو دلائل ذکر کئے گئے ھیں وھی دلائل ضرورت امامت کے لئے کافی ھیں ۔خدا نے بشر کو کسب کمال کےلئے پیدا کیاھے اور کمال تک پھونچنے کے لئے استاد و معلم کی ضرورت ھوتی ھے لھذا ضروری ھے کہ کوئی نبی ھو جو لوگوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ کمال تک پھونچائے اور بعینہ یھی دلیل نبی کے بعدسو فیصد امام کے لئے بھی منطبق ھو گی کہ جب کوئی نبی موجود نہ ھو تو ایک ایسا معلم ھونا چاھئے کہ جو سلسلہٴ تعلیم کو جاری رکھے اور یھی جملہ کتاب ”مسند الجواد “(یہ وہ کتا ب ھے جس میں امام جواد (ع) سے مروی روایتیں جمع کی گئیں ھیں ) میں موجود ھے کہ ” الامامة تجری مجری النبوة“ امامت، قائم مقام نبوت ھے یعنی وہ تمام خصوصیات جو نبی میں ھوتی ھیں وہ امام میں بھی ھونا چاھییں ورنہ وہ قائم مقام نبوت نھیں ھو سکتا ۔اس مقام پر اگر غیر شیعہ علماء نے”الامامة تجری مجری النبوة “ کے ساتھ ساتھ مذکورہ صفات کو قبول کر لیا تو ٹھیک ھے ورنہ ان سے بحث کرنا لا حاصل ھے جیسا کہ بعض اھل سنت حضرات ان باتوں کو تسلیم نھیں کرتے ۔فرض کیجئے کہ اگر کوئی شیعہ یہ کھے کہ خلیفہ اول نے تو خود ھی اپنی غلطی کا اعتراف کیا ھے لھذا وہ امام نھیں ھو سکتے تو سامنے والا جواب دے گا کہ امام کیوں نھیں ھو سکتے اس لئے کہ امام اسے کھتے ھیں جس میں غلطی و گناہ کا امکان پایا جاتاھو ۔ لیکن مکتب اھل بیت علیھم السلام میں امامت بمنزلہ ٴ نبوت ھے۔ اس لئے امام کے لئے بھی ضروری ھے کہ وہ نبی کی طرح وسیع علم ، معجزہ ، عصمت کا مالک ھو اور عالم غیب ھونے کے ساتھ ساتھ تمام لوگوں سے افضل بھی ھو لھذا جس میں یہ صفات پائیں جائیں وہ امام ھو سکتا ھے اور جس میں نہ پائی جائیں وہ امام نھیں ھو سکتا ۔
نقلی دلیل

قرآن مجید میں عصمت کے متعلق بھت سی آیتیں موجود ھیں ، ان ھی میں سے ایک یہ ھے کہ ” یا ایھا الذین آمنوا اتّقوا اللہ و کونوا مع الصادقین “( اے ایمان لانے والو! تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ ھو جاؤ )۔ اس کے علاوہ حضرت علی (ع) نے نھج البلاغہ میں اور ائمہ اطھار (ع) نے بھی اپنے اقوال میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ھے۔جیسا کہ زیارت جامعہ میں ھم پڑھتے ھیں ” معدن العلم و الرسالة “آپ معدن علم و رسالت ھیں ۔ اسی طرح معجزہ کے لئے فرمایا گیا ھے : ” ان ذلّ کل شئی عندکم “ یعنی ھر شئی آپ کے سامنے خاضع ھے۔آپ جو چاھیں کر سکتے ھیں ۔ھمارے مذھب میں جو امامت کا مفھو م ھے اس کے اعتبار سے کوئی دوسرا امام سے برتر نھیں ھو سکتا ۔ مثلا ً وہ تمام صفات جوایک نبی کے لئے ضروری ھیں ھمارے نظریہ کے مطابق امام میں بھی ھونی چاھییں اور ھیں ۔ مثلا ً حضرت علی (ع) کی زندگی میں ایسے نمونے پائے جاتے ھیں جن سے یہ ثابت ھوتا ھے کہ آپ معصوم ھیں ۔جیسا کہ وسعت علم کے متعلق آپ نے خود فرمایا ” سلونی سلونی قبل ان تفقدونی “ جو بھی پوچھنا ھو مجہ سے پوچہ لو قبل اس کے کہ میں تمھارے درمیان نہ رھوں ۔ اسی طرح معجزہ ھے یعنی وھی معجزات جو پیغمبر اکرم نے پیش کئے تھے حضرت علی (ع) بھی پیش کر سکتے تھے اور کئے بھی ۔البتہ ھمارے یھاں علم کلام کی بعض کتابوں میں یہ بھی ملتا ھے کہ معجزہ صرف نبی سے مخصوص ھے ،امام صاحب کرامت ھوتا ھے لیکن بعض کھتے ھیں کہ نھیں ، امام بھی صاحب اعجاز ھو تا ھے ۔ علمائے اھلسنت نے خلفاء کے لئے افضلیت و امامت کا تو دعویٰ کیا لیکن کسی کو یہ کھتے ھوئے نھیں سناگیا کہ خلفا ء کا ارتباط عالم غیب سے بھی تھا ۔ھاں ، اتنا ضرور کھتے ھیں کہ وہ عادل اور بھترین شخصیت کے حامل تھے ۔ جب کہ ھمارے یھاں اس کے متعلق ایک مفصل باب موجود ھے کہ اھل بیت (ع) محدث ھیں یعنی فرشتوں سے ان کا رابطہ تھا ، ان سے گفتگو کرتے تھے۔ امام خمینی ۺ نے حضرت فاطمہ زھرا (ع) کے متعلق اصول کافی سے صحیح سند کے ساتھ ایک حدیث بیان کی ھے جس کا مفھوم یہ ھے کہ جبرئیل حضرت فاطمہ زھرا (ع) کے پاس آتے تھے اور ان سے گفتگو کرتے تھے اور حضرت علی (ع) اس گفتگو کو لکھتے تھے ۔ ھماراعقیدہ ھے کہ امام بھی نبی ھی کی طرح ھوتا ھے البتہ یہ بات ذھننشین رھے کہ اصطلاحی وحی، ائمہ(ع) کے لئے نھیں ھے ۔ کبھی کبھی اھلسنت حضرات بعض غلط چیزوں کو ھماری طرف منسوب کردیتے ھیں اور کھتے ھیں کہ شیعوں کے یھاں یہ تصور ھے کہ جس طرح نبی پر وحی آتی ھے ویسے ھی امام پر بھی ، جب کہ ایسا نھیں ھے یہ وحی اصطلاحی نھیں ھے بلکہ رابطہ ھے اور رابطہ ھمیشہ وحی کے معنی میں نھیں ھوتابلکہ اسے محدث کے نام سے تعبیرکیا جاتا ھے جیسا کہ روایات میں ھے کہ محدث خصوصیات نبی کا حامل ھوتا ھے اور غیروں کی بہ نسبت وہ اپنے انتخاب و تعارف میں خدا کے علاوہ کسی کا محتاج نھیں ھے ۔ تاریخ میں ھے کہ ایک مرتبہ سب نے مل کر کھا کہ عثمان خلیفہ تو ھیں لیکن یہ خلافت کے لائق نھیں ھیں ۔ لیکن ھمارے مذھب میں امامت و خلافت کا دار و مدار خواھش پر نھیں ھوتاھے۔ ان دونوں مفاھیم میں بھت فرق ھے ۔ اس نشست میں ھم نے یہ بحث اس لئے چھیڑی ھے کہ ھم اپنی گفتگو میں زیادہ تر ان مقامات کو تلاش کریں جن میں مفھوم امامت پایا جاتاھو البتہ پھلے یہ طے کرلیں کہ مفھوم امامت ھے کیا ؟ اگر کوئی یہ کھے کہ ھمارے نزدیک امامت کی حیثیت ایک مجسٹریٹ کی سی ھے تو اس سے بحث کرنا ھی فضول ھے کیونکہ اس صورت میں امامت میں غلطی و گناہ ، جھالت اور غلط انتخاب کا امکان ھو سکتا ھے جب کہ یہ بات سب سے پھلے قرآن ا و رعقلی و نقلی دلائل سے طے ھو چکی ھے کہ ”الامامة تجری مجری النبوة “ اور وہ خصوصیات جو ائمہ میں ھیں دوسروں میں نھیں ھیں مثلاًعلم ، معجزہ ، عصمت ، دوسروں سے افضل ھوناا ورعالم غیب سے ارتباط اور زھد و صبروغیرہ ۔یہ سبھی تسلیم کرتے ھیں کہ اس وسیع و عریض کائنات میں سب سے بڑے زاھد و صابر حضرت علی (ع) ھیں ۔ آپ میں زھد منزل کمال پر تھا آپ سب سے بڑے صابر تھے۔صرف اس لئے کہ اسلام کو کوئی نقصان نہ پھونچے ،پچیس سال تک خاموش رھے۔
اس گفتگو کا خلاصہ یہ ھے کہ تمام مذکورہ خصوصیات ایک نبی کے لئے ضروری ھیں ۔ساتھی ھی امامت قائم مقام نبوت ھوتی ھے ۔نیز یہ کہ جس میں یہ خصوصیات ھوں وھی امام ھے اور جس میں نہ ھوں وہ امام نھیں ھے ۔ جب ھم تاریخ و حدیث کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ھیں تو یہ ملتا ھے کہ یہ ساری خصوصیات حضرت علی علیہ السلام میں پائی جاتی ھیں اور دوسروں میں نھیں پائی جاتیں اور بالفرض کسی میں زھد و صبر وغیرہ جیسی صفات پائی جاتی ھیں تو یقینا اس کا عالم غیب سے رابطہ نھیں ھوتا ۔ نجف کے ایک بزرگ عالم دین کاظم قریشی جن کی بیالیس کتابیں منظر عام پر آچکی ھیں ۔یہ فرماتے ھیں کہ ایک سنی عالم سے میری گفتگو ھوئی ،قبل اس کے کہ ان سے گفتگو شروع ھومیں نے کھا کہ ایک شخص جو کسی ادارہ کو چلا رھا ھو اور بھت سے کام اس کے ذمہ ھوں ، اگرکھیں جانا چاھے تو کس کو اپنا نائب منتخب کرے ؟جب کہ اس کے پاس ایسا آدمی ھے جو سوفیصد تمام امور کو بخوبی انجام دے سکتا ھے اور باقی افراد ان امور کوانجام نھیں دے سکتے۔ اس عالم نے کھا کہ یہ قضیہ مسئلہ امامت میں بھی ھے۔ جب تک پیغمبر موجود ھیں دوسرے امام نھیں بن سکتے۔ یہ بات غیر معقول ھے کہ ایک شخص سوفیصد رسول کی طرح موجود مگر امام نہ بنے اور جو نا اھل ھیں وہ امام بن جائیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More