خمس مذھب شيعہ کي نظر ميں

”‌واعلموا انما غنمتم من شئي فان للّہ خمسہ و للرسول و لذي القربيٰ واليتٰميٰ و المساکين و ابن السبيل و ان کنتم آمنتم باللہ و ما انزلنا علي عبدنا يوم الفرقان يوم التقي الجمعان و اللہ علي کل شئي قدير “ (1)

”‌ اور يہ جان لو کہ تمھيں جس چيز سے بھي فائدہ حاصل ھو اس کا پانچواں حصہ اللہ ،رسول ،رسول کے قرابتدار ، ايتام ،مساکين اور مسافران غربت زدہ کے لئے ھے اگر تمھارا ايمان اللہ پر ھے اور اس نصرت پر ھے جو ھم نے اپنے بندے پر حق و باطل کے فيصلہ کے دن جب دو جماعتيں آپس ميں ٹکرا رھي تھيں نازل کي تھي ، اور اللہ ھي ھر شئي پر قادر ھے “ –

آيت کي تفسير سے پھلے مسئلہ ”‌خمس “ ميں شيعہ و سني نظريات کي تھوڑي وضاحت ضروري ھے –

خمس مذھب شيعہ کي نظر ميں

علمائے شيعہ کے نظريہ کے مطابق ، خمس کا تعلق کسي خاص منفعت و فائدہ سے نھيں بلکہ ھر طرح کي زائد منفعت سے ھوتا ھے –

فرض کيجئے ! آپ پچاس ھزار روپيہ ميں کوئي مال خريدتے ھيں اور پھر اسے اسي قيمت ميں فروخت کرديتے ھيں ، ايسي صورت ميں آپ کو کوئي فائدہ نھيں پھونچتا ، ليکن اگر آپ اسے خريدي ھوئي قيمت سے زيادہ ميں بيچيں تو آپ کو حصولِ سرمايہ کے ساتھ ساتھ فائدہ بھي ھوتا ھے ، پچاس ھزار روپيہ آپ کا سرمايہ ھے اور باقي پيسے آپ کي منفعت و درآمد ھے –

چونکہ آپ نے اس معاملہ ا و رخريد و فروخت ميں اپنا وقت و محنت صرف کي ھے اسي لئے آپ اس حاصل شدہ منفعت و درآمد سے اپنا اور اپنے اھل و عيال کے ايک سال کا خرچ نکال سکتے ھيں ، اس شرط پر کہ اسراف نہ کريں – اسکے بعد جو پيسہ بچتا ھے اسے در آمد زائد و منفعت اضافي کھتے ھيں اور اسي زائد درآمد پر خمس واجب ھوتا ھے-يعني اصل سرمايہ و سالانہ خرچ سے جو رقم بچ جائے اس ميں خمس نکلتا ھے – البتہ نا جائز در آمد و منفعت ميں خمس بے معني ھے –

حصول منفعت اوردر آمد کے مختلف ذرائع ھيں کہ جن ميں سے ايک کا ذکر اوپر گزر چکا ھے –

فائدہ حاصل کرنے کا دوسرا ذريعہ ايسا خزانہ اور دفينہ وغيرہ ھے جس کے مالک کا علم نہ ھو – چونکہ گزشتہ زمانے ميں آج کي طرح بينک وغيرہ نھيں تھالھذا لوگ اپنے روپيہ ،پيسہ ،زر و جواھرات کو چور ڈاکوۆں کے خوف سے زمين کے اندر دفن کر ديا کرتے تھے پھر بسا اوقات اس جگہ کو فراموش کر ديتے يا ورثاء کو اطلاع دينے کي فرصت نہ مل پانے کے سبب مالکين اپني قيمتي چيزيں کھو بيٹھتے تھے – آج اگر اس طرح کي چيزيں کسي کے ھاتہ لگ جائيں تو اس پر بھي خمس واجب ھو گا – کان اور غوطہ خوري کے ذريعہ ملنے والي اشياء کا بھي يھي حکم ھے – فقہ شيعہ ( جسکا اصلي منبع قرآن مجيد اور احاديث معصوم عليھم السلام ھے ) کے مطابق حصول منفعت کا ايک ذريعہ غنائم جنگي بھي ھے – جس کا پانچواں حصہ بعنوان خمس جدا کر کے بقيہ اموال سپاھيوں ميں تقسيم ھونا چاھئے – 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More