خدا كي بارگاہ ميں مناجات كا فلسفہ

خدا كي بارگاہ ميں مناجات كا كيا فلسفہ ہے؟

دعا اور مناجات بہت ہي قيمتي سرمايہ اور اسلام اورقرآن كے مسلم حقائق ميں سے ہے كہ جس كے صحيح طريقے سے استفادہ كرنے سے روح و جسم كي پرورش ہوتي ہے- الكسيس كارل (مشہور انسان شناس) كہتا ہے: “”كوئي بھي اور قوم نابود نہيں ہوئي مگر اس نے دعا كو ترك كيا ہواور اپنے آپ كو موت كيلئے تيار كيا ہو”” (يعني جس قوم نے بھي دعا كو ترك كيا ہو اس كا زوال اور نابودي قطعي اور يقيني ہے) دعا انسان كي روح اور فطرت پر بہت ہي عميق اور گہرے آثار مترتب كرتي ہے اور اس كي اس طرح تربيت كرتي ہے كہ اس معاشرے، ماحول اور وراثت كو وہ اپنے لئے محدود سمجھتا ہے- ايسا لگتا ہے كہ اگر دعا ومناجات كرنے والا تمام شرائط كے ساتھ دعا مانگے تو وہ جو كچھ بھي طلب كرے اسے مل سكتا ہے اور جس دروازے كو بھي كھٹكھٹائے وہ اس پر كھل جاتاہے”” 1

مناجات، كمال، سعادت، مقام اور حيثيت كيلئے درخواست ہے بلكہ يہ ايك ايسي چيز ہے جو دعا كرنے والے كي لياقت اور شائستگي سے حاصل ہوتي ہے اور دعا ومناجات كي تكرار ايسا شيوہ اور فرياد ہے كہ جس سے انسان كے روح پہ اثر ہوتا ہے اور اس كے وجود ميں اميد، عشق اور محبت كي قوت و طاقت پيدا ہوتي ہے جو اسے ہدف كو پانے اور اس تك پہنچانے كيلئے حركت ميں لاتي ہے-

جو انسان يہ درك كرلے اور جان لے كہ جو كچھ اس كے پاس ہے، اس كيلئے كافي نہيں ہے اور اسے قانع نہيں كرسكتا، دعا كرتا ہے تا كہ جو اس كچھ اس كے پاس ہونا چاہيے اسے مل جائے اور جيسا اسے ہونا چاہيے، اس مقام تك پہنچ جائے- ايسا ہي انسان ہميشہ ايك بہتر مستقبل اور آئيڈيل كيلئے تمنا كرتا ہے اور اس تك پہنچنے كيلئے دعا كرتا ہے- يہ ہے دعا اور اس كے فلفسہ كے بارے ميں مختصر سا خلاصہ، اب ہم تفصيل سے اس كے بارے ميں گفتگو كريں گے-

دعا كا مفہوم

لغت ميں دعا، بلانے، سوال كرنے، كسي كو پكارنے اور كسي چيز كو كسي چاہنے يا مانگنے كو كہا جاتا ہے- 2

اصطلاح ميں دعا يعني خدا وند متعال سے اس كے فضل وعنايت كي درخواست اور اسي سے مدد مانگنا اور سرانجام اس كي بارگاہ ميں نيازمندي اور عجز وانكساري كا اظہار كرنا اور انسان كے خالق كائنات سے معنوي رابطہ اور مناجات كا نام دعا ہے-

قرآن اور مناجات

قرآن بعض آيات ميں صريح طور پہ دعا اور مناجات كي دعوت ديتا ہے اور اجابت كا وعدہ بھي كرتا ہے- خدا وند متعال فرماتا ہے: “”واذا سئالك عبادي عني فاني قريب اجيب دعوۃ الداع اذا دعان فليستجيبوا لي—“” (بقرۃ:186) اور جب ميرا بندہ تجھ سے ميري دوري اور نزديكي كے بارے ميں سوال كرے تو جان ليں كہ ميں ان سے نزديك ہوں جو بھي مجھے پكارے ميں اس كي دعا كو مستجاب كروں گا-

دوسري جگہ دعا كے بارے ميں امر كرتے ہوئے فرماتا ہے: “”ادعوني اسستجب لكم ان الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جھنم داخرين”” (غافر:62) تمھارے پروردگار نے فرمايا كہ مجھے پكارو تاكہ ميں تمھاري دعا مستجاب كروں اور وہ لوگ جو مجھ سے دعا اور ميري عبادت سے منہ موڑتے ہيں اور بغاوت كرتے ہيں بہت ہي جلد ذلت كے ساتھ جہنم ميں ہوں گے-

روايات اور مناجات

1- امام باقر(ع) سے پوچھا گيا: كون سي عبادت افضل ہے؟ حضرت نے فرمايا: كوئي بھي چيز خدا كے نزديك اس سے بڑھ كر نہيں ہے كہ اس كي ذات پاك سے مانگا جائے اور دعا كي جائے اور جو كچھ اس كے پاس ہے طلب كيا جائے، اور جوانسان اس كي عبادت ودعا ميں تكبر كرے اور نہ مانگے تو اس سے بڑھ كر كوئي بھي چيز اس كے پاس مبغوض نہيں ہے- 3

2- پيغمبر اسلام (ص) نے فرمايا: عاجز ترين انسان وہ لوگ ہيں جو دعا نہ كرتے ہوں اور اس سے محروم ہوں- 4

3- امام علي (ع) فرماتے ہيں: خدا كے نزديك سب سے محبوب اور پسنديدہ عمل دعا اور مناجات ہے- 5

حوالہ جات:

1. الكسيس كارل: نيايش.

2. قاموس المحيط، مادہ دعا.

3. كافي: ج2، ص267.

4. عدۃ الداعي: ص24.

5. كافي: ج2، ص267.

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More