شام میں امام سجاد (علیہ السلام) کے خطبہ پر طائرانہ نظر

شام میں امام سجاد (علیہ السلام) کے خطبہ پر طائرانہ نظر

 

خلاصہ: حضرت امام سجاد (علیہ السلام) نے شام میں یزید اور لوگوں کے سامنے جو خطبہ ارشاد فرمایا، جس سے اس ظالم کی حکومت کے ستون ہل گئے اور لوگ رونے لگے، یہودی عالم نے بھی یزید کی مذمت کی، اور امامؑ کا خطبہ سامعین پر اتنا اثرانداز ہوا کہ یزید نے خوفزدہ ہوتے ہوئے اذان کے ذریعہ امامؑ کے خطبہ کو روک دیا۔ اس مضمون میں اس خطبہ کے بارے میں چند نکات اور حالات کا تذکرہ ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ: واقعہ عاشورا کے بعد شام میں یزید کے حکم سے ایک خطیب منبر پر گیا اور آل ابی سفیان کی تعریف و تمجید کرتے ہوئے حضرت امیرالومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) اور آنحضرتؑ کی اولاد کی مذمت کرنے لگا۔ حضرت امام سجاد (علیہ السلام) نے خطیب کے جواب میں حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) کے فضائل بیان کرنا شروع کیے۔ حضرت زین العابدین (علیہ السلام) کا یہ خطبہ جس کا زیادہ تر حصہ حضرت امام علی (علیہ السلام) کی شان و عظمت کے سلسلہ میں ہے، شام میں وسیع پیمانے پر اثرانداز ہوا اور یزید کی ظاہری سیاست میں تبدیلی کا باعث بنا۔اس خطبہ سے متعلق چند نکات پیش کیے جارہے ہیں:

خطبہ کی تاریخ

اہل بیت (علیہم السلام) کے شام میں داخل ہونے کی تاریخ بالکل صحیح طور پر درج نہیں ہوئی، اسی لیے اس خطبہ کی صحیح تاریخ معلوم نہیں ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ خطبہ اہل بیت (علیہم السلام) کے قیدیوں کے شام میں رہنے کے آخری دنوں میں ارشاد فرمایا گیا ہے، کیونکہ یزید نے اس خطبہ کے بعد، اہل بیت (علیہم السلام) کو شام میں ٹھہرانے میں اپنا نقصان سمجھا تو ان کی مدینہ کی طرف روانگی کے مقدمات فراہم کیے۔حضرت علی ابن الحسین (علیہماالسلام) نے یزید سے چاہا کہ جمعہ کے دن مسجد میں آپؑ کو خطبہ دینے کی اجازت دی جائے تو یزید مان گیا۔ جب جمعہ کا دن ہوا تو یزید نے اپنے ایک درباری خطیب کو منبر پر بھیجا اور اسے حکم دیا کہ وہ علی اور حسین (علیہماالسلام) کی جتنی توہین کرسکتا ہے کرے اور پہلے اور دوسرے خلیفہ اور یزید کی تعریف میں باتیں کرے تو اس خطیب نے یونہی کیا۔حضرت امام سجاد (علیہ السلام) نے یزید سے فرمایا کہ اپنا وعدہ پورا کرو اور خطبہ دینے دو، یزید اپنے کیے ہوئے وعدہ سے پلٹ گیا، بعض نقل کے مطابق حضرتؑ نے فرمایا: “يا يَزيدُ ائذَن لي حَتّى أصعَدَ هذِهِ الأَعوادَ، فَأَتَكَلَّمَ بِكَلِماتٍ فيهِنَّ للّه ِ رِضاً، ولِهؤُلاءِ الجالِسينَ أجرٌ وثَوابٌ “[1]،

“اے یزید! مجھے اجازت دو کہ میں ان لکڑیوں پر جاوں اور ایسی باتیں کروں جن میں اللہ کی رضا ہو اور ان حاضرین کے لئے اجر و ثواب ہو”۔اس کے بیٹے معاویہ نے اسے کہا: اس شخص کے خطبہ کا کیا اثر ہوگا، جو کہنا چاہتا ہے، اسے کہنے دو۔ یزید نے کہا: تم لوگ اس خاندان کی صلاحیتوں کو نہیں جانتے ہو، وہ علم اور فصاحت کو ایک دوسرے سے میراث میں لیتے ہیں، مجھے خوف ہے کہ اس کا خطبہ شہر میں فتنہ کھڑا کردے اور اس کی مصیبت ہم پر پڑ جائے۔[2]

اسی لیے یزید نے اس پیشکش کی تردید کردی اور لوگ یزید سے اصرار کرنے لگے کہ امام سجاد (علیہ السلام) بھی خطاب کریں۔ یزید نے کہا: اگر وہ منبر پر جائے تو نیچے نہیں آئے گا مگر یہ کہ مجھے اور ابوسفیان کے خاندان کو رسوا کردے۔ یزید سے کہا گیا: یہ نوجوان کیا کرسکتا ہے؟! یزید نے کہا: وہ اس خاندان میں سے ہے جن کو علم کی جنم گھٹی دی گئی ہے۔ مگر شامیوں کے اصرار کی وجہ سے یزید مان گیا کہ امامؑ خطبہ پڑھیں۔ پھر حضرت زین العابدین (علیہ السلام) منبر پر رونق افروز ہوئے اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعد ایسا خطبہ ارشاد فرمایا جس سے سب لوگ رونے لگے اور بیقرار ہوگئے۔ امام سجاد (علیہ السلام) کی درباری خطیب سے گفتگو: یزید کے حکم سے اہل بیت (علیہم السلام) کے قیدیوں کو شام کی مسجد اموی میں لاتے ہوئے اجتماع بلایا گیا تاکہ اپنے خام خیالی کے مطابق، اہل بیت (علیہم السلام) کو رسوا کریں۔ اسی لیے اس نے منبر اور خطیب بلوایا تاکہ خطیب منبر پر جاکر آپؑ کے باپ امام حسین (علیہ السلام) اور حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) کو برا بھلا کہے۔ خطیب منبر پر گیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد حضرت علی اور امام حسین (علیہماالسلام) کو بہت زیادہ بُرا کہا اور معاویہ اور یزید کی مدح کی تو حضرت امام سجاد (علیہ السلام) نے خطیب سے بلند آواز میں فرمایا:”وَيلَكَ أيُّهَا الخاطِبُ! اشتَرَيتَ رِضَا المَخلوقِ بِسَخَطِ الخالِقِ؟ فَتَبَوَّأ مَقعَدَكَ مِنَ النّارِ[3]”،

“تمہاری بربادی ہو اے خطاب کرنے والے!

تم نے مخلوق کی رضامندی کو خالق کے غضب کے ذریعہ خرید لیا تو اپنا ٹھکانہ دوزخ کی آگ سے لے لے”۔اپنا اور اپنے جد حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) کا تعارف: حضرت امام سجاد (علیہ السلام) نے اپنے اور اپنے آبا٫ و اجداد اور خاندان کی عظیم شخصیتوں جیسے حضرت حمزہ اور حضرت جعفر طیار (علیہماالسلام) کے فضائل اور حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی مظلومیت بیان فرمائی جس کا ہر جملہ کافی وضاحت طلب ہے، کیونکہ فضائل اہل بیت (علیہم السلام) جب وہ خود بیان فرمائیں تو ہر جملہ، فضائل آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہوا کرتا ہے، جس کی لہروں کو سنبھالنے اور سمجھنے کی بلندی تک، ہر شخص کے علم و ادراک کا پرندہ پر نہیں مارسکتا۔خطبہ سجادیہ نے یزید کی حکومت کے ستونوں کو ہلا دیا: خطیب منبر سلونی کے بیٹے علی زین العابدین (علیہ السلام) اپنی آب وحی میں دھلی ہوئی زبان سے سامعین کو اہل بیت (علیہم السلام) اور اپنے فضائل و کمالات کی معراج کروا رہے تھے کہ سننے والوں کی آنکھیں برس پڑیں اور دل دہل گئے اور خیبرشکن کے فرزند علی سیدالساجدین کی زبان سے نچھاور ہونے والے موتیوں نے یزید کی حکومت کی بنیادوں میں ایسا زلزلہ پیدا کردیا جس سے کائنات کا عظیم ترین ظالم بھی خوف و ہراس میں پڑگیا کہ لوگ انقلاب کرتے ہوئے اس سے حکومت چھین نہ لیں تو توحید، وحی اور نبوت کے اس منکر نے مولاؑ کا خطبہ روکنے کے لئے منافقت کا لباس اوڑھتے ہوئے موذن کو حکم دیا کہ اذان دو، مولاؑ خاموش ہوگئے موذن نے اذان دینا شروع کی، جب کہا “اللہُ اکبرُ”، امامؑ نے فرمایا: ” كَبَّرتَ كَبيرا لايُقاسُ، ولا يُدرَكُ بِالحَواسِّ، لا شَيءَ أكبَرُ مِنَ اللّه”، “تم نے ایسے بڑے کو بڑا سمجھا جس کا (دوسروں سے) موازنہ نہیں کیا جاسکتا اور حواس سے ادراک نہیں کیاجاسکتا، کوئی چیز اللہ سے بڑی نہیں ہے”۔ جب موذن نے کہا: ” أشهَدُ أن لا إلهَ إلَا اللّه ُ” تو آپؑ نے فرمایا: “شَهِدَ بِها شَعري وبَشَري، ولَحمي ودَمي، ومُخّي وعَظمي”، “میرے بال، جلد، گوشت، خون، دماغ اور ہڈیاں” اس کی گواہی دیتی ہیں۔ جب موذن نے کہا: “أشهَدُ أنَّ مُحَمَّدا رَسولُ اللّه “تو امامؑ نے بالائے منبر سے یزید کی طرف رخ کیا اور فرمایا:  “يا يَزيدُ! مُحَمَّدٌ هذا جَدّي أم جَدُّكَ ؟ فَإِن زَعَمتَ أنَّهُ جَدُّكَ فَقَد كَذَبتَ، وإن قُلتَ إنَّهُ جَدّي فَلِمَ قَتَلتَ عِترَتَهُ؟”!،

“اے یزید! یہ محمد، میرے نانا ہیں یا تیرے؟ اگر تم دعوی کرو کہ تمہارے نانا ہیں تو تم نے جھوٹ بولا ہے اور اگر دعوی کرو کہ میرے نانا ہیں تو تم نے ان کے خاندان کو کیوں قتل کیا؟!”[4]امام سجاد (علیہ السلام) کے خطبہ کا اثر و رسوخ: جب حضرت امام سجاد (علیہ السلام) نے وہ متاثر کن خطبہ ارشاد فرمایا تو مسجد میں موجود لوگ انتہائی متاثر ہوگئے، ان میں بیداری کی لہر دوڑ گئی اور ان میں جرات اور دلیری پیدا ہوئی۔ یہودیوں کا ایک بڑا عالم جو یزید کی محفل میں موجود تھا، اس نے یزید سے پوچھا کہ یہ نوجوان کون ہے؟ یزید نے کہا: علی ابن الحسین ہے۔ اس نے پوچھا: حسین کون ہے؟ یزید نے کہا: علی ابن ابی طالب کا بیٹا۔ پھر اس نے پوچھا: اس کی ماں کون ہے؟ یزید نے کہا: محمد کی بیٹی۔ یہودی نے کہا: سبحان اللہ! یہ تم لوگوں کے پیغمبر کی بیٹی کا بیٹا ہے جسے تم لوگوں نے قتل کردیا ہے؟! تم رسول خدا کے فرزندوں کے لئے کتنے برے جانشین تھے؟!

خدا کی قسم اگر ہمارے پیغمبر موسی ابن عمران ہمارے درمیان اپنا کوئی فرزند چھوڑ جاتے تو ہم گمان کرتے کہ ہمیں چاہیے کہ اس کا عبادت کی حد تک احترام کریں اور تمہارا پیغمبر کل وفات پایا ہے اور آج تم نے اس کے فرزند پر حملہ کرتے ہوئے اسے تلوار سے قتل کردیا ہے؟ وائے تم امت پر![5]یزید غصہ میں آگیا اور حکم دیا کہ اس شخص کی گردن اڑا دی جائے۔ وہ بزرگ یہودی عالم کھڑا ہوا جبکہ کہہ رہا تھا: اگر مجھے قتل کرنا چاہتے ہو تو مجھے کوئی ڈر نہیں! میں نے توریت میں پایا ہے کہ جو شخص پیغمبر کے فرزند کو قتل کرتا ہے وہ ہمیشہ ملعون رہے گا اور اس کی جگہ جہنم کی آگ میں ہے۔[6]

نتیجہ

اہل بیت (علیہم السلام) کو جب مناسب موقع ملتا، ظلم اور ظالم کے سامنے قیام کرتے اور مظلوم کا دفاع کرتے اور لوگوں کے لئے حق و باطل کو واضح کردیتے جس سے ظالم کے ظلم سے لوگ روشناس ہوجاتے۔ سامعین کے دل ظالم کی مخالفت میں فریادیں کرتے، چاہے اکثر زبان پر حق کو جاری کرنے کے لئے وہ دنیاوی خواہشات کے غلبہ کی وجہ سے غفلت کرتے ہوئے گمراہی کے گھاٹ اتر جاتے اور دنیاوی مال کی لالچ سے دوبارہ ذلت کے لباس کو پہن کر دشمن کی فرمانبرداری کرنے لگتے، مگر اہل بیت (علیہم السلام) حق بیان کرتے رہے چاہے ظلم برداشت کرنے سے پہلے جیسے حضرت سیدالشہدا (علیہ السلام) اپنی شہادت سے پہلے فوج اشقیا کو نصیحت کرتے رہے، اور چاہے ظلم کی زد میں آکر قربانیاں دے کر بھی کلمہ حق کو بلند کیا، اس گھرانہکو موت سے کوئی ڈر نہیں، ان کے لئے جو اہمیت کی حامل چیز ہے وہ حکم پروردگار ہے جس کا ہر لمحہ خیال رکھنا ان کی ذمہ داری ہے کہ کہیں اس میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔ تبھی تو شہیدوں کے سردار کی ذبح عظیم اور شہادت عظمیٰ کے بعد بھی سجدہ کرنے والوں کے سردار نے ظالم کے سامنے شام میں حق کو اس طرح سے باطل سے الگ کرکے واضح کردیا جیسے صبح صادق کے ابھرنے سے رات کی سیاہی اور ظلمت شب، اندھیروں کے دامن کو چھوڑ کر الگ تھلک ہوجاتی ہے۔ کیا کمال خطابت اور اعجاز امامت ہے اللہ کے اس سجاد ؑ کا جس نے شام میں باطل کی شام کا پردہ ہٹا کر حق کی صبح صادق کو نمودار کردیا

حوالہ جات:

[1] دانشنامه امام حسين عليه السلام بر پايه قرآن، حديث و تاریخ، ج8، ص332۔

[2] نفس المهموم .450۔

[3] دانشنامه امام حسين عليه السلام بر پايه قرآن، حديث و تاریخ ج8، ص332۔

[4] دانشنامه امام حسين عليه السلام بر پايه قرآن، حديث و تاریخ ج8، ص332 سے ماخوذ۔

[5] بحارالأنوار، ج‏۴۵، ص۱۳۹؛ مفضل خوارزمی، ج2، ص69۔

[6] حياة الامام الحسين ج3، ص395۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More