شہید

0 33

شہید اس شخص کو کہا جاتا ہے جو راہ خدا میں جنگ کے دوران قتل ہو جائے۔ اسلامی تعلیمات کے پہلے دستور العمل قرآن میں خصوصی طور پر اس کا تذکرہ ہوا ہے اور اسی طرح روایات اسلامی میں شہید کیلئے مخصوص احکام بیان کئے گئے ہیں یہاں تک کہ روایات میں قیامت کے روز شہیدوں کیلئے حق شفاعت مذکور ہے۔

شہید

مقاییس اللغۃ: لفظ شہید شہد کے مادے سے ہے۔ اس کے معنی حضور (یعنی موجود ہونا حاضر ہونا)، علم اور إعلام ہیں۔ اسی سے شہادت آتا ہے۔ شہید: اللہ کے راستے میں قتل ہو جانے والے کو کہتے ہیں۔……۔ موم کے اندر موجود عسل کو شہد کہا جاتا ہے۔ یہ اسکے شاذ معانی میں سے ہے۔ شہید: فعیل مفعول کے معنی ہے۔ جنگ میں کفار کے ہاتھوں قتل ہونے والا۔

مصباح اللغۃ: -موم میں موجود عسل (شِہد) کو شَہد کہتے ہیں۔ شہيد: کفار کے معرکے میں قتل ہونے والا۔ چونکہ رحمت کے فرشتے اسکے غسل یا اس کی روح کے جنت میں جانے کے شاہد ہیں یا اللہ جنت میں اسے دیکھنے والا ہوتا ہے اس لئے اسے شہید کہا جاتا ہے ….۔
و شہدت الشی‏ء:
میں اس پر مطلع ہوا، میں نے اس کا معائنہ (یعنی دیکھا) کیا۔ میں نے جان لیا ۔

مفردات راغب: – شہود و شہادة: حس ظاہری( آنکھ) یا بصیرت ( حس باطنی) کے ساتھ دیکھتے ہوئے حاضر ہونا۔[1]

فقہ اسلامی میں نبی، امام یا انکے نائب خاص کے حکم قتال کے سبب میدان جنگ میں کوئی مسلمان قتل ہو جائے تو اسے شہید کہا جاتا ہے۔ [2]۔ فقہ کی کتابوں میں اس کے مخصوص احکام بیان کئے گئے ہیں ۔

شہید اور قرآن

قرآن پاک میں ارشاد ہے:

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (169) فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (170) يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ (171)} [آل عمران: 169 – 171]
ترجمہ:اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں۔ (169) اللہ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں جو کچھ دیا ہے وہ اس پر خوش و خرم ہیں۔ اور اپنے ان پسماندہ گان کے بارے میں بھی جو ہنوز ان کے پاس نہیں پہنچے خوش اور مطمئن ہیں کہ انہیں کوئی خوف نہیں ہے۔ اور نہ کوئی حزن و ملال ہے۔ (170) وہ اللہ کے فضل و انعام پر خوش اور شاداں ہیں اور اس بات پر فرحاں ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے اجر و ثواب کو ضائع و برباد نہیں کرتا۔ (171)
مزید  الامالی (سید مرتضی)

ان آیات میں خداوند کریم کی طرف سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شہید زندہ ہیں اور وہ اللہ کے ہاں رزق پارہے ہیں۔ لہذا یہ اس بات کی بیان گر ہے کہ شہید حقیقی زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری آیت میں انکے خوشحال ہونے کا تذکرہ ہے اس کے متعلق مجمع البیان میں مذکور ہے کہ انکی خوشحالی کا سبب وہ جنت کی نعمتیں اور انعام ہیں جو خدا نے ان پر کئے ہیں۔[3]

خصوصیات شہید

گناہوں کی بخشش
فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ (195)
سو جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے۔ اور میری راہ میں انہیں ایذائیں دی گئیں۔ اور (دین کی خاطر) لڑے اور مارے گئے، تو میں ان کی برائیاں مٹا دوں گا اور ان کو ایسے بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ہے اللہ کے ہاں ان کی جزا۔ اور اللہ کے پاس بہترین ثواب و جزاء ہے۔ (195)
حق شفاعت
روایات کے مطابق قیامت کے روز تین قسم کے لوگوں کی شفاعت خدا کے ہاں قبول ہو گی: پیغمبران ،علماء اور شہداء۔[4][5]
مخصوص احکام
فقہی کتابوں میں شہید کے مخصوص احکام بیان کئے گئے ہیں۔ اسے غسل نہیں دیا جائے گا نیز اسے لباس شہادت میں دفن کیا جائے گا۔[6]
بہشت میں ورود
بہشت میں سب سے پہلے شہید داخل ہوگا۔[7]

پہلا شہید

اسلام کی راہ میں درجۂ شہادت پر سب سے پہلے فائز ہونے والے رسول اللہ کے صحابی حضرت یاسر بن عامر عنسی ہیں جن کی شہادت مشرکین کے شکنجے دینے کی وجہ سے ہوئی۔ آپ اگرچہ سن رسیدہ تھے لیکن مشرکوں کے ان مظالم کے سامنے آپ نے بہت زیادہ مقاوت کا مظاہرہ کیا۔[8]

سید الشہدا

سید الشہدا کا لقب حضرت رسول خدا کی طرف سے سب سے پہلے حضرت حمزہ کو دیا گیا۔[9]

بعد میں یہ لقب حضرت امام حسین ع کی کربلا میں شہادت کے بعد ان کے لئے استعمال ہونے لگا اگرچہ یہی لقب رسول اللہ کی زبان مبارک سے حضرت امام حسین ؑ کیلئے بھی بعض روایات میں مذکور ہے۔ [10]

حضرت امام جعفر صادق ؑ سے روایت مذکور ہے کہ عراق کی رہنے والی آپکی ایک صحابیہ بنام ام سعید احمسیہ نے مدینے میں حضرت حمزہ کی قبر کی زیارت کا قصد کیا تو تو امام صادق ؑ نے اس سے فرمایا: تم اپنے نزدیک سید الشہدا کی قبر کی زیارت نہیں کرتی؟ اس نے امام سے سوال کیا وہ کون ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: سید الشہدا حسین بن علی ہے۔[11]

مزید  وقف

سید الشہدا کا لقب ان دو ہستیوں کے علاوہ پیغمبر جرجیس[12] ، بلال حبشی [13]، جعفر بن ابی طالب [14]،جنگ بدر کے پہلے شہید مہجع بن عبد اللہ [15] کیلئے مذکور ہے۔ نیز حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد رسول اللہ نے اسے سید الشہدا کے نام سے یاد کیا ہے جو ظالم حکمران کے سامنے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے ہوئے قتل ہو جائے۔[16][17]

مراتب شہادت

روایات اسلامی میں اگرچہ میدان جنگ میں موت سے ہمکنار ہونے والے افراد کیلئے مخصوص فقہی احکام بیان ہوئے ہیں لیکن ان کے علاوہ دیگر افراد کیلئے بھی شہید کا لفظ استعمال ہوا ہے جن کی موت مختلف حالات میں واقع ہوئی ۔ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :

  • اہل بیت کی محبت پر قائم شخص کی موت:من مات علی حب آل محمد مات شہیدا[18]
  • حالت ایمان کی موت:امامُ عليٌّ عليه السلام : المؤمنُ على أيِّ حالٍ ماتَ ، و في أيِّ ساعَةٍ قُبِضَ ، فهُو شَهيدٌ جس حال میں بھی مومن کی جان قبض ہو وہ شہید ہے۔[19]
  • آسمانی آفات کی موت:رسول اکرم(ص):الشُّهَداءُ خَمسَةٌ: المَطعُونُ، و المَبطونُ، و الغَرِقُ ، و صاحِبُ الهَدْمِ ، و الشَّهيدُ في سَبيلِ اللّه ِ عَزَّ و جلَّطاعون،قولنج،غرق ہونے والا، کسی چیز کے منہدم ہونے کے سبب سے مرنے والا اور راہ خدا میں مرنے والا شہید ہے۔
  • پاکدامنی کی موت:امام علی(ع): ما المُجاهِدُ الشَّهيدُ في سَبيلِ اللّه ِ بِأعظَمَ أجرا مِمَّن قَدَرَ فَعَفَّمجاہد فی سبیل اللہ میں مارے جانے والے کا ثواب پاک دامنی کی حالت میں مرنے والے شخص سے زیادہ نہیں ہے ۔
  • معرفت کی حالت میں موت:امام علی :مَن ماتَ مِنكُم على فِراشِهِ و هُو على مَعرِفَةِ حَقِّ رَبِّهِ و حَقِّ رَسولِهِ و أهلِ بَيتِهِ ماتَ شَهيدا اپنے رب،اسکے رسول اور اہل بیت کے حق کی معرفت کی حالت میں موت آ جائے تو وہ شہید ہے۔
  • …..۔[20]

شہادتِ آئمہ طاہرین

مشہور شیعہ نظریے کے مطابق آئمہ طاہرین کی زندگی کا خاتمہ غیر طبعی اسباب کی وجہ سے ہوا ۔اس نظریے کا پشتوانہ وہ روایات ہیں جن میں یہ خبر دی گئی ہے کہ آئمہ طاہرین کی شہادت تلوار یا زہر کے ذریعے ہو گی ۔[21]

مزید  سورہ یس

  • قول رسول اللّه صلى‌الله‌عليہ وآلہ : ما مِن نبيّ ولا وصيّ إلاّ شهيد[22]
  • امام حسن مجتبى(ع) : ما مِنّا إلاّ مقتول أو مسموم [23][24]
  • امام صادق (ع) : واللّهِ ما منّا إلاّ مقتول شهيد [25]
  • امام عليّ بن موسى الرضا (ع) قال: «ما منّا إلاّ مقتول [26]

شیخ صدوق نے کہا ہے : نبی اور آئمہ نے خبر دی ہے کہ انہیں شہید کیا جائے گا ۔ جو شخص یہ کہے کہ انہیں قتل نہیں کیا گیا تو اس نے انہیں جھٹلایا ہے ۔۔۔۔ ۔[27]

حوالہ جات

  1. التحقيق في كلمات القرآن الكريم، ج‏6، ص: 128
  2. شہید ثانی،روض الجنان(ط ق)111۔سید علی طباطبائی،ریاض المسائل ج 2 ص147
  3. طبرسی ، مجمع البیان ج 2 ص 433
  4. قرب الاسناد، ج۱، ص۳۱
  5. سفینۃ البحار، ج۴، ص۵۱۳
  6. نک: الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعہ الدمشقیہ، ج۱، ص۱۲۷-۱۲۶
  7. بحار ج۷۱، ص۱۴۴
  8. امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۲۷۲؛ مقدسی، البدء و التاریخ، ج۲، ص۷۹۳.
  9. احمد بن یحیى بلاذرى، انساب ‌الاشراف، ج۲، ص۳۹۴. محمد بن على ابن ‌بابویہ، الخصال، ج۲، ص۴۱۲. محمد بن على ابن‌ بابویہ، الخصال، ج۲، ص۵۵۵.
  10. محمد ابن‌ قولویہ قمى، كامل الزیارات، ص۱۴۲. ۳۰. محمد ابن‌ قولویہ قمى، كامل الزیارات، ص۱۴۸.
  11. محمد ابن‌ قولویہ قمى، كامل الزیارات، ص۲۱۷ـ۲۲۰. محمد بن على ابن ‌بابویہ، ثواب‌ الاعمال، ص۹۷ـ۹۸
  12. عبد الرزاق صنعانى، تفسیر القرآن، ج۳، ص۵. ۳۸. عبد الرزاق صنعانى، تفسیر القرآن، ج۳، ص۱۵۰.
  13. نور الدین ہیثمى، مجمع ‌الزوائد و منبع‌ الفوائد، ج۹، ص۳۰۰.
  14. علاء الدین متقى ہندى، كنز العمال، ج۱۱، ص۶۶۱. ۴۲. علاء الدین متقى ہندى، كنز العمال، ج۱۳، ص۳۳۲.
  15. احمد بن محمد ثعلبى، الكشف و البیان، المعروف تفسیر الثعلبى، ج۷، ص۲۷۰. ۴۴.۔ حسین‌ بن مسعود بغوى، تفسیر البغوى المسمى معالم التنزیل، ج۳، ص۴۶۰.
  16. أحكام القرآن, أبو بكر الجصاص جلد : 2 صفحہ : 43
  17. ذخائر العقبى, محب الدين أحمد ابن عبد الله الطبري جلد : 1 صفحہ: 176
  18. ثعلبی،تفسیر ثعلبی،8/314،دار إحياء التراث العربي لبنان
  19. مجلسی،بحار الانوار ،65/140/82، دار إحياء التراث العربي – بيروت – لبنان
  20. :میزان الحکمہ
  21. إعلام الوری بأعلام الہدی، ج۲، صص۱۳۲-۱۳۱.
  22. مختصر بصائر الدرجات – للصفّار القمّيّ 15 .
  23. كفاية الأثر / ١٦٠ – ١٦٢
  24. كفاية الأثر / ١٦٢.
  25. مناقب آل أبي طالب ٢ / ٥١.
  26. عيون أخبار الرضاعليه‌السلام – للشيخ الصدوق ٢ / ٢٠٣ ح ٥
  27. اعتقادات الصدوق / ١٠٩ – ١١٠. والآيہ في سورة آل عمران / ٨٥. عيون أخبار الرضاعليہ السلام ١ / ١٧٠ – الباب ١٩، ح ٢،

مآخذ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.