اشاعرہ اور عقلیت پسندی

0 4

اشاعرہ ابتداء میں انتہاپسندانہ معتزلی عقلیت پسندی [Rationalism] اور تاویل کے مقابلے میں ظہور پذیر ہوئے لیکن اشعری فرقے کے بانی ابوالحسن اشعری نے اپنے رسالے “استحسان الخوض فی علم الکلام” میں ان لوگوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو الٰہیات میں تعقل اور تدبر کو حرام اور بدعت سمجھتے تھے اور اس قسم کے عقائد کے ابطال کے سلسلے متعدد دلائل پیش کئے ہیں۔ اس تسلسل میں اشعری مکتب کے اکابرین ـ منجملہ باقلانی، جوینی، غزالی، اور آخر کار فخر رازی ـ نے عقلیت کی تجدید کردی اور معتزلیوں کی مانند تاویل کے راستے میں کوشاں ہوئے۔

آغاز

ابوالحسن اشعری کو دو ایسے تفکرات کا سامنا تھا جو ان کے بقول انتہا پسندانہ تھے اور ان کی کوشش تھی کہ افراط و تفریط (Two Extremes) سے بچتے ہوئے ایک درمیانی اور معتدل راستے پر گامزن ہوجائیں، معتزلہ عقل پر حقیقت کی شناخت کے واحد اوزار کے طور پر تاکید کرتے تھے اور ہر اس چیز کی نفی کرتے تھے جو ان کے خیال میں اور ان کی عقل کے مطابق، قابل قبول نہیں ہوتا تھا۔ نیز انھوں نے تشبیہ کی نفی کرنے والی آیات کا سہارا لیتے ہوئے نہ صرف خدا کی تشبیہ اور تجسیم کو رد کردیا بلکہ اللہ کی رؤیت کی بھی نفی کردی اور ان صفات کے منکر ہوئے جو ذات خدا پر زائد ہوں اور کہا کہ “کلام خدا” مخلوق ہے۔

معتزلہ کے مقابلے میں اہل حدیث نے نقل یعنی روایات اور احادیث کا سہارا لیتے ہوئے قرآنی آیات کی ظاہری تفسیر کرنا شروع کیا اور قرآن کی عقلی تفسیر سے شدت سے پرہیز کیا۔ اشعری اور اس کے پیروکاروں نے ان دو انتہاؤں سے بچنے کے لئے ان کے بیچ ایک اعتدال پسندانہ راستہ تلاش کرنے اور “اقتصاد فی الاعتقاد” (اعتقاد میں میانہ روی) کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ ابن خلدون نے اس افراط و تفریط (دو انتہاؤں) اور اس میانہ روی کی ایک جامع رپورتاژ [=reportage]اپنی کتاب میں پیش کی ہے۔[1] ابوالحسن اور ان کے بعد ان کے پیروکاروں نے ایک اعتدال آمیز روش تلاش کرنے کی کوشش کی۔

مزید  سورہ اعلی

عقلی اور نقلی روش

اگرچہ اشعری تحریک عقلیت اور تاویل سے پرہیز کے ساتھ شروع ہوئی لیکن اشعری نہ صرف عملی طور پر بلکہ نظری طور پر بھی عقلیت پسند ہیں اور یہ عقلیت ـ جو درحقیقت معتزلیوں اور فلاسفہ کی میراث ہے ـ اشعری کے پیروکاروں کی کاوشوں میں زیادہ سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں اشاعرہ نے فلاسفہ اور عقلیت پسند معتزلیوں ـ اور اشعریوں کے بقول “ان کی بدعتوں” کے مقابلے میں ـ اسلام کے بنیادی اعتقادات ـ یعنی وحی سے حاصل ہونے والی اسلامی تعلیمات (=نقل) ـ کا دفاع و تحفظ کرنے کی کوشش کی اور انھوں نے ایک عقلی ـ نقلی روش اپنائی اور منطقی استدلال کا سہارا لیا۔

اشعری کے بعد ان کے پیروکاروں نے عقلیت پسندی کو مزید شدت بخشی۔ اشعری عقلیت پسندی کے سلسلے میں واضح ترین اور مستند ترین نمونہ ان کا رسالہ استحسان الخوض فی علم الکلام ہے۔ اشعری فرقے کے بانی ابوالحسن اشعری نے اپنے رسالے “استحسان الخوض فی علم الکلام” میں ان لوگوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو الٰہیات میں تعقل اور تدبر کو بدعت اور حرام سمجھتے تھے اور اس قسم کے عقائد کے ابطال کے سلسلے متعدد دلائل پیش کئے ہیں۔

اشعری روش، معتزلہ اور اصحاب حدیث کی روشوں کے درمیان اعتدال آمیز روش ہے، یعنی معتزلہ کے برعکس ـ جو اعتقادی مسائل میں نقل پر عقل کی حکمرانی کے قائل تھے ـ اشعری سمجھتے تھے کہ عقل شناخت و معرفت کی تابع و خادم ہے؛ اور اصحاب حدیث کے برعکس ـ جو سمجھتے تھے کہ اصول دین میں عقل کا استعمال بدعت اور حرام ہے ـ اشعریوں نے عقلی اور کلامی روش سے اس کی توضیح و تشریح کی اور یوں ایک مستقل کلام [اشعری کلام] کی داغ بیل ڈال دی جس کے زیادہ تر اصول و قواعد اصحاب حدیث کے ساتھ سازگار و ہمآہنگ تھے چنانچہ زیادہ تر اصحاب حدیث نے ان کی روش اور کلام کو قبول کیا۔[2]

مزید  شیعہ اثنی عشری

عقلیت پسندی اور تاویل

ایک طرف سے اشعری کی تالیفات میں عقلیت پسندی کے اثرات اور دوسری طرف سے اسلامی معاشرے میں عقلیت پسندی کی تاثیرات نے اشعری کے پیروکاروں کے عقلیت پسندی نیز تاویل کی جانب ـ جو عقلیت پسندی کا نتیجہ ہے ـ مائل ہونے کے لئے ماحول فراہم کیا۔ اور اشعری مکتب کے اکابرین ـ یعنی الباقلانی، جوینی، غزالی اور آخر کار فخر رازی ـ نے عقلیت پسندی کی تجدید کی اور معتزلہ کی طرح تاویل کی راہ میں کوشش کی۔ چھٹی صدی ہجری (بارہویں صدی عیسوی) میں ابن رشد نے اپنی کتاب “فصل المقال” میں ـ جہاں فہم شریعت کے دعویداروں کو موضوع سخن بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اشعریہ، معتزلہ، باطنیہ، حشویہ ان جماعتوں میں مشہور ترین ہیں اور یہ سب تاویل کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ اور وہ شرع کے الفاظ و کلمات کی تاویل کا اہتمام کرتے ہیں اور شرعی الفاظ کی اپنے اعقتادات کے مطابق تاویل کرتے ہیں۔[3]

معاصر دور میں بھی گولڈزیہر اشعری مکتب میں ـ عقلیت پسندی کی طرف پلٹ آنے کی بنا پر ـ رونما ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اگر معتزلہ قرآن کی تاویل کے راستے پر گامزن ہوئے تو اشاعرہ نے تاویل حدیث کا راستہ اپنایا۔[4] اس قسم کی تاویل کا ایک نمونہ سورہ طہ کی آیت 5 کی تاویل ہے؛ جہاں ارشاد ہوتا ہے: الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى

متعلقہ مآخذ

حاشیے

  1. ابن خلدون، مقدمہ، ج2 ص947-942۔
  2. جهانگیری، ابوالحسن اشعری مؤسس کلام اشعری، ص152۔
  3. ابن رشد، فصل المقال، ص46۔
  4. گلدسیهر، درس هایی درباره اسلام، ص 220-224.

مزید  حدیث من مات

مآخذ

  • قرآن کریم
  • ابن رشد، محمد، «‌فصل المقال »، «‌الکشف عن مناهج الادلة »، فلسفة ابن رشد، بیروت، دارالا¸فاق الجدیده.
  • ابن خلدون، مقدمه، ترجمة محمدپروین گنابادی، تهران، 1353ہجری شمسی۔
  • جهانگیری، محسن، ابوالحسن اشعریمؤسس کلام اشعری، در مجموعه مقالات (بیست مقاله)، تهران: حکمت، 1383ہجری شمسی۔
  • گلدسیهر، ایگناتس، درسهایی دربارة اسلام، ترجمة علینقی منزوی، تهران، 1357ہجری شمسی۔

بیرونی ربط

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.