یوم القدس کا اعلان امام خمینی کا عظیم کارنامہ

رمضان المبارک کے آخري جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو ايران اور دنيا بھر کے مسلمان روزہ دار ايک بار پھر ساٹھ سال سے زيادہ عرصے سے جاري اسرائيلي کے مجرمانہ اقدامات کي مذمت اور فلسطين کے مظلوم عوام کي حمايت ميں اپني آواز بلند کریں گے- عالمي يوم القدس ايران اور دنيا بھر ايسے وقت ميں منايا جائے گا کہ جب امام خميني کي تحريک اور ايران کے اسلامي انقلاب سے پيدا ہونے والي اسلامي بيداري کي موجیں پورے عالم اسلام میں پھیل چکی ہں اور حريت پسندي اور فلسطين کے مظلوں لوگوں کي حمايت مسلمانوں کي تحريکوں کا مرکزي عنوان بن گيا ہے۔ اسرائيل مردہ بادہ کے نعرے آج ايسے وقت ميں پوري دنيا کے حريت پسندوں کے زبان پر گونج رہے ہيں کہ جب امام خميني (رح) کے جانشين آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے ايران کے بيدار اور غیور عوام کي بابصريت رہنمائي کے ذريعے، بيت المقدس کي رہائي اور اسرائيل کي نابودي کو بہت حدتک قريب کر ديا ہے- يہي وجہ ہے کہ یوم القدس کے مظاہروں ميں دنيا بھر کے حريت و آزادي کے متوالوں کي بھرپور شرکت جہاں امام خميني کي آواز پر ليبيک کہنا ہے وہيں آيت اللہ العظمي خامنہ اي کي دعوت پر بھي لبيک کہنا ہے جو شروع ہي سے مسئلہ فلسطين کو عالم اسلام کا اولين مسلہ قرار ديتے چلے آئے ہيں۔

آج فلسطین کی غیور ملت نے مزاحمت اور جہاد و شہادت کے جوہر عظیم کی شناخت کرکے عزت و سعادت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ارض فلسطین کی آزادی کیلئے ہزاروں قیمتی لوگ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، ان میں عام لوگ بھی ہیں اور تحریک آزادی کے قائدین اور مجاہدین بھی۔ گذشتہ برسوں میں ڈکٹر فتحی شقاقی، شیخ احمد یٰسین، ڈاکٹر رنتیسی اور حماس و جہاد اسلامی کے قائدین کی عظیم قربانیوں نے شجاعت کی جو داستانیں رقم کی ہیں وہ مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے مقصد کے حصول کیلئے قربانیاں پیش کرنے اور جانوں پر کھیلنا سیکھ جاتی ہیں، انہیں زیادہ دیر تک غلام اور زیر نگیں نہیں رکھا جاسکتا۔ ویسے بھی ظلم و طاقت کے زور پر کب تک یہ تاریکی چھائی رہے گی۔ جوان اپنی جوانیاں لٹا کر اور مائیں اپنے بچوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس تاریکی کو صبح نو میں تبدیل کر کے چھوڑیں گی۔

ظلم کی یہ سیاہ رات جسے اسرائیل کی صورت میں برطانیہ و امریکہ نے دنیا پر مسلط کیا، ایک دن ختم ہو کر رہے گی۔ آج نہیں تو کل دنیا اس ناجائز صیہونی ریاست کے وجود سے پاک ہوگی اور وہ دن کتنا خوبصورت اور خوشگوار ہوگا جب دنیا کے نقشہ سے اسرائیل کا وجود مٹ جائے گا اور ہم سب مل کر ارض مقدس میں قبلہء اول کے اندر نماز ادا کریں گے اور دنیا میں امن و سلامتی کا راج ہوگا اور عالمی یوم القدس بھی قدس میں ہوگا جہاں شہیدوں کو یاد کرکے آزادی کے نغمے گنگنائے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.