میانمار میں ایمرجنسی کے اعلان کے باوجود فرقہ وارانہ فسادات

0 9

میانمار میں ایمرجنسی کے اعلان کے باوجود فرقہ وارانہ فساداتمیانمار میں ایمرجنسی کے اعلان کے باوجود فرقہ وارانہ فسادات مزید تین شہروں میں پھیل گئے ہیں۔ اطلاعات کےمطابق میانمار میں ایمرجنسی کے اعلان اور فوج کی تعیناتی کے باوجود فرقہ وارانہ فسادات مزید تین شہروں میں پھیل گئے ہیں۔ میانمار کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ دی ہے کہ ملک کے وسط میں فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ ہورہا ہے اور فسادات یامتین سمیت مزید تین شہروں میں بھی شروع ہوگئے ہیں۔یامتین میں ایک مسجد اور مسلمانوں کے پچاس گھروں کو آگ لگا دی گئي اور لیوی شہر میں بھی متعدد گھروں اور ایک مسجد کو جلا دیا گيا ہے۔یامتین میکتیلا شہر سے 64 کلومیٹر دور واقع ہے جہاں گزشتہ بدھ کو انتہا پسند بدھسٹوں نے کئي مسجدوں کو نذر آتش کردیا تھا جس کے بعد فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ میانمار کے صدر نے جعہ کو علاقے میں ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے فوج کو تعینات کردیا تھا۔ میانمار کے حکام کے مطابق ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی نئي لہر میں کم سے کم 32 افراد مارے گئے ہیں جبکہ فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں 35 افراد کو گرفتار کیا گيا ہے۔ دریں اثنا مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میانمار کی پولیس نے تشدد روکنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال میانمار میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں سینکڑوں روہنگیا مسلمان جاں بحق اور ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہوگئے تھے۔

مزید  ہندوستان؛ حکومت کی طرف سے مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر انہیں باٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے: کلب جواد
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.