شام کے بارے ميں جينيوا اجلاس ناکام

بعض عرب اور مغربي ملکوں کي توقعات کے برخلاف جنيوا اجلاس کے اختتام پر يہ بات واضح ہوگئي ہے کہ شام کے بارے ميں سلامتي کونسل کے مستقل ارکان کے درميان اختلافات پوري شدت کے ساتھ باقي ہيں-

اگر چہ اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصي نمائندے کوفي عنان نے اجلاس کے اختتام پر صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس ميں شام ميں انتقال اقتدار کي اصولي بينادوں پر اتفاق رائے ہوگيا ہے ليکن موصولہ خـبروں سے پتہ چلتا ہے کہ شام ميں انتقال اقتدار کا معاملہ ہي اجلاس کے شرکا کے درميان سب سے زيادہ اختلافات کا با‏‏عث رہا ہے-

جينوا اجلاس ميں سلامتي کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے وزرائے خارجہ کے علاوہ ، يورپي يونين، عرب ليگ ، قطر، ترکي، عراق اور کويت کے نمائندے بھي شريک تھے- امريکہ، برطانيہ، فرانس اور خطے کے بعض عرب ممالک بشار اسد کو ہٹاکر شام ميں انتقال اقتدار کے عمل کو آگے بڑھانے پر زور دے رہے تھے جبکہ روس اور چين نے اسکي سختي کے ساتھ مخالفت کي-

ماسکو اور بيجنگ نے جنيوا اجلاس کے دوران شام مخالف عالمي گروپ کي جانب سے مسلح دہشتگردوں کي حمايت بند کئے جانے کي ضرورت پر کئي بار زور ديا اور شام ميں قومي آشتي کے قيام کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصي ايلچي کوفي عنان کے امن فارمولے پرعملدرآمد کو ضروري قرار ديا –

شام کے حوالے سے روس اور چين کا يہ موقف ايسے وقت ميں سامنے آيا ہے جب اقوام متحدہ کے خصوصي ايلچي کوفي عنان نے بھي جنيوا اجلاس کے دوران کئي بار اپنے چھے نکاتي امن منصوبے پر عملدرآمد پر زور ديا-

انہوں نے لڑائي ميں الجھے تمام فريقوں سے اپيل کي کہ ملک ميں تشدد کا سلسلہ بند کرديں اور انکي چھے نکاتي فارمولے کي پابندي کريں-

سب سے اہم بات يہ ہے کہ کوفي عنان نے جنيوا اجلاس ميں اعلان کيا کہ شام ميں انتقال اقتدار کے ہر عمل ميں موجودہ حکومت اور مخالف گروہوں، دونوں کو شامل کيا جانا ضروري ہے-

يہ نظريہ مغربي ملکوں نيز قطر اور سعودي عرب جيسے بعض عرب ممالک کے نظريات کے بالکل برخلاف ہے جو دہشتگرد گروہوں اور حکومت شام کے مخالف ديگر سياسي دھڑوں کو مسلح کرکے، شام ميں قتل و غارت گري کا بازار گرم رکھنا چاہتے ہيں تاکہ يہ ظاہر کيا جاسکے کہ شام کے معاملے کو سياسي طريقے سے حل نہيں کيا جاسکتا-

مغرب – عرب اتحاد نے شام ميں فوجي مداخلت کا راستہ ہموار کرنے کے لئے کافي عرصے پہلے ہي کوشش شروع کردي تھي تاکہ صدر بشار اسد کي حکومت کو ختم کيا جاسکے-

اب تک روس اور چين نے شام ميں ہر قسم کي فوجي مداخلت کي کھل کر مخالفت کي ہے- جنيوا اجلاس سے قبل امريکي وزير خارجہ ہيلري کلنٹن نے سن پيٹرز برگ ميں اپنے روسي ہم منصب سرگئي لاو روف کے ساتھ ملاقات کي تھي تاکہ روس کو شام کے حوالے سے مغرب کے نظريات قبول کرنے پر آمادہ کرسکيں – ليکن روس اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے اور مسلسل، شام ميں فوجي مداخلت کي مخالفت اور صدر بشار اسد کو ہٹائے بغير ، کوفي عنان کے امن فارمولے پر زور دے رہا ہے-

صدر بشار اسد کے اقتدار ميں رہنے کے حوالے سے روس اور امريکہ کے درميان پائے جانے والے اختلافات شام کے خلاف مغرب کے منصوبوں پر عملدرآمد ميں ايک بڑي رکاوٹ بنے ہوئے ہيں-

يہ اختلافات پورے جنيوا اجلاس پر بھي چھائے رہے اور يہ اجلاس بھي مغرب کے لئے کوئي کاميابي دلائے بغير ختم ہوگيا-

جنيوا اجلاس کو شام کے خلاف مغرب اور عرب متحدہ محاذ کي ايک اور ناکامي قرار ديا جارہا ہے خاص طور پر اس لئے بھي کہ اس اجلاس ميں کوفي عنان نے يہ بات کھل کر کہي ہے کہ صرف شام کے عوام کو اپنے ملک کے سیاسي مستقبل کے فيصلے کا حق حاصل ہے –

يہ بيان اس بات کي واضح علامت ہے کہ شام پر باہر سے تھوپا جانے والا کوئي بھي حل قابل قبول نہيں ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.