2022 - 09 - 27 ساعت :
اسلامی انقلاب

امام خمینی کے انقلاب کا نقطہ عروج / ۶

2020-07-10 03

اسلام دشمنوں نے غیر صالح حکام کے ہاتھوں تفرقہ اندازی کی تلوار سے امت پیغمبر اسلام ؐ کی وحدت کو پارہ پارہ کیا ہے۔

امام اخمینیؒ نے فرانسیسی حکومت کیطرف سے دی جانے والی تازہ دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ شاہ کے فرار کے بعد نام نہاد شاہی کونسل نے شاہ کی ذمہ داریوں کو سنبھال لیا، لیکن امام خمینیؒ کی پالیسیوں کے نتیجے میں کچھ دنوں بعد یہ کونسل بھی ٹوٹ گئی اور اس کے سربراہ جلال تہرانی، امام خمینی سے ملاقات کےلئے پیرس پہنچنے کے بعد استعفٰی دے دیا۔

امام خمینیؒ نے اربعین حسینی کی مناسبت سے دس نکات پرمشتمل ایک بیان دیا۔ اس میں  ایران کے اندر انقلابی کونسل کے قیام پر زور دیا گیا تھا۔

چہلم کے دن نکلنے والے جلوسوں میں لوگوں کی شرکت، عاشورا کے جلوسوں سے بھی زیادہ تھی۔

امام خمینیؒ نے اپنے پیغام میں فرمایا:” شاہ چلا گیا اور شاہی حکومت زمین بوس ہوگئی۔ بیت المال لوٹنے والے ملکی سرمایہ ملک سے باہر منتقل کرنے کے بعد یکے بعد دیگرے بھاگ گئے۔ ہماری بہادر قوم پہلی فرصت میں ان کا محاسبہ کرےگی، انشاءﷲ بہت جلد آپ کے پاس آجاؤں  گا۔

پارلیمنٹ پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے رضا پہلوی کے نمائندوں سے کہہ دیں کہ وہ ملت کے گھر سے نکل جائیں۔ شاہی کونسل کے ارکان کو ایک بار پھر خبردار کیا جاتا ہےکہ وہ اس کونسل کو خیر باد کہہ دیں”۔

امام خمینیؒ کی وطن واپسی کی خبرو ں سے کروڑوں عوام کے دل خوشیوں سے جھوم رہے تھے۔ ملک کی مختلف شہروں سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد تہران میں جمع ہورہی تھی تاکہ امام خمینیؒ کے استقبال میں شریک ہو سکیں۔ شاہ پور بختیار نے ہوائی اڈوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔

خیابان انقلاب سے لےکر مینار آزادی تک لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر یہ نعرہ لگا رہا تھا کہ اگر امام خمینی کو اترنے کی اجازت نہیں دی گئی تو وہ اسلحہ لےکر مقابلہ کریں گے۔

انقلابی علماء اور حوزہ علمیہ کے مدرسین، تہران یونیورسٹی کی مسجد میں دھرنا بیٹھ گئے اور بہت ساری تنظیمیں اور شخصیات ان سے آ ملتی ہیں۔ یوں حکومت مجبور ہو کر گھٹنے ٹیک دیتی ہے اور ہوائی اڈوں کو بند کرنے کا حکم منسوخ کیا جاتا ہے۔

آخرکار اس دور کے سب سے عظیم انقلاب کے قائد امام خمینیؒ جو ایک طویل عرصے تک مشرق و مغرب کی مخالفت کے باوجود مصروف جہاد رہےکو لانے والا ہوائی جہاز، پرواز انقلاب کے نام سے ۱۲ بہمن ۱۳۵۷ = ۳۱ جنوری ۱۹۷۸ء کو صبح کے ساڑھے نو بجے تہران ہوائی اڈے پر اتر گیا۔ یوں ملت کے پندرہ سالہ انتظار کی مدت ختم ہوئی اور بہت سارے غیر ملکی ناظرین اور بین الاقوامی خبررساں ایجنسیوں  کے اعتراف اور ملت ایران کی شہادت کے مطابق، تاریخ کا ایک عظیم ترین استقبال دیکھنے میں  آیا۔

امام خمینیؒ ایئر پورٹ پر ایک مختصر سی گفتگو کے بعد “بہشت زہراء (س)” روانہ ہوئے اور وہ تاریخی اور باطل شکن تقریر کی جس کی گونج ملت ایران کے ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہےگی۔

امام خمینیؒ کی آمد کے دس دن بھی نہیں گزرنے پائے تھےکہ فتح کا لحظہ بھی آن پہنچا۔ ان دس دنوں، جنہیں “دہہ فجر” سے یاد کیا جاتا ہے کے عرصے میں امام خمینیؒ کے دیدار کے شائقین ملک کے طول و عرض سے، امام کی اقامتگاہ، مدرسہ علوی اور مدرسہ رفاہ میں وارد ہوکر اپنے رہبر کی بیعت کر رہے تھے۔ اس دوران ۱۹ بہمن ۱۳۵۷ = ۸ فروری ۱۹۷۸ء کو ایئر فورس کے افسروں کی بیعت قابل دید اور شاہی حکومت کے زوال کی حتمی علامت تھی۔

۲۱ بہمن ۱۳۵۷ = ۱۰ فروری ۱۹۷۸ء کے دن مکمل طور پر مارشل لاء لگانےکا اعلان کیا گیا۔

شاہی حکومت کے گرفتار شدہ سر کردگان کے اعتراف اور سرکاری اسناد کی روشنی میں معلوم ہوتا ہےکہ عوامی تحریک کو کچلنے کےلئے وسیع پیمانے پر قتل عام کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں حرکت میں آجاتی ہیں، لیکن امام خمینی ایک اہم اور تاریخ ساز فیصلے کے ذریعے امریکہ اور اس کی ایجنٹ شاہی حکومت کی آخری کوششوں کو ناکام بنا دیتے ہیں۔

امام خمینی کا پیغام مختلف طریقوں سے نہایت سرعت کے ساتھ تہران کے عوام تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا:

” آج مارشل لاء کا جو اعلان کیا گیا ہے وہ دھوکہ اور خلاف شرع اقدام ہے؛ عوام کو چاہئےکہ اس کو کوئی اہمیت نہ دیں [اور گھروں سے نعرہ لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں]”۔

مختصر سی مدت میں لوگوں نے وسیع پیمانے پر جدوجہد کرکے تہران کے اہم مراکز، سڑکوں اور گلیوں میں دسیوں ہزار ریت بوریوں سے مورچہ بندی کی، یوں جھڑپوں کا آغاز ہوگیا اور چوبیس گھنٹوں سے بھی کم مدت میں سرکاری مراکز یکے بعد دیگرے عوام کے قبضے میں آتے چلے گئے اور ریڈیو “صدائے انقلاب” نے امام خمینی اور ملت کے ہاتھوں  ۱۵ خرداد کے قیام کی کامیابی اور طاغوت کی شکست کی خبر دنیا تک پہنچائی۔

۲۲ بہمن ۱۳۵۷ = ۱۱فروری ۱۹۷۸ء کی صبح سے لےکر ۱۳ خرداد ۱۳۶۸ = ۳ جون ۱۹۸۹ء کے درمیانی عرصے میں اسلامی انقلاب کےخلاف رونما ہونے والے بے شمار اور سنگین واقعات (جن میں امریکہ نے بنیادی کردار ادا کیا؛ مغربی طاقتوں نے بھرپور حصہ لیا اور بہت سے مواقع پر روس اور دائیں بازو سے وابستہ پارٹیوں یا انجمنوں نے بھی اپنے کرتوت دکھائے) کا دامن اس قدر وسیع اور گوناگوں ہےکہ ان کی صرف سرخیوں کو بھی بیان کرنا ممکن نہیں۔

مختلف تنظیموں کیطرف سے مسلح بغاوت، گنبد اور کردستان کی جھڑپیں، حزب خلق مسلمان کیطرف سے گڑ بڑ، بنی صدر اور لیبرل عناصر کی خیانت کاریاں، آیت ﷲ بہشتیؒ اور امام ؒ کے ۷۲ بہترین ساتھیوں کا بے رحمی کے ساتھ قتل عام، وزیر اعظم باہنر و صدر رجائی اور شہدائے محراب کا قتل، منافقین (مجاہدین) خلق کیطرف سے قتل کی وارداتیں، شرق و غرب کی مکمل حمایت سے مسلط کئی گئی آٹھ سالہ طویل جنگ (دفاع مقدس)؛ شہروں، اقتصادی مراکز اور تیل کی تنصیبات پر بمباری، امریکہ اور مغربی ممالک کے بہت سارےحلفیوں کیطرف سے ایران کا اقتصادی، سیاسی اور دفاعی بائیکاٹ، کودتا کی سازشیں اور اس نئی اسلامی حکومت کے خلاف مغربی طاقتوں کے پروپیگنڈوں کا طوفان و غیرہ ان واقعات کے بعض نمونے ہیں۔

یہاں ہم اس حقیقت کے بیان پر اکتفا کرتے ہیں کہ تاریخی شواہد نیز دنیا کے مختلف حصوں اور مختلف انقلابات و اصلاحات میں رونما ہونے والے حوادث و واقعات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انقلاب اسلامی ایران کو پیش آنے والی بہت سی مشکلات ایسی تھیں جن میں  سے کوئی ایک بھی اس انقلاب کو اپنی راہ سے دور کرنے اور اسے شکست سے دوچار کرنے کےلئے کافی تھی، لیکن اللہ کے لطف و کرم، امام خمینیؒ کی ہوشیاری اور عظیم ایرانی قوم کی وفاداری و آگاہی نے تمام سازشوں کو خاک میں ملا دیا، یہاں تک جب لوگ گیارہ سال تک مصائب و مشکلات کا مقابلہ کرنے کے بعد ۱۳۶۸ = ۱۹۸۹ء میں اپنے رہبر کے جنازے میں شریک ہوئے [تقریباً ایک کروڑ افراد]، تو اس وقت ان کی تعداد، اس وقت سے کئی گنا زیادہ تھی جب وہ امام ؒ کے استقبال کےلئے جمع ہوئے تھے؛ لوگوں کا حوصلہ اور لگاؤ عمیق تر ہو چکے تھے۔ امام خمینیؒ اور انقلاب کی روش پر چلتے رہنے کا عزم راسخ تر بن چکا تھا اور اسلامی حکومت تمام تر سازشوں اور مشکلات کے باوجود گذشتہ سالوں کی نسبت زیادہ مستحکم ہو چکی تھی۔

اے ﷲ! ہمیں اس بات کی توقیق دےکہ ہم امام خمینیؒ کی روش کو اپنائیں اور ان اصولوں پر ثابت قدم رہیں جن کی حقانیت کی گواہی دسیوں ہزار شہیدوں نے اپنا خون دےکر دی ہے۔

اے اللہ! عظیم ایرانی قوم، جس نے امام ؒ کی شناخت کے لمحے سے لےکر اب تک کبھی بھی اپنے عہد و پیمان کو نہیں توڑا اور ہر قسم کی مشکلات کا خندہ پیشانی کے ساتھ مقابلہ کیا، کو توفیق دےکہ وہ اس انقلاب کے حقیقی ثمرات، اسلام کے روزافزون کامیابی اور امام خمینیؒ  کے خوابوں کی تعبیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے؛ آمین یا رب العالمین۔

احمد خمینی

کوثر، ج۱ سے اقتباس

امام خمینی کے انقلاب کا نقطہ عروج / ۱

امام خمینی کے انقلاب کا نقطہ عروج / ۲

امام خمینی کے انقلاب کا نقطہ عروج / ۳

امام خمینی کے انقلاب کا نقطہ عروج / ۴

امام خمینی کے انقلاب کا نقطہ عروج / ۵

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت