مومن کو اپنی روزی کے بارے میں کس قدر فکر مندرہنا چاہئے

مومن کو اپنی روزی کے بارے میں کس قدر فکر مندرہنا چاہئے

 

اگر کوئی باتقوی ہو تو اسے اپنی رزق کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ خدائے متعال اس کے سامنے نجات کی راہیں کھولتا ہے جب اسے کوئی پیجیدہ مشکل درپیش ہوتی ہے اس کے لئے راہ نجات قرار دیتا ہے اور اس کے لئے رزق کو ایسی راہ سے پہنچاتا ہے

جس کا اسے گما ن تک نہیں ہوتا۔ چونکہ انسان حلال و پاک اور وسیع رزق کا طالب ہے، اب اگر اسے معلوم ہوجاتاہے کہ تقوی رزق کی وسعت کا سبب بنتاہے، تو اس میں تقوی حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوتاہے۔

حق کے سامنے تسلیم ہونا پریشانیوں کے برطرف ہونے کاسبب:

یہ سوال پیدا ہوتاہے، کہ مومن کو اپنی روزی کے بارے میں کس قدر فکر مندرہنا چاہئے،کس قدر اسے اپنی زندگی کو وسعت اور آسودہ بنانے کی فکر میں ہوناچاہئے اور اس فکر میں ہو کہ اپنے رزق کو کیسے اور کس راہ سے حاصل کرے؟ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کچھ حاجتیں رکھتاہے کہ اگر وہ پوری نہ ہوں تو زندگی کو جاری رکھنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے․ من جملہ ان چیزوں میں سے ایک روزی ہے جس پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے، فطری طور پر جو اپنی زندگی سے دلچسپی رکھتا ہے وہ اپنے رزق کی فکرمیں بھی ہوتاہے۔ چنانچہ ہم نے اس سے پہلے بھی ذکر کیا کہ، رزق صرف خوراک تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام مادی و معنوی نعمتیں جو خدائے متعال نے اس دنیا میں انسان کو عطا کی ہیں ، سب رزق شمارہوتی ہیں: لباس،گھر، بیوی، استاد او رعلم بھی رزق ہیں۔

اس وسیع نظریہ کے مطابق جو ہم رزق کو تمام مادی ومعنوی نعمتوں پر مشتمل جانتے ہیں، اور اطمینان رکھتے ہیں کہ ہر شخض اپنا رزق حاصل کرنے کے لئے مجبور ہے، فطری بات ہے کہ ہر شخص کو اپنی رزق کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے، لیکن انسان کی فکراور پریشانی کی مقدار اس کی معرفت و ایمان کے مراتب پر منحصر ہے۔ یعنی جس طرح انسان کا ایمان اور اس کی معرفت یکساں نہیں ہے، اس طرح ان کا فکرمندہو نا بھی ایک حد میں نہیں ہے، جس قدر انسان کا ایمان اس کی معرفت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اس کی فکر اور پریشانیاں بھی کم ہوتی جاتی ہےں یہاں تک کہ بعض بزرگوں کی تعبیر کے مطابق بعض اولیاء خدا معرفت کی اس منزل تک پہنچے ہوئے ہیں کہ بالکل اپنی فکر میں نہیں ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیات میں جو تسلیم کا مقام بیان ہواہے اسی مرتبہ پر وہ فائز ہیں․ خدائے متعال فرماتاہے:

(نساء/۶۵)

”پس تمہارے پروردگار کی قسم یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلاف میں حکم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں کسی طر ح کی تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سرا پا تسلیم ہوجائیں“

انسان تسلیم کی منزل میں ایک ایسے مرحلہ تک پہونچ جاتاہے کہ مکمل طور پر خداکے حضور میں تسلیم ہوجاتاہے اور اپنے لئے کوئی چیز نہیں چاہتاہے اور اپنی خواہشات کو فراموش کردیتا ہے اور صرف اس پر توجہ رکھتا ہے جو خدا کی مرضی ہو، اگر انسان اس مرتبہ تک پہونچ جائے ، تووہ پریشانیوں سے رہائی پاجاتاہے اور اس پر مسائل آسان ہوجاتے ہیں:

”اوحی اللّٰہ تعالی الی داود: یا داود! ترید و ارید و انّما یکون ما ارید فان اسلمت لما ارید یکفیک ماترید وان لم تسلم بما ارید اتعبتک فیما ترید ثم لا یکون الا ماارید“ ۱

”خدائے متعال نے حضرت داؤد کو وحی کی : اے داؤد! تم ایک چیز چاہتے ہواور ارادہ کرتے ہو اور میں بھی ایک چیز چاہتاہوں اور جو میں چاہتا ہوں وہ واقع ہوتاہے، پس اگر میری چاہت کے مقابلہ میں تم تسلیم ہوجاوٴ تو جوتم چاہو گے وہ تمہیںملے گا اور اگر میری مرضی کے مقابلہ میں تسلیم نہ ہوتے ہو تو میں تمہیں تمہاری چاہت کے بارے میں رنج سے دوچار کروں گا او راس کے بعد وہی واقع ہوگا -جسے میں چاہتاہوں“

بعض لوگ مقام تسلیم ،کو مقام رضاسے بالاتر جانتے ہیں ، کیونکہ وہ معتقد ہیں کہ مقام رضا میں انسان جو کچھ خدا انجام دیتا ہے، اسے اپنی خواہش کے مطابق پاتاہے، اس بناپر اپنے مزاج پر نظر رکھتاہے۔ لیکن مقام تسلیم میں اپنے مزاج اور جو کچھ اس کے مخالف وموافق ہے سب کو خدا پر چھوڑ تاہے اور اسے توکل کے مرتبہ سے بالاتر جانتا ہے، کیونکہ توکل امور زندگی میں خدا پر اعتماد کے معنی میں ہے، اور خدا کو اپنا وکیل بنانا ہے ، اس بنا پر بندہ بھی اپنے آپ سے تعلق رکھتا ہے، لیکن تسلیم کے مرتبہ میں اپنے سے متعلق امور سے ہاتھ کھینچتے ہوئے ہر چیز کو خدا ئے متعال کے سپرد کرتاہے۔ ۱

خدائے متعال مومنوں کو مقام تسلیم کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتاہے:

(بقرہ/۲۰۸)

————————————-

۱۔بحار الانوار ، ج ۸۲، ص ۳۶

۲۔ جامع السعادت، ج ۳، ص ۲۱۱، ۲۱۲

”ایمان والو! تم سب مکمل طریقہ سے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطانی اقدامات کا اتباع نہ کرو کیوں کہ وہ تمھارا کھلا ہوادشمن ہے“

مرحوم علامہ طباطبائی اس آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں:

کلمات ”تسلم“ و ”اسلام“ اور ”تسلیم“ ایک معنی میں ہے۔ اور کلمہ ”کافة“ کلمہ ”جمیعا“ کے معنی میں تاکید پر دلالت کرتاہے،اور چونکہ آیت میںمومنین سے خطاب ہے اور وہ ”سلم“ میں داخل ہونے کے لئے مامور ہوئے ہیں، پس نتیجہ کے طور پر آیت میں حکممعاشرے کے تمام لوگوں او رفردفرد سے مربوط ہے۔ لہذا فردفرد پر بھی واجب ہے ا ور تمام لوگوں پر واجب ہے کہ دین خدا میں چون و چرا نہ کریں اور خدا اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے تسلیم ہوجائیں۔ اسی طرح چونکہ خطاب خاص کر مومنین سے ہواہے، اور جس ”سلم“ کے بارے میں مومنین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کے مقابلہ میں تسلیم ہوجائےں۔ پس جس ”سلم“کے بارے میں ان کو دعوت ہوئی ہے وہ یہ کہ خدا پر ایمان لانے کے بعد اس کے حضور میں تسلیم ہوجائیں اور اپنے لئے قرین مصلحت اور مطلق العنان ہونے کے قائل نہ ہوں اور خدا اور اس کے رسول نے جوراستہ بیان فرمایاہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اخیتار نہ کریں۔ کوئی قوم ہلاک نہیں ہوئی ہے، مگر یہ کہ اس نے خدا کی راہ کو چھوڑدیا ہو اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی ہو اور ایسے راستہ کو اختیار کیا ہو کہ جس کے بارے میں خدا کی طرف سے کوئی دلیل نہیں تھی ۔ ۱

جی ہاں! جو لوگ مقام تسلیم تک پہنچے ہیں، وہ اپنے لئے کوئی خواہش نہیں رکھتے اور ان کی مرضی

خدا کی مرضی ہوتی ہے۔ وہ اس فکر میں نہیں ہوتے کہ ان کی روزی کس طرح اور کس راستہ سے حاصل ہو۔ وہ اس فکر میں ہوتے ہیں کہ کسی طرح خدا کی بندگی کریں کہ وہ زیادہ سے زیادہ راضی ہوجائے۔ یقینا یہ گروہ نجات اور سعادت تک پہونچنے والا ہے ․ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

”کل من تمسک بالعروة الوثقی فہو ناج“

”جس نے خدائے متعال کی مضبوط رسی کو پکڑلیا اس نے نجات پائی“

————————————-

۱۔ المیزان (دار الکتاب الاسلامیہ)ج ۲، ص ۱۰۳

جب معصوم سے سوال کیا گیا کہ خدا کہ مضبوط رسی کو پکڑنے کے کیا معنی ہے؟ تو فرمایا: وہ خدا کے مقابلہ میں تسلیم ہونا ہے ۱

اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ مقام تسلیم کاتصور کرناہمارے لئے مشکل ہے۔ ہم اس معنی کو سمجھنے سے قاصر ہیں کیسے کہ انسان ایمان و معرفت کے ایک ایسے مرحلہ تک پہنچ جاتاہے کہ اپنے آپ کو فراموش کردیتاہے اور صرف خدا کی مرضی پر نظر رکھتا ہے، لیکن اس مقام سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یقینی طور پر ہم جانتے ہیں کہ خدا کے خاص بندے اس مرحلہ یعنی مقام تسلیم و تفویض تک پہنچے ہیں۔

قضا و قدر پر ایک نظر:

مقام تسلیم تک پہنچنے والوں کے علاوہ، کچھ لوگ اس سے ادنی درجہ پر فائز ہوئے ہیں کہ منجملہ ان میں وہ لوگ ہیں جو ”علم الیقین“ کے مرحلہ تک پہنچے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس کائنات کے تمام چھوٹے بڑے حوادث ایک مستحکم نظام کے تحت ہیں کہ جو خدائے متعال کی طرف سے مقدر ہوئے ہےں، اور تقدیر کے علاوہ ، حتمی قضا کے مرحلہ تک بھی پہنچے ہیں۔ یعنی تقدیرات —- کے علاوہ کہ جو خدا کے توسط سے انجام پاتی ہیںا ور قابل تغییر ہیں تمام امور قضائے قطعی کے مرحلہ تک بھی پہنچے ہوئے ہیں ، کہ جن میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے․

قضا حکم قطعی او رفیصلہ دینے کے معنی میں ہے اور قدر اندازہ اور حد کو تعیین کرنے کے معنی میں ہے۔ حوادثِ دنیا اس لحاظ سے کہ ان کا واقع ہونا علم و مشیت الہی میں قطعی ہے، قضائے الہی کاانجام پاناہے اور اس لحاظ سے کہ حدود ، اندازہ اور زمان ومکان کی موقعیت معین ہے تقدیر الہی مقدر ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض اوقات قضاو قدر کی واضح اور صحیح تفسیر نہ ہونے کی وجہ سے اس میں بعض ابہامات پائے جاتے ہیں اور بہت سے لوگ گمان کرتے ہیں کہ قضاو قدر جبر کے مساوی ہے۔ خلاصہ کے طور پر عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جبر کا مسئلہ قضا وقدر سے کوئی رابطہ نہیں رکھتا ہے اور قضا و قدر پر اعتقاد اس معنی میں نہیں ہے کہ انسان اپنے فرائض کو چھوڑدے اور خیال کرے کہ سب چیزیں پہلے سے ہی طے شدہ ہیں اور اس پر کوئی تکلیف نہیں ہے۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ قاعدہ علیت عمومی اور اسباب و مسببات کا نظام

————————————-

۱۔ بحارالانوار، ج ۲، ۲۰۴

کائنات او رتمام وقائع و حوداث پر حکم فرماہے، اور ہر حادثہ نے، ضرورت ، وجوب، قطعیت، وجود، شکل اور مکانی وزمانی خصوصیات اور اپنے وجود کی تمام خصوصیا ت کو اپنی علت سے حاصل کیا ہے اور من جملہ اسباب و علل میں، خود شخص کا ارادہ بھی ہے اور قضا و قدر اس وقت مستلزم جبر ہوگا، جب خود بشر اور اس کے ارادے کو اس میں دخیل نہ جانےں اور قضا و قدر کو بشر کی قدرت ، طاقت اور ارادہ کاجانشین تصور کریں ۔ حقیقت میں یعنی قضاو قدر الٰہی نظامِ سبب و مسبب کہ جو اس جہان میں جاری ہے اس کا سر چشمہ ارادہ اور علم الہی سے اس کے علاوہ قضاء و قدر الہی کوئی چیز نہیں ہے البتہ انسان کا ارادہ وانتخاب بھی من جملہ اسباب و علل ہے۔ اس بنا پر قضاو قدر پر اعتماد انسان کی تکلیف سے منافات نہیں رکھتا ہے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیاگیا کہ شفا پانے کی غرض سے جن تعویذوں کا استفادہ کیا جاتاہے، کیا وہ قضا وقدر الہی کو روک سکتے ہیں؟ آنحضرت نے جواب میں فرمایا:

”انّہا من قدر اللّٰہ“ ۱

یہ خود قد ر الہی ہیں (یعنی بیماریوں کو شفابخشنے میں ان کا اثر بھی قضاو قدر الہی ہے)

حضرت علی علیہ السلام ایک ٹیڑھی دیوار کے نیچے بیٹھے تھے، اس کے بعد وہاں سے اٹھ کرایک دوسری دیوار کے سایہ میں بیٹھ گئے، حضرت سے کہا گیا:

”یا امیر المومنین اتفرّ من قضاء الله؟ فقال: افرّمن قضاء الله الی قدر الله“ ۲

”اے امیر المومنین ! کیا آپ قضائے الہی سے فرار کرتے ہیں؟ حضرت نے جواب میں فرمایا: قضائے الہی سے قدر الہی میں پناہ لیتاہوں۔“

یعنی ایک قسم کی قضا و قدر سے دوسری قسم قضاو قدر میں پناہ لیتا ہوں: اگر میں بیٹھا رہوں اور میرے سر پر دیوار گرجائے تو مجھے قضاو قدر الہی کی سزا ملے گی کیونکہ علل و اسباب کی روداد کے دوران اگر کوئی انسان ٹوٹی دیوار کے نیچے بیٹھے اور وہ دیوار اس کے سر پر گرے اور اسے صدمہ پہنچے تویہ خود قضا و قدر الہی ہے اور اگر خود اس سے دور ہوجائے، اس خطرہ سے محفوظ رہے تو یہ بھی قضاو قدر الہی ہے۔

————————————-

۱۔ بحارا لانوار، ج ۵، ص ۸۷

۲۔ توحید صدوق(موسسة النشر الاسلامی) ص ۳۶۹

قابل توجہ مطلب یہ ہے کہ اسباب و علل، صرف اسباب مادی و عمومی سے مخصوص نہیں ہیں اور ان ظاہری اسباب ۔ جن کوہم جانتے ہیں۔ کے علاوہ معنوی اور غیر عادی اسباب بھی موجود ہیں۔ منجملہ ان کی دعا اس دنیا کے علل میں سے ایک ہے جو انسان کے مقدر میں موثر ہے۔ دوسرے الفاظ میں دعا قضا و قدر کی زنجیر کی کڑیوں میں سے ایک کڑی ہے کہ کسی حادثہ کو رونما کرنے میں موثر ہوسکتے ہےں یا کسی قضا و قدر کو روک سکتے ہےں، اس لئے فرمایا گیا ہے:

”الدعاء یردّ القضاء و لو ابرم ابراما“ ۱

”دعا قضا کو لوٹادیتی ہے چاہے جس قدر بھی وہ قضا محکم ہو۔“

اس قسم کی احادیث نظام کلی عالم اور تما م علل و اسباب اعم از مادی و معنوی پر ناظر ہیں۔ ایسے موارد کی ناظر ہیں، کہ معنوی علل و اسباب، مادی علل و اسباب کو ماندکردیتے ہیں۔ جو انسان صرف مادی اور محسوس علل و اسباب کو دیکھتا ہے اور خیال کرتاہے کہ سبب انہی چیزوں تک محدود ہے اور وہ نہیں جانتا کہ ہزاروں دوسرے علل و اسباب بھی ممکن ہے اور قضا و قدر کے حکم کے ساتھ سرگرم ہیں اور جب وہ اسباب و علل درمیان میںہوتے ہیں تو مادی اسباب و علل ماند پڑتے ہیں اور بے اثر ہوجاتے ہیں:

(انفال/۴۴)

”اس وقت کو یاد کرو جب خدا دشمنوں سے مقابلہ کے دقت تمھاری نظروں میں دشمنوں کو کم دکھلا رہاتھا ( تا کہ تمہارے دل مضبوط ہوجائیں) اور ان کی نظروں میں تمھیں کم کرکے دکھلارہاتھا تا کہ اس امرکا فیصلہ کردے اور تمام امور کی بازگشت خدا کی طرف ہے “۔

بعض لوگ معرفت و یقین کے ایک ایسے مرحلہ تک پہنچ گئے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ کائنات خدا ئے متعال کے توسط سے ایک دقیق اور حساب شدہ نظام کی بنیاد پر چلتی ہے، اور ہر روداد و ہر حادثہ کا واقع ہونا قضا و قدر کی بنیاد پر ہے اوروہ جانتا ہے کہ تمام چیزیں منجملہ روزی خدائے متعال کے توسط سے مقدر ہوتی ہے اور جس چیز کو خداوند مقدر فرماتاہے انسان اس سے محروم نہیں ہے وہ واقع نہیں ہوتی ہے اور انسان اسے حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ البتہ جیسا کہ ہم نے کہا اس دقیق و حکیمانہ نظام پر اعتقاد رکھنا تکلیف کے منافی نہیں ہے۔

————————————-

۱۔انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ جبر اور کاہلی میں مبتلا ہوئے بغیر قضا و قدر اور توحید افعالی پر اعتقاد رکھے اور گھر میں بیٹھ کر کہے کہ اب جبکہ ہر چیز خدا کی طرف سے مقدر ہے اور ہم سے کوئی کام انجام نہیں پاسکتاہے۔ قضاو قدر او ر توحید افعالی اور اس قسم کے مسائل پر اعتقاد ، مادی و معنوی مسائل کے بارے میں کوشش و فعالیت اور فردی اجتماعی فرائض کوانجام دینے کی ضرورت کے ساتھ منافی نہیں ہے۔ بہر حال اگر کوئی معرفت کی اس حد تک پہنچ جائے تواس کے لئے کسی قسم کا خدشہ نہیں ہوگا۔

یقین کی اہمیت اور اس کے مراتب:

اب جبکہ مقام یقین کی بات آگئی تو مناسب ہے یقین کی تعریف اور اس کے مراتب کی طرف ایک سرسری اشارہ کیا جائے:

یقین ایک ثابت و پائدار اور مطابق واقع اعتقاد ہے جو قابل زوال نہیں ہے اور انسان کے لئے آرام و سکون کا سرمایہ ہے․ بیشک یقین معرفت اور ایک معمولی اعتماد سے برتر ہے اور شریف ترین اور بلند ترین انسانی فضیلت میں اس کا شمار ہے اور بہت کم لوگ میں جو اس مرحلہ تک پہونچ سکے ہیں اور یہ وہ عظیم سرمایہ ہے کہ جو بھی اسے حاصل کرلےتا ہے تو گویا اس نے ایک بڑی سعادت تک رسائی حاصل کرلی ہے۔ جو یقین کے مقام تک پہنچاہے وہ خدا کے علاوہ کسی اور چیز پرتوجہ نہیں کرتاہے وہ صرف خدائے متعال پر بھروسہ کرتاہے اور غیر خدا کوموٴثر نہیں جانتا حقیقت میں یقین کا مرحلہ مراحل اسلام، نیز ایمان و تقوی کے بعد حاصل ہوتاہے ، چنانچہ حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہےں:

”الایمان فوق الاسلام بدرجة و التقوی فوق الایمان بدرجة والیقین فوق التقوی بدرجة وما قسم فی الناس شیء اقل من الیقین“ ۱

”ایمان اسلام سے ایک درجہ برتر ہے اور تقوی ایمان سے ایک درجہ بر تر ہے اور یقین تقوی سے ایک درجہ برتر ہے اور خدا کے بندوں میں یقین سے کم تر کوئی چیز تقسم نہیں ہوئی ہے․“

————————————-

۱۔ اصول کافی، ج ۳، ص ۸۷

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

”پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ، لوگوں کے ساتھ نماز صبح پڑھی ، اس وقت مسجد میں آپ کی نظر ایک جوان پر پڑی جو اونگھ رہاتھا او راس کا سرنیچے گررہا تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑا تھا، اس کا جسملاغرہوچکا تھا اور اس کی آنکھیں گہرائی میں چلی گئی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا: اے جوان! تم نے کیسے صبح کی؟

عرض کی: اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ )یقین کے ساتھ! پیغمبر اسلام نے اس کی بات سن کر تعجب کیا اور فرمایا: ہر یقین کی ایک حقیقت ہے، تمھارے یقین کی حقیقت کیا ہے؟اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ:میرے یقین کی حقیقت نے مجھے غمگین کردیا ہے۔راتوں کو مجھے(عبادت کے لئے) بیدار رکھا ہے اور دن کو پیاسا (روزہ دار) رہنے پر مجبور کیا ہے، ظاہری زندگی سے بے رغبت ہوچکا ہوں۔ گویا دیکھ رہاہوں کہ عرش الہی حساب و کتاب کے لئے آمادہ ہے او رلوگ محشور ہورہے ہیں اور میں بھی ان میں موجود ہوں۔ گویا اہل بہشت کودیکھ رہا ہوں کہ بہشت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہورہے ہیں، ایک دوسرے سے سرگرم او رتختوں پرتکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔ گویا اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہیں اور فریاد بلند کرتے ہوئے مدد چاہتے ہیں․ گویا اس جہنم کی وحشتناک آواز کو سن رہا ہوں جو اس وقت میرے کا نوں میں گو نج رہی ہے۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: یہ وہ بندہ ہے جس کے دل کو خدا ئے متعال نے ایمان سے منور فرمایاہے۔

اس کے بعد اس جوان سے کہا: یہ جو حالت رکھتے ہو اس پر پائدار رہنا او راسے کھونہ دینا۔ اس کے بعد اس جوان نے کہا: اے اللہ کے رسول ، خدا سے میرے لئے دعا فرمائیںکہ اس کی راہ او رآپ کی رکاب میں مجھے شہادت نصیب ہو۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی اور زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شرکت کرنے کیلئے باہر گیا اور نو افراد کے بعد شہید ہوگیا، وہ دسواں شہید تھا ۔ ۱

یقین کے تین مراحل ہیں:

۱۔ علم الیقین

————————————-

۱۔ اصول کافی، ج ۳، ص ۸۹

۲۔ عین الیقین

۳۔ حق الیقین

قرآن مجید میں مذکورہ تینوں مراحل کا واضح طور پر ذکر آیا ہے:

(تکاثر /۵۔۷)

”دیکھو اگر تمہیں یقینی علم ہوجاتا ، تم جہنم کو ضرور دیکھتے پھر اسے اپنی چشم بصیرت اور نگاہ یقین سے دیکھتے“

(واقعہ/۹۵)

یہ (جہنم کا وعدہ) البتہ یقینی اور حقیقت ہے۔

۱۔ علم الیقین: سے مراد پائدار اعتقاد اور واقع کے مطابق یقین ہے، جو لازم و ملزوم کے استدلال کی راہ سے حاصل ہوتاہے، جیسے دھویں کا مشاہدہ کرکے آگ کے وجود کا یقین ۔ ۱

خدا ئے متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:

(فصّلت/ ۵۳)

”ہم عنقریب اپنی نشانیوں کو تمام اطراف عالم میں اور خود ان کے نفس کے اندر دکھلائیں گے تا کہ ان پر یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ بر حق ہے اور کیا پروردگار کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر شے کا گواہ اور سب کا دیکھنے والاہے۔“

اس آیت میں آفاقی و انفسی آیات کے ذریعہ خداکے وجود پر استدلال ہواہے۔

۲۔ عین الیقین: مراد یہ ہے وہ اعتقادات جو مطلوب کودیکھنے اور چشم بصیرت سے حاصل ہوتے ہیں ۔ یہ دیکھنا، روشنی اوراجالے میں ظاہری آنکھوں سے دیکھنے سے زیادہ قوی ہے۔ ۲

یقین کے اس مرحلے کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے توحید صدوق میں آیا ہے:

————————————-

۱۔ جامع السعادت، ج ۱، ص ۱۲۳

۲۔ جامع السعادت ، ج۱، ص ۱۲۴

”جاء حبر الی امیر الموٴمنین علیہ السلام فقال: یا امیر الموٴمنین ہل رایت ربک حین عبدتہ؟ فقال: ویلک، ما کنت اعبد ربا لم ارہ․ قال: و کیف رایتہ؟ قال: ویلک لاتدرکہ العیون فی مشاہدة الابصار و لکن راٴتہ القلوب بحقائق الایمان“ ۱

”اہل کتا ب کا ایک دانشمند امیرالمومنین کے پاس آیا اور کہا: اے امیرالمومنین ! کیا عبادت کے دوران آپ نے اپنے پرودگار کو دیکھاہے؟ علی علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: افسوس ہو تم پر، میں اس پروردگا ر کی عبادت نہیں کرتا ہوں جسے میں نے نہ دیکھا ہو۔ اس نے کہا: خدا کو کیسے دیکھا؟جواب میں فرمایا: افسوس ہو تم پر ، آنکھیں اپنے مشاہدہ میں اسے درک نہیں کرتی ہیں (خدائے متعال ظاہری آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا ) بلکہ (چشم بصیرت اور) ایمان حقیقی ا و راسخ دل نے اس کو دیکھاہے“

۳۔ حق الیقین: وہ اعتقاد راسخ ہے جو خود شی کو پانے اس کے ساتھ حقیقی رابطہ پیداکرنے سے حاصل ہوتاہے، اس طرح کہ صاحب یقین اپنی چشم بصیرت سے نور کے فیوضات کو اس کی طرف سے مشاہدہ کرتاہے۔

اس مرحلہ کا نتیجہ فنا فی اللہ اور اس کے عشق و محبت میں محو ہونا ہے ، ایسے کہ اپنے لئے کسی استقلال اور اہمیت کا قائل نہیں ہوتا ،یہ مرحلہ آگ میں کودکر جلنے کے مانند۔ ۲

حدیث قدسی میں آیا ہے:

”․․․و ما یتقرب الیّ عبد من عبادی بشی ء احبّ الیّ ممّا افترضت علیہ و انّہ لیتقرب الیّ بالنّا فلة حتی احبّہ فاذا احببتہ کنت اذا سمعہ الذی یسمع بہ و بصرہ الذی یبصربہ و لسانہ الّذی ینطق بہ و یدہ الذی یبطش بہا“ ۳

میرا بندہ واجب کی ہوئی چیز سے محبوب تر کسی چیز سے مجھ سے نزدیک نہیں ہوتاہے اور نافلہ کے ذریعہ مجھ سے قریب ہوتاہے تاکہ اسے دوست رکھوں ۔ جب میں اسے دوست بنالیتاہوں تومیں اس کا کان ہوجاتاہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور میں اس کی زبان ہوجاتا ہوں جس سے وہ بولتاہے اور میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتاہے“

امام سجاد علیہ السلام دعائے ابوحمزہ ثمالی میں فرماتے ہیں:

”اللہّم انّی اسئلک ایمانا تباشر بہ قلبی و یقینا صادقا حتّی اعلم انہ لن یصیبنی الا ما کتبت و رضّنی من العیش بما قسمت لی یا ارحم الرّاحمین۔“

”خدایا ! تجھ سے اسے ایمان کی درخواست کرتاہوں جس سے میرا دل وابستہ ہو (یعنی باطنی او رقلبی ایمان نہ ایما ن سطحی و زبانی) اور مجھے ایسے اعتقاد پرثابت قدم رکھ تا کہ سچا یقین پیدا کرسکوں اور مجھے اس کے سوا کچھ نہ ملے جسے تم نے میرے لئے مقدر کر رکھا ہے اور مجھے اس پر راضی اور خوشحال بنانا جو تونے مجھے عطا کیاہے (وہی زندگی جو مجھے عنایت کی ہے) اے رحم کرنے والوں میں سب سے رحم کرنے والے۔“

امام علیہ السلام خدائے متعال سے ایک واقعی اور پائدار ایمان کی درخواست کرتے ہیں جو یقین کے مرحلہ تک پہنچاہو اور حقیقت میں ایمان کے آخری مرحلہ کی درخواست کرتے ہیں، چونکہ اس کے بعد فرماتے ہیں: ”و یقینا صادقا․․․“ جس یقین صادق کو امام خدا سے چاہتے ہیں وہ اہم ترین عنایت و نعمت الہی ہے، جو یقین صادق اور حق الیقین کے نتیجے میں انسان کوایک ایسا قلبی اعتقاد حاصل ہوتاہے کہ پروردگا ر عالم کی قدرت کے علاوہ کسی طاقت کو کا ئنات پر حاکم نہیں جانتاہے اور وہ تمام امور کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور ہمیشہ اپنے آپ کو خدا کے حضور میں دیکھتا ہے اور وہ اس بات کی طرف متوجہ ہے کہ کوئی ناشائستہ کردار اس سے سرزد نہ وہ اور خدا کی مرضی کے خلاف کوئی عمل انجام نہ پائے۔

روایتوں میں یقین کا مرتبہ انسان کے لئے خداکی ایک بڑی نعمت ذکر ہوئی ہے اور جیسا کہ پہلے نقل ہوا کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے :

”انسان کے درمیان یقین سے کم تر کوئی چیز تقسیم نہیں ہوئی ہے، یعنی بہت کم ہیں ایسے لوگ ہیں جو یقین کے مرحلہ تک پہنچے ہیں۔“

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

”لا یجد عبد طعم الایمان حتی یعلم انّ ما اصابہ لم یکم لیخطئہ و انّ ما اخطاہ لم یکن لیصبہ و انّ الضّار النافع ہو اللہ عزّوجل“ّ ۱

”کوئی بھی بندہ ایمان کے مزہ کو نہیں چکھتاہے یہاں تک جان لے کہ جو کچھ اسے ملاہے ،وہ اس سے دور نہیں ہوگا اور جو کچھ اس سے دور ہواہے وہ اسے نہیں ملے گا اور یہ کہ نفع اورنقصان پہنچانے والا تنہا خدائے متعال ہے“

اگر انسان یقین و معرفت کی اس بلند مرحلہ تک پہنچ جائے کہ یقین کرے کہ ہر مصیبت و مشکلات اور ہر خیر جواسے ملاہے، ممکن نہیں تھا کہ اسے نہ ملے اور جو کچھ اسے نہیں ملا ہے،وہ ملنے والا نہیں تھا، تو وہ اپنے اندر ایک خاص آرام و سکون کا احساس کرتاہے اور ایمان کی حلاوت پاتاہے۔ اور جو معرفت کی اس حد تک پہنچ جائے، اگر چہ وہ مادی و معنوی لذتوں کا خوہشمند ہے، لیکن وہ جانتا ہے کہ ہر چیز کے لئے ایک حساب و کتاب ہے اور ایک خاص نظام کی بنیاد پر اسے ملنی ہے اور ایسا نہیں ہے کہ جو بھی چاہے اسے ملے گا اور جو نہ چاہے اس سے روک دیاجائے گا۔ بہت سے چیزیں جنھیں انسان نہیں چاہتا ہے، وہ خدا کی مصلحت کی بنیاد پر اس کے لئے مقدر ہوتی ہے اور اس کے بر عکس بھی ممکن ہے ایسے چیزیں جنھیں ہم چاہتے ہیں ، لیکن مصلحت الہی کا تقاضانہیں ہے کہ وہ چیزیں ہمیں ملیں، لہذا جتنی بھی جستجو کریں ہم ان تک نہیں پہنچتے۔

اولیائے الہی اور تقدیرات الہی پر رضا مندی:

یقین کی منزل تک پہنچنے کے بعد انسان اپنی خواہشات او رمطالبات کو نظر انداز کرتاہے اور خداکی مرضی پر امید رکھتا ہے اور اس کے بعد اپنے وقت کو حاصل نہ ہونے والی آرزوؤں اور خواہشات کے بارے میں سوچنے پر صرف نہیں کرتاہے اور صرف اپنے فرائض اور تکالیف انجام دینے کا عزم و ارادہ کرتاہے۔ وہ اس فکر میں ہوتاہے کہ خدائے متعال اس سے کیا چاہتاہے او رجو کچھ اس کے لئے مقدر (تقدیر میں) ہے اسی

————————————-

۱۔ اصول کافی ، ج ۳، ص ۹۷

پر راضی ہوتاہے۔ اہل یقین اس کے علاوہ کہ وہ جانتے ہیں جوان کے مقدر میں ہے وہ انھیں ملے گا، یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے لئے خیر مقدرات الہی میں ہے ۔ یعنی احسن نظام کے بارے میں آگاہ ہیں اور جانتے ہیں کہ جو کچھ خدائے متعال نے مقدر فرمایاہے وہ ان کے لئے بہترین ہے ، اور خداکی طرف سے مقدر ہوئی چیز، نظام کلی عالم کا ایک جز ہے اور وہ بہترین نظام ہے اور ایک خاص اسباب و شرائط او رخاص زمان و مکان کے پیش نظر جو کچھ ہوا ہے اس سے بہتر انجام پانا ممکن نہیں ہے ۔جی ہاں! جو معرفت کی اس حد تک پہونچا ہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں جو بھی خدا چاہے گا وہ انھیں ملے گا، وہ ا پر خوش ہوتے ہیں اور فکرمند نہیں ہوتے: انھیں اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کھلے دل سے اس کا استقبال کرتے ہیں ، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی خیر اسی میں ہے جو رونما ہواہے، یہ مقام رضاہے۔

مقام رضا کے مالک وہ ہوتے ہیں جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ تمام تقدیرات الہی بندوں کے فائدہ میں ہے، اس سلسلہ میں فراوان حدیثیںپائی جاتی ہیںمن جملہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

”عجب للمرء المسلم لا یقضی اللّٰہ عزّوجل لہ قضاء الّا کان خیرا لہ و ان قرض بالمقاریض کان خیرا لہ و ان ملک مشارق الارض و مغاربہا کان خیرا لہ“ ۱

”میںتعجب میں ہوں اس مسلمان کے بارے میں کہ خدائے متعال اس کے لئے اس کے سواء کوئی سرنوشت و تقدیر معین نہ کرے مگر یہ کہ اس میں اس کے لئے خیر ہو، اگر اس کے بدن کے قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کردے تو بھی اس میں اس کے لئے خیر ہے اور اگر اسے تمام مشرق و مغرب کی زمینوں کا مالک بنادے تو بھی اس میں خیر ہے“

اما م فرماتے ہیں کہ تمام تقدیرات جو خدانے مومن کے لئے معین کی ہیں وہ خیر ہیں، خواہ وہ ظاہر میں پسندیدہ ہوں یا نا پسندیدہ۔ ناپسندیدہ حوادث جو پیش آتے ہےں وہ یا تو اس کی صلاح کے لئے یا اخروی صلاح کے لئے ۔جو بھی اس قسم کی معرفت پیدا کرے کہ جو پیش آئے اس سے خوش اور اسی پر راضی رہے ، بندگی کے مقام پر کوتاہی نہ کرے، اپنے فریضہ کو انجام دے، تو اس کویہ فکر و پریشانی نہیں ہوتی کہ اس کا رزق

————————————-

۱۔ اصول کافی ، ج ۳، ص/۱۰۲

کم ہے یا زیادہ یا یہ کہ کیا پیش آنے والاہے، اس پر خائف نہیں ہوتاہے ، اس نے اپنے کام کو خدا کے سپرد کردیا ہے اور خود عبادت و بندگی میں مصروف ہے اورتہہ دل سے جانتا ہے جو بھی پیش آتاہے اسی میں خیر و بھلائی ہے اور وہ اس کے سواکچھ نہیں دیکھتا ہے۔

وہ تمام حوادث اور رودادوں پر خوش فہمی سے نظر ڈالتا ہے اور مصیبتوں او رمشکلا ت پر راضی ہوتاہے۔ اگر جیل میں ڈال دیا جائے تو شکوہ نہیں کرتا، روایت کی تعبیر کے مطابق اگر اس کے بدن کے قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں ،تو ہی خوش ہوتاہے، کیونکہ وہ اپنی خیر کو اسی میں دیکھتاہے۔

ہم نے انقلاب اور جنگ کے دوران ایسے افراد کو دیکھاہے جو کچھ انھیں پیش آتاتھا اس کا کھلے دل سے استقبال کرتے تھے ۔محاذ جنگ پر ایسی مائیں ، باپ ، بھائی، بہنیں اور شہید کی بیوی بچے ہوتے تھے کہ ان کے عزیزوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے بدن یا جلے ہوئے جنازے ان کے پاس لائے جاتے تھے، لیکن و ہ ہنسی خوشی او رفخر کے ساتھ اس روداد پر خدا کا شکر بجالاتے تھے!

تقدیرات الہی پر راضی ہونے او رپیش آنے والی مصیبتوں پر خوش ہونے کے بارے میں کہنا آسان ہے، لیکن میدان عمل میں اترنابہت مشکل ہے۔ اس معنی کودر ک کرنا بہت دشوار ہے، کیسےبعض خدا کے بندے ایسے بلند مقام تک پہنچتے ہیں کہ رونما ہونے والے حوادث کے بارے میں انھیں کسی قسم کی کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے ، ان کے لئے کوئی فرق نہیں ہے کہ کل کیا پیش آنے والا ہے ، ان کا رزق ملے گا یا نہیں۔ اگر ان کاکوئی عزیز محاذ جنگ پر گیا ہے تو انھیںاس کے قتل ہونے کی کوئی فکر و پریشانی نہیں ہے یا اگر خود فداکاروں کے ہمراہ محاذ جنگ کا رخ کیا ہے ، تواسے گھربارکی کوئی فکرنہیں ہے، کیونکہ جس نے اپنے جان اور پوری ہستی کو اخلاص کی ہتھیلی پر رکھا ہے، شہادت کے لئے آمادہ ہے، تو وہ گھر بارکی فکر میں نہیں ہو سکتاہے کیا اچھا ہوتااگر جمالِ یار کے متوالے زندہ بچ کر صحیح و سالم اپنے گھر واپس لوٹتے، اور ان بلند معنوی جذبات او رخصوصیات کو حفظ کرکے قضائے الہی او رتسلیم کے بارے میں لوگوں کو ہمیشہ فداکاری و رضامندی کا سبق دیتے اور ان کی زبان پر یہ ہوتا:

گردرددہد بہ ما و گر راحت دوست

از دوست ہرآنچہ آید نیکوست

مارانبود نظربہ نیکی و بدی

مقصود رضا و خوشنودی اوست

(مجھے دوست کی طرف سے درد ملے یا آرام و سکون ، دوست کی طرف سے جو بھی ملے اچھائی ہے۔

ہمیں نیکی و بدی سے سروکارنہیں ہے، بلکہ ہمارامقصود اس(خدا) کی رضا و خوشنودی ہے)

مرحوم ملامہدی نراقی فرماتے ہیں: قضائے الہی پر راضی ہونا دین کے بلند ترین مقامات اور مقربین کے شریف ترین منازل میں سے ہے اور یہ پروردگار کا عظیم دروازہ ہے۔ جو اس دروازہ سے داخل ہوجائے ، بہشت میں وارد ہوتا ہے۔ مقام رضا کی اہمیت اس حد تک ہے کہ پیغمبر سے نقل کی گئی ایک روایت میں آیا ہے کہ قیامت کے دن خدائے متعال میری امت میں سے ایک گروہ کو ایسے بال و پر عطا کرے گا جن کے ذریعہ وہ اپنی قبروں سے بہشت کی طرف پرواز کریں گے اور من پسند بہشت کی نعمتوں سے استفادہ کریں گے۔ملائکہ ان سے سوال کریں گے: کیا تم نے حساب لینے کی موقف کو دیکھا؟ وہ کہیں گے: ہم سے کوئی حساب نہیں مانگا گیا۔ ان سے پوچھیںگے: کیا تم لوگوں نے پل صراط کو عبور کیا؟ جواب میں کہیںگے :ہم نے کوئی پل صراط نہیں دیکھا۔ پوچھیںگے: کیا جہنم کودیکھا؟ کہیںگے :ہم نے کسی جہنم کو نہیں دیکھا۔ ملائکہ ان سے سوال کریںگے: تم لوگ کس کی امت سے ہو؟ جواب دیں گے : ہم امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہیں․

ملائکہ انھیں قسم دلاکے پوچھیںگے : تم لوگ دنیا میں کیا کرتے تھے اور کس طرح کا عقیدہ و تصور رکھتے تھے؟ کہیںگے : ہم میں دو خصلتیں تھیں او رخدا ئے متعال نے ہمیں انہی دو خصلتوں کی وجہ سے اپنی ان رحمتوں سے نوازا ہے اور نتیجہ میں اس مقام پر پہنچایا ہے:

”کنّا اذا خلونا نستحیی ان نعصیہ ونرضی بالیسیر مما قسّم لنا“ ۱

پہلی خصلت یہ کہ ہم خلوت میں ہو نے کے باوجود بھی معصیت انجام دینے میں خدا سے شرم و حیا محسوس کر تے تھے ۔دوسری یہ کہ ہم اس پر راضی تھے جو خدا نے ہمارے مقدر میں رکھا تھا۔ ۲

خدا ئے متعال مقام رضا پرپہنچے ہوئے افراد کے بارے میں فرماتا ہے:

(فجر/۲۷۔۲۸)

یہ آیہٴ شریفہ مقام رضا واطمینان کو بیان کرتی ہے جو انسان سے ہر قسم کے اضطراب ،پریشانی اور تشویش کے دور ہونے کا سبب ہے ۔اس مقام کی خصوصیت یہ ہے کہ انسان راضی بھی ہے مرضی بھی ،یہ معنی دوسری آیت میں یوں بیان ہوا ہے :

————————————-

۱۔بحارلانوار،ج۱۰۳،ص۲۵

۲۔جامع السعادات ،ج۳،ص۲۰۲

(فائدہ/۱۱۹)

” پروردگار ان سے راضی ہے اور وہ بھی پرور دگارسے راضی ہیں “

کلمہ((راضیة))اور((مرضیہ کے با رے میںعلا مہ طبا طبائی رحمة اللہ علیہ اس آیہ مبارکہ کے ضمن میں فر ماتے ہیں:

”اگر خدائے متعال نے نفس مطمئنہ کو”راضیہ“ و ”مرضیہ“ سے توصیف فرمایاہے وہ اس لئے ہے کہ پروردگار سے دل کے اطمینان و سکون حاصل کرنے کا تقاضا ہے کہ انسان خداسے راضی ہو اور جو بھی قضا و قدر اس کے لئے مقدر فرمائے، اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرے، خواہ وہ قضا و قدر تکوینی ہو یامکتوبی کہ جسے خدانے شرعی حیثیت دی ہو۔ پس کوئی بھی غضب و غصہ پیدا کرنے والا حادثہ اسے خشمگین نہیں کرتاہے اور کوئی گناہ اس کا دل کو منحرف نہیں کرتاہے او رجب بندہ خدائے متعال سے راضی ہوگیا تو قہری طور پر خدائے متعال بھی اس سے راضی ہو گا، چونکہ بندہ کا خدا کی بندگی کی حالت سے خارج ہونے کے علاوہ کوئی اور عامل اسے غضبناک نہیں کرتاہے اور جب خدا کا بندہ عبودیت کی راہ میں قدم رکھتا ہے تو خدا کی رضامندی کا حقدار بن جاتاہے، لہذا خدائے متعال نے کلمہ ”راضیہ“ و ”مرضیہ“ کو استعمال کیاہے“

لہذا انسان کے لئے مکمل اطمینان و آرام اس وقت حاصل ہوتاہے جب وہ خدائے متعال سے راضی ہوتاہے۔ دوسرے سے راضی ہونااس معنی میں ہے کہ انسان اس کی صفات و افعال کو پسند کرتاہے اور شخص موحد کو جب معلوم ہوتاہے کہ اس کائنات کے تمام امور تدبیر الہی کے تحت ہیں اور جب وہ مقام رضا تک پہونچ جاتاہے، تووہ کسی بھی حادثہ و روداد سے پریشان نہیں ہوتاہے، کیونکہ وہ اس حادثہ کو خدائے متعال کی طرف سے دیکھتا ہے اور اس کے ارتباط کو ذات حق سے درک کرتاہے۔ وہ جانتا ہے کہ خدا کے اذ ن ، ارادہ او رمشیت کے بغیر کوئی حادثہ رونما نہیں ہو سکتااور ناراض نہ ہونے کے علاوہ ، اس کے پیش نظر کہ وہ حادثہ خدا کی مرضی کی بنیاد پر رونما ہواہے، اس سے خوش ہوتاہے۔

حقیقت میں مقام رضا مقام صبر سے بالاتر ہے، چونکہ صبر ناراضگی سے بھی سازگارہے؛ انسان دانت پیس کر صبر کرتاہے، کیونکہ وہ حادثہ اس کے لئے تلخ ہے۔ لیکن جو شخص مقام رضا تک پہنچا ہے، وہ سختی اور دشواری کودرک نہیں کرتاہے تا کہ اس پر صبر کرے ، بلکہ تمام چیزیںاس کے لئے شیریں ہوتی ہیں، جو بھی پیش آئے اسے پسند ہے،پریشانی کی اس کے لئے کوئی بات نہیں ہے۔

یقینا اس مقام کے بارے میں تصور کرناہمارے لئے مشکل ہے،چہ جائے کہ ہم اس مقام کو حاصل کریںکیسے ممکن ہے ایک انسان اپنی صحت و سلامتی سے بھی راضی ہو اور بیماری سے بھی راضی ہو! اگر دولت مند ہے تو اپنی دولت سے بھی راضی ہے اور اگر فقیر ہوجائے تو اپنی فقیری سے بھی راضی ہے! اس سے بڑھکر یہ کہ ، جو افراد مقام رضا تک پہنچے ہیں، انھوں حالت نفسانی ،(فطرت)اور رضایت نفسانی یعنی وہ اعمال کہ جو ظاہراً رضایت سے سازگاری نہیں رکھتے ہیں دونوں کو جمع کیا ہے :

یقینا ائمہ اطہار علیہ السلام من جملہ اما م حسین علیہ السلام مقام رضا کے بالاترین مرحلہ پر فائز تھے اور ہم دیکھتے ہیں جو کچھ انھیں پیش آتاتھا، اس لحاظ سے کہ خداکی طرف سے تھا راضی تھے، لیکن پھر بھی ناراض تھے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے شمشیر بکف ہو کر جہاد کیا اور آخری لمحہٴ حیات تک جنگ کرتے رہے۔ یہ جہاد کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہ بنی امیہ کی حکومت سے راضی نہیں تھے۔ کیسے ممکن ہے انسان ایک حادثہ سے اس لحاظ سے کہ خدا کی طرف سے ہے راضی بھی ہواور ناراض بھی!۔ ان دو کے درمیان فرق کرنا دشوار ہے اور انسان کو چاہئے کہ تکامل کے ان مراحل تک پہونچ جائے تاکہ مراتب او رحیثیتوں کو ایک دوسرے سے جدا کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان کا نفس مراتب طولی کے اعتبار سے مختلف صورتوں کا مالک ہوتا کہ ایک مرتبہ میں حوادث کو اس کے فاعل قریب کی حیثیت سے دیکھے اور اس کیرفتار سے ناراض ہو۔ ان کے انجام دئے جانے والے گناہ ، ظلم اورخیانتوں سے ناراض ہواور ان پر حملہ آور ہوجائے، اور عین اسی حالت میں دوسرے مرتبہ پر اس کانفس شاد و مسرورہو۔

ذہن کو اس مطلب و مفہوم سےقریب کرنے کے لئے ایک مثال پیش کرتا ہوں: فرض کریں کسی کے سرمیں درد ہے اور طبیب اس کے لئے ایک کڑوی دوا تجویز کرتاہے ، یہاں پر انسان چونکہ اپنی سلامتی چاہتاہے اس لئے اس دوا کو کھاتا ہے، اس لحاظ سے اس کے کھانے پر راضی ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ یہ دوا تلخ ہے ناراض ہے۔ اگر کسی کے ہاتھ میں انفکشن ہوگیا ہے اگر اسے نہ کاٹاجائے تو وہ مرض اس کے سارے بدن میں سراعت کرجائیگا اور اس کی جان خطرے میں پڑجائیگی تو وہ شخص اپنے ہاتھ یا پیر کے کاٹے جانے پر راضی ہوجاتاہے کیونکہ اسی میں اس کی جان کا تحفظہے اور وہ عمل اس کے لئے ناراض کنندہ نہیں ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ ایک ہاتھ سے محروم ہوجائےگاناراض ہے خاص کر درد واذیت اور وہ پریشانیاں جو آ پریشن کے بعد رونما ہوتی ہیں۔ حقیقت میں انسان کے اندر اس دورخی حالت او رخاصیت کا وجود عجیب و غریب ہے کہ ایک ہی لمحہ میں، ایک حادثہ کے بارے میں دو مختلف حالتوں سے روبرو ہوتا ہے البتہ ان دونوںحالتوں کا وجوددوسرے دو مختلف عوامل کا حاصل اور نتیجہ ہے ، جب وہ سوچتا ہے کہ ہاتھ کا کاٹاجانا اس کی سلامتی کاسبب ہے،تو خوش ہوتاہے اور اس لحاظ سے کہ اپنے ایک ہاتھ سے محروم ہورہاہے اور در د کی سختی کررہا برداشت کرتاہے ،تو ناراض ہوتا ہے۔

مذکورہ مثال کے پیش نظر ہم عرض کرتے ہیں: جس انسان کی معرفت کمال تک پہنچ گئی ہے، وہ جانتا ہے کہ دنیا کے حوادث خدائے متعال کے ارادہ کے بغیر رونما نہیں ہوتے ہیں․لہذا وہ اس لحاظ سے کہ وہ حوادث خدا کے ارادہ سے رونما ہوئے ہیں راضی ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ وہ حوادث ایک ظالم کے توسط سے انجام پائے ہیںا ور وہ اس ظالم کی پستی و ، انحطاط نیز اس کے جودی نقص کی علامت ہے، لہٰذا ناراض ہے کہ ایک انسان کو کیوں اس قدر جاہل و گناہگار ہوکہ اس طرح کے نازیبا اور ناشائستہ عمل کا مرتکب ہو ۔ لہذا ممکن ہے انسان ایک حادثہ کے بارے میں دونظر ےہ رکھتا ہو اور ہر نظر یہ کے مقابلہ میں متناسب رد عمل دکھائے۔

مومن کو اس جہت سے خوش ہونا چاہئے کہ حوادث ومصائب خدا کے ارادہ او رمشیت سے رونما ہوئے ہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا ئے متعال کسی کام کو حکمت کے بغیر انجام نہیں دیتا ہے او ر احسن نظام کا تقاضا ہے کہ حوادث کو اپنی جگہ پر مناسب شرائط سے جس طرح واقع ہونا چاہئے اسی صورت میں رونما ہو۔ جب اسے معلوم ہواکہ خدائے متعال حکیم و دانا ہے اور لغو و بیہودہ کام انجام نہیں دیتاہے، تو وہ جانتا ہے کہ جو کچھ اس دنیا میں رونما ہوتاہے ، اس جہت سے کہ ایک ہم آہنگ اور کامل نظام کے تحت ہے، جو مخلوقات عالم کے لئے تکامل کاسبب ہے او رانسان ان گوناگوں حوادث کے سایہ میں خداوند متعال سے نزدیک ہوتا ہے اور ایسے کمالات تک پہونچتاہے جو دنیوی لذتوں سے قابل موازنہ نہیں ہے، لہذا مومن مجموعی حوادث کی نسبت کلی طور پر خوش بینہے۔ یہاں تک اس نظریہ کے مطابق پیغمبروں او رائمہ کے قتل ہونے سے بھی ناراض نہیں ہوتاہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شہادت کے درجہٴ رفیعہ پر فائز ہوکر ایک بلند مرتبہ پر پہونچ گئےہیںاور اسی طرح ان کی شہادت دین کی ترقی اور پیش رفت کا سبب بنی ہے۔

سیدالشہدا ء حضرت اما م حسین علیہ السلام اپنی شہادت کے ذریعہ بلند تر ین مقام تک پہنچے اور آن کی شہادت اسلام کے بقا او رپیش رفت کا سبب بنی اور اس امر کا بھی سبب بنی کہ دوسرے لوگ بھی آپ کی معرفت او ریاد کے سایہ میں معنوی کمالات تک پہونچیںاو رصحیح زندگی او ردنیوی و اخروی سعادت کی راہ کو پہچان لیں۔ اگر آپ شہید نہ ہوتے، تو نہ آپ اس مقام تک پہنچتے ، نہ اسلام زندہ ہوتااور نہ ہم امام شناس ہوتے تا کہ آپ کی شفاعت ہمیں نصیب ہو۔ اس جہت سے ہمیں آپ کی شہادت سے خوش ہونا چاہئے کہ یہ تقدیر الہی ہے اور ایک احسن و اصلح نظام کی کڑی میں مؤثر ہے ۔ لیکن غمگین اور آنسو بہانا انسانی جذبات او رہمدردی کی جہت سے ہے، چونکہ انسان ایک مہربان اور ہمدرد مخلوق ہے اور اس کی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ جب اس کے محبوب کو کوئی مصیبت او ر مشکل پیش آئے تو وہ غمگین ہو۔

جی ہاں، ضعیف افراد وہ چاقت نہیں رکھتے ہیں جو ان حیثیتوں کو ایک دوسرے سے جدا کریں اور پھر ایک دوسرے کی ردیف میں قرار دیں او ربعض اوقات ان کے وجود کا عقلانی اور جذباتی پہلو ایک دوسرے سے تزاحم و تضاد کا حامل ہوتا ہے، اس جہت سے وہ ان دونوں کو آپس میں جمع نہیں کرسکتے۔ لیکن جن کا نفس کامل ہے ، وہ ان دنوں حیثیتوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں اور حیثیتوں کا جدا ہونا سبب بن جاتاہے کہ مختلف حالات —–حتی ایک ہی حادثہ کے بارے میںاور ایک ہی زمانہ میں —–خودبخود رونما ہوں، کہ البتہ یہ نفس کے گوناگوں مراتب سے مربوط ہے کہ ایک جہت سے نفس شادہوتاہے اور دوسری سے غمگین ہوتاہے․

جی ہاں ، جو شخص مقام رضا پر فائز ہے وہ خوشیوں او رغموں کو، اس جہت سے کہ تقدیر الہی ہے دل و جان سے قبول کرتاہے اور ان پر راضی ہوتاہے۔

مقامِ صبر اور اس کی اہمیت پر ایک نظر:

بہر حال مقام ،رضااور معرفت و یقین ، ایک عظیم نعمت اور بلند عطیہ ہے کہ انسان تمام تقدیرات الہی پر راضی و خوشنود ہو، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پروردگا راس کی بھلائی چاہتاہے۔ لیکن ہر شخص اس مقام پر فائز نہیں ہوتاہے او ریہ معرفت آسانی کے ساتھ حاصل نہیں ہوتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئےتہذیب نفس اور بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے ۔ اگر کوئی اس بلند مقام تک نہیں پہونچ سکا،تو مختصر طور پر اسے جان لینا چاہئے کہ تقدیرات الہی انسان کے لئے خیر ہے اگر چہ مشکلات اور سختیوں کو برداشت کرنااس کے لئے تلخ و دشوار ہے، لیکن اسے صبر و تحمل کا مظاہر کرنا چاہئے اور خودکو صبر کے زیور سے مزیّن کرناچاہئے ۔ جو مومن رضا کے مقام تک نہیں پہنچاہے، لیکن حوادث کے مقابلہ میں صابر اور ثابت قدم ہے، اگر چہ وہ نہیں چاہتاہے کہ تلخ حوادث دنیا میں رونما ہوں، اور وہ اپنے فرائض پر عمل کرتا ہے اور اپنے فریضہ کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتاہے، اگر کبھی دشمن کے ساتھ جہاد و مبارزہ کا موقع آگیا تو وہ اپنے فریضہ الہی کے تحت جہاد و مبارزہ کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے باوجودیکہ وہ تلخ حوادث سے خوش نہیں ہے او ردل سے راضی نہیں ہے ، لیکن اسے قبول کرتاہے او راگر سختی و پریشانی بھی ہوئی تو اسے برداشت کرلیتا ہے ، یہ اس کے لئے ہے جومقام رضا تک نہیں پہنچا ہے، اس لئے کہ مقام صبر مقام رضا سے کمتر ہے ، لہٰذا مطلوب ہے․

صبر ، مفاہیم اخلاقی میں سے ایک ہے کہ اخلاق اسلامی میں اس پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ جو کچھ اس لفظ سے ذہن میں آتا ہے، وہ ایک نفسانی حالت ہے جو بعض خاص افراد کے لئے مشکلات، مصیبتوں کے وقت پیش آتی ہے۔

حوادث سے روبرو ہوتے وقت، لوگوں کے حالات متفاوت ہوتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے حوادث کے مقابلہ میں فورارونا پیٹناشروع کردیتے ہیں ،یہ پریشان کن حالت ان کی زندگی پربھی اثر انداز ہوتی ہے اور انھیں ان کے امور اور فعالیتسے معطل کر کے رکھ دیتی ہے ،ایسے لوگ بے صبر و کمزور تصور کئے جاتےہیں اس کے بر خلافبعض افراد سختیوں اور مشکلات کے مقابلہ میں بہت صابر آزما ہو تے ہیں اور آرام و سکون کا مظاہرہ کرتے ہیں اور تلخ حوادث ان طبیعت میں کوئی خاص تبدیلی رونما نہیں کر تے،یہ لوگ صبر وتحمل والے ہوتے ہیں ۔یہ لوگ اگر چہ تلخ حوادث کے بارے میں دل سے راضی نہیں ہوتے ، لیکن انھیں برداشت کرتے ہوئے صبرو تحمل کامظاہرہ کرتے ہیں ۔نا مناسب حوادث کا استقبال نہیں کرتے ،ان کادل نہیں چاہتا ہے کہ وہ محا ذ جنگ پر جائیں اورشہید ہوجائیں وہ بارودی سرنگوں پرجانا نہیں چاہتے ہیں ، لیکن جب فریضہ و تکلیف کا تقاضا ہوتا ہے کہ محاذجنگ پر جائیں، ایسی صورت میں روگردانی نہیں کرتے ہیں، ان کے ماں باپ نہیں چاہتے ہیں کہ ان کا فرزند محاذ جبگ پر جائے لیکن جب شرعی فریضہ کے سخت جہاد واجب ہوجاتا ہے تو وہ اپنے بیٹوں کے درمیان حائل نہیں ہوتے ہیںاور صبر کرتے ہیں اور اپنے دانت پیستے ہیں اورجانتے ہیں کہ انسان صبر وتحمل سے مشکلات اورمصیبتوں پر قابو پا سکتا ہے اور بہتر صورت میں منزل مقصود کو طے کرسکتا ہے اور اپنی زندگی کو منظم کر کے اخروی سعادت کوحاصل کرسکتا ہے ۔

بعض اوقات صبر کی غلط تفسیر کی جاتی ہے اور وہم وگمان کیا جاتا ہے کہ سختیوں کے مقابلہ میں صبر کرنایعنی ذلت کے سامنے تسلیم ہوجا نا ہے اور دوسروں کے حق میں رونما ہو نے والے ہر حادثہ وظلم کے مقابلہ میں غیر جانب داری کا مظاہرہ کر نا ہے ۔یہ تفسیر اورتصور غلط ہے اور مفہوم صبر سے لا علمی کا نتیجہ ہے ۔اسلا می لغت میں صبر،یعنی سختی کے مقابلہ میں برداشت کرنا اور انسان کو باطل کی طرف کھینچنے اور کمال کی راہ میں مانع بننے والے عامل کے مقابلہ میں استقامت کا مظاہرہ کر ناہے۔یہ عامل کبھی داخلی ہو تے ہےں اور کبھی خارجی ۔خواہ وہ عوامل انسان کو حرکت کرنے کی دعوت کرے ،لیکن ناحق حرکت،اور خواہ اسے سکون کی دعوت دیں چاہے یہ توقف ناحق ہی ہو، مثلا انسان گرسنگی اور بھوک کے وقت کھانے کی طرف تمایل رکھتا ہے اب اگر اسے جو غذا فراہم و دستیاب ہے وہ غیر شرعی ہے یا مشکوک ہے ،یہاں پر غریزہ اشتہا ہمیں دعوت کرتی ہے کہ ہم اس غذا کو کھا لیں ،لیکن اسے کھانا نا حق ہے اور اسکے مقا بلہ میں استقامت کا مظاہر کرنا صبرہے۔

محاذ جنگ پر دشمن نے حملہ کیا ۔ہر طرف سے بمباری ہورہی ہے ،نفس کہتا ہے بھاگ جاؤاور اپنے آپ کو میدان کارزار سے باہر نکال لو ،لیکن خدائے متعال فرماتاہے استقامت کرو تاکہ اسلام کی فتح ہوجائے ،یہاں پر نفسانی عامل جو انسان کو فرار کرنے کی دعوت دیتا ہے ،اس کے مقا بلہ میں استقامت،دکھانا صبر ہے۔

کبھی خارجی عامل انسان کوکسی ناحق چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اور وہ بیرونی عامل کبھی انسان کے توسط سے رونما ہو تا ہے اور کبھی غیر انسان کی جانب سے کہ جسے تقدیرات الہی سے تعبیر کرتے ہیں۔مثلا زلزلہ آتا ہے اور گھر کی چھت گر جاتی ہے۔اگر ہم اس حادثہ کے موقع پر تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنے فر یضہ پر عمل کریں تو ہم نے صبر کیا ہے ۔پس روایات میں ذکرشدہ صبر کی مشترک تقسیم (مصیبت پر صبر اوراطاعت پر صبر)اپنے آپ پر کنٹرول کرنا اور خلاف حق اقدام نہ کرنا ہے،اور انسان کو باطل کی طرف دعوت کرنے والے عامل کے مقابلہ میں استقامت کر ناہے۔

جب صبر کی اہمیت واضح و روشن ہوگئی تو ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی زندگی اوراس کے تکا مل وترقی کی راہ میں صبر کا کونسا کردار ہے اور اس کے علاوہ ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ انسان کو کس وسیلہ سے تکامل وترقی حاصل ہو تی ہے ۔انسان کاتکا مل اور اس کی ترقی اس کے اختیاری اعمال کے تحت ہی ممکنہے ، یعنی جب دو متضاد کششوں کے درمیان مقا بلہ ہو اور انسان اس کشش کا انتخاب کرے جو اسے کمال کی طرف لے جائے،تو انسان کا کمال اور اس کا جوہر ظاہر ہوتاہے ایسی صورت میں انسان کو چاہئے کہ جس میں خدا کی مرضی ہواسے انتخاب کرے․ لہٰذا انسان کاتکامل اور اس کی ترقی دو متضاد کششوں کی معرکہ آرائی ہی ممکن ہے ۔ ایسے میدانوںمیں انسان کوایسی چیزکا انتخاب کرناچاہئے جس میں خدا کی مرضی ہو․ اگر اس صورت انسان کا میں ایمان اوراس کا فطری شوق زیادہ طاقتور ہوگا تو وہ اسے حق کی طرف دعوت دے گا اوروہ اپنے لائق کمال تک پہونچے گا، لیکن اگر نفسانی اور شیطانی عنصر زیادہ طاقتور ہوا، تو دوکششوں کے درمیان جنگ میں انسان پسل جائے گااور ایک ایسی سمت کی طرف جھکتا چلا جائیگا جس میں اس کے لئے زلت و پستی ہے ۔ یہ در حقیقت وہی آزمائش کا معنی ہے۔

(ملک/۱۔۲)

”بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھوں میں سارا ملک ہے اور وہ ہر شی پر قادر و مختار ہے۔ اس نے موت و حیات کو اس لئے پیدا کیا ہے تا کہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں حسن عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے“

جی ہاں، ہم اپنے تکامل و ترقی کی راہ میں ایسے عوامل سے روبرو ہیں، جو ہمیں گوناگوں جہات کی طرف دعوت کردیتے ہیں۔ عقلانی، ملکوتی، او رالہی عوامل ہمیں ایک طرف دعوت کردیتے ہیں اور نفسانی ، حیوانی او رشیطانی عوامل ہمیں دوسری طرف دعوت کردیتے ہیں۔ صحیح انتخاب یہ ہے کہ ہم باطل کی طرف دعوت کردینے والے عوامل کے مقابلہ میں استقامت کریں۔ پس حقیقت میں اگر ہماری زندگی تکامل وترقی چاہتی ہے تو صبر کے ساتھ توام ہونی چاہئے۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ صبر کیا ہے؟ جبرئیل نے عرض کی:

”یصبر فی الضّراء کما یصبر فی السّراء و فی الفاقة کما یصبر فی الغنی، و فی البلاء کما یصبر فی العافیة فلا یشکوا حالہ عند الخلق بما یصیبہ من البلاء“ ۱

”صبر یہ ہے کہ سختیوں اور پریشانیوں میں تحمل و استقامت کا مظاہرہ کرو،تونگری و خوشحال کی طرح فقر و افلاس میں بھی ثابت قدم رہو، صحت و سلامتی کی طرح حالت بیماری میں بھی استوار رہو، لہٰذا صابر وہ ہے جو مصیبت اور پریشانیوں میں خلق خدا کے سامنے گلہ مند نہ ہو ۔“

جی ہاں، جو لوگ مقام یقین تک نہیں پہنچے ہیں تا کہ واضح طور پر پاسکیں اس بات کو درک کرسکیں جو کچھ پیش آرہا ہے وہ سب خیر ہے، وہ بلاؤں کا دل کھول کر استقبال نہیں کرسکتے ، انھیں چاہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور خدا سے دعا کریں کہ وہ ان کے مطالبات کو پورا کرے اور نامناسب حوادث کے رونما ہونے پر بردباری کا مظاہرہ کریں۔ جیسا کہ ہم نے کہا ، جو رضا کے مقام تک پہنچاہے وہ حوادث او رمصیبتوں سے رنجیدہ نہیں ہوتا، بلکہ خوشی کا اظہار کرتا ہے اور خدا کا شکر بجا لاتا ہے۔ اگر اس کا بیٹا شہید ہوتاہے، تو کہتا ہے: الحمد للہ ، کاش میرے پاس دوسرا بیٹا ہوتا اسے بھی محاذ جنگ پر بھیجتا تاکہ وہ بھی شہید ہوتا! نہ صرف رنجید ہ نہیں ہوتا ہے بلکہ فخر کرتا ہے اور اپنے اوپر نازکرتاہے او رشکر بجالاتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس حد تک نہیں پہنچے ہیں اور خدائے متعال نے بھی فرمایاہے:

”․․․و قلیل من عبادی الشّکور“ (سباء/۱۳)

”میرے شکر گزار بندے کم ہیں․“

جو رضا کی منزل تک نہیں پہنچے ہیں تا کہ مصیبتوں کے مقابلہ میں اعتراض کے لئے لب کشائی نہ کریں اور شکر کریں، اگر نامناسب حوادث پر صبر کریں تو خدائے متعال انھیں صابروں کی اجر و ثواب دیتا ہے۔ صبر کریں گریہ و زاری نہ کریں او راطمینان کا مظاہرہ کریں، اس امید سے کہ خدائے متعال انھیں پاداش دے گا۔ اگر چہ بلائیں اور مصیبتں ان کے لئے تلخ ہیں، لیکن ان تلخیوں کو برداشت کرلیں، اس شخص کے مانند جو تلخ دوا کھاتا ہے اور اس سے لذت کا احساس نہیں کرتاہے ، لیکن جانتا ہے کہ اس کے کھانے سے صحت یاب ہوگا۔ جیسے کوئی شخص مجبور ہے آپریشن کے ذریعہ اس کے بدن کا ایک عضو، مثلا ایک پیر کو کاٹ لیا جائے، اس کے لئے اگرچہ یہ مشکل ہے، لیکن چونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اس لئے قضا کے سامنے تسلیم ہوتاہے، او رحاضر ہوتا ہے، اس کا پیر کاٹ لیا جائے تا کہ اس کے بدلے اس کی جان بچ جائے۔

———————————-

۱۔ بحار الانوار ،ج/۷۷ص/۲۰

خدا کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دینے کا اثر:

مذکورہ بیان کے پیش نظر ، قرآن مجید کی بعض آیات اور روایت میں ، ان افراد کی تربیت و تہذیب کے لئے (جو دل میں آرزورکھتے ہیں اور ابھی مقام تسلیم ورضا تک نہیں پہنچے ہیں) وعدہ کیاگیا ہے کہ اگر تقوی کو اپنا شعار بنالیا تو خدائے متعال تمہارے دنیوی مطالبات کو پوراکرے گااور اس سلسلہ میں پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:

”یا اباذر؛ یقول اللّٰہ جلّ ثناؤہ و عزّتی و جلالی لایؤثر عبدی ہوای علی ہواہ الا جعلت غناہ فی نفسہ و ہمومہ فی اخرتہ․․․“

”اے ابوذر! خدائے تبارک و تعالی فرماتاہے: مجھے اپنی عزّت و جلال کی قسم میرا بندہ میری مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح نہیں دیتا ہے مگر یہ کہ میں اسے بے نیاز کردیتا ہوں او رایسا کرتاہوں کہ اس کی فکر اور خود وہ امور اخروی میں مصروف ہوجائے․“

خدائے متعال مطلب کی تاکید کے لئے قسم کھاتاہے،کیونکہ اس بات کا قبول کرناعام لوگوں کے لئے آسان نہیں ہے، اسی لئے قسم کھاتاہے تا کہ لوگ باور کریں ․ فرماتاہے، اگر کبھی میری مرضی او رمیرے بندہ کی درمیان تزاحم و تضاد پیدا ہو اور اس نے میری مرضی کو ترجیح دی (اگر اس کی مرضی خدا کی مرضی کے مطابق ہے، اس کی مرضی بھی واقع ہوتی ہے اور خدا کی مرضی بھی گفتگو اس میںہے کہ اس کی مرضی خدا کی مرضی کے ساتھ جمع نہیں ہوتی ہے) تو اس کے لئے چند چیزوں کی ضمانت دیتا ہوں: پہلے یہ کہ اس کے دل میں دوسروں سے بے نیازی کا احساس ڈالتا ہوں ۔ البتہ انسان ہمیشہ خدا کا محتاج ہوتاہے او رخداسے نیاز مند ی کا احساس بھی اس میں ہے او رہوناچاہئے ۔ انسان کے شرف و افتخار کی انتہا اس میں ہے کہ وہ احساس کرے کہ خداکی بارگاہ کا فقیر ہے اور جان لے کہ اس کا نیازمند ہے اور خود کو غیر خدا کامحتاج تصور نہ کریں:

با دادہ حق اگر تو راضی باشی

از ہمچو ویی کی متقاضی باشی

(اگر خدا کے دئے ہویئے پر تم راضی ہوجاؤگے تو تم اس سے کب متقاضی ہو گے؟)

اس کے پیش نظر کہ انسان کی خواہشات عام طور پر دوسروں کے ذریعہ پوری ہوتی ہیں، وہ اپنے آپ کو دوسروں کا محتاج تصور کرتاہے، اور دوسروں کے سامنے ضرورت کا احساس کرنا انسان کو ذلیل و خوار کردیتا ہے ، اور جس حد تک انسان اپنے کو دوسروں کے سامنے محتاج تصور کرتا ہے اسی اعتبار سے اس کے سامنے خاشع و متواضع نظر آتا ہے ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تملق اور چاپلوسی کرتا ہے اور کبھی درخواست و التماس کرتاہے۔ اپنے کودوسروں کے سامنے حقیر اور چھوٹابنادیتاہے تا کہ وہ اس کے مطالبات پورے کرے ا گر انسان اپنے رابطہ کو خدا ئے متعال سے مستحکم کر ے اور اس کی مرضی اور چاہت کو اپنی مرضی پرترجیح دے، تو خداوند متعال اس میں دوسروں سے بے نیازی کا جذبہ پیدا کردیتاہے اور اس کے مقاصد پورے ہونے کے لئے کافی وسائل مہیا کرتا ہے ۔ البتہ وہ وسائل مقاصد او راہداف کو حاصل کرنے کے لئے آلہ و اوزار کی حیثیت رکھتےہیں، انسان کا فرض ہے کہ ان وسائل کو استعمال میں لائے او ران سے بہرہ مند ہونے کے لئے خداکا شکر بجا لائے، اگر دوسرے انسان بھی من جملہ اس کے دنیوی مقاصد تک رہنمائی کرنے کے لئے واسطہ اور وسیلہ تھے ، تو ان کا بھی شکر یہ ادا کرناچاہئے۔ اگر چہ وہ ان وسائل سے استفادہ کرتاہے لیکن اسےصرف اپنے آپ کو خدا کا محتاج جانتا چاہئے اور غیر از خداکی طرف محتاج نہ ہونے کا احساس نہیں چاہئے۔

غیر سے غنی اور بے نیاز ہونے کااحساس ایک عظیم نعمت ہے جوانسان کو شخصیت بخشتا ہے۔ البتہ جو کچھ بیان ہواہے اس سے یہ گمان نہ کیا جائے کہ دوسروں کے سامنے تواضع و انکساری کا مظاہرہ نہیں کرناچاہئے۔ انسان کو خدائے متعال کے برابر بھی اور اس کی مخلوق کے سامنے بھی تواضع و انکساری سے پیش آنا چاہئے۔ جو اسلامی معارف سے آشنا نہیں ہیں وہ تصور کرتے ہیں اسلام نے ہم سے چاہاہے کہ حتی خدا کے سامنے بھی ذلت و حقارت کا احساس نہ کریں! ایسے لوگوں نے اسلام ہی کو نہیں پہچاناہے او راس کے بارے میں ایک باطل تصور رکھتے ہیں۔اسلام کی بنیاد بندگی پر ہے․انسان کا انتہائی فخر اس میں ہے کہ خدا کے حضور میں ذلّت او رچھوٹے پن کااحساس کرے، اپنی پیشانی او رچہرے کو خاک پر رکھے۔ انسان کا کمال اس میں ہے کہ خود کو ذات باری تعالی کے سامنے ذلیل سمجھے، چونکہ خدائے متعال انسان کے کمال و بلندی کو چاہنے والاہے، اس لئے اس سے کہاہے کہ اس کے سامنے ذلّت کااحساس کرو اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کواس کی بارگاہ میں پیش کرو، چونکہ تکامل وسعادت خداکی بندگی میں مضمر ہے، اس کے برعکس ، دوسروں کے سامنے احساس کمتری و ذلت کا مظاہرہ نہ کرے اور خود کوان کا محتاج نہ جانے۔ کیونکہ اگر اس نے اپنے آپ کو ان کا محتاج جان لیا، تو خواہ نخواہ ضرورت و محتاجی کے احساس کی وجہ سے ذلّت کا احساس بھی کرے گا۔

جس قدر انسان یہ احساس کرتاہے کہ اس کا کام دوسروں کے ذریعہ انجام پاتاہے، اسی قدر خود کو ان کے سامنے حقیر تصور کرتاہے، اگر چہ زبان سے نہ کہے لیکن دل میں اپنے آپ کو ذلیل و خوار محسوس کرتاہے۔ لیکن اگر مومن نے ایمان کی برکت سے اپنا کام خدا پر چھوڑدیا اور اپنے آپ کو صرف خدا کا محتاج جانا تو وہ دل میں بھی دوسروں کی نیازمندی کا احساس نہیں کرتاہے۔ اگر چہ ممکن ہے خدائے متعال اپنے بندہ کے ہاتھ سے اس کی احتیاج و ضرورت کو بر طرف کرے اور انسان سے چاہے کہ اس کا شکریہ بحالائے، لیکن وہ اپنے آپ کو صرف خدا کا محتاج جانتاہے۔ حضرت ابراہیم علی نبینا و علیہ السلام کی داستان میں آیا ہے کہ جب نمرود کے حکم سے بہت ساری آگ اکٹھا کی گئی کہ جس کے شعلہ اس قدر عظیم تھے —– کہ لوگ اس کے نزدیک جانے کی جراٴت نہیں کرتے تھے، اس کی حرارت دور کے فاصلہ سے بھی افراد کو جلادیتی تھی، یہا ں تک کہ مجبور ہوئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعہ دورسے آگ کے اندرپھینکیں—– اس سخت اور دشوار حالت میں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئےتو جبرئیل امین ان کی مدد کے لئے ان کے پاس آئے او رفرمایا:

ہل لک حاجة؟ کیا میرے لائق کوئی حاجت ہے؟

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:

”امّا الیک فلا‘ ‘۱ ”تجھ سے کوئی حاجت نہیں رکھتا ہوں“

حضرت ابراھیم علیہ السلام نے فرمایا: ضرورت مند ہوں او ر مدد کا محتاج اور خواہشمند ہوں، لیکن غیر خدا سے نہیں، خدا میرے اسرار سے آگاہ ہے او رمیری حاجتوں کو جانتا ہے وہ جو بہتر سمجھے گا انجام دے گا۔ جب حضرت ابراھیم علیہ السلام اس سخت امتحان میں پاس ہوئے تو خدائے متعال نے انھیں خلت کے مقام پر فائز کیا اور انھےں اپنا خلیل اور دوست بنادیا ۔

لیکن غنی اور بے نیا زی کے مقام پر پہنچنا دوسروں کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے ،صرف خداکی مہربانی اور اس کی عنایت سے انسان اس مقام تک پہنچ سکتا ہے ،لیکن خدائے متعال نے اس مقام تک پہنچنے کے مقدمات کو انسان کے اختیار میں قراردیا ہے اور من جملہ ان مقدمات میں سے جیسا کہ عرض کیا گیا ،یہ ہے کہ جب انسان کے لئے اپنی مرضی اور خدا کی مرضی میں سے ایک کو اختیار کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنی مرضی پر خدا کی مرضی کو ترجیح دیتا ہے اورپہلے مرحلہ میں وہ لوگو ں سے غنی اور بے نیاز ہونے کا احساس کرتا ہے ۔

———————————–

۱۔ بحار الانوار ج/۱۲ص/۳۵

دوسر ے یہ کہ :پھر وہ دنیوی امور کے بارے میں فکر مند نہیں رہتا ہے اور اپنے دنیوی خیر وصلاح کو خدا کے سپرد کردیتا ہے صرف آخرت کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے اوراس کا ہم وغم آخرت کے بارے میں ہوتاہے۔ وہ اس فکر میں ہوتاہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا، کیااس نے اپنے اخروی فریضہ پر عمل کیاہے؟ لہٰذا عوہ ہمیشہ آخرت کی فکر میں رہتاہے․

”و ضمنت السّماوات و الارض رزقہ و کففت علیہ ضیعتہ و کنت لہ من وراء تجارہ کل تاجر“

”آسما ن و زمین کو اس کے رزق کا ضامن قراردیتا ہوں اور اس کے کسب معاش کی حفاظت کرتاہوں او رمیں اس کے لئے ہرتاجر کی تجارت سے برتر ہوں۔“

تیسرے یہ کہ : جومیری مرضی کو اپنی مرضی پرترجیح دیتاہے ، تو میں بھی اس کے مطالبات کو پورا کرتاہوں اور زمین و آسمان کو اس کے رزق کا ضامن قرار دیتا ہوں او رانھیں حکم دیتاہوں کہ اس کی روزی کا انتظام کریں۔

چوتھے یہ کہ: اس کے کاروبار کو آفات او رنقصانات کے مقابلہ میں تحفظ بخشتا ہوں۔ ہرکوئی اپنی زندگی چلانے کے لئے کسی کسب معاش کو اپنا تاہے اور کسی شغل کا انتخاب کرتاہے تا کہ اس کے نتیجہ میں کوئی درآمد حاصل ہوسکے، فطری بات ہے کسب و کار اور کھیتی باڑی و․․․اور اس کے باقی رہنے اور پھل دینے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ہے ۔ کہاں سے معلوم کہ باغ میوے دے گا، زراعت فصل کے مرحلہ تک پہنچ جائےگی، گائے اور گوسفند زندہ رہیں، کہاں سے معلوم کہ بلا و آفات انسان کے کام، کاج کو متاثر نہ کرے گی؟ جو خدا کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دیتاہے خدائے متعال ضمانت دیتاہے کہ اس کے کاروبار،اس کی زراعت اورگائے اور بکریوں بلاء و آفات اور خسارے سے محفوظ رکھے گا تا کہ موقع آنے پر نتیجہ او رپھل دے سکیں۔

پانچویں یہ کہ : میں ہر کار و بار او رتجارت میں اس کی مدد کرتاہوں تا کہ نقصان سے دوچار نہ ہو۔ جو ہمیشہ دنیا کی فکر میں ہوتے ہیں وہ کوشش کرتے ہیںکہ کسی ایسے شخص سے معاملہ کریں جس سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔ ایسے معاملہ و تجارت کا انتخاب کرتے ہیں جس میں بیشتر نفع ہو۔ ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں کہ تجارت میں نقصان نہ ہوجائے یا منافع کم نہ ہوجائے ۔ خدا ئے متعال فرماتاہے کہ جو ہماری مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دیتاہے میں اس کے ہرتجارت او رمعاملہ کی پشت پناہی کرتاہوں تا کہ بیشتر نفع کمائے، اس کے ہر معاملہ میں میرے ہاتھ اس کی مدد کرتے ہیں۔ بجائے اس کے وہ خود فکر کرے، تدبیر کر ے اور پلان تیار کرے کہ کس سے اور کس طرح معاملہ کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ نفع کمائے، میں اس کی ہر تجارت میں حمایت کرتاہوں اور اس کے منافع کو تحفظ بخشتا ہوں۔

اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اس نکتہ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ مومن کا ایسا یقین ہوناچاہئے کہ جس کے ذریعہ وہ اپنی روزی کے بارے میں فکر مند نہ رہے اور جان لے کہ جو کچھ خدائے متعال نے اس کے لئے مقدر کیاہے وہ اسے ملے گا، آپ فرماتے ہیں:

”با اباذر؛ لو انّ ابن ادم فرّ من رزقہ کما یفرّ من الموت لادرکہ رزقہ کما یدرکہ الموت“

”اے ابوذر! اگر بنی آدم اپنی روزی سے اسی طرح فرار کر ے جس طرح وہ موت سے فرار کرتاہے تو اس کی روزی اسی طرح اس تک ضرور پہنچ جائے گی جس طرح موت اس تک پہچنتی ہے۔“

انسان کو موت پسند نہیں ہے ، وہ اس سے فرار کرتاہے ، لیکن بالاخرموت اسے نگل لیتی ہے۔ اس طرح اگر وہ اپنی روزی سے فرار کرے تو روزی اس تک پہونچ جائیگی اور اس کے جو مقدر میں ہے اس سے اسے راہ فرار نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی زیادہ کو شش کرتا ہے تو یہ، معلوم نہیں ہے اس کا رزق زیادہ ہوجائے گا،اس لئے کہ ایسے بھی بہت سے افرادگزرے ہیں جنہوں نے بہت زیادہ سعی و کوشش کی لیکن پھر بھی بھوکے موت کی سوگئے ․ اس سلسلہ میں دولتمند ترین افراد کے بارے میں عجیب و غریب داستانیں نقل ہوئی ہیں کہ اپنی زندگی میں ایسے حوادث او رروداد سے روبرو ہوئے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں انھیں مرتے دم بھوک کے نتیجہ میں اپنے جوتے چبانے پر مجبور ہونا پڑاہے!او ردوسری طرف ایسے افراد بھی گزرے ہیں کہ جنھوں نے زیادہ کوشش نہیں کی ، لیکن خدائے متعال نے انھیں ایک عظیم ثروت و دولت سے نواز اہے اور جوان کے مقدر میں تھا وہ انھیںملا۔

انسان کو فریضہ انجام دینے اور معاش کی تلاش میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے او راسے قضا و قدر کے بہانے سے سستی نہیں دکھانی چاہئے ، کیونکہ خدائے متعال سست اور کاہل انسان سے بیزار ہے۔ لیکن اگر علم حاصل کرنے اور شغل کے انتخاب کرنے میں مختار ہو اور اس کا فریضہ ان دو میں سے ایک کو منتخب کرناہو تو، اگر کافی معرفت رکھتا ہے تو ایسے شخص کے لئے در آمد کا کم ہونا اس بات کا سبب نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ علم حاصل کرنے کے لئے نہ جائے ، بلکہ خداکی طرف سے مقدر شدہ رزق پر اس کا ایمان، اسے مجبور کرتاہے کہ اطمینان کے ساتھ علم حاصل کرے اور مطمئن رہے کہ اس کا رزق اسے ضرور ملے گا او رجو کچھ اس کے مقدر میں ہے وہ اس سے محروم نہیں ہوگا․

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More