ھماری عبادت ھمیں اپنے لئے ھے؟ اس کا کیا مطلب ھے؟اور یھ مسئلھ خدا کیلئے عبادت، کے ساتھہ کس طرح جمع ھونے کے قابل ھے۔

0 0

خداوند تبارک و تعالی  حکیم اور جاننے والا ھے ، وہ کبھی بھی  بیھودہ اور بے فائدہ کام کا امر نھیں کرتا ھے، یقیناً جن عبادات کا ھمیں امر کیا گیا ھے۔ ان کے اثرات و فوائد ھیں۔ چونکھ خدا ، جو اپنی ذات میں بے نیاز ھے وہ ھماری عبادتوں سے بھی بے نیاز ھے ، ان عبادات کے فائدے  غیر خدا  ( عبادت کرنے والے اور دوسرے بندوں ) کو پھنچتے ھیِں۔
عبادت یھ اثرات اور فائدے،ھمارے اھداف اور مقاصد نے منافی نھیں ھیں۔ یعنی اگر ایک متقی اور پرھیزگار انسان صرف خداوند متعال کیلئے عبادت کرتا ھے ،لیکن اس کی یھ عبادت اس مسئلھ کے ساتھہ کھ اس کا فائدہ اسے اپنے لئے بھی حاصل ھوتا ھے کسی بھی طرح منافی نھیں ھے۔
عبادت سے لوگوں کا مقصد ، انکی معرفت ، فکر اور علم کے درجے سے متعلق ھے۔ انبیاء الھی اور ائمھ اطھار علیھم السلام  جو کھ معرفت کے اعلی ترین درجے پر فائز ھیں۔ پروردگار کی عبادت کا سب سے اعلی مقصد، (یعنی خدا کی نعمتوں پر شکر اور خدا کے ربوبی مقام نے مناسب عمل انجام دینا ھے)، حاصل کرتے ھیں۔اور جتنا مقصد بلند ھو عبادت کے اثرات ، جو کھ عبادت کرنے والے تک پھنچتے ھیں،  بھی اتنے ھی زیادہ اور بلند ھوں گے۔
دوسرے نقطہ نظر کے مطابق انسان، ایک دو پھلو وجود ھے  جس کے اندر الھی اور نفسانی کشش موجود ھے ، اس وجھ سے انسان “دو خود” خود حقیقی(الھی پھلو) اور خود مجازی( نفسانی پھلو)  پر مشتمل ھے۔ اسلام نے جس کی مذمت کی ھے وہ اس کے حیوانی اور مجازی (نفسانی) پھلو کیلئے کوشش کرنے پر کی گئی ھے۔  لیکن حقیقی اور روحانی پھلو کی ترقی کے لئے کوشش کرنا در حقیقت خدا کی راہ میں اور خدا کیلئے کوشش کرنے کے ساتھہ مترادف ھے۔ اگر عبادت کرنے سے انسان کا مقصد الھی پھلو کی ترقی اور پروردگار سے تقرب کرنا ھے ، تو اس صورت میں انسان کی عبادت ” اللھ” کی عبادت سے یک جھت ھوگی اور خدا کی راہ میں گامزن ھوکر اس کے  راستے  سے ذرہ برابر  بھی منحرف نھیں ھوگی۔
 

مزید  جورشته دار همارے ساتھـ برا سلوک کرتے هیں ان کے ساتھـ صله رحم کیسا هو نا چاهئے؟
تبصرے
Loading...