دردمندان ملت سے کچھ باتیں

*فکر انگیز تحریر*

دردمندان ملت سے کچھ باتیں

 

*از: شہید سید سعید حیدر زیدی*
*تاریخ شہادت 9نومبر 2012*

کسی بھی قوم کے حالات محض دعاؤں سے نہیں بدلے‘ دل ہی دل میں قوم کی حالت پر کڑھنے اور وقتا فوقتاً شعلہ بیانیوں سے قوم کے معاملات کی اصلاح‘اسکے دکھوں کا مداوا اور اس کی مشکلات کا حل ممکن نہیں۔ قوم کی تعمیر، اسے مشکلات کے بھنور سے نکالنا اور ملت کی سربلندی جیسے مقاصد کاحصول ایسے ہوشمند‘ صاحب نظر،مخلص اور محنتی افراد کے بغیر ممکن نہیں جو قوم کی درماندگی کا سبب بننے والے داخلی اورخارجی عوامل کا گہرا شعور رکھتے ہوں‘خود اپنی قوم کی کمزوریوں سے واقف ہوں‘ اورقوم کے سامنے اسکا اجتماعی نصب العین پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں‘اس نصب العین کے حصول کے لئے قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اسے متحرک کر سکتے ہوں‘گہری منصوبہ بندی اور انتھک منظم اجتماعی جدوجہد کا حوصلہ رکھتے ہوں اور ان مراحل کو طے کرنے کے لئے ایثار وقربانی کے جوہر سے مالامال ہوں۔
مذکورہ نکات میں سے بعض کی کچھ وضاحت پیش خدمت ہے:

*خارجی عوامل کاشعور

یعنی یہ افراد اغیار کی نیتوں اور مقاصد سے آشناہوں‘ان کے مثبت اور منفی نکات سے مطلع ہوں‘ان کی قوت اور ضعف کے عوامل سے آگاہ  ہوں‘ ان کے میدان کار اور مستقبل کے لئے ان کے منصوبوں کو جامہ عمل پہنانے کے لئے انہیں حاصل قوتوں کا علم رکھتے ہوں۔

*داخلی عوامل کا شعور

یعنی یہ افراد اپنی قوم کی کمزوریوں اور خامیوں سے آگاہ ہوں‘ نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ قوم کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دینے کی بھی جرأت رکھتے ہوں‘ اور ان کمزوریوں کے ازالے اور ان سے چھٹکارے کے لئے عملی اقدامات کا تعین اور ان کے نفاذ کی اہلیت کے حامل بھی ہوں۔ساتھ ہی ایسے افراد کیلئے لازم ہے کہ وہ قوم کے مثبت اور قوی نکات کا علم بھی رکھتے ہوں اور ان سے استفادے کی صلاحیت کے مالک بھی ہوں۔

*قوم کے سامنے اسکا  اجتماعی نصب العین رکھنا
یعنی دین نے امت اسلامیہ کو دنیا میں جس کردار کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے‘لازم ہے کہ یہ افراد پہلے تو خود دلائل کے ساتھ اس سے آگاہ ہوں‘ اس سے عملاً وابستہ ہوں‘ اس کے لئے جدوجہد پر کمر بستہ ہوں اور پھر قوم کے سامنے اس نصب العین کی تشریح کر کے‘ اسے اس بات کاقائل کر کے کہ یہی دنیا میں اس کا کام ہے ‘اور اسی مقصد کے لئے جدوجہد کا دنیا میں اس سے تقاضا کیا گیاہے‘اسے عملی کردار کی ادائیگی کے لئے متحرک کریں۔

اگر فی الحال ہم صرف اسی ایک پہلو کو سامنے رکھ کر اپنی قوم کی حالت کا جائزہ لیں تو بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ وہ قوم جو ایک عالمی مصلح کی منتظر ہے‘ ایک ایسے قائد سے اپنی وابستگی کا اعلان کرتی ہے جو پوری انسانیت کو ظلم وناانصافی سے نجات دلائے گا‘ وہ بتائے کہ اس عظیم مقصد سے وابستگی کے رسمی اظہار کے سوا اس سلسلے میں ہماری کارکردگی کیا ہے؟

اتنے بڑے انقلاب کیلئے ہماری تیاریاں کیا ہیں؟ ہمارے پاس کتنے ادارے ہیں جو اس بڑی تبدیلی کیلئے جدوجہد کابوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ ہمیں اندازہ بھی ہے کہ اس انقلاب کیلئے ہمیں کن کن میدانوں میں جدوجہد کی ضرورت ہوگی؟

کون کون سے کٹھن مراحل طے کرنے ہوں گے؟کہیں ہم غیر شعوری طور پر یہ سمجھے تو نہیں بیٹھے کہ امام ؑ کی آمد کی دیر ہے پھر ساری مشکلیں طلسماتی اور معجزاتی طور پر خود بخود دور ہوجائیں گی؟ کیاتمام تبدیلیوں کا آغاز ظہور کے بعد ہی ہوگا؟

نہیں! ظہور تو ظالموں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا‘ اس آخری انقلاب کے لئے جدوجہد تو ایک مسلسل عمل ہے ۔

ہماری مختصر گزارشات ایک تفصیل کا اجمال ہیں۔شاید اصلاح احوال کے طالب افراد کے لئے ان کی کچھ افادیت ہو‘ممکن ہے ان کے لئے یہ باتیں نئی ہوں‘البتہ ہم سمجھتے ہیںکہ قوم کی تعمیر‘اصلاح اور سربلندی کاخواب ان نکات پر سنجیدہ توجہ دیے بغیر شرمندء تعبیر نہ ہوسکے گا.

تبصرے
Loading...