تحریف قرآن اور ناصبی دجل و فریب

0 3

نواصب کتاب ( الانوار النعمانیہ, ج ٢ ، ص 360 ) سے ایک روایت لاتے ہیں کہ اصلی قرآن ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام تک نظر نہیں آے گا

اس روایت سے مراد وہ قرآن ہے جو حضرت علی علیہ السلام نے خود لکھا تھا – اور اس قرآن کا موجودہ قرآن سے فرق یہ ہے کہ اس قرآن میں مولا علی علیہ السلام نے آیات کی تاویل و تشریح لکھی تھی ورنہ وہ قرآن وہی ہے جو ہر مسلمان کے گھر میں ہے

اگر ناصبی اس روایت سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں تو یہ سرا سر غلط ہے۔

شیخ مفید سے لے کر سید خوئی تک سب علماء شیعہ نے لکھا ہے کہ یہ قرآن جو نازل ہوا تھا وہی ہمارے پاس بھی ہے۔

شیعہ علماء کے اقوال – في نفي التحريف عن القرآن

http://www.rafed.net/books/olom-quran/nafe-tahref/index.html

اگر کسی روایت سے یہ ثابت کیا جائے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے تو ایسی روایات اہلسنت کی کئی کتابوں میں وارد ہوئی ہیں اور جب ان سے ان روایات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ وہ ان روایات کے قائل نہیں ہیں – لہٰذا شیعہ علماء بھی ، اگر کسی کلام سے یہ ظاہر ہو کہ اس سے قرآن کی تحریف ہے تو وہ اس کے قائل نہیں۔

ناصبیوں کو مشورہ ہے کہ شیعوں پر تحریف قرآن کا جھوٹا الزام لگانے سے پہلے ذرا ایک نظر ادھر بھی دیکھ لیں۔

ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک مرتبہ خطبہ دیا اور اس میں اس طریقے سے کہا : خدا وند عالم نے محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وا ٓلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث برسالت کیا اور ان پرکتاب نازل فرمائی اور ان پر جوکتاب نازل ہوئی تھی اس میں آیت رجم موجود تھی اور ہم اس آیت رجم کی تلاوت کرتے تھے ، اسکو حفظ کرتے تھے، رسول خدا رجم کرتے تھے اور ان کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ہے۔
اور یہ  مختلف الفاظ کے ساتھ اور تھوڑے فرق کے ساتھ کتاب مسند احمد بن حنبل ، صحیح مسلم ، بخاری ، سنن ترمذی ،موٴطا امام مالک ،سنن ابن ماجہ اور سنن دارمی میں نقل ہوئی ہے۔

مزید  تواضع کا نتیجہ

سیوطی اپنی تفسیر در منثور میں مختلف طرق سے ابی بن کعب سے نقل کرتے ہیں کہ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ سورہ احزاب سورہ بقرة کے برابر تھا بلکہ اس میں اس سے بھی زیادہ آیتں موجود تھیں۔
اس متعلق اور بھی بہت سی روایتیں نقل ہوئی ہیں جیسے
احمد ابن حنبل زرین جیش سے اوروہ ابی بن کعب سے نقل کرتے ہیں کہ ابی ابن کعب نے کہا: سورہ احزاب کی کتنی مقدار میں تلاوت کرتے ہو؟ تو زر نے جواب دیا ۷۳ آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔ ابی بن کعب نے کہا: یقینا میں نے سورہ احزاب کو سورہ بقرہ کے برابر دیکھا ہے اور اس میں آیت رجم بھی تھی۔
۴ دوسری جگہ پر مالک بن انس سے نقل ہوا ہے: سورہ برائت تقریبا سورہ بقرہ کے برابر تھا اس سورہ کاپہلا حصہ ساقط ہو گیا اور ”بسم اللہ“ بھی انہی آیات کے درمیان تھی جوحذف ہوگئی ہے۔
 
مثالیں دینے کا مقصد
اب ہمارا سوال یہ ہے کہ برادران اہل سنت انسب محکم اسناد و مدارک کے بعد کیا کہتے ہیں؟
یہ کیوں فقط شیعہ امامیہ پر الزام لگاتے ہیں کہ شیعہ حضرات تحریف قرآن کے قائل ہیں جب کہ خود ان کی حدیث کی کتابیں، مسانید اورجوامع تحریف قرآن کی احادیث سے بھری ہوئیں ہیں اور بعض ان میں سے تصریح کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے اپنی کتابوں میں تحریف قرآن کے متعلق ذکر کیا ہے وہ صحیح اور قطعی الصدورہے

نتیجہ : اگر امامیہ کی ضعیف روایات پر کفر کے فتوے لگانے ہیں تو پھر پہلے آپ اپنی کتابیں پڑھیں۔(بشکریہ شیعہ حق سائٹ)

مزید  قرآن ، دلوں کو زندہ  کرتا ہے
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.