اللہ کی رحمت کے دو اہم اسباب

0 23

خلاصہ: آنسو اور خوف رحمت کے اسباب میں سے ہیں۔

اللہ کی رحمت کے دو اھم اسباب

بسم اللہ الرحمن الرحیم
     خداوند متعال کی رحمت ہمارے لئے آب اور ھوا سے زیادہ ضروری ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہر کام کے آغاز میں “بسم اللہ الرحمن الرحیم” کا ورد زبان اور دل پر جاری کریں، اگر خدا ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ساری کائنات ہمیں خاک میں ملادیگی، یہ خدا کی رحمت ہے جس کی وجہ سے ہم آسانی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اگر خدا کی رحمت نہ ہوتو ہم ایک لمحہ بھی زندگی نہیں گزار سکتے۔
     امام علی(علیہ السلام) فرماتے ہیں:«بُكَاءُ الْعُيُونِ‏ وَ خَشْيَةُ الْقُلُوبِ‏ مِنْ‏ رَحْمَةِ اللَّهِ‏ تَعَالَى‏ ذِكْرُهُ‏ فَإِذَا وَجَدْتُمُوهَا فَاغْتَنِمُوا الدُّعَاء؛ آنکھوں کے آنسو اور دل کا خوف اللہ تعالی کی رحمت میں سے ہیں جب تمھارے پاس یہ دونوں ہوں تو تم دعا کو غنیمت جانو»[بحارالانوار، ج:۹۰، ص:۳۳۶]
     ہر انسان کی آنکھوں میں آنسو نہیں آتے اور ہر انسان کے دل میں خدا کا خوف نہیں بستا، اسی لئے اگر کسی کو خدا نے یہ دو چیزیں عطا کی ہیں تو اس کو غنیمت جان کر خدا کا شکر اداء کرنا چاہئے اس کی وسیع رحمت کا واسطہ دے کر۔

*بحارالانور، محمد باقر مجلسی، دار إحياء التراث العربي‏، بیروت، دوسری چاپ، ۱۴۰۳ ھ ق۔

 

مزید  قرآن کریم کے مختلف درجات
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.