سلام علیکم ; جهاں تک مجھے علم هے رمضان المبارک میں پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم اور ائمه اطهار علیهم اسلام کى قسم کھانا روزه کو باطل کرنے کا سبب بن جاتا هےـ کیا ایسى دعاوں کاپڑھنا بھى روزه باطل هونے کا سبب بن جاتا هے جن میں اس قسم کى قسم کھائى گئى هو؟

مبطلات روزه کے بارے میں مزید آگاهی حاصل کرنے کے لئے هم ذیل میں اس سے مربوط چند مسائل کو بیان کرتے هیں:توضیح المسائل میں یوں آیا هے: ” نو چیزیں روز کو باطل کرتی هیں:1ـ کھانا اور پینا2ـ جماع3ـ استمنا، اور استمنا وه فعل هے جس کے ذریعه انسان سے منی خارج هوجائے ـ4ـ خدواند متعال، پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم او آپ (ص) کے جانشینوں پر جھوٹ کی نسبت دینا ـ5ـ غلیظ گردو غبار کو حلق تک پهنچاناـ6ـ پورے سر کو پانی میں ڈبوناـ7ـ اذان صبح تک جنابت، حیض و نفاس پر غسل کئے بغیر باقی رهناـ8ـ رواں چیزوں سے حقنه (انیما) کرنا ـ9ـ قے کرنا ـ”[1]چوتھے مورد کے بارے میں دوسرے ایک مسئله میں یوں آیا هے: ” اگر روزه دار خداوند متعال، پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم اور آنحضرت صلی الله کے جانشینوں پر عمداً بیان، تحریر یا اشاره و غیره کے ذریعه جھوٹ کی نسبت دے، اگر چه فوراً کهے که میں نے جھوٹ بولا هے یا توبه کرے، پھر بھی اس کا روزه باطل هے اور احتیاط واجب کی بناپر حضرت زهرا سلام الله علیها اور تمام انبیا علیهم السلام اور ان کے جانشینوں کے بارے میں بھی اس حکم میں کوئی فرق نهیں هے”[2]ـاس بناپر قسم کھانا مبطلات روزه نهیں هے، بلکه اگر قسم کھا کر عمداً خداوند متعال، پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم اور آپ (ص) کے جانشینوں پر کسى قسم کے جھوٹ کى نسبت دى جائے تو چونکه خداوند متعال، پیغمبراکرم صلی الله علیه و آله و سلم اور آپ کے جانشینوں پر جھوٹ کی نسبت دینے کے مصادیق میں سے هے، اس لئے روزه باطل هونے کا سبب بن جا تا هے ـلیکن جو قسمیں دعاٶں میں ذکر هوئی هیں وه جھوٹی قسمیں نهیں هیں اس لئے مبطلات روزه نهیں هیں، بلکه دعا کے قبول هونے کے لئے خداوند متعال سے درخواست اور اصرار کے طور پر هیں تا که هم خداوند متعال سے اس کے اولیا اور مقدسات اور بارگاه الهٰی کے مقربین کی قسم دیتے هیں که هماری حاجتوں کو پورا کرے ـ[1]  توضیح المسائل (المحشی للامام الخمینی)، ج 1، ص: 891[2]  توضیح المسائل (المحشی للامام الخمینی)، ج 1، ص: 900 مساله 1596

تبصرے
Loading...