مصلحت، امام خمینی کے کلام میں

0 0

امام خمینی: پارلیمنٹ کو اس بات کا حق ہےکہ مصلحت کے منافی، احکام شرعیہ کو جب تک مغایرت باقی ہے، حکم ثانوی کے عنوان سے معطل کرے۔

آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی پہلی برسی کی یاد میں، اسلامی جمہوریہ ایران میں تشخیص مصلحت نظام کی تشکیل اور بنیاد کے حوالے سے چند اہم نکات، محترم قارئین کے حضور پیش خدمت ہیں:

ایران میں انقلاب اسلامی کے بعد، “مصلحت” سے متعلق بحث و گفتگو کا نقطہ آغاز ہاشمی رفسنجانی ہی ہوسکتا ہے؛ ہاشمی رفسنجانی کی شخصیت کے بعض پہلو، ان متعارض حالات کے پس منظر میں قابل ادراک ہیں جو اس وقت شورائے نگہبان کے بعض فقہاء اور امام خمینی کے مابین اختلاف رائے کی صورت میں رونما ہوئے۔

ہاشمی اس بات کے معتقد تھےکہ  امام خمینی، عوامی منتخب نمائندوں پرمشتمل پارلیمنٹ کو ہی “مصلحت” کی تشخیص کیلئے کافی سمجھتے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امام کے اس موقف کو آئینی مسودے پر نظر رکھنے والی کمیٹی کے ایجنڈے میں کیوں زیر بحت  نہیں لایا گیا؟ تو انہوں نے جواب میں کہا:” اگر ایسا ہوتا پھر بھی وہ اس بات کو مسترد کرتے تھے”!

سب سے عجیب بات یہ ہےکہ امام خمینی کے ہم عصر، شورائے نگہبان کے بعض فقہاء جو امام خمینی کیجانب سے انتخاب کے اعزاز پر آج فخر فروش نظر آتے ہیں اور اسی انتساب کی بنا پر وہ خود کو امام خمینی کے فقہی نمائندے کے عنوان سے متعارف کرتے ہیں، امام خمینی کے دور میں اپنے خطوط اور تحریروں سے حوزہ علمیہ کے ان مراجع تقلید اور بزرگوں کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے تھے جو امام خمینی پر تنقید کیا کرتے تھے۔

ہاشمی نے امام خمینی سے درخواست کی تھی کہ وہ” ولی فقیہ” کے عنوان سے  مصلحتوں کی حفاظت اور مفاسد سے دوری پر مبنی احکام شرعیہ سے متعارض قوانین کے نفاذ کے بارے میں حکم جاری کریں، تاہم امام خمینی نے اس خط کے جواب میں اپنے فتوی کے مبنا کی روسے اس طرح جواب دیا:

پارلیمنٹ کو اس بات کا حق تھا کہ مصلحت کے منافی، احکام شرعیہ کو جب تک مغایرت باقی ہے، حکم ثانوی کے عنوان سے معطل کرے”۔

ایسی صورت میں شورائے نگہبان کو اس حوالے سے تحقیق اور اظہار رائے کرنے کا حق، سلب ہوتا۔

امام خمینی سے مخالفت کے اظہار میں آیت گلپائیگانی کیجانب سے اپنائے گئے موقف اور شورائے نگہبان کے بعض اراکین کیجانب سے اس موقف کی بھرپور حمایت نے ایران کے بنیادی حقوق میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے اس نظرئے کو شامل ہونے نہیں دیا جس کے نتیجے میں مجمع تشخیص مصلحت نظام معرض وجود میں آیا۔

بدقسمتی سے ایرانی عوام کی اکثریت سمیت بہت سے سیاسی فقہ کے ماہرین بھی اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں مجمع تشخیص مصلحت نظام کا نقطہ  آغاز ایسے مرحلے سے ہوتا ہےکہ امام خمینی کی نظر میں ” اس مرحلے کی ضرورت نہیں ہے”۔ [پارلیمنٹ کی مصلحت اندیشی کے بعد، شورائے نگہبان کی رائے کی ضرورت نہیں] [صحیفه امام، ج‌20، ص464]

امام خمینی کی جانب سے شورائے نگہبان کے نام باربار اس سفارش کے باوجود کہ “روحانیت کا کام لوگوں کی ہدایت ہے نہ حکمرانی”  امام کے اس نکتہ نگاہ کو پوری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا گیا۔

امام خمینی کی نگاہ میں حکومت کسی فرد کی نہیں بلکہ اسلامی قوانین کی راجدہانی کا نام ہے اور اسلامی قوانین میں مصلحت کے تقاضوں کو “احکام اولیہ” پر ترجیح دیا گیا ہے، امام خمینی کے افکار کے مطالعے سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہےکہ وہ کسی ایک شخص پر قائم سماجی نظام کے معتقد نہیں ہیں، سیاسی تعلقات میں وہ ذاتی اور شخصی نظریات سے بالاتر، نظام حکمرانی کے خواہاں ہیں۔

شهید آیت اللہ ڈاکٹر بہشتی جو آئینی مسودے سے متعلق مجلس خبرگان کی بہت سی نشستوں کے صدارت کرچکے ہیں، نے اپنے ایک بیان میں زور دیتے ہوئے کہا: “موضوع کا تعین فقیہ کے دائرہ کار میں نہیں آتا” جیسا کہ امام خمینی بھی اسی اصل پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں:” عرف اور شرع دونوں کی نگاہ میں موضوع کی تشخیص کا عمل، عرف کے دائرہ کار میں آتا ہے”۔ [صحیفه امام، ج15، ص۳۱1]

امام خمینی کی منطق میں کسی بھی قسم کا “ولایت” پرمبنی اقدام اور حکومتی حکم، عرفی مصلحت کے تابع ہوتا ہے اور اس سلسلے میں رونما ہونے والے ہر قسم کے اختلاف میں، قضاوت کا حق، عرف (محل بحث میں، پارلیمنٹ) کو حاصل ہے، اسی نکتے کے پیش نظر امام خمینی کی نظر میں پارلمینٹ کو تمام امور پر فوقیت اور برتری حاصل ہے۔

امام خمینی کی نظر میں عرف کی جگہ، فقہاء کے نظریات کو متبادل طور پر استعمال کرنا، دین کو سیاست سے الگ کرنے سے کہیں زیادہ بدتر عمل ہے، اسی لئے آپ تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” اگر یہ نظریات علماء کو سیاست سے الگ کرنے کے مترادف ہیں تو روایتی دانشوروں کے وہ خیالات جو فقہاء کو عرف کا متبادل قرار دینے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں؛ پوری قوم کو سیاست سے الگ کرنے کے درپے ہیں”۔

امام خمینی، اس نقطہ نظر کی رو سے رونما ہونے والے نتائج کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ان لوگوں کے خطرناک موقف کے طور پر جانتے ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ: “گنے چنے افراد کو… ملک کے سیاسی اور سماجی مسائل کی بھاگ دوڑ سنبھالنا چاہئے”! [صحیفه امام، ج18، ص۸ و 9 و 367]

کتاب ” نور کے محضر میں” (ملکی رہنماوں کی امام خمینی کے ساتھ ملاقات پرمشتمل فہرست) کے صفحہ 591 میں آیت الله ہاشمی رفسنجانی کہتے ہیں:” آج یہ مسئلہ امام کی موجودگی میں زیر بحث لایا گیا تھا کہ “تشخیص ضرورت” کی ذمہ داری، شورائے نگہبان اور پارلمینٹ میں سے کس پر عائد ہوتی ہے؟ امام نے فرمایا: “ضرورت کی تشخیص کا حق پارلمینٹ کو حاصل ہے”۔

پارلمینٹ اور عرف کی یکسانیت پرمبنی امام خمینی کے موقف کی رو سے حقیقت میں “فقیہ” کا کام، ان مصلحتوں کو عملی جامہ پہنانا ہے جو رائے عامہ اور پارلیمںٹ کے اراکین کے ووٹوں کی صورت میں متعین ہوتی ہیں۔

امام خمینی کی منطق کی روشنی میں “ولی فقیہ” اور ” مذہبی حکومت” مصلحت کے منافی “احکام اولیہ” کو معطل کرنے حق رکھتے ہیں۔ اگرچہ امام خمینی احکام شرعی کے تعطل کو “ولایت فقیہ” کی ولایت پرمبنی اقدامات اور “احکام ثانویہ” کے نفاذ کی صورت میں قابل امکان سمجھتے ہیں تاہم موضوعات کی تشخیص میں “فقیہ” کو عرف کا تابع قرار دیتے ہیں۔

عام طور پر فقهاء کے درمیان رائج نظرئے کی بنا پر مذہبی اور دینی حکومت کی اہم خصوصیات میں سے ایک، ابتدائی فقہی اور شرعی احکام پر کاربند ہونا ہے اور سیکولر حکومت کی سب سے اہم خصوصیت، رائے عامہ اور عرف پر کاربند ہوتے ہوئے شریعت کو نظر انداز کرنا ہے۔

امام خمینی کے ہم عصر فقہاء کی اکثریت کی نظر میں، فقیہ خواہ “ولی فقیہ” ہو یا پھر شورائے نگہبان کے اراکین میں سے کوئی ایک، عرف کا متبادل قرار پاتا ہے۔ حکومت “احکام اولیہ” کی تعمیل پر کاربند ہے تاہم “احکام ثانویہ” میں عرفی موضوعات اور مصادیق کو فقیہ مشخص کرتا ہے۔

اس منظر سے دینی حکومت کی تعریف میں، امام خمینی کا موقف اپنے ہم عصر شورائے نگہبان اور دیگر فقہاء کے موقف سے کافی مختلف نظر آتا ہے۔

حقیقت میں امام خمینی کے سیاسی فقہ کی بازگشت انکے فتوے کیطرف ہے جو مجمع تشخیص مصلحت نظام کے بغیر، فقط پارلیمنٹ کی اکثریت کو مصلحت کے مغایر اور منافی احکام کے تعطل میں شرعی اعتبار سے حقدار سمجھتے ہیں اور اس فیصلے کو  “ولایت” اور شورائے نگہبان سے غیر مربوط سمجھتے ہیں، جیسا کہ مجمع تشخیص مصلحت نظام کے پہلے حکم نامہ میں اس بات کیجانب اشارہ ہوا ہے اور ایسی صورت میں مجمع تشخیص مصلحت نظام کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی ہے۔

مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سابق سربراہ کے انتقال کے بعد ایک بار پھر ہاشمی رفسنجانی کی پارلیمنٹ میں صدارت کے دوران شورائے نگہبان اور پارلیمنٹ کے مابین رونما ہونے والے چیلنجز کو  ایک مرتبہ پھر سے دہرانے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ سیاسی فقہ کے بنیادی مفاہیم کے حوالے سے پایا جانے والا نقطہ نظر ہے جو حضرت امام خمینی اور مراجع کے درمیان کمترین سطح میں پایا جاتا تھا۔

حوالہ: جماران ویب سائٹ  سے ماخوذ

مزید  ایران کی جانب سے شام پر صیہونی حکومت کے حملے کی مذمت
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.