حضرت حمزہ (علیہ السلام) کے جنگی کارنامے

0 0

خلاصہ: حضرت حمزہ (علیہ السلام) ان عظیم شخصیتوں میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کی سربلندی کے لئے جانثاری کی، آپ اظہار اسلام سے پہلے اور اظہار اسلام کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حفاظت کے لئے بھرپور کوشش کرتے رہے، آپ نے اسلام کے دشمنوں سے مقابلہ کے لئے کئی جنگوں میں حصہ لیا اور آخر کار جنگ احد میں جام شہادت نوش فرمایا۔

حضرت حمزہ (علیہ السلام) کے جنگی کارنامے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت حمزہ سیدالشہدا (علیہ السلام) کی ولادت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت سے دو سال پہلے ہوئی۔[1] آپ شجاع، دلیر اور ظلم کا مقابلہ کرنے والے تھے، آپ کی بہادری اور فوجی صلاحیتیں جوانی کے شروع ہونے کے ساتھ ساتھ ظاہر ہونے لگیں۔ آپ حتی اظہار اسلام سے پہلے بھی مشرکین کی اذیتوں کے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حمایت کیا کرتے تھے، آپ کا اظہار اسلام، اللہ تعالی کے دین کی سربلندی اور سرافرازی کا باعث بنا کیونکہ اس کے بعد مسلمان گوشہ نشینی سے نکل آئے اور قریش کو آپ کی رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے حمایت اور پشت پناہی کا ادراک ہوگیا اسی لیے انہوں نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو تکلیف دینے میں کمی کردی۔
جناب حمزہ (علیہ السلام) نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ مدینہ ہجرت کی اور قابل قدر خدمات خاص طور پر فوجی مسائل میں پیش کیں۔
جب پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ایک طرف سے رفتہ رفتہ اسلام کا اقتدار بڑھتا گیا اور دوسری طرف سے مشرکین کی دشمنی بڑھتی گئی یہاں تک کہ مسلمانوں اور مشرکوں کا آپس میں پہلا ٹکراو ہوا۔ جناب حمزہ (علیہ السلام) جو اسدُاللہ و اسدُ رسولہ (اللہ کا شیر اور اللہ کے رسول کا شیر) کے لقب سے مفتخر ہوئے تھے، اس جنگ کی سربراہی آپ کے ذمہ تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے علم آپ کو سونپا اور آپ کو تیس مسلمانوں کی ہمراہی میں قریش کے تین سو افراد کے قافلہ سے جنگ کے لئے بھیجا، اگرچہ اس واقعہ میں کوئی جنگ پیش نہ آئی، لیکن جناب حمزہ (علیہ السلام) نے یہ اعزاز حاصل کیا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف سے، لشکر کے علمدار بنے، یہ واقعہ پہلی ہجری کے ماہ رمضان میں واقع ہوا۔[2]
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے دوسرے سال، ربیع الاول میں غزوہ “ابواء” کا اہتمام کیا اور جمادی الاولی میں غزوہ “ذات العشیرہ” کا قریش کے قافلہ کے تعاقب کے لئے انتظام کیا، ان دو غزوات میں لشکر اسلام کے علمدار جناب حمزہ (علیہ السلام) تھے۔
مسلمانوں اور کفار قریش کے درمیان پہلا فوجی معرکہ، دوسری ہجری میں پیش آیا۔ “بدر” کے کنووں کے پاس، مسلمان فوج، ابوسفیان کے لشکر کے سامنے قرار پائی اور آخر کار جھڑپ ہوئی۔ جناب حمزہ (علیہ السلام) نے جنگ بدر کے مختلف حصوں میں عظیم جرات دیکھائی، منجملہ جنگ کا وہ حصہ جو تن بہ تن واقع ہوا، جناب حمزہ (علیہ السلام) قریش کے ایک بہادر سے جس کا نام شیبہ تھا، جنگ کرتے ہوئے اسے ہلاکت کے گھاٹ اتار دیا۔ کتنی دیگر تن بہ تن جھڑپوں کے بعد، عام حملہ شروع ہوا اور جناب حمزہ (علیہ السلام) مکمل بہادری کے ساتھ دشمن کے قلب لشکر پر حملہ کرتے تھے۔ اس بہادر فوجی کا جنگ بدر میں چمکتا ہوا کردار تھا۔ یہ جنگ، الہی امدادوں سے اور حضرت امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کی بے مثال شجاعتوں سے اور جناب حمزہ (علیہ السلام) کی بہادری سے لشکر اسلام کی یقینی فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ اس جنگ میں لشکر کفر کے چند سربراہ جناب حمزہ (علیہ السلام) کے طاقتور ہاتھوں سے ہلاک یا اسیر ہوئے، طعیمه بن‏عدى اور ابوقیس بن‏ فاكه مقتولین میں سے ہیں اور اسود بن‏ عامر جناب حمزہ (علیہ السلام) کے ذریعہ اسیر ہوگیا۔ سیدالشہدا حمزہ بن عبدالمطلب (علیہماالسلام) غزوہ “بنی قینقاع” میں لشکر اسلام کے علمدار تھے۔ بنی قینقاع کے یہودی، یہود کا پہلا گروہ تھا جنہوں نے اسلام سے اعلان جنگ کیا، لشکر اسلام نے ان کے قلعہ کو گھیر لیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے انہیں مدینہ سے جلاوطن کردیا اور ان کے مال کو ضبط کرلیا۔
جنگ بدر کے ایک سال بعد، غزوہ احد ان مشرکوں سے مقابلہ کرنے کے لئے رونما ہوا جو مسلمانوں سے انتقام لینے اور بدر کی شکست کی تلافی کرنے کے لئے مدینہ کی طرف آئے تھے۔ جناب حمزہ (علیہ السلام) اور دیگر بعض بہادر مسلمانوں کا نظریہ یہ تھا کہ شہر سے باہر جنگ کی جائے۔ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے قسم کھائی کہ کچھ نہیں کھائیں گے یہاں تک کہ دشمن کو شہر سے باہر جنگ کریں۔[3]
جنگ اُحد تیسری ہجری میں رونما ہوئی، جناب حمزہ (علیہ السلام) بھی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ جانثاری کے لئے تیار تھے، جنگ اُحد کی رات کو گویا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو معلوم تھا کہ آنحضرت کے چچا اس جنگ میں شہید ہوجائیں گے، آنحضرت نے جناب حمزہ (علیہ السلام) سے گفتگو کی اور ان کے اعتقادات کے سلسلے میں پوچھا اور ان سے کہا کہ خالصانہ طور پر اللہ کی وحدانیت اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کی گواہی دیں۔ جناب حمزہ (علیہ السلام) نے بھی شہادتین اور دیگر اعتقادی مطالب کو زبان پر جاری کیا۔ آخر میں آنحضرت نے ان سے فرمایا کہ کہیں: “حمزہ، شہیدوں کے سردار اور اللہ کے شیر اور اللہ کے رسول کے شیر اور پیغمبر کے چچا ہیں”۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ان باتوں سے شہادت کی خوشبو محسوس ہوتی تھی، جناب حمزہ (علیہ السلام) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور جناب حمزہ (علیہ السلام) بہت خوش ہوگئے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بھی دعا کی کہ وہ توحید کے عقیدہ پر مضبوط رہیں اور ان کے دل میں کوئی تزلزل پیدا نہ ہو۔[4]
آپ میدان جنگ میں شجاعت اور بہادری کا نمونہ تھے۔ آپ دشمن کی صفوں کے درمیان پہنچ جاتے اور دشمن سے مقابلہ کرتے۔ آپ بازووں کی عظیم طاقت کے مالک تھے، آپ جنگ احد میں دو تلواروں کے ذریعے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سامنے جنگ کرتے اور کہتے: “میں اللہ کا شیر ہوں”، دشمن کے حملہ کرنے کے مقابلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے وفاداری اور ثابت قدمی کے ساتھ دفاع کرتے اور آپ نے اس جنگ میں تیس مشرکوں کو ہلاک کردیا۔ مشرکین میں سے ایک شخص جس کا نام “وحشی” تھا، درخت کے نیچے اس بہادر سربراہ کے لئے کمین کیے بیٹھا تھا، جناب حمزہ (علیہ السلام) نے اسے دیکھا تو اس کی طرف جانے لگے، ایک دشمن نے آپ کا راستہ روک لیا۔ حضرت حمزہ (علیہ السلام) نے اس پر حملہ کرتے ہوئے اسے قتل کردیا، پھر تیزی کے ساتھ وحشی کی طرف بڑھے، لیکن آپ کا پاوں کیچڑ میں پھسل گیا اور آپ زمین پر گرگئے تو وحشی نے آپ کی طرف برچھی پھینکی، اس طریقہ سے اسلام کے یہ بزرگ حامی اتنا عرصہ جہاد فی سبیل اللہ اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی مدد کرتے ہوئے 59 سال کی عمر میں ملکوت اعلی کی طرف انتقال کرگئے اور وہ رشید سربراہ، جام شہادت نوش کرتے ہوئے، بارگاہ الہی کے شہید شاہد بن گئے۔
نتیجہ: حضرت حمزہ سیدالشہدا (علیہ السلام) تاریخ اسلام کی وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کی راہ میں مخلصانہ طور پر قربانیاں دیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حفاظت کرنے کے لئے اظہار اسلام سے پہلے اور بعد میں انتہائی کوششیں اور جانثاریاں کیں۔ آپ نے جنگ بدر و احد اور دیگر کئی جنگوں میں حصہ لیتے ہوئے آخر کار جنگ احد میں جام شہادت نوش فرمایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[1] ماخوذ: السیرة النبویة ابن ہشام، قسم2، ص96.
[2] مغازی واقدی، ج 1، ص 9.
[3] طبقات ابن سعد، ج3، ص12.
[4] بحارالانوار، ج 22، ص 278.

مزید  فاتح کربلاحضرت زینب سلام اللہ علیھا
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.