اپنے ارادہ اور نیت کو تقویت دینا

0 23

اپنے ارادہ اور نیت کو تقویت دینا

اپنے ارادہ اور نیت کو تقویت دینا

علامہ صالح مازندرا نی نے بہت سی مشکلات کے با وجود پختہ ارادہ  کے ذریعہ علمی مراحل طے کرکے بلند مقام حاصل کیا اگر آپ چاہیں تو خدا آپ کو بھی یہ مقام عنایت فرمائے گا . لیکن اس کے لئے اپنی نیت وارا دے میں کو تاہی نہ برتیں . حضرت امیر المو منین  اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں :

” فانّ اللّٰہ یعطی العبد بقدر نیّتہ ”([1])

بے شک خدا ہر بندے کو اس کی نیت کے برابر عطا فرما تا ہے  ۔

جس قدر انسان کی نیت کی اہمیت ہو ، خدا بھی اسی لحاظ سے اسے عطا کر تا ہے . آپ کی نیت جس قدر بہتر اور خالص  ہو گی ، اسی لحاظ سے اجر و ثواب بھی زیاد ہو گا . اس بناء پر اپنی نیت کو خالص کریں نہ کہ صرف اپنے اعمال کو زینت دیں ۔

خدا کے بزرگ بندے اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے خدا کی توفیقات و عنایات کا دامن پکڑتے ہیں . ایک روایت میں امام صادق اس راز سے پردہ اٹھا تے ہوئے فرما تے ہیں : 

” انّما قدّر اللّٰہ عون العباد علیٰ قدر نیّاتھم ، فمن صحّت نیّتہ تمّ عون اللّٰہ لہ  ومن قصرت نیّتہ ، قصرعنہ العون بقدر الّذی قصر ”([2])

خداوند تعالی لوگوں کی نیت کے مطابق ان کی مدد کو مقدر کر تا ہے . جو صحیح و کامل نیت رکھتا ہو تو خدابھی کامل طور پر اس کی مدد کر تا ہے اور جس کی نیت کم ہو اسی

 

لحاظ سے اس کی مدد میں بھی کمی آتی ہے۔

امام صادق (ع) اپنے اس قول میں کامیاب لوگوں کی کامیابی اور نا کام لوگوں کی ناکامی کے راز کو بیان فرماتے ہیں : کیو نکہ لوگوں کو خدا کی مدد ان کی نیت کے لحاظ سے پہنچتی ہے ۔

نیت و ارادہ اس قدر کا رساز اور پُر قدرت ہے کہ اگر اپنے ارادہ کو تقویت دیں تو آپ کے جسم کا ضعف دور ہو جائے گا اور آپ جسمانی  لحاظ سے بھی ہر مشکل کام ا  نجام دینے کو تیار ہوں گے . کیو نکہ نیت میں پختگی آپ کے  بدنی ضعف کو دور کرتی ہے . حضرت امام صادق(ع) فرماتے ہیں :

” ما ضعف بدن عمّا قویت علیہ النیّة ”([3])

 نیت کے ذریعہ سے قوی ہونے والے بدن کو کوئی ضعف لا حق نہیں ہو سکتا۔

بہت سے ورزش کار اور کھلاڑی جسمی تمرینات سے زیادہ روح کو تقویت دینے سے استفادہ کرتے ہیں . کیو نکہ نیت سے  فکر اور ارادہ کو تقویت دینا، صرف بدن کو طاقت ور بنا نے سے بہتر ہے . بہت سے افراد معتقد ہیں کہ جوا نی و بڑھا پا اور قوت و ضعف کا سر چشمہ ایک غیر جسمی منشاء ہے اگر چہ اس موضوع کو تمام قبول نہیں کرتے . لیکن اس فرض کی بناء پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ فکر و اندیشہ انسان کی صحت و مرض ،اور بندی  قدرت و ضعف  حتی کہ حیات وموت میں بھی مؤثر ہے ۔

[2] ۔ بحار الانوار:ج ٠ ٧ص ١١ ٢

[3] ۔   اما لی صدوق: ٨ ٩ ١ ، بحار الا نوار:ج ٧ ص ٥ ٠ ٢

 

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.