امام خامنہ ای کی نگاہ میں شہدائے مدافعین حرم کی تین اہم خصوصیات

شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا [1] تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گےجن پر خدا نے نعمتیں نازل کی ہیں انبیاء ، صدقین، شہداء اور صالحین اور یہی بہترین رفقاء ہیں۔
دوسرے مقام پر شہدوں کو زندہ و جاوید سے تعبیر کرتے ہوئے خدا وندحی ارشاد فرماتا ہے : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ[2] جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے پروردگار کے مقرب ہیں کھاتے پیتے ہیں وہ خوش ہیں اس چیز سے جو ان کو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے عطاء فرمائی اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتےہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے.
اسلامی فقہ میں شہید سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں جان دے۔ مثلاً اپنے وطن کی حفاظت یا اپنے مذہب کی حفاظت کے لیے جنگ لڑتے ہوئے جان دے دے۔
شہید کا لغوی معنی ہے : گواہ ، کِسی کام کا مشاہدہ کرنے والا۔
اور شریعت میں اِسکا مفہوم ہے : اللہ تعالٰی کے دِین کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان قُربان کرنے والا ، میدانِ جِہاد میں لڑتے ہوئے یا جِہاد کی راہ میں گامزن یا دِین کی دعوت و تبلیغ میں، اور جِس موت کو شہادت کی موت قرار دِیا گیا ہے اُن میں سے کوئی موت پانے والا.
شہادت کی  دو قِسمیں ہیں ١: شہیداءِ المعرکہ: یعنی اللہ کے لئے نیک نیتی سے میدانِ جِہاد میں کافروں ، مُشرکوں یا دشمنان خدا و رسول کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہونے والا ،

٢ :فی حُکم الشہید، شہادت کی موت کا درجہ پانے والا: یعنی میدان جِہاد کے عِلاوہ ایسی موت پانے والا جسے شہادت کی موت قرار دِیا گیا ۔
جیسا کہ پیغمبر اسلام ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: اذا جاء الموت‏ طالب‏ العلم و هو على هذه الحال مات شهيداً[3] جو شخص حصول علم کے راستے میں مرجائے وہ شہید ہو کر مرتا ہے۔
یا امیر المومنینؑ ارشاد فرماتے ہیں: مَنْ‏ مَاتَ‏ مِنْكُمْ‏ عَلَى‏ فِرَاشِهِ وَ هُوَ عَلَى مَعْرِفَةِ حَقِّ رَبِّهِ وَ حَقِّ رَسُولِهِ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ مَاتَ شَهِيدا[4] جس شخص اپنے پروردگار کے حق کی معرفت رکھتا ہو اور ساتھ ساتھ رسول و اہل بیت کے حقوق کی معرفت رکھتا ہو اور اسی عالم میں اسے اپنے بستر پر موت آجائے تو اس کی موت شہادت کی موت ہوگی۔
بہر کیف ان تمام آیات کے اطلاق و روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ شہید مندرجہ بالا اقسام میں سے کسی قسم کا ہو اس کا رتبہ بہت بلند ہے اور اسے سوائے خدا، رسول، اہل بیت اور وہ افراد جو تعلیمات اہل بیت سے سرشار کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شہیدوں کے مقام کو جاننے والا، قوم کا درد رکھنے والا،بے یاروں کا یار،مظلوموں کا حامی، مقام معظم رہبری حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای دامت برکاتہ نےشہداء  مدافعین حرم کے  پسماندگان سے ملاقات کرتے ہوئے ارشاد فرمایا یہی وہ افراد ہیں جن پر قوم و ملت کو افتخار کرنا چاہئے، یہی افراد زندہ و جاوید ہیں اور اللہ کے فضل سے اپنے رزق سے مستفید ہو رہے ہیں۔

اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے شہدائے مدافعین حرم کے اہل خانہ سے فرمایا: حقیقت میں آپ کے شہداء، اور آپ اہل خانہ؛ ان کے ماں باپ اور ان کی اولاد، تمام ملت ایران کی گردن پر حق رکھتے ہیں۔ ان شہیدوں کی کچھ خصوصیات ہیں؛ ایک یہ ہے کہ انہوں نے عراق و شام میں حرم اہلبیت(ع) کا دفاع کیا ہے اور اسی راہ میں جام شہادت نوش کیا ہے۔۔۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا: آپ کے ان شہداء کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے وہاں(شام) جا کر دشمنوں کا مقابلہ کیا ہے اگر یہ وہاں جا کر جنگ نہیں کریں گے تو دشمن ملک کے اندر گھس جائے گا۔۔۔ اگر ان کو وہاں نہیں روکا جائے گا تو ہمیں کرمانشاہ، ہمدان اور دوسرے علاقوں میں ان کے ساتھ جنگ کرنا پڑے گی۔ در حقیقت یہ ہمارے شہداء ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو ملک کے دفاع، ملت، دین اور انقلاب اسلامی کے دفاع کی راہ میں نثار کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: تیسری خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عالم غربت میں شہادت پائی ہے۔ یہ ایک بڑی خصوصیت ہے۔ اور یہ خداوند عالم کی بارگاہ میں نظرانداز نہیں ہو گی۔[5]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات

[1] سورہ النساء ۔ 69

[2] سورہ آل عمران ۔ 169۔170

[3] سفینۃ البحار، ج۴، ص۵۱۲۔

[4] نہج البلاغہ، صبحی صالح، ص 283۔

[5] www.khamenei.ir

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.