تعلیم وتربیت کی اہمیت

تعلیم وتربیت کی اہمیت

مقدمہ

دین اسلام میں تربیت کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی گئے ہے اور اس سلسلے میں بہت سی آیات وروایات،اخلاق اور عقائد کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں اور یہ بھی ایک مسلم امر ہے کہ انسان کی سرنوشت اس کی صحیح تربیت پر موقوف ہے ۔اگر بچوں اور نوجوانوں کی ابتدائی سالوں میں صحیح تربیت نہ ہو تو بعد میں جتنی بھی محنت وکوشش کی جائے تو وہ ثمر بخش ثابت نہیں ہوسکتی،لہذا اسلام والدین کو بچوں کی صحیح تربیت اور اخلاقی بنیادوں پر پرورش کرنے کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور اس امر کو ایک اہم وظیفہ قراردیتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

اکرموا اولادکم واحسنوا آدابھم،،[1]یعنی اپنی اولاد کی عزت کرو اور ان کی صحیح تربیت کرو۔

تعلیم وتربیت کی اہمیت

تعلیم وتربیت کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ قرآن کریم نے ہزار سے زیادہ مرتبہ خدا وندمتعال کو ربّ اور کئی سو مرتبہ عالم یا علیم کا نام دیا ہے۔[2]

پیغمبر اسلام صلی الللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ صدیاں قبل ہی دور جاہلیت میں حجاز جیسے درافتادہ ماحول میں تربیت اولاد جیسے اہم موضوع کے بارے مکمل طور پر توجہ دلائی اور اس کے بارے میں لازمی وضروری تعلیمات کو بیان فرمایا ،اسلام نے شادی کے معاملہ میں مرد وعورت کے لئے شرائط اور ضوابط کو پاک نسل کی خاطر بیان کیا ہے اسی طرح سے دودھ پلانے کے آداب اور بچے کی جسمانی وروحانی پرورش کے وظائف کو بھی جابجا بیان کیا ہے لہذا والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی تربیت زمانے اور حالات حاضرہ کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر کریں۔حضرت علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:

،،لا تؤدبوا اولادکم باخلاقکم لانھم خلقوا لزمان غیر زمان کم،،[3] اپنے بچوں کی تربیت اپنے اخلاق وحالات کے مطابق نہ کرو کیونکہ انہیں ایسے زمانے کے لئے پیدا کیاگیا ہے جو تہمارے زمانے سے مختلف ہے۔

اس موضوع کی اہمیت مولوی جیسے شاعر کی نگاہ میں پوشیدہ نہیں ہے لہذا وہ کہتے ہیں:

از خدا جوییم توفیق ادب             بی ادب محروم ماند زلطف ربّ

ہمیں چاہئے کہ خدا سے ادب واخلاق کی توفیق طلب کریں کیونکہ بے ادب انسان خدا کے لطف وکرم سے محروم رہ جاتاہے۔

بے ادب تنھا،نہ خود راداشت بد              بلکہ آتش در ہمہ آفاق زد

بے ادب انسان نہ فقط خود خراب ہوتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی آگ لگا دیتا ہے۔

علامہ اقبال کہتے ہیں:

نوجوانی را چو بینم بے ادب          روز من تاریک می گرددچو شب

تاب وتب در سینہ افزاید مرا           یاد عہد مصطفیٰ آید مرا

اگر کسی نوجوان کو بے ادب دیکھتا ہوں تو یہ روز روشن میرے اوپر تاریک ہوجاتاہے  ایسا منظر میرے دل کی بے تابی کو بڑھا دیتا ہے اور مجھے پھر عہد مصطفیٰ کے تربیت یافتہ نوجوانوں کی یاد آنے لگتی ہے۔

اولاد کی شخصیت کو نکھارنے اور اس کو چار چاند لگانے کے لئے گھر والوں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے چونکہ انسان(بچہ) اپنے تمام ابتدائی اوقات والدین اور گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ گزارتا ہےلہذا ان کا کردار اور ان کے افعال بچے کی تربیت میں بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ پیدائش کے بعد بچے کی نظر گھر کے افراد اور ان کے کردار پہ پڑتی ہےاور وہ انہیں اپنے لئے نمونہ عمل بناتاہے اگر گھر کے افراد کا کردار صحیح نہ ہوتو بچہ بھی انہی افراد کے کردار کے مطابق پرواں چڑھے گا خصوصاً والدین کا کردار بہت اہم اور بنیادی ہے کیونکہ شادی سے لے کر حمل اور بچے کی پیدائش تک ان کا کردار اثر انداز ہوتا ہے۔

امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

حق الولد علی الوالدین ان یحسن اسمہ ویحسن ادبہ ویعلّمہ القرآن،،[4]

۔۔اور فرزند کا حق باپ پر یہ ہے کہ اس کا اچھا نام تجویز کرے اور اسے بہترین ادب سکھائے  اور قرآن مجید کی تعلیم دے۔ پس باپ پر بچوں کا حق یہ ہے کہ ان کی صحیح تربیت کرے  اور اگر شروع ہی سے باپ اس کی تربیت نہ کرے اور بچے سے اچھے کردار اور شائستہ افعال کی امید رکھے تو یہ بے جا توقع ہوگی اور بعد میں اسی بچے کی طرف سے مورد مذمت وسرزنش قرارپائے گا۔

آیت اللہ مکارم شیرازی شرح نہج البلاغہ میں امیر المومنین علی علیہ السلام کے اسی حکمت آمیز کلام کے ذیل میں ایک داستان  نقل کرتےہوئے فرماتے ہیں:

،،ایک شخص کسی جگہ سے گزر رہا تھا کہ دیکھاایک شخص اپنے باپ کو مار، پیٹ رہاہے یہ شخص بیٹے کی غیر شائستہ حرکت کو دیکھ کر اعتراض کرنے لگا کہ اپنے باپ کو کیوں ماررہے ہو؟ بیٹے نے جواب میں کہا کیا ایسا نہیں کہ بیٹا باپ پر بہت سے حق رکھتا ہے ؟ ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ بیٹے کے لئے اچھا نام تجویز کرے  میرے باپ نے میرا نام برغوث(کیک) رکھا ہے۔ دوسرا حق یہ ہے کہ اسے قرآن سکھائے میرے باپ نے مجھے قرآن کا ایک لفظ بھی نہیں سکھایا۔تیسرا حق یہ ہے کہ بچے کی سرپرستی کرے ۔میں اس وقت بالغ ہوچکا ہوں اور ابھی تک میرا ختنہ نہیں ہوا!۔[5]

اسلام کیے مقدس مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان ایک مناسب وصحیح روش کا انتخاب کرے کیونکہ کسی بھی کام میں مطلوب نتیجہ کو حاصل کرنے کے لئے ایک مناسب اور درست روش کا انتخاب ضروری ہے ۔امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے مبارک کلام میں اولاد کی تربیت کے سلسلے میں امام حسن مجتبیٰ کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

،،اب میں تمہاری تربیت کا آغاز کتاب خدا اور اس کی تاویل ،قوانین اسلام اور اس کے حلال وحرام سے کررہا ہوں اور ان کو چھوڑ کر میں کسی اور چیز کی طرف نہیں جاؤں گا۔[6]

آپ کے ان قیمتی جملوں سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو تربیت کا آغاز کس چیز سے اور کہاں سے کرنا چاہئے سب سے پہلے کتاب خدا کی تعلیم دی جائے اور اس کے نورانی کلام سے بچوں کے دلوں کو منور کیا جائے۔  اس کے بعد شریعت کے احکام ،حلال وحرام کی تعلیم کی باری آتی ہے۔پس انسان کے لئے ضروری ہے کہ اس سے پہلے کہ بچوں کا ذہن دنیاوی امور میں مشغول ہوجائے اور بچے گمراہی کے راستے پر چلتے ہوئے قساوت قلبی میں مبتلا ہوجائیں ان کی صحیح تربیت کرے۔

منبع: تعلیمات نہج البلاغہ

[1] تربیت کودک از دید گاہ اسلام،ص۱۴و۱۵۔

[2] ۔فلسفہ تعلیم وتربیت ،ص۲۲،ج۱۔

[3] ۔حکمت ۴۵۔

[4] ۔کتاب آئین تربیت، ص۴۸۔

[5] ۔شرح فشردہ نہج البلاغہ،(آیۃ اللہ مکارم)ج۳ص۵۷۷۔

[6] نامہ،۳۱۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More