حضرت على _ كى زندگي

20

كے بعد آپ نے يہ آيت پڑھى ”رب لا تذرنى فردا و انت خيرالوارثين” _ (26)

جب عمرو كے ساتھ ميدان جنگ ميں مقابلہ ہوا تو آپ(ص) نے فرمايا :

برزالايمان كلہ الى الشرك كلہ” (*) يعنى ايمان وشرك كے دو مظہر كامل ايك دوسرے كے مقابل ہيں )

ا ور جب آپ ميدان جنگ سے فاتح و كامران واپس آئے تو پيغمبر خدا (ص) نے فرمايا : ”لو وزن اليوم عملك بعمل امة محمد (ص) لرجح عملك بعلمہم”_(يعنى اگر آج تمہارے عمل كا امت محمد كے تمام اعمال ( پسنديدہ) سے مقابلہ كياجائے تو ( بے شك) اس عمل كو ان پر برترى ہوگي_(27)

على (ع) فاتح خيبر

پيغمبر اكرم (ص) نے يہوديوں كے مركز ”خيبر” كا محاصرہ كيا تو اس غزوہ كے ابتدائي دنوں ميں حضرت على (ع) آشوب چشم كے باعث اس ميں شريك نہيں ہوسكتے تھے چنانچہ پيغمبر اكرم (ص) نے پرچم اسلام دو مسلمانوں كو ديا ليكن وہ دونوں ہى يكے بعد ديگرے كامياب ہوئے بغير واپس آگئے_

يہ ديكھ كر پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا يہ پرچم ان كا حق نہ تھا على (ع) كو بلاؤ عرض كيا گيا كہ ان كى آنكھ ميں درد ہے _ آپ (ص) نے فرمايا كہ : على (ع) كو بلاؤ وہى ايسا مرد ہے جو خدا اور اس كے رسول كو عزيز ہے وہ بھى خدا اور اس كے پيغمبر (ص) كو عزيز ركھتا ہے _ (28)

جس وقت حضرت على (ع) پيغمبر اكرم (ص) كے حضور تشريف لائے تو آپ نے دعا فرماتے ہوئے اپنے دہان مبارك سے لعاب ان كى آنكھوں پر لگايا جس كے باعث درد چشم زائل ہوگيا اس كے بعد حضرت على (ع) نے پرچم اٹھايا اور ميدان جنگ كى جانب روانہ ہوگئے_

يہودى دلاور اپنے قلعے سے نكل كر باہر آئے _ مرحب كابھائي حارث نعرا لگاتا ہوا حضرت على (ع) كى جانب بڑھا مگر چند ہى لمحے بعد اس كا مجروح بدن خاك پر تڑپنے لگا _ مرحب اپنے بھائي كى

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.