کیا علم دو دھاروں والی تلوار هے یا علم کا ناجائز فائده اٹھانا جهالت کی وجه سے هوتا هے؟


سائٹ کے کوڈ
fa5510


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
14756

کیا علم دو دھاروں والی تلوار هے یا علم کا ناجائز فائده اٹھانا جهالت کی وجه سے هوتا هے؟

بهت سے مواقع پر علماء اور اساتید، علم کو دو دھاروں والی تلوار کے عنوان سے بیان کرتے هیں، جو کبھی ویرانی اور تباهی مچاتی هے اور کبھی آبادکاری کرتی هے۔ اور ان کا استدلال وه ناجائز فائده هے، جو انسان علم سے کرتا هے۔ یه اس حالت میں هے که جب علم مطلق نور هوتا هے اور هم نے اعتدال پسند فکر میں کبھی نهیں دیکھا هے که علم کے موضوع کو پامال کیا جائے۔ جو چیز انسان کو نقصان پهنچاتی هے اور بربادی و تباهی کا سبب بنتی هے، وه صرف اور صرف جهالت هے اور جب مصیبت سے انسان دوچار هوتا هے وه اس کی نادانی کی وجه سے هوتا هے۔ جو چیز انسان کے لیے ایٹم بم جیسے تخریبی اسلحه بنانے کا سبب بنتی هے وه اس کے علمی قوانین {یعنی علم کے صحیح استفاده کرنے} کو جاننے میں جهالت هے، جو انسان کے لیے اس امر کا سبب بن جاتا هے که وه ایک ایسے بچے کے مانند عمل کرتا هے، جس کے هاتھ میں گراں قیمت گوهر هوتا هے لیکن وه اس کی قدروقیمت کو نهیں جانتا هے اور اسے اپنے دوست یعنی کھیل کود کے ساتھی کے سر پر دے مارتا هے اور اس گوهر سے اس طرح کام لیتا هے۔ پس ایٹم بم کو انسان کی جهالت بناتی هے اور اس کے هم نوع اس کا احساس خطر کرتے هیں، کیونکه پر امن ماحول میں زندگی صرف دانائی سے حاصل هوتی هے۔ لیکن وه یه نهیں جانتا هے اور علم کے گراں قیمت گوهر سے غلط فائده اٹھاتا هے۔

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

تبصرے
Loading...