کیا بھشت اور جھنم میں بھی موت ھوتی ھے؟

0 3

قیامت کبری، جو عالم برزخ کے بعد ایک ایسا عالم ھے جھاں پر سب انسان جمع ھوں گے اور زندگی کے ایک نئے مرحلے میں وارد ھوں گے وه اپنے دنیاوی زندگی کے اعمال اور کردار کی جزا پائیں گے۔[1]

قرآنی آیات ،روایات اور عقلی دلیلیں اس پر اتفاق رکھتی ھیں کھ قیامت کبری کے بعد (یعنی انسانوں کے جنت یا جھنم میں جانے کے بعد) دوباره موت نھیں ھوگی۔

ھم یھاں پر  ان میں سے بعض دلیلوں کی جانب اشاره کریں گے۔

قرآن مجید قیامت کو ستّر (۷۰) ناموں سے پکارتا ھے اور ان میں سے ھر ایک کو اپنی خصوصیت سے یاد کرتا ھے مثال کے طور پر اس لحاظ سے کھ اس دن سب موجودات انسان اور حیوان محشور ھوجائیں گے ، اس کو “یوم حشر ” کا نام دیتا ھے۔ اوراس لحاظ سے کھ وه ھمیشگی ھے اور اس میں موت واقع نھیں ھوگی اسے “یوم الخلود”  کھا گیا ھے[2] یھ نام سوره مبارکھ “ق” میں ذکر ھوا ھے۔[3]

اس کے علاوه قرآن مجید ، ستّر (۷۰) بار سے زیاده، اھل بھشت اور دوزخ کا خلود اور جاوداں کی صفت سے نام لیتا ھے۔ ھم یھاں نمونے کے طورپر قرآن کی دو آیات کی طرف اشاره کریں گے۔

“ھاں، سچ تو یھ ھے کھ جس نے برائی حاصل کی اور اس کے گناھوں نے چاروں طرف سے اسے گھیر لیا ھے وھی لوگ تو دوزخی ھیں اور وھی تو اس میں ھمیشھ رھیں گے” [4]

“اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انھوں نے اچھے کام کئے ھیں وھی لوگ جنتی ھیں کھ ھمیشھ جنت میں رھیں گے” [5]

روایات میں بیان ھوا ھے کھ قیامت میں موت موجود نھیں ھے ، من جملھ ان روایات کے علامھ مجلسی(رح) نے بحار الانوار کی آٹھویں جلد کے باب نمبر ۲۶ میں مختلف احادیث نقل کی ھیں جویھ بیان کرتی ھیں کھ  موت کو ایک بھیڑ کی صورت میں اھل جنت اور جھنم کے سامنے ذبح کیا جائے گا۔

ان ھی روایات میں سے ایک روایت حضرت رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم سے نقل ھوئی ھےکھ آنحضور (ص) نے فرمایا: “جب خداوند متعال جنّتی لوگوں کو جنت میں اور جھنمی لوگوں کو جھنم میں لے جائے گا تو موت کو ایک بھیڑ کی صورت میں لایا جائے گا اور ان کی آنکھوں کے سامنے اسے ذبح کیا جائے گا ، اس کے بعد منادی آواز دے گا ” یا اھل الجنۃ خلود فلا موت یا اھل النار خلود فلا موت ” [6] یعنی قیامت کے بعد پھرموت نھیں ھوگی بلکھ خلود اور جاودانگی ھو گی۔[7]

عقلی نقطھ نظر سے چونکھ انسانی نفس مجرد ھے۔ اور ھر مجرد فنا نا شدنی ھے پس انسان کے بھشت اور جھنم میں جانے کے بعد دوباره اُسے موت نھیں ھوگی۔

نفس کے تجرد پر حکماء اور متکلمین کے بعض دلائل :

۱۔ نفس کلیات کا ادراک کرتا ھے، کلی مجرد ھے ، پس اس کا محل بھی مجرد ھونا چاھئے۔

۲۔ نفس کو ایسے امور پر قدرت حاصل ھے جن پر جسم کو قدرت حاصل نھیں ھے، جیسے غیر متناھی کا تصور کرنا۔

۳۔ ھم مشاھده کرتے ھیں کھ حواس کے سب مدرِکات کو ایک چیز ادراک کرتی ھے۔ جو نفس کے تجرد کی دلیل ھے۔ کیونکھ حواس ایک دوسرے کے ادراکات سے باخبر ھیں۔ مثال کے طورپر، آنکھه ، چینی کی سفیدی کو دیکھتی ھے لیکن اس کے مزے سے با خبر نھیں ھے یا کسی چیز کو اگر دیکھے بغیر منھه میں رکھیں گے تو اس کے مزے کا احساس کریں گے۔ لیکن اس کے رنگ کو نھیں جانتے ھیں۔ پس معلوم ھوا کھ ھمارے اندر ایک مجرد کلی چیز موجود ھے جو ان سب ادراکات کو سمجھه لیتی ھے۔

۴۔ جسمانی قوتیں کام کرنے کی وجھ سے فرسوده ھوتی ھیں۔ لیکن نفس کی قوت اس کے بر خلاف ھے، کیونکھ تعقلات کی کثرت اسے طاقتور بنادیتی ھے پس نفس جسم کی قسم میں سے نھیں ھے بلکھ مجرد ھے۔ [8]

۵۔ نفس کے مجرد ھونے کی پانچویں دلیل یھ ھے کھ نفس کی وحدت شخصی ھے ، بدن تبدیل ھوتا ھے ( یعنی اس کے خلیّے ختم ھوکر نئے ھوتے ھیں) لیکن ان سب تغیرات میں ایک ثابت امر موجود ھے جس کا نام نفس ھے۔ اور یھ نفس ماده کی تغییرات سے متغیر نھیں ھوتا۔ پس وه ماده سے مجرد ھے۔[9]

البتھ بعض لوگ اس نظریے کے مخالف ھیں اور وه روح کو مادی جانتے ھیں اور مغز کو اس سے ایک ھی جانتے ھیں ، لیکن ان کی دلیلیں مغز کے خلیوں کے آپسی رابطے کو ثابت کرتی ھیں ، نھ کھ مغز کلی ادراک کو انجام دے سکتا ھے۔

پس روح کی بقاء کے مسئلھ کا روح کے تجرد اور استقلال کے ساتھه ایک نزدیکی  رابطھ ھے، کیوں کھ اگر مجرد ھوگا تو وه موت کے بعد باقی ره سکتا ھے،

ھاں، مجردات کا فنا ناپذیر ھونا فلسفیانه مباحث میں سے ھے ، جس کے بارے میں اطلاع حاصل کرنے کے لئے ھمیں فلسفه کی کتابوں کی جانب رجوع کرنا ھوگا۔


مزید  نئے سونے (زیورات) کے پرانے سونے سے تبادله کر نے میں ، پرانے سونے کی تهوڑی بیشتر مقدار حاصل کر نا جائز نه هونے کی وجه کیا هے؟

[1]  برزخ کا عالم شخصی ھے ، اور ھر آدمی مرنے کے بعد برزخ میں جاتا ھے، اور قیامت کبری ، جمع سے متعلق ھے ، یعنی جب عالم کے سب افراد ایک مرتبھ محشور ھوجائیں گے، ، رجوع کریں ۔ جھان بینی ، شھید مطھری، بحث معاد، ص ۳۱۔

[2]  مکارم شیرازی ، پیام قرآن ، بحث معاد، ج ۵، ص ۵۸۔

[3]  ادخلوھا بسلام ذلک یوم الخلود، سوره ق / ۳۴۔

[4]  سوره بقره / ۸۱۔

[5]  سوره بقری / ۸۲۔

[6]  و روی مسلم فی الصحیح بالاسناد عن ابی سعید الخدری ، قال: قال رسول اللھ صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم اذا دخل الجنۃ الجنۃ و اھل النا النار قیل یا اھل الجنۃ فیشرفون و ینظروں و قیل یا اھل النار فیشوفوں و ینظرون فیجاء بالموت کانھ کبش املح فیقال لھم تعرفون الموت فیقولون ھو ھذا و کل قد عرفھ قال فیقدم و یذبح ثم یقال یا اھل الجنۃ خلود فلاموت و یا اھل النار خلود فلا موت قال و ذلک قولھ و انذرھم یوم الحسرۃ الایۃ ، بحار الانوا ، ج ۸ س ۳۴۴، اور ۳۴۵۔

[7]  البتھ اس کے معنی یھ نھیں ھیں کھ جب جھنم میں جائیں گے تو ھمیشھ وھاں پر رھیں گے ، بلکھ جھنم میں ھمیشھ رھنا بعض کے لئے مخصوص ھے۔

[8] علامھ شعرانی، ترجھ شرح الاعتقاد، ص ۳۴۲۔ تا ۳۶۲۔

[9]   آیۃ اللھ مکارم شیرازی، پیام قرآن ، بحث معاد ج ۵۔ ص ۳۷۸۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.