چونکه مسجد الاقصی، عمر کے زمانه میں آزاد هوئی هے، اور اس کے بعد دوباره ایک سنی رهبر کے زمانه میں آزاد هوئی هے، شیعوں نے پوری تاریخ میں کونسا کارنامه انجام دیا هے؟

0 0

چونکه سوال کرنے والے نے زمانه سلف و خلف کے دو افراد٬ یعنی سلف میں سے عمر اور خلف میں سے صلاح الدین ایوبی کے نام لئے هیں ـ

اس لئے جواب کو سوال کے هم آهنگ کرنے کے لئے، هم بھی زمانه سلف و خلف میں شیعوں کے جهاد کے بارے میں اشاره کرتے هیں ـ زمانه سلف کے بارے میں صرف اتنا کهنا کافی هےکه رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کے زمانه میں اکثر اوقات٬ جهاد حضرت علی علیه السلام کےدوش پر تھا اور حدیث “لا فتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار” ان کے بارے میں هے ـ جنگ خندق میں، جس دن رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کی فرمائش کے مطابق: “تمام اسلام یا تمام ایمان، تمام کفر کے مقابلے میں قرار پایا تھا”[1] علی بن ابیطالب (ع) نے اسلام کے دفاع میں، نامور عرب بهادر، عمروبن عبدود کو قتل کرکے جب شجاعت کے جوهر دکھائے تو پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: “لمبارزۃ علی لعمروبن عبدود (یوم الخندق) افضل من عبادۃ الثقلین، اوافضل من اعمال امتی الی یوم القیامۃ” [2] چنانچه آپ مشاهده کررهے هیں که اسلام کے دفاع میں علی بن ابیطالب (ع) کا صرف ایک عمل پیغمبر (ص) کی پوری امت کے قیامت تک کے تمام اعمال سےافضل هے ـ خلفا اور ان کے پیروں کی فتوحات اپنی جگه پر حائز اهمیت هیں ـ فتح خیبر میں، پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے حضرت علی علیه السلام کے بارے میں فرمایا: “کرار غیر فرار” “وه مسلسل حمله کرتا هے اور فرار نهیں کرتا هے “ـ کیونکه حضرت علی علیه السلام سے پهلے جو دو آدمی عمروبن عبدود سے لڑنے کے لئے گئے تھے وه میدان سے بھاگ کر آئے تھے ـ

حضرت علی (ع) نے مشرکین سے جهاد کرنے کے علاوه، مزید تین گروهوں سے بھی جهاد کیا هے، یعنی: عهد شکنوں، ظالموں اور نافرمانی کرنے والے باعیوں سے ـ ان تین گروهوں سے جنگ کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی حدیث میں آیا هے ـ

یه شیعوں کے ائمه کے کار ناموں کی ایک جھلک تھی ـ لیکن خود شیعوں کے بارے میں اس امر کی طرف اشاره کرنا کافی هے که فتوحات میں شیعیان علی (ع) نے مکمل طور پر شرکت کی هے حمدان اور کنده وغیره قبیلوں سے تعلق رکھنے والے یمنی سب شیعیان علی (ع) تھے، یهی سبب هوا که ان میں سے ایک گروه نے یمن سے هجرت کی اور ساکن عراق هوئے تاکه اسلامی فتوعات میں شرکت کریں ـ

شام، دیار بکر اور ایشیائے صغیر کا فاتح پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کا میزبان ابوایوب انصاری، علی(ع) کے مخلص شیعه تھے اور اس وقت بھی ان کی قبر اسلامبول میں زیارت گاه بنی هے ـ محمد بن ابی بکر جو حضرت علی (ع) کے معنوی فرزند تھے، جو حضرت (ع) کے حکم سے، اسلام کو وسعت بخشنے کے لئے مصر چلے گئے اور شهادت پر فائز هوئے اور ان کے بعد مالک اشتر، ماموریت کو جاری رکھنے کے لئے مصر اعزام هوئے، که افسوس، معاویه کی ریشه دوانی کے نتیجه میں انھیں نصف راه میں زهر دیکر شهید کیا گیا اور اس وقت ان کی قبر مسلمانوں زیارت گاه هے ـ

خلفاء کے زمانے میں، شیعه و سنی کے درمیان فاصله آج جیسا نهیں تھا، بلکه اختلاف نظر رکھنے کے باوجود فتوحات میں سب شرکت کرتے تھے ـ

یه تھا زمانه سلف کے بارے میں، لیکن زمانه خلف کے بارے میں کافی هے که هم جان لیں که مرابطه (سرحدی حفاظت)، جو مسلمانوں کی بڑی ذمه داریوں میں سے ایک هے، غالباً شیعه حکومتوں کے توسط سے انجام پائی هے ـ

حمدانیوں نے شام میں، فاطمیوں نے شمال افریقه میں اور علویوں نے طبرستان، دیلمان، اور گیلان میں اسلام کی سرحدی محافظت کا کام انجام دیا هے ـ ھندوستان میں شیعه حکومتوں کابت پرستوں سے مبارزه اور اسلامی حکومت تشکیل دینے کی داستان مفصل هے اور هندوستان میں اکبر آباد شیعوں کی حکومتوں کا مرکز تھا ـ

جو لوگ دینا میں شیعوں کے فوجی جهاد سے آگاه هونا چاهتے هیں وه اس سلسله میں محترمه ڈاکٹر “سمیره مختار اللیشی” کی کتاب “جهاد الشیعھ” طبع دار الجبیل کا مطالعه کرسکتے هیں ـ

جنوب ایران میں، پرتغالیوں کے ساتھـ صفیوں کی جنگ اور ایران کے شمال اور جنوب میں ایرانیوں کی روس اور برطانیه سے جنگ، شیعوں کے کفار سے جنگ کی تاریخ کے زرین صفحات هیں ـ جب پرتغالیوں نے بندر عباس پر قبضه کیا اور اس کا نام “بندر گمبرون” رکھا تو شاه عباس صفوی نے شیعوں کے ایمان کی طاقت سے اس کو آزاد کرکے اس کا نام “بندر عباس” رکھا ـ هندوستان کے بت پرستوں کے ساتھـ نادرشاه کا جهاد بت پرستوں کے ساتھـ اسلامی جهاد کی تاریخ کا سنهرا باب هے ـ

عصر جدید یعنی چودھویں صدی هجری قمری میں جب برطانیه نے عراق پر قبضه کیا، شیعه مرجعیت نے آیت الله محمد تقی شیرازی کی رهبری میں، سنه 1920 عیسوی میں “ثورۃ العشرین” نامی انقلاب بر پاکر کے اس اسلامی سرزمین کو برطانیه کے ظالم پنجوں سے چھین کر آزاد کیا ـ

حالیه چند برسوں کے دوران اسرائل پر سب سے بڑی کاری ضرب لبنان کے شیعوں نے لگادی اور لبنان کی اسلامی مقاومت نے چند مرحلوں میں اسرایئل کو خفت بارپسپائی پر مجبور کیا، جو لبنان کے دارالخلافه بیروت تک آگے بڑھے تھے ـ یه شیعیان لبنان کا ایسا کار نامه تھا جو موجوده تمام عربی مالک مجموعی طور پر انجام نهیں دے سکے هیں ـ اسکے علاوه ایران کے شیعوں نے امام خمینی (رح) کی قیادت میں ایران میں اسلامی انقلاب برپا کرکے، مغربی سامراجی ملکوں کو اس ملک سے نکال باهر کیا ـ اور آج ایران کی قوم اور حکومت، مشرق و سطی میں، بلکه پوری دنیا میں مغربی استعمار کے خلاف مبارزه کا پر چم اپنے هاتھوں میں لئے هوئی هے اور اس وقت تک کئی ممالک نے اس مبارزه اور جهاد میں ایران کی قوم سے سبق حاصل کر لیا هے ان میں لبنان، فلسطین، عراق، سوڈان وغیره قابل ذکر هیں ـ

هم نے یهاں پر شیعوں کے فوجی جهاد کے بارے میں ایک خلاصه کی طرف اشاره کیا، لیکن حقیقت یه هے که اس سوال کو پیش کرنے والوں نے خیال کیا هے که جهاد صرف فوجی لحاظ سے هوتا هے اور علمی اور ثقافتی جهاد کی عظمت سے غفلت کی هےـ

اگر قلمی اور ثقافتی جهاد نه هوتا، تو هرگز جاں نثار مجاهدین میدان کارزار میں جاں نثاری کے کارنامے نهیں دکھاتے ـ

ائمه اهل بیت (ع) نے رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم سے نقل کیا هے که آنحضرت (ص) نے فرمایا: “تین چیزیں پردوں کو چاک کرکے درگاه الٰهی میں پهنچتی هیں: 1ـ دانشوروں کے قلم کی آواز 2ـ مجاهدین کے پاوں کی آواز 3ـ باتقوی عورتوں کی کتائی کی آواز”[3]

مزید فرمایا: “سب سے بڑا جهاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کهنا هے ـ”[4]

شیعوں کے معصوم ائمه (علیهم السلام) جنھوں نے ظالموں کی تلواروں یا ستمگروں کے ستم سے جام شهادت نوش کیا هے، وه اسی حق بات کهنے کی وجه سے تھا که انهوں نے ظالم حکمرانوں کے سامنے کهی هے، جبکه گنے چنے افراد کے علاوه که جو قابل شمار نهیں هیں دوسرے لوگ اموی اور عباسی خلفاء سے سازباز کرتے تھے اور ان سے تعاون کرتے تھے ـ

انسان خیال کرتا هے که میدان جهاد، صرف فوجیوں سے مربوط هے، لیکن تاریخ اس کے برعکس گواهی دیتی هے ـ شیعه علما اور دانشوں نے ثقافتی جهاد اور خالص اسلام محمدی (ص) کی نشر واشاعت کی وجه سے ظالم حکمرانوں کے ذریعه جام شهادت نوش کیا هے یا تلوار کے ذریعه قتل کئے گئے هیں اور یا انھیں پھانسی پر لٹکا یا گیا هے یا ان کے بدن جلائے گئے هیں ـ[5]

شیعه و سنی دانشوار اس بات کا اعتراف کرتے هیں که تقریباً قریب به اتفاق اسلامی علوم و دانش کی بیناد شیعه اماموں (ع) اور ان کے پیروں نے ڈالی هے اور دوسری صدی سے پانچویں صدی هجری تک اسلامی تهذیب و تمدن کی اشاعت شیعوں کے اماموں اور ان کے شاگردوں کی کوششوں کا نتیجه تھا ـ

فریقین کے دانشوروں کا اتفاق هے که علوم میں ایک علم علم نحو هے جو ائمه اهل بیت اطهار (ع) کے توسط سے ایجاد کیا گیا هے ـ اس علم کے بنیادی اصول حضرت علی بن ابیطالب (ع) نے ایجاد کئے هیں تاکه مسلمان اس کی روشنی میں، قرآن مجید اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی احادیث اور دوسری عربی کتابوں کو صیحح پڑھ سکیںـ اس علم کی فروعات کو حضرت علی (ع) نے اپنے شاگرد ابوالاسود دوئلی کے سپرد کیا تا که علم نحو کے جزئیات کو حضرت (ع) کے زیر نظر تدوین کریں ـ اس نے ایسا هی کیا اور اس کے بعد علم نحو سے استفاده کرکے٬ پهلی بار قرآن مجید کی اعراب گزاری کی گئی ـ ایک صدی کے بعد شیعیان علی (ع) میں سے خلیل بن احمد فراھیدی نام کے ایک شخص٬ نے قرآن مجید کی اعراب گزاری کو مکمل کیا اور اسے موجوده صورت میں پیش کیا٬ خلیل بن فراھیدی بذات خود بعض اسلامی علوم کے موجد هیں ـ

اس بناپر تمام مسلمان٬ من جلمه شیعه و سنی٬ صدر اسلام سے آج تک٬ قرآن مجید کو حضرت علی بن ابیطالب (ع) کے شاگردوں کے توسط سے اعراب گزاری کی روشنی میں صحیح تلاوت کرسکتے هیں ٬ یه امیرالمومنین حضرت علی (ع) اور ان کے شاگردوں کی محنتوں کے مرهون منت هیں ـ

بهر حال شیعوں کے لئے فخر و مباهات کا مقام هے که انهوں نے اپنے قلمی اور ثقافتی جهاد سے٬ خالص اسلام محمدی (ص) ــ جو اهل بیت (ع) کی تعلیمات میں جلوه گر هے ــ کو دنیا والوں کے سامنے معرفی کیا هے ـ [6]

اس کے علاوه اگر افراد کی شخصیت اور برتری ان کی حکومت کی جغرافیائی وسعت پر منحصر هے٬ تو پهلے دو خلیفے پیغمبر (ص) پر بھی برتری رکھتے هیں٬ کیونکه پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے مین جو قدرت اسلام نے پیدا کی وه اس سے کم تر تھی٬ جو پهلے دو خلیفوں کے زمانه میں حاصل هوئی ـ

اگر حقیقت میں معیار وهی حکومت کی جغرافیائی وسعت هے٬ تو هارون رشید کے زمانه میں٬ یه جغرافیائی وسعت دوسرے زمانوں کی به نسبت زیاده حاصل هوئی هے٬ اس لئے هارون رشید کو سب سے برتر٬ حتی پیغمبر (ص) اور خلفا سے بھی برتر هونا چاهئے !

ایک اور اهم اور حساس نکته یه هے که اسلام کے قلمرو کی وسعت کا سبب ان دو خلیفوں کی خلافت نهیں تھی٬ بلکه یه اسلام کی حیات بخش تعلیمات تھیں که دل انھیں قبول کرتے تھے اور لوگ ظالم حکومتوں سے تنگ آچکے تھے ـ

“لا اله الا الله” کی آواز٬ انسانوں کے درمیاں عدل و انصاف قائم کرنے کے نصب العین کے همراه٬ ایک کوشش تھی٬ جس نے قوموں کو اسلام کی طرف متوجه کیاـ اس کے علاوه اسلام کے لائے هوئے جهاد و شهادت کی ثقافت کو اسلام کے پھیلنے کے عامل کی حیثیت سے چشم پوشی نهیں کرنی چاهئے ـ

اس کے علاوه حضرت علی (ع) کی خلافت کے دوران٬ اختلاف و افتراق اور دوگانگی٬ گزشته خلفا کی حکومت کے طریقه کار کا نتیجه تھا٬ خاص کر تیسرے خلیفه کی خلافت کے دوران عدالت خواهی اور انسان دوستی٬ مال و دولت جمع کرنے اور تعصب قبیله میں تبدیل هوچکی تھی اور امام علی (ع) چاهتے تھے اس دنیا طلب اور زرپرست قوم کو رسول خدا (ص) کے دوران کی طرف پلٹا دیں ـ دنیا پرستوں نے اس حکومت کی مخالفت کی اور علی (ع) کے ساتھـ جنگ کرنے کے لئے پهلے سے جمع کئے هوئے مال و دولت کی طاقت سے ایک فوج ترتیب دی٬ اور امام علی (ع) نے بھی پیغمبر (ص) کے فرمان اور قرآن مجید کی صریح آیات کے مطابق ان سے جنگ کی ـ [7]

اس بناپر اختلافات کی علت حضرت علی (ع) کی حکومت نهیں تھی بلکه گزشته حکومتوں کی ناصحیح تربیتیں تھیں که وه لوگ عدل الهی پر مبنی حکومت کو قبول کرنے کے لئے تیار نهیں تھے ـ[8]


مزید  کثیر السفر انسان جسے پوری نماز پڑھنی هے اگر اپنی کام کی جگه کے علاوه سفر کرے ، یا اپنے کام کی جگه کسی دوسرے کام سے سفر کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم هے ؟

[1] کشف الغمه، ج 1، ص 205؛ ینابیع المودة، ص 94 و 95؛ اعلام الودی، ص 194؛ شرح نهج البلاغه؛ ابن ابی الحدید، ج 13، ص 261، 285 و ج 19، ص 61؛ مجمع البیان، طبرسی، ج 8، ص 343

[2]  مستدرک حاکم، ج 3، ص 32؛ مناقب خوارزمی، ص 58؛ شرح المواقف، ج 8، ص 371؛ فرائد المسطین، ج 1، ص 256؛ تاریخ بغداد، ج 13، ص 19؛ شواهد التنزیل، ج 2، ص 14؛ تفسیر کبیر، فخر رازی، ج 32، ص 31؛ شرح المقاصد، تفتازانی، ج 5، ص 298؛ مجمع البیان، ج 8، ص 343.

[3]  الشهاب فی الحکم و الآداب، ص 22، به نقل از طبری، محمد، پاسخ جوان شیعی، ص 134.:” ثلاثة تخرق الحجب و تنتهی إلی ما بین یدی الله، صریر أقلام العلماء و وطء أقدام المجاهدین، و صوت مغازل المحصنات”

[4]  عوالی‏اللآلی ج : 1 ص : 432 حدیث 131،- قال رسول الله ص أفضل الجهاد کلمة حق عند سلطان جائر

[5]  امینی، شهداء الفضیلة، به نقل از طبری، محمد، پاسخ جوان شیعی، ص 135.

[6]  طبری، محمد، پاسخ جوان شیعی، ص 131- 135.

[7]  صحیح ابن حبان، ج 15، ص 285، حدیث 6937؛ مستدرک حاکم، ج 3، ص 122؛ مسند احمد، ج 17، ص360، حدیث 11258، به نقل از طبری، محمد، پاسخ جوان شیعی، ص 106-107.

[8]  طبری، محمد، پاسخ جوان شیعی، ص 105-107.

تبصرے
Loading...