چونکه خداوند متعال فیاض مطلق هے، پس کیوں انسان پهلے سے هی بهشت میں پیدا نهیں کئے گئے هیں؟

0 0

180x480 Banner

انسانوں اور تمام مخلوقات کی تخلیق ایک خاص مقصد کے تحت انجام پائی هے ـ پروردگار عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا هے : “خلق الله السموات والارض بالحق”[1] “الله نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھـ پیدا کیا هے “ـ پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق خداوند متعال کی ذات حق سے منسوب هے، ایک بیهوده اور فضول کام نهیں هے ـ

خداوند متعال قرآن مجید میں انسان کی خلقت کے مقصد کو صریح طور پر عبادت معرفی کرتے هوئے ارشاد فرماتا هے : “اور میں نے جنات اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا هے ـ (تاکه اس راه سے کمال حاصل کرکے میرے نیزدیک آیئں)”[2]

عبادت کے معنی:

عربی زبان میں، جب کوئی چیز رام، نرم مطیع هوجاتی هے، اس طرح که اس میں کسی قسم کا عصیان اور نافرمانی نه پائی جاتی هو، تو اس حالت کو “تعبد” کهتے هیں ـ اس لئے هموار راسته کو “طریق معبد” کها جاتا هے ـ[3] اور عابد انسان، اس کو کهتے هیں جو خداوند متعال کا تسلیم و مطیع هوتا هے اور کسی قسم کی نافرمانی و عصیان نهیں کرتا هے ـ

عبادت اور تسلیم هونا اس صورت میں معنی رکھتا هے که انسان کے لئے نافرمانی اور بغاوت کی کوئی گنجائش نه هوـ یعنی انسان نافرمانی اور اطاعت میں سے ایک کا انتخاب کرے ـ دوسرے الفاظ میں، دوسری مخلوقات کی به نسبت انسان کا امتیاز، اراده اور انتخاب کرنے کا اختیار هے اور خداوند متعال نے انسان کے اندر متعدد اور محتلف تونایئاں قرار دی هیں اور انسان کے کمال کی راه انهی مختلف توانائیوں میں سے گذرتی هے ـ

امیرالمومنین حضرت علی علیه السلام فرماتے هیں: “خداوند متعال نے فرشتوں کو شهوت کے بغیر عقل دی هے جو پاوں کو عقل کے بغیر شهوت دی هے، اور انسان کو دونوں چیزیں عطا کی هیں، جو انسان شهوت پر عقل کا علبه حاصل کرے، وه فرشتوں سے بهتر هے اور جس کی عقل پر شهوت غلبه کرے وه چوپاوں سے بدتر هے ـ”[4]

اور ایک نکته یه هے که بهشت و جهنم انسان کے اختیاری اعمال کا نتیجه هے ـ قرآن مجید میں ارشاد الهٰی هے: “پیغمبر : آپ ان سے پوچھئے که یه عذاب زیاده بهتر هے یا وه همیشگی کی جنت جس کا صاحبان تقوی سے وعده کیا گیا هے اور وهی ان کی جزا بھی هے اور ان کا ٹھکا نا بھی”ـ[5] مزید ارشاد هے: “اور انھیں ان کے صبر کے عوض جنت اور حریر جنت عطا کرے گا ـ”[6] پس بهشت، جو راه کی آخری منزل هے، دنیا اور اس میں عمل صالح انجام دینے کے بغیر حاصل نهیں هوتی هے ـ

اور یه خداوند متعال کے فیض مطلق کے منافی نهیں هے، چونکه خداوند متعال کا فیض حکمت الهٰی کی بنیاد پر جاری هوتا هے نه یه که خدا کی حکمت کے منافی هو، انسان کو صفات الٰهی ، میں سے صرف ایک صفت پر توجه کرکے دوسری صفات سے چشم پوشی نهیں کرنی چاهئے ـ


مزید  زیارت عاشورا میں کیوں پهلے سو بار لعنت اور پھر سو بار سلام آیا هے؟

[1] سوره عنکبوت، 44.

[2]  وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِ”. سوره ذاریات، 56.

[3]  مفردات راغب.

[4] 4 آسمان و جهان، ترجمه کتاب السماء و العالم بحارالانوار، ج ‏4، ص 273 . الْعِلَلُ، عَنْ أَبِیهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَى عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الصَّادِقَ ع فَقُلْتُ الْمَلَائِکَةُ أَفْضَلُ أَمْ بَنُو آدَمَ فَقَالَ قَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ع إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ رَکَّبَ فِی الْمَلَائِکَةِ عَقْلًا بِلَا شَهْوَةٍ وَ رَکَّبَ فِی الْبَهَائِمِ شَهْوَةً بِلَا عَقْلٍ وَ رَکَّبَ فِی بَنِی آدَمَ کِلْتَیْهِمَا فَمَنْ غَلَبَ عَقْلُهُ شَهْوَتَهُ فَهُوَ خَیْرٌ مِنَ الْمَلَائِکَةِ وَ مَنْ غَلَبَ شَهْوَتُهُ عَقْلَهُ فَهُوَ شَرٌّ مِنَ الْبَهَائِمِ

[5]   قُلْ أَ ذلِکَ خَیْرٌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتی وُعِدَ الْمُتَّقُونَ کانَتْ لَهُمْ جَزاءً وَ مَصیرا”ً. سوره فرقان، 15.

[6]  وَ جَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَ حَریراً”. سوره انسان، 12.

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...