مهدویت کے مسئله میں شیعه اور سنی کے در میان کون کون سی باتیں میں فرق اور اشتراک هے

0 0

مسلمانوں کے درمیان مسئله مهدویت اور مهدی منتظر(عج) کے عقیده کی بڑی اهمیت هے اور یه بات صرف شیعوں هی سے مخصوص نهیں هے بلکه اس موضوع کے بارے میں عام طور سے تمام اهل سنت ، شیعوں کے موافق هیں ۔ وه لوگ حضرت مهدی ؑ کے بارے میں بهت زیاده روایات نقل کرتے هیں اور یه روایات ، تواتر معنوی تک پهنچی هوئی هیں ۔ حضرت امام مهدی (عج) کے بارے میں اهل سنت کی جو احادیث ، تواتر معنوی کی حد تک هیں وه سو(100 ) سے زیاده هیں اور اس تمام احادیث میں حضرت مهدی (عج) کے ظهور کی طرف اشاره کیا گیا هے ان لوگوں نے یه اعتراف کیاهے که 20 سے زیاده صحابیوں نے حضرت مهدی (عج) کے بارے میں جناب رسول خدا (صل الله علیه و آله وسلم) کی زبان مبارک سے ان روایات کو نقل کیا هے یه تمام روایات ، اسلام کے مشهور منابع اور حدیث کے اصلی متن میں موجود هیں ان کے نام یه هیں : سنن ، معاجم ، مسانید جیسے : سنن ابو داؤد ، سنن ترمذی ، ابن ماجه ، مسند احمد ، صحیح حاکم ، بزاز ،معجم طبرانی ۔

اهل سنت کی کتابوں اور ان کے بیانات سے یه نتیجه نکالا جا سکتا هے که حضرت مهدی (عج) حضرت فاطمه ؑ کی اولاد سے هیں اور وه ظهور کریں گے ۔

ظهور کے متعلق اهل سنت کے علما نے اپنا نظر اس طرح ظاهر کیا هے :

زمانه که آخری مصلح کے ظهور کے بارے میں پهلی صدی هجری اور اس کے بعد سے آج تک اصحاب اور تابعین کے در میان کوئی اختلاف نه تھا اور (اهل سنت ) کے تمام علماء آپ کے ظهور پر اتفاق رکھتے هیں ، اگر کوئی شخص ان احادیث کے صحیح هونے اور آنحضرت (صل الله علیه و آله وسلم) سے اس بشارت کے صادر هونے میں شک کرتا تھا تو لوگ کهتے تھے که اس کا عقیده و خیال غلط اور یه بے خبر هے ، اس لئے اب تک کسی نے حضرت مهدی (عج) کے ظهور کا انکار نهیں کیا هے ۔

سویدی اس کے بارے میں کهتے هیں : جو بات پر سب کا اتفاق هے وه یه هے که حضرت مهدی (عج) وه هیں جو آخری زمانه میں قیام فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے [1] ۔

اهل سنت کے ایک دوسرے عالم خیر الدین آلوسی کهتےهیں : اکثر علماء کے نزدیک سب سے زیاده صحیح قول یه هے که حضرت مهدی (عج) کا ظهور ، قیامت کی ایک نشانی هے اور بعض اهل سنت نے جو آپ کے ظهور کا انکار کیا هے ان کے قول کا کوئی اعتبار نهیں هے [2] ۔

اهل سنت علماء نے آپ کے ظهور کے بارے میں بهت سی کتابیں لکھیهیں چنانچه شیخ محمد ایروانی کتاب الامام المهدی میں لکھتے هیں : حضرت امام مهدی (عج) سے متعلق جو روایات هیں اور یه هیں که آخری زمانه میں مهدی نام کا ایک شخص ظهور کرے گا اس کے بارے میں اهل سنت نے بهت سی کتابیں لکھی هیں جهاں تک مجھے اطلاع هے اهل سنت نے اس بارے میں تیس (30 ) سے زیاده کتابیں لکھی هیں [3] ۔

اگر چه اس مسئله میں اهل سنت اور شیعه کا اتفاق هے لیکن اهل سنت کے حرف چند گنے چنے افراد امام مهدی(عج) سے مربوط احادیث کو ضعیف سمجھتے هیں مثلاً ابن خلدون اپنی تاریخ میں ان احادیث کو ضعیف شمار کرتے هیں [4] ۔

نیز تفسیر المنار کے مؤلف رشید رضا سوره توبه کی آیت نمبر 32 کے ذیل میں اشاره کر تے هیں که احادیث مهدویت ضعیف هیں [5] ۔ البته ان دونوں نے اپنے دعویٰ پر کوئی دلیل نهیں پیش کی هے صرف کچھ سست اور کمزور مطالب په بھروسه کی اهے جب که اهل سنت هی کے دوسرے علماء نے ان دونوں کی باتوں کو بڑی شدت کے ساتھ رد کیا هے ۔ شیعه علماء نے بھی اپنی کتابوں میں ان دونوں کو جواب دیا هے ، خود ابن خلدون حضرت امام مهدی (عج) کے بارے میں مسلمانوں کے عقیده کو بیان کرتے هوئے لکھتے هیں : اهل اسلام کے در میان مشهور یه هے که آخری زمانه میں یقینی طور پر اهل بیت میں سے ایک شخص ظهور کرے گا جو دین کی حمایت کرت گا اور عدالت کو ظاهر کرے گا ، سارے مسلمان اس کی پیروی کریں گے وه سارے اسلامی ممالک پر غلبه حاصل کرے گا اور اس کا نام مهدی هوگا [6]۔

بنابرایں موصوف نے جو مذکوره احادیث کو ضعیف بتایا هے اس سے اهل سنت کے اس نظریه پر کوئی خد شه نهیں هے جو انھوں نے حضرت مهدی(عج) کے ظهور کے بارے میں اتفاق کیا هے کیونکه یه عقیده ان احادیث کی کثرت کے پیش نظر هے جو اهل سنت سے منقول هیں ۔

اس طرح کی احادیث کو جن لوگوں نے اپنی کتابوں میں نقل کیا هے هم ذیل میں ان کے نام ذکر کر رهے هیں یه دعویٰ کیا جا سکتا هے که اهل سنت کی حدیث کی تمام معتبر کتابوں میں کم سے کم کئی حدیثیں حضرت امام مهدی (عج) کے بارے میں هیں :

1 – ابن سعد( متوفیٰ 230 ھ)  2- ابن شیبه (متوفیٰ 235 ھ) 3- احمد ابن حنبل (متوفیٰ 241 ھ) 4- بخاری (متوفیٰ 273 ھ )  5- مسلم (متوفیٰ 261 ھ)  6- ابن ماجه (متوفیٰ 273 ھ ) 7- ابو بکر اسکافی (متوفیٰ 273 ھ) 8-ترمذی (متوفیٰ 279 ھ ) 9- طبری (متوفیٰ 380 ھ )  10- ابن قتیبه دینوری(متوفیٰ 276 ھ) 11 – حاکم نیشابوری (متوفیٰ 405 ھ)  12- بیهقی (متوفیٰ 458 ھ)  13- خطیب بغدادی (متوفیٰ 463 ھ ) 14- ابن اثیر جزری (متوفیٰ 606ھ)[7] ۔

اهل سنت کے ایک دوسرے عالم لکھتے هیں : حضرت مهدی (عج) کے بارے میں اتنی زیاده روایات وارد هیں که وه تواتر کی حد میں هیں یه بات اهل سنت کے علماء کے در میان بالکل عام هے وه بھی اس طرح که ان کا عقیده شمار هوتی هے ۔ نیز ایک دوسرے سنی عالم نے لکھ اهے : امام مهدی (عج) سے متعلق جو احادیث هیں وه متعدد طریقوں سے صحابه سے اور ان کے بعد تابعین سے منقول هیں ۔ ان ساری احادیث سے قطعی طور پر علم حاصل هوتا هے اسی لئے حضرت مهدی (عج) کے ظهور پر ایمان رکھنا واجب هے جیسا که یه وجوب ، اهل علم کے نزدیک ثابت تھا اور اهل سنت و جماعت کے عقائد میں مدون هے [8]

ابن اثیر بھی البدایه و النهایه میں کهتے هیں : حضرت مهدی (عج) آخری زمانه میں آئیں گے اور وه زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وه ظلم و جور سے بھری هوئی هوگی ۔ هم نے حضرت مهدی (عج) سے متعلق تمام احادیث کو ایک علیٰحده کتاب میں جمع کیا هے جیسا که ابو داؤد نے اپنی سنن میں ایک کتاب (حصه) کو اس سے مخصوص کیا هے [9] ۔

اهل سنت کے جن بزرگوں کی باتیں بیان کی گئیں ان سے اندازه هوتا هے که مهدویت کا مسئله اور حضرت مهدی (عج) کے ظهور پر عقیده رکھنا اهل سنت و جماعت کے ثابت و محکم عقیده کا ایک جزء هے اور حضرت کے ظهور سے متعلق کو احادیث هیں وه ان کے در میان تواتر کی حد میں هیں ۔

جو مطالب بیان کئے گئے ان کو پیش نظر رکھتے هوئے هم اس نتیجه پر پهنچیں گے که مهدویت کے مسئله میں اهل سنت اور شیعه کے درمیان بهت سی چیزیں مشترک هیں یهاں پر ان مشترکات کی طرف اشاره کیا جا رهاهے جو شیعه اور سنی دونوں مذهبوں کے درمیان هیں :

1-     حضرت مهدی (عج) کا ظهور و قیام بالکل یقینی هے ۔

2-     حضرت مهدی (عج) کا حسب و نسب

شیعه کی نظر میں حضرت مهدی (عج) کا حسب و نسب بالکل مشخص هے لیکن اهل سنت نے کچھ معین موارد کی طرف اشاره کیا هے ۔

1-2 ۔ حضرت مهدی (عج) جناب رسول خدا ( صل الله علیه وآله و

مزید  خاتمیت کا ایک مطلب اور لازمه پیغمبراکرم{ص} کے ذریعه تشریع اور الهٰی قانون سازیه کا اختتام تک پهنچنا هے که پیغمبری کے اختتام تک پهنچنے کے بعد آسمانی دروازے بند هوگئے هیں اور اب شریعت کے سلسله میں کوئی حکم یا نسخ و وضع کے احکام صادر نهیں هوں گے۔ قانون سازیه میں دین کے، تکمیل اور کمال تک پهنچنے کے پیش نظر اگر ختم نبوت کے بعد هم قانون سازیه کے قائل هو جائیں، تو یه اعتقاد خاتمیت کے موافق نهیں هوگا اور اس کا لازمه یه هوگا که پیغمبر{ص} کے زمانه میں دین مکمل نهیں هوا هے بلکه آپ {ص} کی رحلت کے بعد مکمل هوا هے۔ اس نظریه کا قائل کهتا هے که: " یه کیسے ممکن هے که خاتم الانبیاء {ص} کے بعد کچھ لوگ پیدا هوں اور وحی و شهود کی بنیا دپر بات کهیں که جس کی کوئی دلیل قرآن اور سنت نبوی میں نه ملتی هو، اور وه وحی نبوی کے مقام پر بیٹھ کر تعلیم، تشریع، وجوب و حرام کے احکام صادر کریں اور پیغمبر{ص} کی عصمت و حجیت کے مالک هونے کا دعوی کریں اور پھر بھی خاتمیت میں کوئی خلل پیدا نه هو ؟ وغیره تنقید کرنے والے کا اعتقاد هے که جو مقام شیعوں نے اپنے اماموں کے لیے مدنظر رکھا هے {آسمان سے براه راست رابطه، عصمت اور قول کی حجت} کے پیش نظر اماموں {ع} کو تشریعی مقام دیا جاتا هے اور وه پیغمبراکرم{ص} کے مانند ولایت تشریعی کے مالک هوتے هیں اور آپ{ص} کے هم پله هوتے هیں۔اس لحاظ سے وه بعض احکام اور دینی تعلیمات، کتاب و سنت میں موجود نه هونے کے باوجود وضع کر سکتے هین۔ اس لیے شیعه ائمه اطهار{ع} کی ولایت کا اعتقاد رکھنے کے پیش نظر خاتمیت کے مخالف هیں۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.