غیر مسلموں کے درمیان امام زمانه کا حاضر هونا ۔

0 0

اس سوال کے جواب میں هم جن دلائل کو ذکر کریں گے انکی روشنی میں جو لوگ بھی هدایت کے مستحق هیں (چاهے وه یهودی یا دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے انهیں جیسے دوسرے افراد کیوں نه هوں ) ان سبھی لئے امام کی نظر کرم اور آپکی محبت ثابت هو جائے گی۔

عقل و منطق کی نظر سے انسان کے کمال کے لئے جن مصلحتوں کو مد نظر رکھا گیا هے انهیں صرف خدائے متعال کے احکامات کی اطاعت کے ذریعه حاصل کرنا ممکن هے اور ان پر عمل صرف پیغمبروں اور ائمه علیھم السلام کی هدایت کے ذریعه هی ممکن هے لهذا اگر کسی بھی جگه کوئی ایسا انسا ن هو جسکو امام علیه السلام کی راهنمائی اور ان کی جانب سے هدایت کی ضرورت ، ان کی نظر خاص یا ان کے ظاهری وجود کے حاضر هونے کی ضرورت هو تو مصلحت کے مطابق یه ضرورت پوری هوگی اور وه کام هوگا جسکی هدایت کے محتاج انسان کو ضرورت هوگی ۔ اس لئے که خدائے متعال نے انسان کو بیهوده اور بے سبب پیدا نهیں کیا هے اور اس نے عقل و روح کو بے سود و بیکار نهیں بنایا هے ۔ اب اگر انسان کی مناسب رهبر کی جانب سے هدایت و راهنمائی نه هو اور وه گمراه هو جائے تو یه غرض خلقت کی مخالفت هوگئی ۔

وه خدا جس کے قبضه قدرت میں تمام امور و حوادث هیں اس نے آسمانی رهبروں کو ان کے لئے جتنی بھی توانائی کی ضرورت تھی کافی مقدار میں انهیں عطا کی تاکه وه سرگرداں اور بھٹکے هوئے انسانوں کی ضرورت کے مطابق مدد کر سکیں انهیں امید دیں اور راه مستقیم کی طرف ان کی هدایت کریں چاهے وه کسی بھی دین اور آئین کے ماننے والے هوں۔

مذکوره بالا بیان کو ثابت کرنے کے لئے بهت سی احادیث موجود هیں جن میں سے هم بعض کو بیان کرتے هیں :

1۔ انسان کے مقصد خلقت اور اس کی هدایت کی ضرورت کے بیان میں قرآن میں هے :

هم نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ۔[1]

2۔ هدایت اور هادیوں کا وجود تمام انسانوں کے لئے ضروری هے ،اس کی وضاحت کے لئے حسب ذیل روایات و احادیث ذکر کی جاتی هیں :هدایت اور هادیوں کا وجود تمام انسانوں کے لئے ضروری هےاور سب کو شامل هے یه امر کسی خاص گروه سے مخصوص نهیں هے خدا وند متعال فرماتا هے : ” یقیناً تم انذار کرنے والے ( ڈرانے والے ) هو اور هر قوم کے لئے ایک هادی کی ضرورت هے [2]

اس آیت کے مطابق چونکه انسان کی هدایت کلی قانون کے طور پر پیش کی گئی هے اس لئے تمام اقوام و ملل من جمله یهودی اور گنهگاروں کو بھی شامل هے البته هدایت کے ضمن میں نظر عنایت اور محبت بھی پائی جاتی هے ۔ ” کهه دو که یقینا خدا وند متعال کے پاس منزل تک پهونچانے والی دلیلیں اور حجتیں هیں“ [3]

هدایت کے سلسله میں اس آیه کریمه کے نص کے مطابق کسی بھی قوم، کسی بھی جگه اور زمانے کی کوئی خصوصیت نهیں هے بالکل واضح هے که خدائے متعال نے تمام جگهوں پر تمام لوگوں کے لئے رهنمائی کا کافی انتظام کیا هے۔

3۔ آسمانی رهبروں کی تمام اهل زمین ( یھود ، هندو، بے دین و) کے لئے نظر محبت کے بارے میں پائی جانے والی احادیث و روایات : آسمانی رهبروں کی اهل زمیں سے محبت کے بارے میں امام کی یه حدیث لائق توجه هے جس میں امام باقرعلیه السلام اس راوی کے جواب میں جو پیغمبر اور امام علیه السلام کی ضرورت اور علت کے بارے میں سوال کرتاهے اس طرح جواب دیتے هیں :” ان کے بغیر زمین پائدار نه رهے گی اهل زمین سے عذاب الهی کا دور هو جانا انهیں کے وجود کی برکت کی بنا پر هے ۔”پھر آپ نے اس آیه کریمه کا حواله دیا جس میں ارشاد هوتا هے : [و ما کان الله لیعذبھم و انت فیھم ] [4] اس کے بعد آپ نے پیغمبر اسلام (ص) کے قول کے بارے میں اشاره کیا اور فرمایا: ستارے اهل زمین کے لئے چین و اطمینان خاطر کا باعث هیں اور میرے اهلبیت علیھم السلام اهل زمین کے لئے امان کا سبب هیں انهیں کی وجه سے خدا اپنے بندوں کو روزی دیتا هے اور اهل معصیت کوانهیں کی وجه سے مهلت دیتا هے اور ان کے عذاب میں جلدی نهیں کرتا ۔ [5]

4۔ امام علیه السلام کوکائنات میں هر طرح کے تصرف کا اختیار حاصل هونے کے اثبات کے سلسله میں پائی جانے والی روایات:

امام علیه السلام کو پوری کائنات میں تصرف کا حق حاصل هے اور امام علیه السلام کو جب بھی ضرورت محسوس هو اورجب آپ مصلحت سمجھیں حاضر هو سکتے هیں ، امام حسین علیه السلام فرماتے هیں :خدا کی قسم خدا نے کچھ خلق نهیں کیا مگر اپنی تمام مخلوقات کو هماری اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا هے ۔[6]

امام باقر علیه السلام آیه مبارکه[و رحمتی وسعت کل شئی ] [7] میں [رحمت واسعه] سے مراد ”علم امام “ کو بیان کرتے هیں [8] جو که خود پوری کائنات میں امام کے علمی اور معنوی وجود و حضور پر دلیل هے ۔

اسی طرح آیه مبارکه [ و لله المثل الاعلی ][9] کی تفسیر میں پندره معتبر اور صحیح روایات موجود هیں جن میں ائمه معصومین علیھم السلام خدائے متعال کے علم اور اس کی قدرت کے مظهر کے طور پیش کئے گئے هیں[10]

امام صادق علیه السلام بھی ایک جگه فرماتے هیں : ” کیسے ممکن هے که امام ، اهل مشرق و مغرب پر حجت رکھتا هو لیکن انهیں نه دیکھ سکے اور ان پر قدرت نه رکھتا هو[11] ۔

حضرت ولی عصرعجل الله تعالی فرجه الشریف کی قدرت اور ان کے دائره اختیار کے سلسله میں جو کچھ بیان هوا اس سے آپ کی محبت کے ساتھ مشفقانه هدایت اور وقت ضرورت مصلحت کے پیش نظر آپ کا حاضر هونا ثابت هو جاتا هے ۔

منتخب الاثر کے مؤلف ( آیت الله صافی ) جنهوں نے امام مهدی علیه السلام کے سلسله میں خاصی تعداد میں آثار و اخبار کی جمع آوری کے ساتھ ان کے بارے میں تحقیق و جستجو کی هے آٹھ عدد ایسے اهم معجزوں کو نقل کرتے هیں جو امام علیه السلام کے کائنات میں تصرف اور دائره قدرت کو بیان کرتے هیں، ان کے نقل کرنے کے بعد آخر میں آپ فرماتے هیں : بحار الانوار اور دیگر کتب میں ایسی بهت سی حکایات نقل هوئی هیں جو یقینی طور پر تواتر کی حد سے بھی گزر چکی هیں اور ان روایات میں بهت سی ایسی بھی هیں جن کی اسناد صحت پر منتهی هیں اور ان میں شک کی گنجائش نهیں هے ۔ [12]

یه تمام چیزیں امام مهدی (عجل الله تعالی فرجه الشریف) کی کلی نگرانی اور انکے تمام امور ( حتی کفار، یهود و)پر احاطه کو ثابت کرتی هیں

البته امام علیه السلام کی عنایتیں اور آپ کی خاص هدایتیں ان لوگوں سے مخصوص هیں جو ان فیوضات اور ان الطاف کو حاصل کرنے کے لئے آماده هوں اب چاهے وه اسلامی سرزمین هو یا سر زمین کفر ۔

خلاصه کلام یه که جیسا که پیغمبر اسلام (ص) کی رسالت عالمی پیمانه پرتھی آپ کے جانشین ائمه علیھم السلام بھی تمام لوگوں کے امام هیں چاهے وه مسلمان هوں یا غیر مسلم ، یه بات ضرور هے که جو مسلمان نهیں هیں وه ان هستیوں کی راهنمائیوں کی پیروی کرنے کی توفیق سے بے بهره هیں ۔

اگر امام زمانه (عجل الله تعالی فرجه الشریف) غیر مسلموں کی طرف نظر کرم کریں تو اس کا مطلب ان کے انسانی اخلاق اور انسانی اقدار کے خلاف کاموں کی تائید کرنا هرگز نهیں هے اس لئے که یه لوگ ایسی عظیم الهی حجتوں کے هوتے هوئے اپنے اختیار سے برے اعمال کے مرتکب هو رهے هیں ۔


مزید  اگر هماری نماز قصر هو اور هم نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا چاهتے هوں، تو کیا رکعتوں کی تعداد کو نیت میں مشخص کرنا ضروری هے؟

[1]  ” وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون “ ذاریات ، 54

[2]  انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ رعد  8؛ المیزان ج، 11 ص 335 ( بحث امامت تفصیل کے ساتھ اسی کتاب میں درج هے ) ج، 1 ،ص 270، 282

[3]  قل فلله الحجة البالغة “ انعام ، 149

[4]  یه نهیں هو سکتاکه خدا ان کے درمیان تمهارے هوتے هوئے ( گنهاگاروں ) پر عذاب نازل کرے “ انفال، 33

[5]  بحار الانوار ، ج 23، ص 19

[6]  والله ما خلق الله شیئا الا و قد امره بالطاعة لنا “ نمازی ، علی ، اثبات ولایت ، ص 59

[7]  اعراف ، 156

[8]  نمازی ، علی ، اثبات ولایت، ص 67

[9]  نحل 60

[10]  نمازی ، علی ، اثبات ولایت، ص 126 ـ 127

[11]  ایضا، 65

[12]  صافی گلپائگانی ، منتخب الاثر ، ص 401 – 411

تبصرے
Loading...