عمار بن یاسر کے اشعار کیا تھے؟

0 0

علامه مجلسی بهارالانوار میں لکھتے هیں: “جب رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم اپنے اصحاب کے ساتھـ مسجد تعمیر کرنے میں مشغول تھے، صحابیوں میں سے ایک شخص تمیز اور فاخره قسم کا لباس پهنے هوئے وهاں سے گزر رها تھا، عمار بن یاسر نے یه منظره دیکھـ کر چند اشعار پڑھے ان کا مضمون یوں تھا: “مسجد بنانے والے اور اس میں رکوع و سجود بجالانے والے هرگز ان لوگوں کے مساوی نهیں هیں جو اهل عناد و دشمنی هیں اور اپنے فاخره لباس پر گرد و غبار بیٹھنے سے پرهیز کرتے هیں ـ[1]

ابن هشام نے بھی اپنی سیرت کی کتاب میں عمار یاسر کے اشعار کو اسی مضمون میں نقل کیا هے ـ[2]



[1]  لا یستوی من یعمر المساجدا              یظل فیھا راکعا و ساجدا

   ومن تراه عاندا معاندا                      عن الخبار لایزال حائدا 

ملاحظه هو: بحار الانوار ج 30، ص 238ـ

[2]  السیرۃ النبویۃ، ج 2، ص 142 ـ

مزید  یه جو کها جاتا هے که انسان اسلام کی نظر میں مختار هے اور پھر خدا کی جانب سے کچھ لوگوں کے دل ، کان اور آنکھ پر مهر لگادی جاتی هے " خَتَم اللهُ علٰی قلوبِهم " کیا ان دونوں مطلب کے در میان اختلاف نهیں پاتا جاتا یا کیا یه دونوں باتیں قابل توجه هیں ؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.