شیطان اور نفس اماره کے در میان کیا فرق هے؟

0 0

اس سوال کے جواب کے لئے چند مقدمات کی ضرورت هے:

پهلا مقدمه : نفس اور اس کے مراتب-

انسان کی حقیقی هویت کے حیوانی ، انسانی، الهی تین ابعاد اور مراتب هیں- قرآن مجید کی آیات سے بھی بخوبی معلوم  هوتا هے که انسانی روح اور نفس کے تین مراحل اور مراتب هیں [1]:

١- نفس اماره یا انسان کا حیوانی مرتبه

انسان کا حیوانی مرتبه شهوت ، غضب اور نفسانی خواهشات پر مشتمل هو تا هے[2]– اس قلبی رجحان اور نفسانی حالت کو قرآن مجید نے نفس اماره کا نام دیا هے اور اس سلسله میں تاکید فر ماتا هے: ” اور میں اپنے نفس کو بری نهیں قرار دیتا که نفس بهر حال برائیوں کا حکم دینے والاهے[3]-“

اسی وجه سے اسے اماره ( یعنی برائیوں کا حکم کر نے والا ) کها گیا هے – اس مرحله میں ابهی عقل و ایمان اس حد میں نهیں هیں که سرکش اور باغی نفس پر قابو پاکر اسے رام کرسکیں بلکه بهت سے مواقع پر عقل و ایمان هتهیار ڈالتے هیں اور نفس انهیں شکست دیتا هے-

عزیز مصر[4] کی بیوی کے کلام میں اس کی طرف اشاره هوا هے ، جب اس نے کها :

” وما ابری نفسی ان النفس الامارۃ بالسوء[5]” ” میں اپنے نفس کو بری نهیں قرار دیتی که نفس بهر حال برائیوں کا حکم دینے والاهے-“

٢- نفس لوّامه:

” نفس لوامه” نفس کا ایک ایسا مرحله هے که انسان ،تعلیم وتر بیت اور جدوجهد کے بعد اس مرحله پر فائز هو تا هے، کبهی کبھی جبلتوں کی بغاوتوں کے نتیجه میں بعض خلاف ورزیوں کا بھی مرتکب هو تا هے، لیکن فوراً پشیمان هو کر اپنے آپ کی سرزنش وملامت کر تا هے اور اپنے گناه کی تلافی کر نے کا فیصله کرتا هے اور اپنےدل وجان کو توبه کے پانی سے دھو لیتا هے-

قرآن مجید نفس کے اس مرحله کو ” نفس لوامه ” کهتے هوئے ارشاد فر ماتا هے : ” اور برائیوں پر ملامت کر نے والے نفس (نفس لوامه) کی قسم کهاتا هوں که قیامت حق هے[6]

٣- نفس مطمئنه :

” نفس مطمئنه ” نفس کا وه مرحله هے ، که انسان مکمل تصفیه ، تهذیب اور تر بیت کے بعد اس مر حله پر فائز هو تا هے، اس مر حله پر انسان کی سرکش جبلتیں عقل و ایمان سے جنگ کر نے کی توانائی نهیں رکھتی هیں ، کیونکه اس مر حله میں عقل وایمان اس قدر قوی هو تے هیں که ان کے مقابل میں نفسانی خواهشات کوئی خاص طاقت نهیں رکهتی هیں-

یه انبیاء ، اولیاء اور ان کے حقیقی پیرو کاروں کا مقام هے ، یعنی یه وه لوگ هیں جنهوں نے مردان خدا کے مکتب میں ایمان و تقوی کا درس حاصل کیا هے اور برسوں تک تهذیب نفس کر کے ، جهاد اکبر کو انتهائی مر حله تک پهنچایا هے-

قرآن مجید اس مرحله کو نفس مطمئنه کهتے هوئے ارشاد فر ماتا هے : ” اے نفس مطمئنه! اپنے رب کی طرف پلٹ آ ، اس عالم میں که تو اس سے راضی هے اور وه تجھـ سے راضی هے[7]-“

دوسرامقدمه : ابلیس اور شیطان

١- ابلیس :

ابلیس کا مراد ایک خاص شیطان هے جو جنّات میں سے هے – یه شیطان ، یعنی ابلیس کثرت عبادت کی وجه سے ملائکه کے درجه پر پهنچ چکا تھا، لیکن نافر مانی اور بغاوت کے بعد اس مقدس مقام سے گر گیا-ـ چونکه اس نے خدا کے حکم کی اطاعت نهیں کی اس لئے زوال سے دوچار هو گیا[8]

٢- شیطان :

لفظ شیطان، ماده “شطن” سے هے اور اس کے معنی مخالفت اور دوری هے، اور هر باغی و سرکش مخلوق کو شیطان کها جاتا هے، خواه وه انسانوں میں سے هو یا جنات و حیوانات میں سے[9]

چنانچه قرآن مجید میں آیا هے: ” اسی طرح هم نے هر نبی کے لئے جنات و انسان کے شیاطین کو ان کا دشمن قرار دے دیا هے[10]

ابلیس، چونکه ایک نافرمان ، سرکش اور تخریب کار مخلوق هے اس لئے اسے شیطان کها جاتا هے-

تیسرا مقدمه: شیطان کے ساتھـ نفس اماره کا رابطه

نفس اماره، حقیقت میں شیطان کے وسائل اور انسان میں نفوذ کر نے والی راهوں میں سے ایک راه هے اور نفس اماره ، شیطان کے سپاهیوں میں شمار هو تا هے –

پس ابلیس کی طرف سے وسواس ، ظاهری شیطان کے عنوان سے ، اور نفس اماره کی خواهش باطنی شیطان کے عنوان سے ، انسان کو زوال سے دو چار کر تے هیں-

شیطان کی تمام کوششیں یه هوتی هیں که انسان گمراه هو کر حقیقت تک نه پهنچ جائے اور اسی سلسله میں اس نے خدا وند متعال کی عزت کی قسم کهائی هے – چنانچه قرآن مجید میں ارشاد هے : ” اس نے کها: تو پهر تیری عزت کی قسم میں سب کو گمراه کروں گا، علاوه تیرے ان بندوں کے جنهیں تونے خالص بنالیا هے[11]

“اغوای “لفظ ” غی” سے هے اور اس کے معنی رشد و بالیدگی کی ضد هے ، اور رشد و بالیدگی حقیقت تک پهنچنے کے معنی میں هے [12]

شیطان نے خداوند متعال کی عزت کی قسم کهائی هے که انسان کو گمراه کردے گا [13]– وه انسان کو گمراه کر نے کے لئے قدم به قدم آگے بڑهتا هے اور انسان کو اپنے وسوسوں کے تحت قرار دیتا هے، یهاں تک که انسان خود شیطان بن جاتا هے اور اس کے ذریعه دوسرے انسان بهی گمراه کئے جاتے هیں –

جوانسان، شیطانی وسوسوں کے نتیجه میں نفسانی اور حیوانی خواهشات کے سامنے هتهیار ڈالتا هے وه نفس اماره کے دام میں پهنس جاتا هے-

حضرت علی علیه السلام فر ماتے هیں : ” نفس اماره منافق کے مانند انسان کے ساتھـ چاپلوسی کرتا هے اور دوست کے روپ میں پیش آتا هے تاکه انسان پر مسلط هو جائے اور اسے بعد والے مراحل میں داخل کرے[14]

شیطان، ضعیف الایمان انسانوں کو واسواس میں گرفتار کر کے ، ان کے نفسانی خواهشات اور شهوانی رجحانات اور نفس اماره کی مدد کر کے ان کے دلوں کو اپنی طرف کهینچ لیتا هے اور سر انجام اس کے بدن کے نزدیک آکر اس کے ساتھـ هاتھـ ملا تا هے اور اس کا دوست اور رفیق بن جاتا هے- جس شخص کا دل شیطان کا گهر بن جاتا هے ، تو وه صرف شیطان کا میز بان هی نهیں بلکه اس کا دوست بھی بن جاتا هے[15]

اس گروه کے بارے میں حضرت علی علیه السلام فر ماتے هیں : ” پس شیطان ان کی آنکهوں سے دیکهتا هے اور ان کی زبانوں سے بولتا هے[16]-“

نتیجه :

شیطان اور نفس اماره، دونوں انسان کے دشمن هیں ، اسی لئے قرآن مجید نے بهی شیطان کو انسان کے کهلم کهلا دشمن کے عنوان سے معرفی کیا هے اور انسان کو تاکید کرتا هے که اسے اپنا دشمن جان لے[17]

اس کے علاوه معصومین علیهم السلام کی ایک روایت میں نفس اماره ( نفسانی خواهشات ) کو انسان کا دشمن شمار کیاگیا هے ، اس سلسله میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے فر مایا هے : ” تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس هے[18]–” پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کے اس بیان میں نفس کے اس مر حله کی طرف اشاره هے-

نفس کا ” سب سے بڑا دشمن هو نے” کا راز اس کا باطنی هونا هے – ظاهری دشمن اور چور ، اس باطنی دشمن اور چور کی مدد کے بغیر کوئی نقصان نهیں پهنچا سکتا هے – یه باطنی دشمن اس کا محرم اسرار رهے اور هر جگه کے بارے میں آگاه هے اور اس آگاهی سے استفاده کر کے انسان کی خواهشات کی رپورٹ شیطان کو پهنچا تا هے –

دوسری جانب سے نفس اماره، ابلیس کے پیغام اور فر مان کو، جو ظاهری برائیوں پر مشتمل هو تا هے ، پهنچا تا هے- اس لحاظ سے نفس اماره خود بھی شیطان کا سپاهی شمار هو تا هے- چنانچه اس کے بهت سے اوصاف ، شیطانی سپاهی میں شمار هو تے هیں[19]– پس انسان میں موجود حیوانی رجحانات کے پیش نظر نفس اماره شیطانی وسوسوں کے تحت قرار پاتا هے اور مرحله به مر حله آگے بڑهتا هے، یهاں تک انسان بهی شیطان کی پارٹی کا رکن بن جاتا هے[20]


مزید  اسلام کو پھچاننے کے لئے کھاں سے شروع کرنا چاھئے ؟ دینداری کے معاشره میں موجود ریاکاری اور خطاؤں کا مشاھده کرنے کے پیش نظر ، میں اپنی دینداری کے انجام سے ڈرتا ھوں ۔

[1] – تفسیر نمو نه ، ج ٢٥،ص٢٨١-

[2] – حق وتکلیف در اسلام ، عبدالله جوادی آملی ،ص ٨٩-

[3] – سوره یوسف،٥٣-

[4] – بعض مفسرین نے اس جمله کا مراد حضرت یوسف علیه السلام سمجها هے لیکن اس نظریه کو اکثر مفسرین قبول نهیں کرتے هیں تفسیر نمونه ، ج٩،ص ٤١٣ و ٤١٤-

[5] – سوره یوسف ،٥٣-

[6] – قیامت ،٢” ولا اقسم بالنفس اللوامه”

[7] – سوره فجر ،٢٧-٢٨” یا ایتها النفس المطمئنه ارجعی الی ربک راضیۃ مر ضیۃ فاد خلی فی عبادی وادخلی جنتی”

[8] – ترجمه فارسی تفسیر المیزن ،ج ٨،ص٢٦-

[9] – المنجد فی اللغۃ: تفسیر نمونه ،ج١،ص١٩٢-

[10] – سوره انعام ،١١٢ ، وکذ لک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن –

[11] – سوره ص،٨٢ و٨٣” قال فبعزتک لا غوینهم ا جمعین”

[12] – تر جمه فارسی تفسیر المیزان ،ج١،ص٦٣١-

[13] – سوره ص، ٨٢ و٨٣” قال فبعزتک لاغوینهم اجمعین”

[14] – غرر الحکم –

[15] – مبادی اخلاق در قرآن عبدا الله جوادی آملی،ص١١٥-

[16] – نهج البلاغه ، خطبه ٧، فنظر با عینهم و نطق با لسنتهم-

[17] – سوره بقره ،١٦٨ ،” انه لکم عدو مبین ; وه آپ کے لئے کهلم کهلا دشمن هے-

[18] – بحار النوار، ج٦٧، ص٦٤- قال النبی (ص) : اعدی عدوک نفسک التی بین جنبیک “

[19] – تفسیر تسنیم ،عبدالله جو ادی آملی ، ج٨،ص٥١٦-

[20] – مجا دله ،١٩ ” استحوذ علیهم الشیطا ن فانساهم ذکر الله ،اولئک حزب الشیطان ” ان پر شیطان غالب آگیا هے اور اس نے انهیں ذکر خدا سے غافل کر دیا هے ، آگاه هو جاٶ که یه شیطان کا گروه هیں –”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.