سوره حجر کی آیت نمبر 90 میں “مقتسمین” سے خداوند متعال کا مراد کیا هے؟

0 0

خداوند متعال نے سوره حجر کی آیت نمبر 89 سے 90 تک دستور دیتے هوئے فرمایا هے: بے ایمان افراد کے سامے ڈٹ کر رهنا اور صراحت سے کهدو که میں تو بهت واضح انداز سے ڈرانے والا هوں ـ[1] کهدو که میں تمھیں خطره کا اعلان کرتا هوں، کیونکه خداوند متعال نے فرمایا هے میں تم پر ایک ایسی اعذاب نازل کروں گا، جس طرح میں نے تقسیم کرنے والوں پر نازل کی هے ـ[2] جن لوگوں نے قرآن کو ٹکڑے کریا هے ـ[3]

آیه شریفه میں جو لفظ “المقتسمین” آیا هے، وه تقسیم اور تجزیه کرنے والوں کے معنی میں هے ـ البته یه که اس آیه شریفه کا شان نزول کیا هے اور کن لوگوں کے حق میں نازل هوئی هے، اس سلسله مین تفاسیر میں کئی احتمالات بیان کئے گئے هیں:

1ـ ـ کفار کے سردار، ایام حج میں سڑکوں اور مکه میں داخل هونے کی جگهوں پر بعض افراد کو تقسیم کرکے رکھتے تھے، تاکه مسافروں کو کهدیں که محمد (ص) نامی ایک شخص نے کچھـ دعویٰ کیا هے، ایسا نه هو که اس کی بات کی طرف توجه کریں اور وه آنحضرت (ص) کو کاهن، ساحر اور دیوانه معرفی کرتے تھے ـ

2ـ وه گروه جو آپس میں قرآن کو تقسیم کرتے تھے، تاکه ان میں سے هرایک قرآن مجید کے مشابه کو لے آئے ـ[4]

3ـ وه لوگ جو قرآن مجید کے ایک حصه پر عمل کرتے تھے اور ایک حصه کو چهوڑ دیتے تھے ـ[5]

4ـ قریش کا ایک قبیله تھا، جنهوں نے قرآن مجید کو پاره کیا، کچھـ لوگوں نے کها سحر هے، کچھـ لوگوں نے کها که پرانے لوگوں کا افسانه هے اور ایک جماعت نے کها که جعلی هےـ[6]

5ـ بعض لوگوں نے کها: یهودی اور عیسائی اسلام سے پهلے هیں اور دین میں تفرقه اور اختلاف سے دوچار هوئے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے، هر فرقه اپنی جگه پر شاد تھا اور قرآن مجید کا مراد، آسمانی کتاب هے ـ

پانچویں احتمال کے بارے میں یه وضاحت ضروری هے که خدا کے پروگرام کسی شک و شبهه کے بغیر عام طور پر تمام انسانوں کے فائدے میں هیں، لیکن بظاهر اور ابتدائی نظر میں عام طور پر بعض هماری خواهش کے مطابق هیں اور بعض هماری خواهش کے خلاف هیں اور یهاں پر سچے مومنین کو جھوٹے دعویٰ کرنے والوں میں پهچانا جاتا هے، پهلا گروه چون و چرا کے بغیر سبوں کو قبول کرتے هیں حتی جهاں پر بظاهران کے نفع میں نهیں هے اور کهتے هیں: سب خدا کی طرف سے هے ـ[7] اور یه لوگ احکام الٰهی میں کسی قسم کے تجزیه، تقسیم، تبعیض کے قائل نهیں هیں ـ

لیکن جن کے دل بیمار هیں اور دین و حکم خدا سے اپنے منافع میں استفاده کرنا چاهتے هیں، وه صرف اسی حصه کو قبول کرتے هیں جو ان کے نفع میں هو اور باقی کو چھوڑ دیتے هیں، وه لوگ قرآن مجید کی آیات کو یهاں تک که کبھی ایک آیت کا بھی تجزیه کرتے هیں، اور اس کا جو حصه ان کی مرض کے مطابق هو اسے قبول کرتے هی اور دوسرے حصه کو چهوڑدیتے هیں ـ

یه فخر و مباهات کی بات نهیں هے که بعض گزشته اقوام کے مانند “نومن ببعض و نکفر ببعض”[8] کا نغمه گایئں، کیونکه تمام دنیا پرست یهی کام کرتے هیں، حق و باطل میں جو حق کے پیروں کو پهچاننے کا معیار هے، وه وهی ان احکام و فرمان الٰهی کے سامنے تسلیم هونا هے جو همارے ظاهری نفسانی خواهشات کے موافق نهیں هیں، یهیں پر خالص کو نا خالص سے اور مومن کو منافق سے پهچانا جاسکتا هے ـ[9]

اس بنا پر واضح هوا که سوره حجر کی آیت نمبر 90 سے خداوند متعال کا مراد قرآن مجید کے جعلی نسخوں کا موجود هونا یا شائع هونا نهیں هے ـ

هماری نصیحت یه هے که جن آیات کے بارے میں شک و شبهه سے دوچار هو جاوگو یا ان کے مفاهیم کو صیحح طور پر تجزیه نهیں کرسکو گے تو ایسے مواقع پر قرآن مجید کے قابل اعتبار تفاسیر کا مطالعه کرناچاهئے ـ


مزید  کون سی معنوی قدریں عصر جدید کے انسانی معاشروں کی مشکلات کو حل کر سکتی هیں؟

[1]  قل انى انا النذیر المبین، سوره حجر، 89.

[2]  کما انزلنا على المقتسمین، سوره حجر، آیه 90.

[3]  الذین جعلوا القرآن عضین، سوره حجر، آیه ی91.

[4]  تفسیر نور، ج‏6، ص: 356.

[5]  ترجمه (فارسی) تفسیر المیزان، ج12، ص286.

[6]  تفسیر هدایت، ج‏5، ص 401.

[7]  کل من عند ربنا، سوره آل عمران، 7.

[8]  سوره نساء، 150.

[9]  تفسیر نمونه، تفسیر و نکات آیات 85 الی 91 سوره حجر.

تبصرے
Loading...