حقیقی اور احساسی معنویت کا لگاؤ کیا هے ؟

0 0

انسان ایک خود مختار مخلوق هے جو اپنے اعمال کو عزم و اراده اور اختیار کی بنیاد پر انجام دیتا هے اس کے اختیار اور انتخاب کا طریقه دو پوشیده امر سے وابسته هے ؛ یعنی نظریات اور رجحانات ، خود ان نظریات اور رجحانات کی دوقسمیں هیں ، فطری و غیر اختیاری اور کسبی و اختیاری ؛ پهلی قسم هر انسان کی فطرت میں بالقوه موجود هے جس کے اجاگر هونے کے لئے توجه اور تربیت کی ضرورت هے ، لیکن دوسری قسم ، انسان کے اختیار سے هی حاصل هوتی هے یا ماحول ، تربیت اور وراثت سے منتقل هوتی هے ، فطری رجحان جیسے حقیقت پسندی کی کوشش ، اچھے اور اچھائی سے لگاؤ فطرت سے آشنائی و غیره یهی چیزیں هیں جو حسن و قبح عقلی کے عنوان سے بیان کی جاتی هیں مثلاً عدالت ، صداقت اور قناعت کی خوبیوں کی شناخت اور ظلم ، جھوٹ اور وعده خلافی کی برائیوں سے آشنائی ، انسان کے یهی فطری نظریات و رجحانات ، انسان کی فعالیت اور کسی نظریات و رجحانات کو اپنانے کے اصلی محرک هیں ، لیکن اگر انسان حقیقت و واقعیت کی تشخیص اور اچھائی ، کمال اور خوبی کے مصداق کو معین کرنے میں غلطی کا شکار هو جائے تو وه حقیقی کمال اور سعادت تک نهیں پهنچ سکتا ، البته اگر اچھی طرح سوچے اور سمجھے تو اس کی جد وجهد محرکات اور صحیح اختیار کرده نظریات و رجحانات انسان کی دنیا و آخرت کی ضرورتوں کو پورا کر سکتے هیں ؛ انبیاء آئے تا که انسان کو صحیح تشخیص کی قدرت عطا کریں اور صحیح رجحان و انتخاب کے سلسله میں ان کی هدایت اور مدد کریں تا که انسان دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کر سکے جب که اکثر انسانوں کی خواهشات اور جذبات ان کی عقل و فکر پر غالب هوتے هیں ۔

معنویت سے لگاؤ بھی ( ایک اختیاری فعل هونے کے لحاظ سے) اس قانون سے خارج نهیں هے ، یعنی ممکن هے که اس کا سرچشمه تحقیق ، تفکر اور تدبر هو یا احساسات و جذبات هوں ۔ پهلی صورت میں یه رجحان علمی ، فلسفی یا کلامی هوگا اور دوسری صورت میں عمومی هوگا اور اصطلاحاً ” معنویت سے جذباتی لگاؤ” ۔ لیکن ایک تیسری صورت بھی ممکن هے ، وه یه که یه دونوں ایک ساتھ استوار هوں اور دل وعقل کا مرکز متحد اور شانه به شانه هوکر دین و ایمان اور معنویت کی طرف رجحان کا سبب بن جائیں جو که عارفانه میلان هے[1]  ،معنویت کی جانب اسی حقیقی میلان کو اصطلاح میں “معنویت سے حقیقی لگاؤ” کهتے هیں ۔

پهلی صورت جهاں صرف علم محرک هے ، احکام الٰهی میں سے کسی حکم چاهے تکوینی هو یا تشریعی کے عقلی فلسفه کی وضاحت سے عاجز هونے کی صورت میں یا خواهش اور هوائے نفس کے غالب هونے کی صورت میں انسان علم کا پابند نهیں رهتا بلکه ضرورت پڑنے پر اپنے علم کو چھپاتا هے جیسے فرعون جس کے بارے میں قرآن مجید ارشاد فرماتا هے ” جب اس نے هماری واضح نشانیوں کو دیکھا تو کهنے لگا یه تو واضح جادو هے ، اور (تکبر سے) هماری نشانیوں کی ظلم و سرکشی کی بنیاد پر تکذیب کی جب که اسے ان پر یقین تھا  [2]

دوسرا گروه پانی پر موجود تنکے کی طرح هوتا هے جو ماحول اور سماج کے ساتھ حرکت کرتا هے اور اس کے رد و بدل سے تبدیل هوکر سماج کے ماحول میں گھل مل جاتا هے : ایسوں کے ثابت قدم اور دل و جان کا کوئی بھروسه نهیں هوتا ، جیسے وه شخص جو مجلسوں میں شرکت کرتا هے اور احساسات و جذبات سے اثر لے کر ( نه که عشق و محبت کے سبب) بهار کی بارش کی طرح آنسو بهاتا هے ایسے افراد سے بعید نهیں هے که کچھ هی دیر کے بعد وه ایسی محفل میں هوں جس میں لوگ بے باک هوکر غیر شرعی حرکتیں انجام دے رهے هوں اور وه بھی ان میں مل کر گناهوں میں ملوث هوجائے ۔

جو شخص حکومت و خلافت کی خاطر ایمان و اسلام کا اظهار کرتا هے یا مال غنیمت اور اسیروں کے لئے جنگ میں شرکت کرتا هے ، اپنے مقصد تک پهنچتے هی اس کی دینداری اور اس کا دین غائب هوجاتے هیں اور وه آسانی سے دین پر عمل کرنے اور راه خدا میں انفاق کرنے پر حاضر نهیں هوتا [3] اور اپنے مقصد و مقام کو بچانے کے لئے هر طرح کے غیر شرعی هتھکنڈے استعمال کرتا هے اور اس کی کوئی حد بھی نهیں سمجھتا لهذا دوسرے گروه کا ایمان اور معنویت پر ثابت قدم رهنا ایک طرف اس کے دنیوی فائده کے تابع هے تو دوسری طرف نقصان نه اٹھانے اور سیاسی ماحول کے تابع هے ورنه وه آسانی سے دین سے هاتھ دھولے گا ۔

دوسرے الفاظ میں : لوگ دین ، آخرت ، معنویت اور عبادت سے لگاؤ کے اعتبار سے تین قسم کے هیں :

الف: وه گروه جو جهنم اور دنیوی نقصان کے ڈر سے جس کا خداوند عالم نے وعده کیا هے اور انبیاءؑ کے ذریعه عذاب سے ڈرایا هے الله کے مطیع بن کر اس کی عبادت کرتے هیں اور خدا کے غضب ، قیامت ، نبوت و امامت کی عصمت پر ایمان اسی کے طفیل میں هے اور ان کا ایمان علم و معرفت یا بندگی کی بنیاد پر هے نه که اندھی تقلید کی بنیاد پر ۔ بقول امام علیؑ ان کی عبادت و بندگی ” غلامی کی طرح ” هے یعنی عذاب سے بچنے کے لئے اطاعت کرتے هیں ۔

ب : وه گروه جو جنت کی لالچ اور دنیا و آخرت میں الهی وعده کی دستیابی کی خاطر معنویت اور دین کی طرف مائل هوتے هیں جس کی بنیاد غیب پر ایمان اور سچی بصیرت هے نه که اندھی تقلید ۔

اس گروه کی بندگی بھی اپنی هی فائدے کے لئے هے اور امام علیؑ کی زبان میں ان کی عبادت (تجارت کی طرح) هے اور وه کوشش کرتے هیں که خدا کے وعده کے مطابق پاداش حاصل کریں ۔

ج : تیسرا گروه : تدبر و تعقل ، بصیرت ، شکر منعم اور اپنے حقیقی محبوب و معشوق تک پهنچنے کے لئے عبادت کرتا هے اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرتا هے ، امام علیؑ کی زبان میں یهی لوگ اپنے جسم ، دنیا و آخرت کے منابع سے

 ” آزاد” هیں اور اپنی اناوانایت سے دور خدا سے جڑے هوئے هیں اور عارفوں کے به قول ” فانی فی الله ” هیں جو خود کو اور اپنے فائده و نقصان کو نهیں دیکھتے چه جائے که ضرر کو دفع کرنے یا فائده حاصل کرنے کے لئے طاعت و معنویت کی طرف متوجه هوں ، اسلام اور قرآن کی زبان میں یه تینوں گروه (درجه اور مقام میں اختلاف کے باوجود)معنویت سے حقیقی لو لگانے والے هیں اگر ان میں ذیل کی نشانیاں پائی جائیں اور وه امتحانات الهی میں کامیاب هوئے هوں ، لیکن یه واضح هے که ان تینوں گروه کا ایک هی درجه نهیں هے اور تیسرے گروه کا دوسرے دو گروهوں سے مقابله هی نهیں کیا جاسکتا [4] ۔

معنویت کی طرف حقیقی رجحان کی چند علامتیں قرآن مجید میں ذکر هوئی هیں :

منجمله :

1-      واجبات کو انجام دینا اور گناهوں سے دور رهنا [5] ۔

2-      ایمان کے ساتھ ساتھ عمل بھی هو [6]

3-      صحیح عقیده رکھنا اور نامناسب امور کی خدا کی طرف نسبت نه دینا جیسے : خدا کا بیٹا هونا ، خدا سے قبح کے صادر هونے کا امکان ، یا فرشتے خدا کی لڑکیاں هیں ، یا خدا کا شریک قرار دینا [7] ۔

4-      اپنے محبوب (خدا) کو یاد کرنا ، قرآن مجید کی تلاوت کرنا ، معنوی مجلسوں میں شرکت سے لذت اٹھانا ، گناه اور گنهگاروں کے مشاهده سے رنجیده هونا [8] ۔

5-      دنیا کے مصائب و آلام سے پریشان هوکر کفر نه بکنا بلکه خدا پر بھروسه کرتے هوئے صبر کرنا اور ان کا حل نکالنا اور خدا کے ذکر کے ذریعه سکون حاصل کرنا [9] ۔

6-      کسی بھی موثر کی اثر اندازی کو خدا کی ذات سے جدا اور مستقل قرار نه دینا اور هر فاعل کو خدا کا عامل اور خدا سے هی وابسته سمجھنا [10] ۔

7-      گناهوں کے لئے زمین هموار هونے کے باوجود اپنے نفس پر کنٹرول کرنا اور جهاد اکبر کے ذریعه باغی نفس کو قتل کر کے خواهشات پر قابو پانا [11] ۔

8-      راه خدا میں جان ، مال اور اولاد کے جانے سے افسوس نه کرے اور دنیا اور دولت کا حصول اس کے عبودیت و بندگی سے خارج هونے کا سبب نه بنے [12] ۔

9-      بغیر چون و چرا خدا ، رسول(صل الله علیه و آله وسلم) اور ولی خدا کے حکم پر پوری طرح راضی هونا حتی طبیعت اور مزاج کے مخالف هونے کے باوجود دل سے ناراض نه هونا [13] ۔

10-   رحمانی الهام کو حاصل کرنا اس کی تشخیص دینا اور خد اکی عنایتوں اور حیات طیبه سے سرفراز هونا [14] ۔

معنویت سے حقیقی لگاؤ کو جذباتی اور نا پا ئیدار لگاؤ سے جدا کرنے اور اس کی حفاظت اور دوام کے لئے پکے عزم و اراده اور بهت هی زیاده صبر و ضبط کی ضرورت هے خاص کر اس دور حاضر میں جهاں سارے اجتماعی اور عالمی عوامل ایک جٹ هو گئے هیں تا که انسان کو دین و معنیوت سے جدا کر کے دنیا کے بھوکے استعمار گروه کا غلام بنادیں ۔

لیکن اس امر کی طرف توجه دلانا ضروری هے که تنها انسان ایسی مخلوق هے جو نه صرف دنیا کے دھارے کے خلاف چلنے کی طاقت رکھتا هے بلکه دنیا والوں کا راسته بھی بدل سکتا هے اور مشکل سے مشکل حالات میں خود کومحفوظ رکھ سکتا هے اور کام جس قدر مشکل هوتا هے اس کا انعام اسی قدر زیاده هوتا هے ۔

بهر حال هر انسان دوسروں سے زیاده خود کی دیکھ بھال کرنے والا هے اور اپنے دل ، نظریه اور رجحان سے دوسروں سے زیاده باخبر هے ، هر چند ممکن هے که محاسبه کرتے وقت چشم پوشی سے کام لے اور اپنی برائیوں کو نه دیکھے یا خود کی کمی کو دوسروں کی گردن پر ڈال دے اور یه بھی ممکن هے که جو چیز ظاهر کر رها هے وه اس کے دل کے خلاف هو ، لهذاضروت یه هے که انسان خود اپنے بارے میں اور اپنی نجات کے سلسله میں سنجیده هو اور حقیقی معرفت ، اعمال صالح ، اچھے اخلاق اور اهل بیتؑ سے توسل و تمسک کے ذریعه همیشه همیشه کے لئے سعادت حاصل کرے اور خود کو هلاکت سے نجات دے ۔ پخته اراده کے ساتھ اس کی حفاظت کرتا رهے اور اس سلسله کو جاری رکھے یهاں تک که اپنے مقصد تک پهنچ جائے ۔

حوالے :

1-      جوادی آملی ، عبد الله ، حیات عارفانه امام علیؑ ، ص 15 و 33 ، اسراء ، طبع اول ، قم ، 1380 ھ ۔ ش ۔

2-      جوادی آملی ، عبد الله ، مراحل اخلاق در قرآن ، ص 249 و 227 ، اسراء ، طبع سوم ، قم 1379 ھ ۔ ش ۔

3-      جوادی آملی ، عبد الله ، معرفت شناسی در قرآن ، ص 315 و 227 ، اسراء ، طبع دوم ، قم 1379 ھ ۔ ش ۔

4-      جوادی آملی ، عبد الله ، صورت و سیرت انسان در قرآن ، ص 153 و 255 ، اسراء ، طبع اول ، قم 1379 ھ ۔ ش ۔

5-      جوادی آملی ، عبد الله ، فطرت در قرآن ، ص 227 و 249 ، اسراء ، طبع دوم ، قم 1379 ھ ۔ ش ۔

6-      مصباح یزدی ، محمد تقی ، معارف قرآن ، ج 1- 3 ص 421 و 442 موسسه در راه حق ، طبع دوم ، قم 1368 ھ ۔ ش ۔

7-      مصباح یزدی ، محمد تقی ، اخلاق در قرآن ، ج 1- ص 115 و 174 ، دانشگاه آزاد اسلامی ، موسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی تهران ۔

8-      مصباح یزدی ، محمد تقی ، خودشناسی برای خود سازی ، موسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی ، طبع اول ، 1377 ھ ۔ ش ۔ تهران ۔


مزید  امام کے حکومت اور ولایت کو ھاتھ میں لینے کے عدم امکان کی صورت میں ، اس کا وجود کیسے مھربانی ھوسکتا ھے ؟

[1] توجه : ممکن هے کچھ لوگ تصوف اور عرفان کے دعوے کے باوجود معنویت سے بالکل لگاؤ نه رکھتے هوں یا ولایت و طریقت کے ذریعه اپنا دنیاوی بازار گرم کریں ۔

[2] سوره نمل / 13- 14 ؛ جاثیه / 17 ؛ اعراف / 175 – 176

[3]  سوره توبه / 98 ، 87 ، 119 و 121 ؛ احزاب / 16 و20

[4]  جوادی آملی ، عبد الله ، حیات عارفانه امام علیؑ ، ص 33 و 15 ؛ مصباح یزدی ، محمد تقی ، معارف در قرآن ، ج 3 ص 441 و442

[5]  انعام / 82

[6]  لقمان /13

[7]  لقمان / 13

[8]  انفال / 2 ؛ زمر/ 23 ؛ مومنون / 60

[9]  رعد / 27

[10] یوسف / 106

[11] ابراهیم / 27 ؛ غافر / 51 ؛ بقره / 250

[12]  حدید / 23

[13]  نساء / 65 ؛ احزاب/ 38

[14]  عنکبوت / 69

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.