اگر عورت ازدواج کے بعد تغییر جنسیت انجام دے، تو کیا وه اپنے سابقه ازدواج کے مهریه کا تقاضا کرسکتی هے؟ اس طرح اگر مرد تغییر جنسیت انجام دے، تو کیا اس پر سابقه ازدواج کا مهریه ادا کرنے کی ذمه داری هے؟

0 0

مهریه کی بحث و تحقیق کا دو جهات سے مطالعه کرنا چاهئے:

1ـ زوجه کے عقد دائم کے مهریه پر تغییر جنسیت کا اثر

2ـ زوجه کے عقد موقت کے مهریه پر تغییر جنسیت کا اثر

1ـ زوجه کے عقد دائم کے مهریه پر تغییر جنسیت کا اثر

اگر عقد دائم منعقد هونے کے بعد زوجین میں سے ایک تغییر جنسیت انجام دے، فطری طور پر ان کا سابقه نکاح باطل اور منحل هوتا هے ـ مهریه ادا کرنے کے سلسله میں چار احتمال (نظریه) پائے جاتے هیں، که هم ان میں سے هر ایک پر ذیل میں مختصر بحث و تعقیق کریں گے:

پهلا احتمال: مهریه اد اکرنا مطلقا واجب نهیں هے :

پهلا احتمال یه که زوجین میں سے کسی ایک کے تغییر جنسیت انجام دینے کی وجه سے نکاح باطل هونے کے بعد مطلق طور پر زوج (شوهر) کے ذمه کوئی چیز نهیں هے، خواه مباشرت انجام پائی هو یا نه ـ اس کے علاوه اس میں کوئی فرق نهیں هے که زوج (شوهر) تغییر جنسیت انجام دے یا زوجه (بیوی) ـ بهرحال، سابقه نکاح کے باطل هونے کے علاوه، زوج (شوهر) پر مهریه ادا کرنے کی ذمه داری نهیں هے ـ

مذکوره احتمال کی وضاحت میں یوں کها گیا هے که: “حقیقت ازدواج کے معنی ، مهریه کی صورت میں عورت کی اطاعت کا معاوضه هے، اور تغییر جنسیت اس معاوضه کے فسخ هونے کا سبب بن جاتا هے اور مجبوراً دونوں معاوضے اپنی صورت میں پلٹتے هیں ـ اس بناپر اس کے ذمه کوئی چیز نهیں هے، بلکه اگر اس نے اس سے پهلے مهریه ادا کیا هو، تو یه مهریه یا اس کا بدله واپس کیا جانا چاهئے ـ[1]

مذکوره توجیه کے جواب میں کهنا چاهئے که: اولاً نکاح کی حقیقت مهریه کی صورت میں عورت کی اطاعت کا معاوضه نهیں هے، بلکه نکاح کا منعقد هونا صرف “ایجاب و قبول” سے هے اور “مهریه” هدیه کے عنوان سے هے که مرد اسے اپنی بیوی کو هدیه کے طور پر عطا کرتا هے اور الٰهی قانون گزارنے اسے نکاح کے ارکان کے ضمن میں واجب قرار دیا هے ـ[2]

ثانیاً: تغییر جنسیت کی وجه سے نکاح کا باطل هونا، فسخ کے معنی میں نهیں هے، کیونکه فسح نکاح، اس صورت میں قابل قبول هے، جب خیار (اختیار) یا طلاق میں رجوع کی قسم کے مانند هو، لیکن یهاں ایسا نهیں هے، بلکه نکاح کا باطل هونا زوجیت کا اعتبار باقی رهنے کے امکان کے فقدان کی وجه سے هے ـ[3]

دوسرا احتمال: مطلقاً مهریه ادا کرنے کا وجوب:

دوسرا احتمال، جس کے بعض شیعه فقها قائل هیں، [4] یه هے که تغییر جنسیت کی صورت میں اور سابقه نکاح کے باطل هونے پر زوج (شوهر) پر پورا مهریه ادا کرنے کی ذمه داری هے، خواه تغییر جنسیت مباشرت سے پهلے هو یا مباشرت کے بعد ـ اس سلسله میں امام خمینی (رح) فرماتے هیں:

“اگر کوئی عورت ازدواج کرے اور ازدواج کے بعد تغییر جنسیت انجام دے اور مرد بن جائے، اس کا نکاح تغییر جنسیت کے وقت سے باطل هوتا هے اور شوهر کو تغییر جنسیت سے پهلے مباثرت  کرنے کی صورت میں تمام مهریه ادا کرنا چاهئے اور مباثرت نه کرنے کی صورت میں اصلی مهریه کا ساقط هونا مشکل هے اور تمام مهریه ادا کرنے کا قول بهتر هے ـ

اسی طرح اگر کوئی عورت، کسی مرد سے ازدواج کرے اور مرد تغییر جنسیت انجام دے، ان کا نکاح تغییر جنسیت کے وقت سے باطل هوتا هے اور مباشرت انجام دینے کی صورت میں، اسے بیوی کا مهریه ادا کرنا چاهئے اور عدم مباشرت کی صورت میں بنابر اقویٰ مهریه کو ادا کرنا چاهئے ـ”[5]

دوسرے احتمال کو وضاحت میں کها گیا هے که عقد نکاح منعقد هونے کے سبب، تمام مهریه، زوج (شوهر) کے ذمه ثابت هے ـ پس اگر طلاق واقع هو جائے یا یه که تغییر جنسیت کی وجه سے “ازدواج کا موضوع” ختم هوجائے، تو اصل مطلب، یعنی “زوجه کے لئے تمام مهریه” پر کوئی اثر نهیں پڑتا هے ـ[6] اس کے علاوه ازدواج کا تقاضا یه هے که زوجه مهریه کی مالک بن جاتی هے، اور قاعده استصحاب کا تقاضا هے که یه مالکیت، حتی تغییر جنسیت کے سبب عقد کے باطل هونے کے بعد بھی باقی رهتی هے ـ[7]

تیسرا احتمال: مباشرت انجام دینے کی صورت میں تمام مهریه ادا کرنا واجب هے اور عدم مباشرت کی صورت میں نصف مهریه ادا کرنا چاهئے ـ

اگر مباشرت کے بعد زوجین میں سے کسی ایک میں تغییر جنسیت انجام پائی، تو سابقه زوج (شوهر) کو پورا مهریه ادا کرنا چاهئے اور اگر تغییر جنسیت مباشرت سے پهلے انجام پائے تو زوج (شوهر) کو صرف نصف مهریه ادا کرنا چاهئے ـ[8] ایران کے شهری قانون کی دفعه نمبر 1092 میں مشهور فقها کی تبعیت میں، پورے مهریه کو ادا کرنا، مباشرت (دخول) کی شرط پر ضروری قرار دیا گیا هے ـ

مذکوره احتمال کی وضاحت میں قابل ذکر بات هے که: اسلامی روایتوں[9] کی بنیاد پر اور اس کے علاوه فتویٰ کی شهرت[10] کی بنا پر دخول (مباشرت) کے سبب پورا مهریه ادا کرنا هے ـ پس اگر زوجین دخول سے پهلے، طلاق یا تغییر جنسیت کی وجه سے ایک دوسرے سے جدا هوجایئں، تو صرف نصف مهریه ادا کرنا واجب هوگا اور اگر تغییر جنسیت کا آپریشن دخول کے بعد انجام پائے، تو پورا مهریه ادا کرنا واجب هوگا ـ

چوتھا احتمال: بیوی کی شوهر سے اجازت نه لینے کی صورت میں مهریه کا ساقط هونا:

اس احتمال کی بیناد پر، اگر بیوی اپنے شوهر کی اجازت کے بغیر تغییر جنسیت انجام دے، تو اس صورت میں شوهر پر کوئی چیز ذمه نهیں هے، لیکن اگر شوهر تغییر جنسیت انجام دے، تو اسے اپنی بیوی کا مهریه ادا کرنا چاهئے ـ البته اگر شوهر کی تغییر جنسیت مباشرت سے پهلے انجام پائی هو تو اسے صرف نصف مهریه ادا کرنا هوگا ـ[11]

مذکوره احتمال کی توجیه میں کها جاسکتا هے: شوهر نے اس غرض سے ازدواج اور مهریه ادا کرنے کا اقدام کیا هے که اس کی ایک بیوی هو اور اس کے ساتھـ زندگی گزارےـ اس بنا پر، جس نے اس کی بیوی کو اس سے چھین لیا اور اسے تنها چھوڑا، اسے ایک قسم کا مال ضرر پهنچایا هے وه اس کا ضامن هے، اس لحاظ سے، جو بیوی تغییر جنسیت کا اقدام کرے، وه شوهر کے مهریه کی ضامن هے، اگر اس نے اس سے قبل مهریه کو حاصل کیا هو تو اسے واپس کرنا چاهئے، اور اگر ابھی حاصل نهیں کیا هے تو اسے نهیں لینا چاهئے ـ

خلاصه اور نتیجه:

عقد دائم میں تغییر جنسیت اور مهریه کے مسئله کی بحث میں، مجموعاً چار احتمال یا نظریئے بیان کئے گے ـ ایسا لگتا هے که پهلا نظریه، یعنی “مهریه ادا کرنا واجب نه هونا”واضح طور پر باطل هے، اور چوتھا نطریه کافی قوی نهیں هے ـ تیسرا نظریه، یعنی “دخول کی صورت میں پورا مهریه ادا کرنا اور عدم دخول کی صورت میں نصف مهریه ادا کرنا ” محکم تر اور مشهور اسلامی فقها کے نظریه اور متعدد رویات کے موافق هے ـ اس کے باوجود دوسرا نظریه، یعنی “مطلقاً” پورا مهریه ادا کرنا قوی هونے سے خالی نهیں هے ـ

2ـ زوجه کے عقد موقت کے مهریه پر تغییر جنسیت کا اثر:

نکاح موقت کا نکاح دائمی سے ایک فرق یه هے که ، نکاح دائم میں مهریه رکن اصلی نهیں هے، لیکن نکاح موقت میں رکن اصلی شمار هوتا هے ـ اس لحاظ سے، چنانچه عقد موقت میں، اگر مهر ذکر نه هو، نکاح باطل هےـ بهرحال اگر مرد اور عورت کے درمیان نکاح موقت منعقد هوجائے اور زوجین میں سے کوئی ایک تغییر جنسیت انجام دے، تو اس صورت میں مهریه کی کیفیت کیا هوگی ؟ هم اس سوال کی مندجه ذیل دو حالتوں میں بحث و تحقیق کرتے هیں :

2 ـ1 : عقد موقت میں زوج (شوهر) کی تغییر جنسیت اور مهریه کا مسئلهـ

مثال کے طور پر، ایک مرد اور عورت کے درمیان چھـ ماه کی مدت کے لئے سونے کے سکه مهریه معین هوکر عقد موقت منعقد هوا هے پھر مرد تین ماه گزرنے کے بعد، تغییر جنسیت انجام دیتا هےـ فطری طور پر ازدواج موقت باطل هوگا، کیونکه ازدواج کا موضوع جو “مرد و زن” تھا بدل کر “دو عورتوں” میں تبدیل هوا هے ـ اس صورت میں سابقه مرد پر واجب هے که اپنی سابقه بیوی کا پورا مهریه ادا کرے ـ کیونکه وه خود نکاح کے بطلان  کا سبب بنا هے اور اس کی تغییر جنسیت کی وجه سے ازدواج کا موضوع ختم هوا هے ـ زوج (شوهر) کی تغییر جنسیت، شوهر کی طرف سے ازدواج کو جاری رکھنے سے منصرف هونے یا مدت بخشنے کے مانند هے ـ اگر عقد موقت میں شوهر، باقی مدت کو بخش دے اور موقت ازدواج کو ختم کرے، تو اس پر واجب هےکه باقی مدت کا مهریه بھی اپنی سابقه بیوی کو ادا کرےـ[12]

2 ـ2 : عقد موقت میں زوجه (بیوی) کی تغییر جنسیت اور مهریه کا مسئله:

اسلامی روایات کے مطابق ازدواج موقت بظاهر[13] “معاوضات” میں سے هے، یعنی اس میں مهریه اجاره کے “عوض” میںهے ـ بهرحال، عقد موقت ــــ تنزیلی هو یا حقیقی صورت میں ـــــ اجاره کے مصادیق میں شمار هوتا هے اور اس میں مهریه عقد موقت کے اهم ارکان میں سے هے، اس طرح که اگر مهریه نه هو یا مهریه باطل هو یعنی مهریه کسی اور کی ملکیت هو، تو عقد موقت باطل هے، لیکن عقد دائمی میں اگر مهریه ذکر نه کیا جائے توعقد دائمی صیحح هے ـ

اس لحاظ سے، شیعه فقها قائل هیں که: چنانچه اگر عقد موقت میں، زوجه مدت کے ایک حصه میں خلاف ورزی کرے اور اطاعت سے نافرمانی کرے تو اس مدت کے برابر اس کے مهریه میں کم کیا جاتا هے ـ[14]

نتیجه یه که، اگر عورت تغییر جنسیت انجام دے، تو اس پر واجب هے، که خلاف ورزی کی مدت کے مطابق مهریه کی مقدار کو واپس کرے ـ البته اگر زوجه (بیوی) نے شوهر کی اجازت سے تغییر جنسیت انجام دی هو تو وه ضامن نهیں هے ـ کیونکه اس صورت میں، حود شوهر نے یه اقدام کیا هے اور شائد اس کی اجازت دینا منصرف هونا یا مدت کو بخشنے کے مترادف هو ـ[15]


مزید  سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۵۴ میں ارشاد ہوتا ہے "اور وہ وقت بھی یاد کرو جب موسٰی علیھ السّلام نے اپنی قوم سے کہا کہ تم نے گو سالہ بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے. اب تم خالق کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اپنے نفسوں کو قتل کر ڈالو کہ یہی تمہارے حق میں خیر ہے. پھر خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے-"قابل غور ہے کہ یہاں پر جہالت کے کفارہ کو جو کہا گیا ہے کہ بہترین کفارہ ہے ، کیا ایک دوسرے کا قتل کرنا ایک عاقلانہ کام ہے کہ خداوند متعال نے بنی اسرائیل سے ایسا کرنے کو کہا ہے؟

[1] ملاحظه هو: محمد مومن، کلمات سدیدۃ فی مسائل جدیدۃ، ص 111: سید محسن خرازی تغییر الجنس، مجلھ فقھ اھل البیت (عربی)، ش 23 (1379):ص 252ـ

[2]  ایضاً

[3]  ایضاً

[4]  ملاحظه هو: غلام حسین خدادادی، احکام پزشکان و بیماران (فتاوای آیت الله محمد فاضل لنکرانی)، ص 352 ـ 353: آیت الله یوسف صانعی، استفتاءات پذشکی، ج 2، ص 92 ـ 94.

[5]  امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، ج 2، ص 559، مسالھ 3 .

[6] ملاحظه هو: احمد مطھری، مستند تحریر الوسیلۃ (مسائل مستحدثه)، ص 192 ـ193

[7]  ملاحظه هو: احمد مومن، کلمات سدیدۃ فی مسائل جدیدۃ، ص 111.

[8]  ملاحظه هو: محمد ابراھیم جناتی، رسالھ توضیح المسائل (استفتاءات)، ج 2، ص 255 ،آیت الله لطف الله صافی گلپایگانی، گنجینھ ی سوالات فقھی و قضایی، سوال شماره 5868: محمد مومن، کلمات سدیدۃ فی مسائل جدیدۃ، ص 114

[9]  ملاحظه هو: شیخ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج 15،ص 65، باب 54 از ابواب المھور .

[10]  ملاحظه هو: آیت الله محمد حسن نجفی، جواھر الکلام، ج 31، ص 80 .

[11]  ملاحظه هو: آیت الله یوسف صانعی، مجمع المسائل (استفتاءات)، ج 1، ص 465: ھمو، استفتاءات پزشکی،ج جھارم، ص 105 ـ 106 .

[12]  ملاحظه هو: محمد مھدی کریمی نیا، بررسی فقھی و حقوقی تغییر جنسیت (پایان نامھ سطح 4 حوزه قم)، ص 298 .

[13]  ملاحظه هو: جامع الاحادیث، ج 21، ص 24 ،

[14]  ملاحظه هو: آیت الله محمد حسن نجفی، جواھر الکلام، ج 30، ص 168 ـ 170: سید مصطفی محقق داماد، حقوق خانواده، ص 320 . 

 [15]  ملاحظه هو: سید محسن خرازی، تفسیر الجنس، مجالھ فقھ اھل البیت (عربی)، ش 23، ص 255.

تبصرے
Loading...