امام زمانه(عج) کے قیام کے بعد عالمی سطح پر حکومت عدل و انصاف کب قائم هوگی ؟کیا اس حکومت کے قائم هونے کے بعد غریبی اور ظلم دنیا سے ختم هو جائے گا ؟

0 0

امام مهدی (عج) کے ظهور اور اس کے بعد رو نما والے واقعات پر ایمان لانا ایمان بالغیب کے ان مصادیق میں سے هے جس کو قبول کرنا اور اس کی خصوصیتوں کو جاننا تعبد اور معتبر حدیث و روایت کے بغیر ممکن نهیں هے ۔[1]

لیکن اکثر و بیشتر روایات اس لمبے عرصه میں ﻜﭽﮭ آفتوں جیسے تقیه یا دشمنوں کی طرف سے جعل و تحریف اور فراموشی کا شکار هو گیئں یا طباعت کا وسلیه فراهم نه هونے کے سبب گم هوگیئں ، ظهور سے قبل اور اس کے بعد رو نما هونے والے واقعات کے جزیئات کی شناخت جس طرح حقائق کے تلاش شیعوں اور منتظروں کی طبیعت کو مطلوب هے نا ممکن هے خاص کر جب هم اس سلسله میں موجود روایات میں بعض تعارض رکھنے والی اور با هم جمع نه هونے والی روایتوں سے بھی دوچار هوتے هیں ۔ لهذا مذکوره سوال کا جواب خصوصاً پهلے حصه کا ظنّی هوگا اور سوال کے جواب کے لیئے سوال کو چند الگ الگ حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا لهذا هر حصه کو جدا کرکے ان کا جواب ذیل میں دیا جا رهاهے ۔

 

امام مهدی (عج) کے ظهور کے بعد حکومت عدل و انصاف کے قائم هونے میں کتنا وقت لگے گا ؟

امام باقر(علیه السلام) فرماتے هیں : بارهویں امام پورے آﭩﮭ مهینے تک هاﭡﮭ میں شمشیر لے کر خدا کے دشمنوں کو واصل جهنم کریں گے یهاں تک که خداوند عالم خوشنود هوجائے جو روایتیں اس وقت همارے هاتھوں میں هیں ان سے پتا چلتا هے که آپ مکّه میں ظهور فرمایئں گے ۔[2]

اور چاهنے والوں سے ان سے ملحق هونے کے بعد عراق اور پھر شام (سوریه) اس کے بعد بیت المقدس کی طرف جایئں گے اور اس کے بعد سبھی یورپی ممالک ، ترکی ، چین ، افغانستان اور دیگر تمام ممالک پر آپ کا قبضه هوگا اور پورے آﭩﮭ مهینه جنگ کے بعد حکومت عدل و انصاف قائم هوگی جس کے بعد عالمی سطح پر امن و امان قائم هو جائے گا [3] ۔ آپ (علیه السلام) کی حکومت کتنے دن رهے گی اس سلسله میں روایات میں اختلاف هے ۔

19 سال اور ﻜﭽﮭ مهینه ، 7 سال ، 40 سال اور  306 سال جس کا هر سال 20 سال یا 40 سال کے برابر هوگا اور آپ کی وفات یا شهادت کے 40 دن بعد قیامت آئے گی [4] ۔ اور زمین و آسمان تباه هو جا یئں گے ۔

 

کیا آپ (علیه السلام) کی حکومت کے بعد کو ئی فقیر نظر آئے گا ؟

جب حضرت مهدی (عج) ظهور فرمایئں گے تو زمین اپنے تمام خزانے امام (علیه السلام) کے حواله کردے گی اور فقیروں و ضعیفوں کا حق بھی ظالموں و دولتمندوں سے لے لیا جائے گا ، اس کے بعد عدل و انصاف سے ان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا یهاں تک که نه کوئی فقیر باقی ره جا ئے گا اور نه زکات کا کوئی مصرف هوگا ۔

امام صادق (علیه السلام) فرماتے هیں : ( دنیا عدالت کے قیام سے خوشحال هوگی آسمان سے رحمت کی بارش هوگی درخت اهنے میوے نمایاں کردیں گے اور زمین اپنے سبزوں کو باهر نکال کر اس پر رهنے والوں کے لیئے سجاوٹ کرے گی )[5] ۔

امام زمانه (عج ) منادی کو حکم دیں گے که لوگوں میں اعلان کردے که جسے بھی مال کی ضرورت هے وه آئے کوئی بھی نه آئے سوائے ایک آدمی جو کهے گا ((میں محتاج هوں )) تو امام مهدی (عج ) فمایئں گے جا ؤ خازن کے پاس اور کهو که مهدی (عج) نے حکم دیا هے که مجھے مال دے دو ۔ تو خازن کهے گا چادر لاؤ ، وه شخص چادر پھیلا کر اسے بھرے گا جونهی اپنے شانوں پر رکھے گا شرمنده هوکر اپنے آپ سے کهے گا : اس امت محمدی میں سب سے زیاده لالچی میں هی کیوں رهوں ، دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی اس برائی سے پاک کیوں نه رهوں ، اس کے بعد وه مال خازن کے سپرد کردے گا مگر وه قبول نهیں کیا جائے گا اور امام مهدی (عج) فرمایئں گے : ((هم جو عطا کرتے هیں اسے واپس نهیں لیتے ))[6] ۔

رسول اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) فرماتے هیں : ((لوگ ایسے کو تلاش کریں گے جو ان سے صدقه یا هدیه قبول کرے، اپنے مال کی زکات نکالیں گے لیکن اسے لینے والا کوئی نه ملے گا اس لیئے که الله کے فضل و کرم سے سب امیر هوئے هوں گے ))[7]

مزید  صاحب بهشت رضوان هونا ملائکه کی شفاعت کے ساتھـ کیسے سازگار هو سکتا هے؟

 

کیا امام زمانه (عج) کی حکومت هونے کے بعد سماج میں کوئی ظالم دکھائی دے گا ؟

حضرت امام زمانه (عج) کی حکومت کا معیار پوری دنیا میں صلح ، امن و امان اور عدل و انصاف قائم کرکے ، فساد و ظلم و جور اور هر طرح کی بربریت و جنایت کا خاتمه کرنا هے جیسا که هر نبی کا اهم مقصد بھی یهی تھا ، لیکن ان حضرات کو اور ان کے اوصیاء کو بھی اپنے زمانه میں اس حد تک کامیابی حاصل نهیں هوئی لیکن صلح و امنیت برقرار کرنا هر ایک کا منشور رهاهے اور پوری تاریخ میں هر پاک فطرت انسان ایسےایام کا ان عالی خصوصیات ساﭡﮭ منتظر رها هے ۔

چوں که خداوند عالم کے انبیاء و اوصیاء معصوم هیں اور کبھی بھی وعده خلافی نهیں کرتے هے اور نه هی بے وجه لوگوں کو امید دلا کر منتظر رکھتے هیں لهذا یه وعده بھی پورا هوگا وه بھی عالی شان طریقه سے ۔

بلکه اس آزادی کے دن کو انسان کی خلقت کا مقصد کها جا سکتا هے وه دن جس میں خدا کے فضل و کرم سے سب کے سب ایک هی امت بن کر توحید کے پرچم تلے قرار پایئں گے اور کفر و شرک و نفاق کا قلع و قمع هوجائے گا [8] ۔ اس بارے میں تصریح کرنے یا اشاره کرنے والی حدیثیں بهت زیاده هیں من جمله امام حسن عسکری (علیه السلام) اپنے فرزند (عج) سے فرماتے هیں : ((اے میرے بیٹے! گویا میں وه وقت دﭔﻜﮭ رهاهوں که جب خد اکی نصرت تمهارے شامل حال هے ، کام آسان هوگیا هے اور تمهاری عزت و عظمت اوج پر هے ۔ ۔ ۔ اس وقت حکومت حقه کی صبح هوگی اور باطل کی تاریکیاں تمام هوں گی خداوند عالم تمهارے هاتھوں ظالموں کی کمر توڑدے گا ۔ دین کے آداب واپس آجایئں گے سفیدی صبح دنیا کو منور کرے گی ایک کونے سے دوسرے کونے تک صلح اور امن و امان هوگا ۔ ۔ ۔  تمهارے دشمن ذلیل و رسوا هوں گے ، تمهارے دوست صاحب عزت اور کامیاب هوں گے اس روئے زمین پر جرائم پیشه ، ظالم ، منکر خدا، سرکش، باغی ، جارح و مخالف اور دشمنوں میں سے کوئی ایک بھی باقی نه رهے گا اس لیئے که جو خدا پر پھروسه کرتا هے اس کے لیئے خدا هی کافی هے یقیقناً خداوند عالم اپنے امر کو انجام تک پهنچائے گا اور اپنا وعده پورا کرے گا که بیشک خداوند عالم نے هر چیز کے لیئے ایک مقدر معین کی هے [9][10] ۔

مزید  اعلم فالاعلم کے کیا معنی هیں

 

کیا حضرت مهدی (عج) کی حکومت کے بعد کوئی گناه سر زد نهیں هوگا ؟

انسان سے گناه سر زد هونے کا سب سے اهم سبب ایک طرف مال دنیا کو جمع کرنے کی طمع و لالچ هے تو دوسری طرف مال دنیا کی ضرورت کا احساس هے ۔

جب انسان وافر مقدار میں دولت و ثروت سے مالامال هوجاتا هے اور سماج میں عزت مل جاتی هے اور اس کے نظریات الٰهی هوجاتے هیں اور دنیا کی قیمت اس کی نگاهوں میں بے قیمت هوجاتی هے اور یه یقین هوجاتا هے که الله کا وعده حق هے اور آخر کار پورا هوکر رهے گا ( چاهے دوسرے لوگ چاهیں یا نه چاهیں اور رکاوٹیں ڈالیں ) اگر انسان کو یه یقین هوجائے که قیامت هے حساب و کتاب هے جنت اور اس میں موجود چیزوں کا دنیا وما فیها سے کوئی مقابله نهیں کیا جا سکتا هے تو انسان کے گناه کرنے کا مقصد هی باقی نهیں ره جاتا ، خاص کر بعض روایتوں کی وجه سے اور بعض محققین کی دلیلوں کے سبب که شیطان کی عمر بھی آپ (علیه السلام) کے قیام کے ساﭡﮭ ساﭡﮭ ختم هوجائے گی اور وه ملعون بیت المقدس میں رسول اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے هاتھوں ذبح کیا جائے گا اور اسی کے ساﭡﮭ ساﭡﮭ اس کے وسوسه و غیره کا بھی خاتمه هوجائے گا [11] ۔

دوسری طرف سے دیگر بے شمار رکاوئیں جیسے عدل وانصاف کی همه گیر حکومت که جس کی عدالت سے رهائی ناممکن هے اور امن و امان کا ماحول اور عوام الناس کی طرف سے گناه و فساد کو قبول نه کرنا ، گناه کے سرزد هونے سے روکیں گے چوں که اس کی کوئی وجه باقی نهیں رهے گی اور مانع موجود هوگا لهذا کوئی گناه سرزد نه هوگا اس سلسله میں بھی بهت سی حدیثیں هیں ؛ من جمله : امام صادق(علیه السلام) اس وقت کی توصیف اس طرح فرماتے هیں : (( غیر شرعی روبط ، شراب خواری ، ربا خواری کا وجود ختم هو جائے گا ، لوگ عبادت و اطاعت میں مشغول هوجایئں گے امانتوں کی حفاظت کریں گے برے لوگوں کا وجود ختم هوجائے گا نیک اور صالح افراد باقی رهیں گے ))[12]

پیغمبر اکرم(صل الله علیه وآله وسلم) اس سچے وعده کے بارے میں فرماتے هیں : (( خداوندعالم حضرت مهدی (عج) کے ذریعه اس امت کی مشکلوں کو دور فرمائے گا بندوں کے دلوں کو اطاعت و عبادت سے مملو کردے گا اس کی عدالت همه گیر هوگی خداوند عالم اس کے ذریعه جھوٹ کا خاتمه کرے گا ، درندگی اور عیب جوئی کی صفت کو نابودکرکے غلامی کے طوق کو ان کی گردنوں سے اتار دے گا ))[13]

منابع:

1- قرآن کریم

2- امینی ، ابراهیم ، دادگستر جھان ، صص 338-447

3- حیدری کاشانی ، حسین ، حکومت عدل گستر ، صص225-301

4- خراسانی ، محمد جواد، مهدی منتظر(عج) ، صص273-188

5- کورانی ، علی ، عصر ظهور ، صص351-370

6- جمعی از نویسندگان ، عدل منتظر ، گفتار 1 ، 11

7- صافی گلپایگانی ، لطف الله ، منتخب الاثر

8- صافی گلپایگانی ، لطف الله ، امامت و مهدویت ، ج 3

9- کامل سلیمان ، روزگار رهائی ، ترجمه علی اکبر مهدی پور ، ج 1 و2

10- مجلسی ، بحار ، ج 51-52

11- طباطبائی ، محمد حسین ، تفسیر المیزان ، ج 14 ، صص160-175


مزید  نہج البلاغہ کی حکمت نمبر ۱۳۴ میں بیان کیا گیا ہے کہ عورتوں کی طرف سے ان کے شوہروں کی دوسری شادی پر راضی نہ ھونا، کفر شمار ھوتا ہے- چونکہ تقریبا تمام عورتوں میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے، اس لئے کیا وہ سب کافر و نجس ہیں؟

[1] ملاحظه هو : صافی گلپایگانی ، لطف الله ، نوید امن و امان (امامت و مهدویت) ج 3 ، صص42-28

[2] الزام الناصب ، ص189 ؛ غیبت نعمانی ، ص 165 ؛ بشارۃ الاسلام ،ص199 ؛ منقول از روزگار رهائی ، ج 1 ۔ ص478 ،ح585

[3] ملاحظه هو:روزگار رهائی ، ج 2 صص536 ،470 ؛ بحارالانوار ، ج52۔ صص309-392

[4] روزگار رهائی ، ج 2 ، ص 601-658 ؛ بحار ، ج 2 ،ص279-392

[5] بشارۃ الاسلام ، ص71 ، منقول از روزگار رهائی ، ص 639- ح882

 [6]منتخب الاثر ، ص 147 ؛ مسند احمد ، ج 3 ،ص37 ؛ الصواعق المحرقه ، ص164 ؛ ینابیع المودۃ، ص 135 ،ج 3 ، منقول از روزگار رهائی، ص642 ،ح894 ؛ نیز ص 596-598

[7] الزام الناصب ، ص 230 ، ؛ بشارۃ الاسلام ص256 ؛ روزگار رهائی ،ص598 ،ح 780

[8]  سوره هود /118-123

[9]  بحار،ج 5 ، ص 35 ؛ وفاۃ العسکری ،ص49 ؛ منقول از روزگار رهائی، ج 1 ، ص530-531؛نیز ص73 ،ح5 ؛ ص 625 ، ح 844

[10]  طلاق/3

[11]  ملاحظه هو : المیزان ، عربی ،ج 14 ، ذیل آیه 36 سوره حجر، ص160-161-175

[12]  منتخب الاثر ، ص474 ؛ الزام الناصب ص228 ؛ الملاحم و الفتن ، ص54 ، منقول از روزگار رهائی ، ج 2 ، ص600

[13]  بحار ، ج 51 ،ص 75 ؛ الملاحم و الفتن ، ص56 ؛ غیبت شیخ طوسی ، ص114 و ۔ ۔ ۔

تبصرے
Loading...