ابلیس {شیطان} کو کیوں آگ سے پیدا کیا گیا هے؟

0 0

پروردگار عالم حکیم مطلق هے اور اس کے تمام افعال حکمت کامله پر مبنی هیں- اس بنا پر تمام مخلوقات کو خداوند متعال کی مکمل حکمت پر پیدا کیا گیا هے اور خداوند متعال نے ان کی لیاقت کے مطابق انهیں بهترین صورت و حالت عطا کی هے[1]– شیطان کو آگ سے پیدا کرنا بھی خداوند متعال کی حکمت کے مطابق هے- شیطان، جنّات کے انواع میں سے ایک نوع قسم هے اور اسے آگ سے پیدا کیا گیا هے اور اس کا ایک لطیف اور نازک جسم هے- ایک کلی تقسیم بندی کے مطابق اجسام دو قسم کے هیں:

کثیف اجسام: حیوانات اور انسان، جیسی مخلوقات کے مانند اجسام، جو مٹی سے پیدا کئے گئے هیں- ان دو قسموں پر مشتمل اجسام حجم و مقدار کے حامل هوتے هیں، لیکن آپس میں بنیادی اختلاف رکھتے هیں که، ان کے اختلافات میں سے ایک یه هے کی شیطان، انسان کے لئے قابل دید نهیں هے، بلکه اپنی نزاکت و نفاست کی وجه سے هر شکل و صورت میں ظاهر هو سکتا هے اور جهاں چاهے جا سکتا هے- لیکن انسان، شیطان کے لئے قابل دید هے اور وه اپنی حالت و مکان کو فوری طور پر نهیں بدل سکتا هے، اور اس کی حرکت تدریجی هے-

شیطان کو آگ سے پیدا کرنے کی حکمت کو مندرجه ذیل نکات میں تلاش کیا جا سکتا هے:

۱۔ شیطان کا امتحان: شیطان کو آگ سے اور انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا هے- شیطان، چونکه آگ کو خاک سے برتر جانتا تھا، اس لئے اس نے اپنے آپ کو انسان سے برتر سمجھا اور اسی وجه سے خداوند متعال کے حکم کی نافرمانی کی- اس لحاظ سے شیطان کو آگ سے پیدا کرنے کا سب سے اهم فلسفه اور حکمت، اس کا امتحان لینا تھا که، کیا وه آگ سے پیدا کئے جانے کے سبب مغرور هوتا هے یا خداوند متعال کے حکم کی فرمانبرداری کرتا هے؟ کیونکه شیطان نے حضرت آدم علیه السلام کے لئے سجده نه کرنے اور خدا کے حکم کی نافرمانی کے سلسله میں دلیل کے طور پر اسی مطلب کو بیان کیا: “اس نے کها که میں ان سے بهتر هوں- تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا هے اور انهیں خاک سے بنایا هے[2]-“

۲۔ انسان کا امتحان: شیطان، انسان کا جانی دشمن اور اسے بهکانے والا هے، وه انسان کو اعتقادات کے بارے میں شک و شبهه میں ڈالتا هے اور اس کے اعمال و کردار میں فسق و عصیاں کی طرف دعوت دیتا هے- وه مکروفریب کا سرچشمه هے، اس طرح که باطل، جو کسی حقیقت پر مشتمل نهیں هوتا هے، کی حق کے طور پر جلوه نمائی کرتا هے- اس کا طریقه کار حیله اور فریب هے اور انسان کے اندر پنهان راستوں سے نفوذ کر کے اسے گمراه کرتا هے- شیطان چونکه جسم نازک رکھتا هے، اس لئے وه انسان کے باطن میں نفوذ کر سکتا هے- البته اس کا نفوذ کرنا انسان کے اختیار پر مبنی هے، یعنی خود انسان، شیطان کو اپنے دل میں جگه دیتا هے، ورنه اگر انسان خود نه چاهے تو شیطان اس میں کسی طرح سے نفوذ نهیں کر سکتا هے-

اگرچه انسان شیطان کو نهیں دیکھتا هے اور اس کی آنکھوں سے پنهان هے، لیکن انسان کو هوشیار رهنا چاهئیے اور اس قسم کے خطرناک دشمن سے بچنا چاهئیے- ” اے اولاد آدم؛ خبردار شیطان تمهیں بھی نه بهکا دے۔۔۔۔۔۔ اوه اور اس کے قبیله والے تمهیں دیکھه رهے هیں، اس طرح که تم انهیں نهیں دیکھه رهے هو[3]-” اور یه انسان کے لئے امتحان هے که اس قسم کے دشمن سے مواجه هے-


مزید  کیا شیعوں کے نزدیک بارهویں امام کی غیبت کا مسئله, پورے نظریه امامت کو زیر سوال قرار نهیں دیتا هے؟

[1] اگرچه هم ان کے فلسفه کو نهیں سمجھه سکتے هیں اور اپنے محدود علم کی وجه سے بهت سے امور کے فلسفه کو ادراک نهیں کر سکتے هیں-

[2] سوره اعراف/۱۲

[3] سوره اعراف/۲۷

تبصرے
Loading...