خیانت کے خطرات

آگ

خیانت اور اس کے خطرات

اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ ھمارے آج کے معاشرے میں جو فساد و انحراف پایا جاتا ھے اس کی مختلف علتیں ھیں لیکن جب ھم ان علل و اسباب کو تلاش کرتے ھیں جن کی وجہ سے معنوی افلاس ، اخلاقی پستی ، روحانی کمزوری جوھمارے معاشرے میں پیدا ھوئی ھے تو معلوم ھوتا ھے کہ اس درماندگی اور بد بختی کی سب سے بڑی علت لوگوں کے افکار و عقول پر او ر تمام شعبہ ھائے حیات پر ” خیانت “ کا غالب ھو جانا ھے ۔ معاشرے کے اندر خیانت کی عمومیت اور بتدریج معاشرے کی معنویت کو ختم کر دینے والا خطرہ تمام خطروں سے زیادہ ھے ۔ خیانت آئینہٴ روح کو تاریک بنا کر افکار انسانی کو گمراھی کے راستہ پر ڈال دیتی ھے ۔

 

شھوت پرستی کی زیادتی کی بنا ء پر یہ منحوس صفت انسان کے اندر جڑ پکڑتی ھے اور اس صفت کی وجہ سے انسان بجائے اس کے کہ اپنی ایمانی طاقت و عقلی قدرت سے استفادہ کرے یہ شیطانی صفت اس کو ذلت و پستی کے قبول کر لینے پر آمادہ کر دیتی ھے ۔

 

ھر انسان اپنے ماحول میں تما م چیزوں سے زیادہ دوسروں کا اعتماد حاصل کرنے کا محتاج ھے ۔یہ بھت ممکن ھے کہ ایک تاجر یا صنعت پیشہ انسان اپنی خیانت سے کافی دولت کمالے اور ایک مدت تک اس کی پردہ پوشی میں کامیاب بھی ھو جائے لیکن ایک نہ ایک دن اس کا پردہ فاش ھوکے رھتا ھے اور وہ اپنا عظیم ترین سرمایہ ( اعتبار) کھو بیٹھتا ھے اور اپنی پوزیشن خراب کر لیتا ھے ۔

 

خائن ھمیشہ مضطرب و پریشان رھتا ھے اور ھر چیز کے سلسلے میں بد بین رھتا ھے۔ اگر اس کی علت جاننا چاھتا ھے تو پھر اس کو اپنے نفس ھی سے سوال کرنا ھو گا  کیونکہ اگر آپ غور کریں گے تو پتاچلے گا کہ وہ اپنی اسی صفت سے فریاد ی ھے ۔

 

یہ بات بدیھی ھے کہ عمومی رفاہ اور فکری سکون صرف امن عامہ ھی سے حاصل ھو سکتا ھے ۔ آج کل لوگوں کے اندر جو قلق و اضطراب اور فقدان امن عامہ کا عمومی وجود ھے اس کی علت معاشرے کے اندر خیانت کا پھوٹ پڑنا ھے اور اس قوم کا بیڑھ غرق کر دینا ھے ۔ یاد رکھئے جھاں امن نھیں ھے وھاں آزادی نھیں ھے ۔ برادری نھیں ھے ، انسانیت نھیں ھے اور ھاں خیانت چند امور ھی میں منحصر نھیں ھے بلکہ اس کا مفھوم بھت وسیع ھے ۔ یہ تمام افعال انسانی پرمشمول ھے اگر آپ کسی قول یا فعل کے بارے میں تحقیق و تفتیش کریں گے تو اس کے حدود بھت واضح و معین پائیں گے۔ بس انسان جھاں ان حدوں سے آگے بڑھا اس نے امن عامہ کی سر حد کو پار کر لیا اور خیانت و باطل کے راستے میں داخل ھو گیا ۔

 

ایک بزرگ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ھوئے کھا : بیٹا تم فقیر و خالی ھاتہ ھو۔ دوسروں کو فریب و مکاری و خیانت سے مالدار ھوتے ھوئے دیکھتے رھو ۔ تم بغیر جاہ و مرتبے کے زندگی بسر کرو ۔ ان لوگوں کو عالی مناصب و بلند مرتبہ پر  چاپلوسی سے فائز ھوتے ھوئے دیکھتے رھو۔ تم درد و غم و نا کامی کے ساتھ زندگی بسر کرو اور دوسروں کو تملق و چاپلوسی کے ساتھ اپنے مقاصد میں کامیاب دیکھتے رھو ۔ تم متکبرین کی صحبت سے اجتناب کرو اور لوگوں کو دیکھتے رھو کہ وہ ایسے لوگوں کے تقرب کے لئے اپنی جان دینے کے لئے تیار ھیں ۔ تم لباس تقویٰ و فضائل تک پھونچو۔ا ب اگر بڑھاپے تک تمھارا دامن داغدار نہ ھوتو بڑی خوشی سے اپنے کو موت کے حوالہ کر دو ۔

جوانمردوں کی امانت داری ھی ان کی پونجی ھے ۔ امین آدمی پر ھر شخص اطمینا ن کرتا ھے اور اس کی زندگی بھت ھی درخشاں گزرتی ھے۔ امین آدمی ھر اعتبار سے امانت کا لحاظ کرتا ھے اور اس کے اعمال اس کے گھرے تجربوں کا نچوڑ ھوتے ھیں ۔ انھیں تجربوں کی روشنی میں وہ زندگی بسر کرتا ھے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.