کیا غدیر کے دن صرف اعلان ولایت کیا گیا؟

0 0

 بعض لوگوں نے اپنی تقاریر اور تحریروں میں بغیر کسی تحقیق اور تدبّر کے واقعہ غدیرکے بارے میں لکھا اور کہا کہ ( غدیر کا دن اعلان ولایت کا دن ہے ۔ )
اور اس بات کی اتنی تکرار کی گئی کہ قارئین اور سامعین کے نزدیک یہ بات ایک حقیقت بن گئی اور سب نے اس کو عقیدے کے طور پر قبول کر لیا۔

سطحی طرز تفکّر اور پیام غدیر:

واقعاً کیا غدیر کے دن صرف اعلان ولایت کیا گیا؟ مشہور اہل قلم و بیان کے قلم و بیان سے یہی بات ثابت ہوتی ہے جو غلط فہمی کا سبب بنی جسکے نتیجے میں لوگوں کو واقعہ غدیر سے صحیح اور حقیقی آگاہی حاصل نہ ہو سکی درست ہے کہ عید غدیر کے دن ( ولایتِ عترت ) کا اعلان بھی کیا گیا ،لیکن روز غدیر کو صرف ولایت کے اعلان سے ہی مخصوص نہیں کیا جاسکتا ۔
اگر کسی نے کم علمی ، عدم آگاہی یا اپنی سطحی سوچ کی وجہ سے اس قسم کا دعویٰ کیاہے اور اخباروں رسالوں اور مختلف جرائد میں ایسا لکھا گیا ہے تو کوئی بات نہیں ، لیکن اس کے بر طرف کرنے کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا غدیر کی حقیقت کو شائستہ اور دلنشین انداز میں بیان کر کے امت مسلمہ کی جان و دل کو پاک کیا جائے ۔

۱۔ ولایت کا اعلان غدیر سے پہلے:

 روز غدیر رسول اکرم [ص] کے اہم کاموں میں سے ایک کام اعلان ولایت تھا نہ صرف روز غدیر بلکہ آغاز بعثت سے غدیر تک ہمیشہ آپ [ص] حضرت علی ۔ کی( ولایت ) اور ( وصایت ) کے بارے میں لوگوں کو بتاتے رہے۔
اگر غدیر کا دن صرف اعلان ولایت کے لئے تھا توفرصت طلب منافقین اتنا ہاتھ پاؤں نہ مارتے اور پیامبر گرامی [ص] کے قتل کا منصوبہ نہ بناتے،کیونکہ آپ [ص] بارہا مدینہ میں ، اُحُد میں، خیبر میں ، بیعت عقبہ میں، بعثت کے آغاز پر، ہجرت کے دوران،غزوہ تبوک کے موقع پر اور کئی حساس موقعوں پر علی ۔ کی ولایت کا اعلان کر چکے تھے۔
اپنے بعد کے امام اور حضرت علی [ع] کے فرزندوں میں سے آنے والے دوسرے اماموں کا تعارف ناموں کے ساتھ کروا چکے تھے، مگر کسی کو دکھ نہ ہوا، کچھ منافق چہرے بھی وہاں موجود تھے لیکن انھوں نے کسی قسم کی سازش نہیں کی، کوئی قتل کا منصوبہ نہیں بنایا کیوں ؟ اس لئے کہ صرف اعلان ولایت انکے پوشیدہ مقاصد کے لئے کوئی خطرے والی بات نہیں تھی ،غدیر سے پہلے اعلان ولایت کے چند نمونے پیش خدمت ہیں :

 

۱۔ ولایتِ علی ۔ کا اعلان آغاز بعثت میں:

 حضرت امیر المؤمنین ۔ کی ولایت کا اعلان غدیر کے دن پرمنحصر نہیں بلکہ آغاز بعثت کے موقع پر ہو چکا تھا، سیرہ ابن ہشّام میں ہے کہ بعثت کو ابھی تین سال بھی نہ گذرے تھے کہ خدا وند عالم نے اپنے حبیب سے فرمایا :
( انْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاقْرَبينَ )سورہ شعراء / ۲۱۴
( اے رسول تم اپنے قرابت داروں کو عذاب الہی سے ڈراؤ )
اس آیت کے نازل ہو تے ہی پیغمبر [ص] کی اسلام کے لئے مخفیانہ دعوت تمام ہو گئی اور وہ وقت آگیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور قرابت داروں کو اسلام کی دعوت دیں تمام مفسّرین اور مؤرّخین تقریباً بالاتفاق یہ لکھتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر [ص] نے اپنے رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دینے کا بیڑہ اٹھا لیا ،اور یہی وجہ تھی کہ آپ [ص] نے حضرت علی ۔ کو گوشت اور شیر (دودھ) سے غذا بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ بنی ہاشم کے بڑے لوگوں میں سے چالیس یا پینتالیس لوگوں کو کھانے پر دعوت دیں(۱)
دعوت کی تیاریاں ہو گئیں ، سب مہمان مقررہ وقت پر آنحضرت [ص] کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، لیکن کھانے کے بعد ( ابو لہب) کی بیھودہ اور سبک باتوں کی وجہ سے مجلس درہم برہم ہو گئی اور کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہ ہو سکا ، تمام مدعوّین کھانا کھا کر اور دودھ پی کر واپس چلے گئے۔
حضوراکرم [ص] نے فیصلہ کیا کہ اسکے دوسرے دن ایک اور ضیافت کا انتظام کیا جائے اور ایک بارپھر ان سب لوگوں کو دعوت دی جائے ، رسولِ خدا [ص] کے حکم سے حضرت علی ۔ نے ان لوگوں کو دوبارہ کھانے اور آنحضرت [ص] کے کلمات سننے کی دعوت دی سارے مہمان ایک مرتبہ پھر مقررہ وقت پر حاضر ہو گئے ، کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد جناب رسولِ خدا نے فرمایا:

( جو اپنی اُمّت کا حقیقی اور واقعی راہنما ہوتا ہے وہ کبھی ان سے جھوٹ نہیں بولتا اس خدا کی قسم کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں ، میں اسکی طرف سے تمہارے لئے اور سارے جہان والوں کے لئے بھیجا گیا ہوں ہا ں اس بات سے آگاہ ہو جاؤ کہ جس طرح سوتے ہو اس ہی طرح مرجاؤگے ، اور جس طرح بیدار؛ ہوتے ہواس ہی طرح قیامت کے دن زندہ ہو جاؤ گے اعمال نیک بجا لانے والوں کو جزائے خیر اور بُرے اعمال و الوں کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ،نیک اعمال والوں کے لئے ہمیشہ رہنے والی جنت اور بدکاروں کے لئے ؛ ہمیشہ کے لئے جہنّم تیّا ر ہے میں پورے عرب میں کسی بھی شخص کو نہیں جانتا کہ جو کچھ میں اپنی امّت کے لئے لایا ہوں اس سے بہتر اپنی قوم کے لئے لایا ہو ؛جس میں بھی دنیا وآخرت کی خیر اور بھلائی تھی میں تمہارے لئے لے کر آیا ہوں میرے خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو اسکی وحدانیّت اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دوں۔)
اسکے بعد فرمایا :
( وَإِنَّ اﷲَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیّاً إِلَّا جَعَلَ لَه مِنْ اهلِه اخاً وَ وَزِیْراً وَ وٰارِثاً وَوَصِیََّاَ خَلِیْفَة فیٖ ا هلِه فَا یُّکُمْ یَقُوْمُ فَیُبٰایِعْنیٖ عَلیٰ انَّه اخیٖ وَوٰارِثی وَ وَزِیْریٖ وَ وَصِیّٖ وَیَکُوْنُ مِنّیٖ بِمَنْزِلَة هارُوْنَ مِنْ مُوْسی إِلَّا انَّه لَا نَبِیّ َبَعْدیٖ)
بتحقیق خدا وند عالم نے کوئی نبی نہیں بھیجا کہ جسکے قریبی رشتہ داروں میں سے اس کے لئے بھائی ، وارث ، جانشین ، اور خلیفہ مقرر نہ کیا ہو پس تم میں سے کون ہے جوسب سے پہلے کھڑا ہو اور اس امر میں میری بیعت کرے اورمیرا بھائی ، وارث ،وصی اوروزیر بنے تو اسکا مقام اور منزلت میری نسبت و ہی ہے جو موسیٰ کی نسبت ہارون کی تھی فرق صرف اتناہے کہ میرے بعد کوئی پیامبر نہیں آئے گا ۔) (2)
آپ [ص] نے اس جملے کو تین بار تکرار فرمایا :ایک اور روایت میں ہے کہ فرمایا :
(فَایُّکُمْ یُوَازِرُنیٖ عَلیٰ هذَاالْامْرِ؟ وَا نْ یَکُوْنَ اخی وَوَصیّی وَخَلِیْفَتیٖ فِیکُمْ؟)(3)
( پس تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میری مدد کرے اور یہ کہ وہ تمہارے درمیان میرا بھائی ، وصی اور خلیفہ ہو گا؟ ) آنحضرت [ص] نے یہ جملہ ارشاد فرمانے کے بعد کچھ دیر توقّف کیا تاکہ دیکھ سکیں کہ ان لوگوں میں سے کس نے انکی دعوت پر لبّیک کہا اور مثبت جواب دیا؟سب لو گ سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے کہ اچانک حضرت علی ۔ کو دیکھا( جنکا سن اس وقت ۱۵سال سے زیادہ نہ تھا۔ ) کہ وہ کھڑے ہوئے اور سکوت کو توڑتے ہوئے
پیغمبر [ص] کی طرف رخ کر کے فرمایا: (اے خدا کے رسول [ص]!میں اس راہ میںآپکی مدد کروں گا ۔)
اسکے بعد وفاداری کی علامت کے طور پر اپنے ہاتھ کو جناب ختمی مرتبت [ص] کی طرف بڑھا دیا ، رسولِ خدا [ص] نے بیٹھ جانے کا حکم دیا ؛ اور ایک بار آپ [ص] نے اپنی بات دہرائی،پھر حضرت علی ۔ کھڑے ہوئے اور اپنی آمادگی کا اظہار کیا ،اس بار بھی آپ [ص] نے بیٹھ جانے کا حکم دیا ؛تیسری دفعہ بھی حضرت علی ۔ کے علاوہ کوئی کھڑانہ ہوا،اس جماعت میں صرف حضرت امیرُالمؤمنین ۔ تھے جو کھڑے ہوئے اور آنحضرت [ص] کے اس مقدّس ہدف کی حمایت اور پشت پناہی کا کھلا اظہار کیا اور فرمایا:
( یا رسول اﷲ [ص] میں اس راہ میں آپکا مدد گار و معاون رہونگا۔ )
آنحضرت [ص] نے اپنا دست مبارک حضرت علی ۔ کے دست مبارک پر رکھا اور فرمایا: ’’إِنَّ هذَ ا ا خی وَ وَ صیّ وَ خَلِیْفَتی عَلَیْکُمْ فَاسْمَعُوْا لَه وَاطِیْعُوْه .‘‘
بے شک یہ علی ۔ تمہارے درمیا ن میرا بھائی ،وصی اور جانشین ہے اسکی بات سنو اور اسکی اطاعت کرو، پیغمبر [ص] کے اپنوں نے اس موضوع کو بہت سادہ اور عام سمجھا اور یہاں تک کہ بعض نے تو مذاق اڑا یا اور جناب ابوطالب۔ سے کہا آج کے بعداپنے بیٹے علی ۔ کی بات غور سے سنو اور اسکی اطاعت کرو۔) لہٰذا ولایت کا اعلان ،رسول اﷲ [ص] کی بعثت کے ۳سال بعداور اسلام رائج ہوتے وقت ہی ہو گیا تھا اور غدیرخُم سے پہلے ہی آنحضرت [ص] کے قرابت داروں اور بزرگانِ قریش کے کانوں تک پہنچ گیا تھا ۔

مزید  حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی چالیس حدیثیں 

 

۲۔ جنگ تبوک کے موقع پر اعلان ولایت :

 (حدیثِ منزلت ) ۹ ؁ ہجری میں آنحضرت [ص] نے تبوک کی طرف لشکر کشی فرمائی ، چونکہ یہ لشکر کشی بہت طولانی تھی اور آپ [ص] کو اسلامی حکومت کے دارُالخلافہ سے بہت دور شام کی سرحدوں تک جانا تھا، اس امر کی ضرورت تھی کہ ایک قدرت مند اور بہادر مرد مدینہ میں آپ [ص] کا جانشین ہو ؛تاکہ حکومت کے مرکزاور صدر مقام پر امن و امان کی فضا بحال رہے اس لئے حضور اکرم [ص] نے بہتر یہ سمجھا کہ حضرت علی ابن ابی طالب ۔ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرّر کریں ۔
آپ [ص] کی تبوک کی طرف روانگی کے فوراً بعد ہی منافقوں نے شہر مدینہ میں چر چا شروع کردیا کہ( نعوذباﷲ) رسولِ خدا [ص] حضرت علی ابن ابی طالب ۔ سے ناراض ہیں اور اب ان سے محبّت نہیں کرتے ،اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اپنے ساتھ لے کر نہیں جا رہے، یہ بات حضرت علی ۔ پر گراں گذر ی ا ور آپ ۔اس کو برداشت نہ کر سکے اس لئے تبوک کے راستے میں پیغمبر [ص] کی خدمت میں پہنچے اور عرض کی :
یا رسول اﷲ [ص] یہ لوگ ایسی ایسی بات کر رہے ہیں حضرت ختمی مرتبت [ص] نے فرمایا :
( انْتَ مِنِّیْٖ بمنزِلَة هارُوْنَ مِن مُوْسیٰ ، إِلَّا انَّه لا نَبِیَّ بَعْدیٖ )
اے علی ۔! تمہاری نسبت میرے ساتھ ایسی ہی ہے جیسے ہارون ۔ کی موسیٰ ۔کے ساتھ تھی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ )(4)
یعنی : تمہیں اس لئے مدینہ میں رہنا ہے کہ جب بھی موسیٰ اپنے پروردگار کے امر کی بجاآوری کے لئے جاتے تھے ،تواپنے بھائی کو اپنی جگہ پر بٹھا کرجاتے تھے۔
( وَ قٰالَ مُوسیٰ لِا خِیْه ها رُوْنَ أُخْلُفْنیٖ فیٖ قَوْمیٖ وَ اصْلِحْ ولاَ تَتَّبِع سَببلَ الْمُفْسِدِیْن )(5)

اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا : میری اُمّت میں میرے جانشین رہو ، اور انکی اصلاح کرنااور مفسدین کی راہ پر مت چلنا، مذکورہ حدیث میں بھی واقعہ غدیر سے پہلے حضرت امیرُالمؤمنین ۔ کی وصایت و ولایت کا اعلان ہو چکا تو پھر کیا ضرورت تھی کہ اتنے تپتے ہوئے صحرا میں صرف ولایت کے اعلان کے لیے لوگوں کو روکا جائے ۔

 

۳۔ حضرت علی ۔کے رہبر ہونے کا اعلان غدیر سے پہلے:

لفظِ( یعسوب ) کے معنیٰ رئیس ، بزرگ اور ا سلام کے سرپرست کے ہیں ۔(6)
رسولِ اکرم [ص] نے حضرت علی ۔ کے بارے میں کچھ اس طرح ارشا د فرمایا !
( یٰا عَلِیُّ إِنَّکَ سَیِّدُ الْمُسْلِمیْنَ وَیَعْسُوْبُ الْمُؤمِنیْنَ وَإِمٰامُ الْمُتَّقیْنَ وَ قٰا ءِدُالْغُرِّالْمُحَجَّلیْنَ)(7)
اے علی ۔ ! تم مومنین کے بزرگ اور رہبر ہو اور پرہیز گاروں کے امام ہو اور با ایمان عورتوں کے رہبر ہو ) جنابِ امیرالمؤمنین نے ارشاد فرمایا :( انَا یَعْسُوْبُ الْمُؤْ مِنیْنَ وَ الْمٰالُ یَعْسُوْبُ الْفُجَّارِ)ابنِ ابی الحدید امیرالمؤمنین کے کلام کی شرح کرتے ہوئے لکھتا ہے ! یہ کلمہ خدا کے رسول [ص] نے امام علی ۔ کے بارے میں ارشاد فرمایا:ایک بار ’’ انْتَ یَعْسُوْ بُ الدّٖیْن‘‘ کے لفظوں کے ساتھ اور دوسری بار’’انْتَ یَعْسُوْبُ الْمُؤْمِنیْنَ ‘‘ کے لفظوں کے ساتھ، اور ان دونوں کے ایک ہی معنیٰ ہیں گویا امیرُالمؤمنین ۔ کومؤمنین کا رئیس اور سیّد و سردار قرار دیا ہے (8) نیز
اپنی شرح کے مقدمہ میں لکھتاہے : اہل حدیث کی روایت میں ایک کلام نقل ہوا ہے جسکے معنیٰ امیرُالمؤمنین کے ہیں،اور وہ یہ ہے کہ فرمایا:
’’ انْتَ یَعْسُوْبُ الدّٖیْنِ وَالْمٰالُ یَعْسُوْبُ الظُّلْمَة .‘‘اے علی ۔ !تم دین کے رہبر اور مال گمراہوں کا رہبر ہے ) ایک دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا :
ہٰذٰا یَعْسُوْبُ الدیْنِ ( یہ علی ۔ دین کے رہبر ہیں ) ان دونوں روایتوں کو احمد بن حنبل نے اپنی کتاب ( مسند) میں اور ابو نعیم نے اپنی کتاب حلیۃ الاو لیاء میں نقل کیا ہے ( 9)
یاد رہے کہ یہ فضائل اور مناقب امام علی ۔ کے ساتھ مخصوص ہیں اور منحصر بہ فرد ہیں ،انکی خلافت کے دلائل میں سے ہیں اور واقعہ غدیر سے پہلے بیان کئے جاچکے ہیں ۔

 

۴۔حضرت علی ۔ کی امامت کا اعلان :

 حدیث اعلان ولایت حضرت امیرُالمؤمنین ۔ کی ایک ایسی فضیلت ہے کہ جو آپ ۔ کی ذات سے مخصوص ،منحصر بہ فرد اور آپ ۔ کی خلافت اور امامت کے دلائل میں سے ہے ، ابن عبّاس نقل کرتے ہیں کہ رسولِ خدا [ص]نے حضرت علی ۔ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا: یا علی ۔ ’’انْتَ وَلِیُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدٖیْ وَمُؤْمِنة .‘‘(10)
آپ میرے بعد ہر مؤمن مرد و زن کے ولی اور رہبر ہیں ) یہ حدیث بھی غدیر خُم کے اہم واقعہ سے پہلے رسولِ اکرم [ص] کی جانب سے صادر ہوئی سب لوگوں نے اسکو سنا بھی تھا اورحفظ بھی کر لیا تھا۔

 

۵ ۔ پرہیزگا روں کے امام حضرت علی ۔ :

رسولِ خدا [ص] سے نقل ہوا ہے کہ
(أُ وْحِیَ إِلِیَّ في ثَلٰاثٍ،انَّه سَیَّدُالْمُسْلِمیْنَ وَإِمٰامُ الْمُتَّقٖیْنَ وَقٰاءِدُ الْغُرِّالْمُحَجَّلیْنَ ) رسولِ خدا [ص] نے فرمایا:
تین بار حضرت علی ۔ کے بارے میں مجھ پر وحی نازل ہوئی : علی ۔ مسلمانوں کے سردار ، پرہیزگاروں کے امام اور با ایما ن خو اتین کے رہبر ہیں(11) اس طرح واضح اور روشن انداز میں ولایت کا اظہار بھی واقعہ غدیر سے پہلے ہو چکا تھااور کسی سے پوشیدہ نہ تھا ۔

 

۶۔ علی ۔ امیرُالمؤمنین :

ایک اور بہت واضح اور روشن حقیقت یہ ہے کہ رسولِ گرامی اسلام [ص] نے واقعہ غدیر سے پہلے حضرت علی بن ابیطالب ۔ کو ( امیرُالمؤمنین )کا لقب دیا جوکہ حضرت علی ۔ کی امامت اور خلافت کی حکایت کرتا ہے اور یہ لقب آپ ۔ کی ذات اقدس کے ساتھ مخصوص ہے۔
انس بن مالک : ا نس بن مالک نے نقل کیا ہے کہ میں جناب رسولِ خدا [ص] کا خادم تھا ؛ جس رات آنحضرت [ص] کو اُمِّ حبیبہ کے گھرمیں شب بسر کرنا تھی ، میں آنحضرت [ص] کےلئے وضوء کا پانی لے کر آیا تو آپ نے مجھ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :’’یا انَسُ یَدْ خُل عَلَیْکَ السّٰاعَة مِن هذاالباب امیرالْمؤمِنیْنَ وَخَیْرالْوَصِیّیْن ، ا قْدَمُ النّٰاسَ سِلْماً وَ ا کْثِرُ همْ عِلْماً و ا رْ جَحُهم حِلْما‘‘
اے انس ! ابھی اس دروازے سے امیرالمؤمنین و خیر الوصیّین داخل ہونگے؛ جو سب سے پہلے اسلام لائے جنکا علم سب انسانوں سے زیادہ ہے؛ جو حلم ا ور بردباری میں سب لوگوں سے بڑھ کر ہیں)(۱) انس کہتے ہیں کہ! میں نے کہا کہ خدایا کیا وہ شخص میری قوم میں سے ہے؟ ابھی کچھ دیر نہ گذری تھی کہ میں نے دیکھا علی بن ابیطالب ۔ دروازے سے داخل ہوئے جبکہ رسولِ خدا [ص] وضو کرنے میں مشغول تھے ،آپ [ص] نے وضوکے پانی میں سے کچھ پانی حضرت علی ۔ کے چہرہ مبارک پرڈالا۔
نقل شیخ مفید: ایک اور روایت میں شیخ مفید بہ سند خود ابن عبّاس سے نقل کرتے ہیں : رسولِ خدا [ص] نے اُمِّ سلمیٰ سے فرمایا :
(إِسْمَعیٖ وَ إشْهد ٖیْ هذا ؛ عَلِیُّ ا میْرُالْمُؤْ مِنیْنَ وَ سَیَّدُ الْوَ صِیّّیْنَ)
( اے امّ سلمیٰ میری بات سنو اور اسکی گواہ رہنا کہ یہ علی[بن ابیطالب ۔]مؤمنوں کا امیراوروصیّوں کا سردار ہے۔ )
نقل ابن ثعلبہ : شیخ مفید ؒ تیسری روایت میں بہ سند خود معاویۃبن ثعلبہ سے نقل کرتے ہیں کہ ( ابو ذر سے کہا گیا کہ وصیّت کرو۔ ۱۔ ارشاد ، ص ۲۰ : شیخ مفید ابن مالک سے نقل کرتے ہیں ۔ ا بوذرنے کہا:میں نے وصیّت کردی ہے ۔
انہوں نے کہا: کس شخص کو؟
ابوذر نے کہا :امیرُالمؤمنین ۔ کو،؟
انہوں نے کہا :کیا عثمان بن عفّان کو؟
ابوذر نے کہا: نہیں امیرُالمؤمنین علی بن ابیطالب ۔ کو جنکے دم سے زمین ہے اور جواُمّت کی تربیت کرنے والے ہیں ۔ )
نقل بریدۃ بن اسلمی :برید ہ بن خضیب اسلمی کی خبر جو علما ء کے درمیان مشہور ہے بہت سی اسناد کے ساتھ (کہ جنکا ذکر کلام کو طولا نی کرے گا ) بُریدہ کہتا ہے کہ: جناب رسولِ خدا [ص] نے مجھے اور میرے ساتھ ایک جماعت ( ہم لوگ سات افراد تھے ان میں سے منجملہ ابو بکر ،عمر ، طلحہ ، زبیر تھے کو حکم دیا کہ: ’’سَلِّمُوا عَلیٰ عَلِیٍّ بِا مْرَۃِ الْمُؤْمِنٖیْنَ‘‘ علی ۔ کو امیر المؤمنین کے کلمہ کے ساتھ سلام کیا کرو) ہم نے پیغمبر [ص]کی حیات اور ان کی موجودگی میں ا ن کو یا امیر المومنین کہکر سلام کیا۔(12)
نقل عیّاشی: عیّاشی اپنی تفسیر میں نقل کرتا ہے کہ ایک شخص امام صادق ۔ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:( اَلسَّلاٰمُ عَلَیْکَ یٰا امٖیْرَالْمُؤمِنٖیْن) امام صادق ۔ کھڑے ہوگئے اور فرمایا :یہ نام امیرُالمؤمنین علی ۔ کے علاوہ کسی اور کے لئے مناسب نہیں ہے اور یہ نام خدا وند عالم کا رکھا ہوا ہے ا س نے کہا کہ آپکے امامِ قائم کو کس نام سے پکارا جاتا ہے ؟ا مام صادق ۔ نے فرمایا :
(السَّلاٰمُ عَلَیْکَ یٰا بَقْیَة اﷲِ ،السَّلاٰمُ عَلَیْکَ یَابنَ رَسُوْل اﷲِ )(13)
اور امام باقر ۔ نے فُضیل بن یسار سے فرمایا:
( یٰا فُضَیْلُ لَمْ یُسَمَّ بِها وَاﷲِ بَعْدَ عَلِیٍّ امیْرِالْمُؤْمِنیْنَ إِلا مُفٰتِرٍ کَذّٰابٌإِلیٰ یَوْمَ النّٰاسِ هذٰا )(14)
اے فضیل !خدا کی قسم علی ۔کے علاوہ کسی کو بھی اس نام (امیر المؤمنین )سے نہیں پکارا گیا اور اگر کسی کو پکارا گیا تو وہ خائن اور جھوٹا ہے۔ )
واقعہ غدیر سے قبل حضور اکرم [ص] سے اتنی فراوان اور وسیع روایات و احادیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ روز غدیر ( ولایت )کے اعلان کے لئے مخصوص نہیں تھا ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اور اہم چیز حقیقت کے روپ میں سامنے آئی اوروہ حقیقت حضرت علی ۔ کیلئے لوگوں کی بیعت عمومی تھی ،کیونکہ اگر لوگوں کی عمومی بیعت نہ ہو توامام ۔ کی قیادت و راہنمائی قابل اجرا اور قابل عمل نہ رہے گی ۔

مزید  ناامیدی کفر ہے

 

۷۔اعلان ولایت بوقت نزول وحی:

جب آنحضرت [ص] پر وحی کا نزول ہو رہا تھا تو آپ [ص] کی طرف سے حضرت علی ۔ کی امامت اور وصایت کا بھی اعلان ہوا۔ امیرُالمؤمنین ۔ نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب وحی نازل ہو رہی تھی تو میں نے شیطان کی گریہ وزاری کی آواز سنی اور پیغمبر [ص] سے اس کی وجہ
پوچھی ؛ جناب رسولِ خدا [ص] نے میرے سوال کے مناسب جواب کے ساتھ میری وصایت اور ولایت کو بھی بیان فرمایا۔)
(15وَلَقَدْ کُنْتُ اتَّبِعُه أتِّبٰاعَ الْفَصیْلِ اثَرَ أُمِّه * یَرْفَعُ لیٖ فیٖ کُلِّ یَوْمٍ مِنْ إِخْلَاقِه عَلَماً وَ یَأْ مُرُنیٖ بِا لْإِ قْتِدَاءِ بِه وَ لَقَدْکٰان یُجٰاوِرُ فیٖ کُلِّ سَنَة بِحِرٰاءَ فَارٰاه ، وَلٰا یَرٰاه غَیْرٖی؛ وَلَمْ یَجْمَع بَیْتٌ وَاحِدٌ یَوْمَئذ فیٖ الْإِ سْلٰامِ غَیْرَرَسُوْلِ اﷲِ [ص] وَخَدٖیْجَة وَ انٰا ثٰالِثُهمٰا ارَیٰ نُوْرَ الْوَحْیِ وَ الرِّسٰالَة ، وَ اشُمُّ رٖیْحَ النُّبُوَّة وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّة الشَّیْطٰانِ حیْنَ نَزَل الْوَحْیُ عَلَیْه فَقُلْتُ؛ یٰا رَسُوْلَ اﷲِ [ص] مٰا هذِه الرَّنَّة ؟ فَقٰالَ! ( هذَا الشَّیْطٰانُ قَدْ ایِسَ مِنْ عِبٰادَ تِه إِنَّکَ تَسْمَعُ مٰا اسْمَعُ،وَتَرَیٰ مٰا ا رَیٰ ، إِلّٰاانَّکَ لَسْتَ بِنَبِیٍّ ،وَلٰکِنَّکَ لَوَزِیْرٌ وَ إِنَّکَ لَعَلیٰ خَیْرٍ.)) (۱)
میں ہمیشہ ؛پیغمبرگرامی [ص] کے ساتھ تھا جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے ساتھ ہوتا ہے، پیغمبر [ص] ہر روز اپنے پسندیدہ اخلاق میں سے ایک نمونہ مجھے دکھاتے اورمجھے اپنی اقتدا کا حکم دیتے تھے ، آپ [ص] سال کے کچھ مہینے غار حرا میں بسرکرتے تھے صرف میں ہی ان سے ملاقات کرتاتھا ،اور میرے علاوہ کوئی بھی ان سے نہیں ملتا ان دنوں کسی مسلمان کے گھر میں را ہ نہ تھی؛ سوائے خانہ رسولِ خدا [ص] کے جنابِ خدیجہ علیہا سلام بھی وہاں ہوتیں اور میں تیسرا شخص ہوتا تھا ، میں نور وحی اور رسالت کو دیکھتا اور بوئے نبوّت کو محسوس کرتا تھا۔

* ( اونٹنی کا بچہ ہمیشہ اسکے ساتھ ہے )یہ ایک ضرب المثل ہے ، جب یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ دو لوگ ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں تو ،اسطرح کہتے تھے۔ جب آنحضرت [ص] پر وحی نازل ہو رہی تھی تو میں نے شیطان رجیم کی آہ و زار ی کی آوازسنی ، جنابِ رسولِ خدا [ص] سے دریافت کیا کہ یہ کس کی آہ و زاری کی آواز ہے ؟ پیغمبرگرامی ؐ نے ارشاد فرمایا :
یہ شیطان ہے جو اپنی عبادت سے نا اُمید ہو گیا ہے ، اور ارشاد فرمایا: یاعلی ۔ ! جو کچھ میں سنتا ہوں آپ سنتے ہیں اورجو کچھ میں دیکھتا ہوں آ پ دیکھتے ہیں لیکن فرق اتنا ہے کہ آپ نبی نہیں بلکہ آپ میرے وزیر ہیں اور راہ خیر پر ہیں (16)

 

۸ ۔ حدیث ثقلین :

 پیغمبر اسلام [ص] غدیر سے بہت پہلے معروف حدیث (ثقلین )میں بھی حضرت علی ۔اور دوسرے اءِمّہ معصومین علیہم السّلام کی امامت کا واضح اعلان کر چکے تھے ، ارشاد فرمایا: ’’ إِنِّیْ تٰا رِکٌ فیْکُمُ الثِّقَلَیْن کِتٰابَ اﷲِ وَ عِتْرَتیْ‘‘ میں تمہارے درمیان’’ دو گراں قدر‘ چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں؛ ایک کتاب خدا اور دوسری اپنی عترت ۔)

مزید  استقامت اور تقوی کا نمونہ

…………..

(۱)۔مجمع البیان ج ۷،ص ۲۶۰، و کامل ابن اثیر ج ۲، ص ۶۱، و تفسیر کشّاف ج ۳ ،ص ۳۴۱ ، و تفسیر کبیر امام فخر رازی ج ۲۴، ص ۷۳ ۱ ، و تاریخ دمشق ج ۱، ص ۸۷ ، و الدرالمنثور ج ۵، ص ۹۷ ، کقایۃ الطالب ص ۲۰۵،
(2)۔مجمع البیان ، ج ۷ ،ص ۲۰۶ / تفسیر المیزان ، ج ۱۵، ص ۳۳۵ / تاریخ دمشق ابن عساکر ، ج ۱۹، ص ۶۸ المنا قب فی ذرّیّۃِ اطائب ۔
3)۔حیاتِ محمّد [ص] ، ڈاکٹر ھیکل ص ۱۰۴ / کامل ابن اثیر ، ج ۲ ،ص ۶۳کفایۃالمطالب ، ص ۲۵۰ و تاریخ مشق ج ۱، ص ۸۹/ شرح ابن ابی الحدید ، ج ۳ ۱ ،ص ۲۱۱۔
(4)۱۔ معانی الاخبار ،ص۷۴ ، جابر ابن عبداﷲ اور سعد ابن ابی وقّاص سے نقل کیا ہے۔
۲۔ مناقب آلِ ابن طالب ۔ ، ج۳، ص ۱۶
۳۔ صحیح بخاری ، ج۵ ،ص ۲۴ ، ( باب مناقب علی )
۴۔ صحیح مسلم ، ج۲، ص۳۶۰ ، ( باب فضائل علی ۔ )
۵۔ الغدیر ،ج۱ ،ص ۱۹۷ ،ج۳، ص۱۹۹
۶۔ کتاب احقاق الحق ، ج۲۱ ،ص ۲۶ و ۲۷
۷۔ الغدیر ،ج۱ ،ص ۱۹۷ ، ج۳ ،ص۱۹
۸۔اسنی المطالب فی مناقب علی بن ابیطالب ۔ : شمس الدین ابوالخیر جزری
۹۔الضوء اللّامع ، ج۹ ،ص ۲۵۶
۱۰۔البدر الطالع ،ج۲، ص ۲۹۷
(5) سورہ اعراف/۱۴۲
(6)۔ لغت میں ہے کہ ( الیعسوب ؛ الرّئیس الکبیر ، یقال ھو یعسوب قومہٖ) اصل میں شہد کی مکھیوں کے امیر اور نر کو (یعسوب ) کہتے ہیں، جیسا کہ اہل لغت کہتے ہیں ( الیعسوب ؛ ذَکَرُ النَّحْلِ وامیرھا ) ۔
(7)۔بحار الانوار ، ج۳۸ ص ۱۲۶ تا ۱۶۶ تقریباً ۱۰/روایتیں شیعہ اور سنّی سے اس سلسلے میں نقل ہوئی ہیں ۔
(8) ۔ شرح ابن ابی الحدید ، ج ،۱۹ص ۲۲۴ حکمت ۳۲۲ کے ذیل میں
(9)۔ شرح ابن ابی الحدید ، ج۱ص ۱۲ : مقدمہ کنز العمال ، حاشیہ مسند احمد
(10)۔ تلخیص مستدرک ، ج۳، ص ۳۴ ۱ : ذہبی مسندِ حنبل ، ج۱ص ۳۳۱ : احمد ابن حنبل
۳۔صحیح ترمذی ، ج۵ص ۶۳۲ (باب مناقب علی بن ابی طالب ۔ ) : ترمذی
۴۔کنزالعمال حاشیہ مسند احمد
۵۔ الغدیر ، ج۳ ص ۲۱۵تا ۲۱۷ : علّامہ امینی ؒ
۶۔ مناقب ابن شہر آشوب ، ج۳ ص ۴۶تا۵۲
۷۔مستدرک حاکم ، ج۳ ص ۱۳۴
(11)۔مستدرک صحیحین ،ج۳، ص ۱۳۶ و صحیح بخاری ، مختصر کنزالعمال حاشیہ مسند احمد ،ص ۳۴ و المراجعات ،ص۱۵۰
(12)۔ارشادِ شیخ مفید ؒ ، ص ۲۰ : شیخ مفید ؒ و بحارُالانوار ، ج۳۷ ،ص ۲۹۰ تا ۳۴۰ : علامہ مجلسی ؒ ، الغدیر ج۸ ،ص ۸۷۔ ج۶، ص ۰ ۸ : علّامہ امینی ؒ و حلیۃ الا ولیاء ، ج ۱، ص ۶۳ : ابو نعیم
(13)۔ تفسیر عیّاشی ، ج ۱، ص ۲۸۶ ( سورہ نساء کی آیت /۱۱۷ کے ذیل میں )
(14)۔بحار الانوار ، ج۳۷، ص ۳۱۸
(15۱)۔ خطبہ ، ۱۹۲ / ۱۱۹ ، نہج البلاغہ
( 16) ۔اس خطبے کے اسناد و مدارک اور ( معجم المفہرس ) مؤلّف درج ذیل ہے :
۱۔کتاب الیقین ، ص ۱۹۶ : سیّد ابن طاؤوس ( متوفیٰ ۶۶۴ ؁ ھ )
۲۔فروع کافی ، ج۴، ص ۱۹۸ و ۱۶۸ / ج۱، ص۲۱۹ : مرحوم کلینی ؒ ( متوفیٰ ۳۲۸ ؁ ھ )
۳۔ من لا یحضرہ الفقیہ ، ج۱، ص ۱۵۲ : شیخ صدوق ؒ ( متوفیٰ ۳۸۰ ؁ ھ )
۴۔ربیع الابرار ، ج۱، ص ۱۱۳ : زمخشری ( متوفیٰ ۵۳۸ ؁ ھ )
۵۔اعلام النبوۃ ، ص ۹۷ : ماوردی ( متوفیٰ ۴۵۰ ؁ھ )
۶۔بحار الانوار ، ج۱۳ ،ص ۱۴۱ / ج۶۰ ،ص ۲۱۴ : مر حوم مجلسی ؒ ( متوفیٰ ۱۱۱۰ ؁ ھ )
۷۔ منہاج البراعۃ ، ج۲،ص۲۰۶ : ابن راوندی ( متوفیٰ ۵۷۳ ؁ ھ )
۸۔ نسخہ خطی نہج البلاغہ ، ص ۱۸۰ : لکھی گئی ۴۲۱ ؁ھ
۹۔ نسخہ خطی نہج البلاغہ ، ص ۲۱۶ : ابن مؤدّب : لکھی گئی ۴۹۹ ؁ھ
۱۰۔دلائل النبوۃ : بیہقی ( متوفیٰ ۵۶۹ ؁ ھ )
۱۱۔کتاب السّیرۃ و المغازی : ابن یسار
۱۲۔ کتاب خصال ، ج ۱، ص ۱۶۳ حدیث ۱۷۱ / ص ۶۵۵ و ۵۰۰ : شیخ صدوق ؒ ( متوفیٰ ۳۸۰ ؁ ھ )
۱۳۔غرر الحکم ، ج ۱،ص۲۹۴ / ج۲ ،ص ۱۱۰ : مرحوم آمدی ؒ ( متوفیٰ ۵۸۸ ؁ ھ )
۱۴۔ بحار الانوار ، ج۶۳، ص ۲۱۴ / ج۱۱۳،ص ۱۴۱ : مرحوم مجلسی ؒ ( متوفیٰ ۱۱۱۰ ؁ ھ )
۱۵۔ بحار الانوار ، ج۱۴،ص ۴۷۷ : مرحوم مجلسی ؒ ( متوفیٰ ۱۱۱۰ ؁ ھ )
۱۶۔ غررالحکم ، ج۴،ص ۴۳۵ /۴۳۸/۴۷۷ : مرحوم آمدی ؒ مرحوم مجلسی ؒ ( متوفیٰ ۵۸۸ ؁ ھ )
۱۷۔غررالحکم ، ج۳ ص ۲۰ /۳۹/۳۰۰/۳۱۱/۳۷۳ : مرحوم آمدی ؒ مرحوم مجلسی ؒ ( متوفیٰ ۵۸۸ ؁ ھ )
۱۸۔غررالحکم ، ج۶،ص ۲۷۶ /۲۷۹/۴۳۱ : مرحوم آمدی ؒ مرحوم مجلسی ؒ ( متوفیٰ ۵۸۸ ؁ ھ )
۱۹۔غررالحکم ، ج۲ ،ص ۲۶۲/۳۴۲ : مرحوم آمدی ؒ مرحوم مجلسی ؒ ( متوفیٰ ۵۸۸ ؁ ھ )
۲۰۔غررالحکم ، ج۵ ،ص ۱۱۹ /۱۵۶ : مرحوم آمدی ؒ مرحوم مجلسی ؒ ( متوفیٰ ۵۸۸ ؁ ھ )
۲۱۔ارشاد ، ج۱ ،ص ۳۱۵ : شیخ مفید ؒ ( متوفیٰ ۴۱۳ ؁ھ )
۲۲۔ احتجاج ، ج ۱، ص ۱۴۱ : مرحوم طبرسی ؒ ( متوفیٰ ۵۸۸ ؁ھ )
(۱)۔ حدیث ثقلین کے اسناد و مدارک :
۱۔بحار الانوار ، ج۲۲، ص ۴۷۲ : علّامہ مجلسی ؒ ( متوفیٰ ۱۱۱۰ ؁ھ )
۲۔ کتاب مجالس : شیخ مفید ؒ ( متوفیٰ ۴۱۳ ؁ھ )
۳۔ صحیح ترمذی ، ج۵ ،ص ۳۲۸ / ج۱۳ ص ۱۹۹ : محمد بن عیسیٰ ترمذی ( متوفیٰ ۲۷۹ ؁ھ )
۴۔نظم درر السمطین ، ص ۲۳۲ : زرندی حنفی
۵۔ ینابیع المؤدّۃ ، ص ۳۳/۴۵ : قندوزی حنفی
۶۔ کنزالعمّال ، ج ۱، ص ۱۵۳ : متّقی ہندی
۷۔ تفسیر ابن کثیر ، ج۴، ص ۱۱۳ : اسماعیل بن عمر ( متوفیٰ ۷۷۴ ؁ھ )
۸۔ مصابیح السنّۃ ، ج ۱ ،ص ۲۰۶ / ج۲ ،ص ۲۷۹
۹۔ جامع الاصول ، ج ۱،ص ۱۸۷ : ابن اثیر ( متوفیٰ ۶۰۶ ؁ھ )
۱۰۔ معجم الکبیر ، ص۱۳۷ : طبرانی ( متوفیٰ ۳۶۰ ؁ھ )
۱۱۔ فتح الکبیر ، ج ۱ ، ص ۵۰۳ / ج ۳ ص ۳۸۵
۱۲۔عبقات الانوار ، ج۱، ص ۹۴/۱۱۲/۱۱۴/۱۵۱ : ۱۳۔ احقاق الحق ، ج۹ : علّامہ قاضی نوراﷲ شوشتری
۱۴۔ ارجح المطالب ، ص۳۳۶ :
۱۵۔ رفع اللّبس و الشّبہات ، ص۱۱/۱۵ : ادریسی
۱۶۔الدرّ المنثور ، ج۴ ،ص ۷/۳۰۶ : سیوطی ( متوفیٰ ۹۱۱ ؁ھ )
۱۷۔ذخائر العقبیٰ ، ص۱۶ : محب الدّین طبری ( متوفیٰ ۶۹۴ ؁ھ )
۱۸۔ صوا عق المحرّقۃ ، ص۱۴۷/۲۲۶ : ابن حجر ( متوفیٰ ۸۵۲ ؁ھ )
۱۹۔ اسد الغابۃ ، ج۲ ،ص ۱۲ : ابن اثیر شافعی ( متوفیٰ ۶۳۰ ؁ھ )
۲۰۔ تفسیر الخازن ، ج ۱ ،ص۴ : ۲۱ ۔ الجمع بین الصحّاح ( نسخہ خطّی)
۲۲۔ علم الکتاب ، ص۲۶۴ : سیّد خواجہ حنفی
۲۳۔ مشکاۃ المصابیح ، ج۳ ،ص ۲۵۸ :
۲۴۔ تیسیر الوصول ، ج۱، ص ۱۶ : ابن الدیبع
۲۵۔مجمع الزوائد ، ج۹ ،ص ۱۶۲ : ہیثمی ( متوفیٰ ۸۰۷ ؁ھ )
۲۶۔جامع الصغیر ، ج۱ ،ص ۳۵۳ : سیوطی ( متوفیٰ ۹۱۱ ؁ھ )
۲۷۔ مفتاح النّجاۃ ، ص۹ ( نسخہ خطّی )
۲۸۔ مناقب علی بن ابی طالب ۔ ، ص۲۳۴/۲۸۱ : ابن المغازلی
۲۹۔ فرائد السّمطین ، ج۲، ص۱۴۳ : حموینی ( متوفیٰ ۷۲۲ ؁ھ )
۳۰۔مقتل الحسین ۔ ، ج۱ ،ص ۱۰۴ : خوارزمی ( متوفیٰ ۹۹۳ ؁ھ )
۳۱۔طبقات الکبریٰ ، ج۲، ص۱۹۴ : ابن سعد ( متوفیٰ ۲۳۰ ؁ھ )
۳۲۔ خصائص امیرُ المؤمنین ۔ ، ص۲۱ : نسائی ( متوفیٰ ۳۰۳ ؁ھ )
۳۳۔ مسند احمد ، ج۵، ص ۱۲۲/۱۸۲ : احمد بن حنبل ( متوفیٰ ۲۴۱ ؁ھ )
۳۴۔ الغدیر ، ج۱ ،ص ۳۰ : علّا مہ امینی ؒ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.