کلیسا کے جرائم

0 2

چونکہ عیسائیت کے پاس معاشرے کی تربیت وادارات کے لئے کوئی اصول و قوانین اور نہ ہی کوئی خاص سسٹم تھا، اس لحاظ سے یہ لوگ محروم و فقیر تھے اور یہی وجہ ہے کہ مذہبی رہنما کبھی بھی سیاسی، اجتماعی اور حکومت کے مسائل میں دخل نہیں دیتے تھے ۔ چھٹی صدی عیسوی تک یہی صورت برقرار تھی لیکن 756 ء میں قیصر نےجب اپنے اختیارات کا کچھ حصہ پوپ کے حوالے کردیا تو اسی وقت سے پادریوں کی سلطنت و حکومت، رعب و جلال کا دور شروع ہوا، اور ان کی مذہبی دستگاہ بھی مالی واقتصادی لحاظ سے قوی و مضبوط ہوئی اور پھر ارباب مذہب وسیاست میں اختلاف کا ہونا امر ناگزیر ہوگیا۔ اور بادشاہوں اور پادریوں کے درمیان ٹھن گئی ۔
اب جو لوگ روحانیت مسیح کا مظہر کلیسا کو سمجھتے تھے وہ پادریوں کے ہوا خواہ ہوگئے اور ان کی پشت پناہی کرنے لگے (اور ایسے لوگ زیادہ تھے) نتیجہ یہ ہوا کہ دن بدن دستگاہ کلیسا کا اثر و نفوذ بڑھنے لگا یہاں تک کہ کلیسا بلا شرکت غیرے مرد مان یورپ پر مطلق العنان حاکم بن گیا ۔
نصرانیت کے مذہبی وسیع اختلاف سے پہلے ہر مسیحی شہر پر ایک اسقف (پادری حکومت کرتا تھا) اور چند شہروں کے اجتماع کا نام ولایت ہوتا تھا اور اس کا عہدے دار خلیفہ کہلاتا تھااور ریاست نصرانیت کا سب سے بڑا حاکم پوپ ہوتا تھا، تمام مذہبی امور میں اسی کو دخل کلی ہوتا تھا، اسقفوں اور خلفاء کا عزل و نصب بھی اس کے ہاتھ میں ہوتا تھا ۔ رفتہ رفتہ قسطنطنیہ کے مسیحی خلفاء یہ سوچنے لگے کہ پوپ کے اثر و نفوذ سے اپنے کو الگ کرلیں اور اپنے لئے ایک مستقل حوزہ بنالیں ۔
خلفاء قسطنطنیہ اور پوپ کے دومیان چند شدید اختلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1052 ء میں ان کے درمیان اختلاف کلی ہوگیا اور اس طرح مسیحیت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ مشرقی یورپ قسطنطنیہ کی روحانیت کا تابع ہوگیا اور اپنے کو آرتھو ڈوکس کہلانے لگا اور مغربی یورپ لہستان سے لے کر اسپین تک پوپ ہی کی اطاعت میں باقی رہا اور یہ لوگ اپنے کو کیتھولک کہلانے لگے ۔ یہ دونوں مذہب جو آپس میں کلی اختلاف رکھتے تھے ایک دوسرے کے کفر کا فتوی دینے لگے ۔ سولھویں صدی کے اوائل میں پروٹیسٹنٹ نامی ایک مزید مذہب پیدا ہوا ۔ اس مذہب کے بانی لوتھر اور اس کے رفقاء کار نے جنت فروشی اور بخشش گناہ جیسے مسائل پر پوپ کی مخالفت کاپرچم بلند کردیا ۔ان لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ کلیسا کو تمام برائیوں سے پاک کیا جائے لوتھر کے طرف داروں کی کثرت ہوگئی اور ان تمام انقلابات کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت مسیح کا سیدھا سادا مذہب تین مختلف شعبوں میں بٹ گیا ۔
پوپ کی تمام ترقوت و قدرت کے باوجود بارہویں، تیرہویں صدی میں پوپ کے بدعتوں کادور دورہ ہوگیا اور ایسی عقائدی ترقیاں جوپوپ کی نظرمیں مردود تھیں وہ پوپ اور کاتولیکیوں کے لئے باعث تشویش ہوگئیں ۔ نتیجتا 1215 ء میں اس کی بدعتوں کو روکنے کے لئے پوپ کی طرف سے ایک فرمان جاری ہوا اور اس فرمان کے بموجب فرانس، اٹلی، اسپین، جرمنی، لہستان اور دیگر مسیحی ملکوں کے ہر شہر میں ایک ادارہ بنام ” انگیزیسیوں ” قائم کیا گیا جس میں متھم افراد کو بلوا کر ان پر مقدمہ چلانے کے سزا دی جاتی تھی ۔
یہ ادارہ اور اس کے لعنتی افراد اپنی اہرمنی قدرت کے زعم میں ہر قسم کی آزاد خیالی پر پابندی لگاتے تھے، انھوں نے رائے عامہ میں اتنا اضطراب پیدا کردیا تھا اگر کوئی متہم ہوجاتا کہ اس کے عقائد کلیسا کے افکار و عقائد کے خلاف ہیں تو جہنمی شکنجوں میں اس کو کس دیا جاتا تھا ۔ حدیہ ہوگئی تھی کہ اگر کبھی مردہ لوگوں پر بھی کفر و الحاد کا اتہام لگا دیا جاتا تھا تو مخصوص طریقے سے ان کی ہڈیوں کے صندوق پر محاکمہ کیا جاتا ” ویل ڈورانٹ ” اپنی تاریخ تمدن میں محاکمہ تفتیش کے خصوصیات اس طرح بیان کرتا ہے، محکمہ تفتیش دادرسی کے مخصوص آئین و قوانین رکھتا تھا، کسی بھی شہر میں دیوان محاکمات قائم کرنے سے پہلے کلیسا منبروں سے “فرمان ایمان” لوگوں کو سنایا جاتا تھااور ان سے کہا جاتا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی ملحد، بے دین، بدعتی کاسراغ رکھتا ہوتو “محکمہ تفتیش” کو مطلع کردے ۔ ان لوگوں کو دوستوں، پڑوسیوں، رشتہ داروں کی چغل خوری اور اتہام پرآمادہ کیا جاتا تھا ۔ ان کو تشویق اور ترغیب دی جاتی تھی ۔ چغل خوری کی مکمل حمایت کے وعدے کے ساتھ ساتھ ان کی بات کو راز میں رکھنے کا وعدہ کیاجاتا تھا ۔ جوشخص کسی ملحد کو پہچاننے کے بعد اس کو رسوا نہ کرے یا اپنے گھر میں چھپا لے خود وہ شخص ملعون و کافر اورقابل نفرین قرار دیا جاتا تھا ۔ کبھی مردے بھی متہم بکفروالحاد ہوتے تھے توان کا مخصوص طریقے سے محاکمہ کیا جاتا تھا ۔ان کی جائداد ضبط کرلی جاتی تھی، ان کے ورثاء محروم قرار دے دئے جاتے تھے، مردے کے کفر و الحاد کی خبر دینے والے کو میت کے مال کا 35 سے لے کر 50 فیصد تک وارث بنادیا جاتا تھا، مختلف مقامات پر اور مختلف زمانوں میں شکنجہ کا طریقہ بھی مختلف تھا، کبھی ملزم کے ہاتھوں کو پشت پر باندھ کر لٹکا دیا جاتا تھا اور کبھی اس طرح باندھ دیاجاتا تھا کہ حرکت کرنا ممکن نہ ہو ۔اور پھر اس کے گلے میں اتنا پانی ٹپکایا جاتا تھا کہ اس کا دم گھٹ جاتا تھا کبھی بازوؤں اور پنڈلیوں کو رسیوں سے اتنا مضبوط کس کر باندھ دیا جاتا تھا کہ رسیاں گوشت میں پیوست ہوجاتی تھیں ۔
یورپ میں مسیحی مذہبی مقامات کا اثر نفوظ اتنا بڑھ گیا کہ جرمنی و فرانس کے دس سے زیادہ بادشاہ اور سیاسی لیڈروں پر پوپ کے ذریعے کفر کا فتوی صادر کیا گیا اور حاکموں کو معزول کیا گیا ۔ کچھ کو تائب ہونا پڑا، مثلا جرمنی کے ہنری چہارم کو 1075 ء میں پوپ کے حکم سے بے اعتنائی برتنے پرگریگوری ہفتم کی طرف سے کافر قرادیا گیا ۔ اور اس کو حکومت سے معزول کردیا گیا مجبورا ہنری توبہ کرنے والوں کا لباس پہن کر پوپ کی خدمت میں معذرت کے لئے حاضر ہوا ۔ پوپ نے تین دن تک اس کو ملنے کی اجازت نہیں دی تین دن کے بعد اس کی توبہ کو قبول کیا ۔
اسی طرح لوئی ہفتم کو پوپ “اینوسینٹ دوم کی طرف سے 1140 ء میں کافر قرار دیا گیا 1205 ء میں بادشاہ انگلستان” جان ” اور پوپ “اینوسیٹ دوم” کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا، بادشاہ نے اسقفوں پر حملہ کیا اور پوپ نے اس کے کفر کا فتوی دے دیا ۔ کچھ مدت بھی نہ گذرنے پائی تھی کہ پادشاہ نے مجبور ہوکر ایک اعلان کیا مجھے غیبی فرشتے نے خبر دی ہے کہ انگلستان و آئر لینڈ کو ” عیسی اور ان کے حواریین ہمارے ولی نعمت پوپ “اینوسینٹ” اور کاتولیک کے جانشینوں کے سپرد کردوں ۔ اس کے بعد ممالک مذکورہ پوپ کی نیابت میں ہمارے پاس رہیں گے اور ہم ان کے نائب ہوں گے اور ہم نے یہ طے کیا ہے کہ روحانیت روم کو ہرسال دوقسطوں میں ایک ہزار انگریزی چاندی کا پاؤنڈ دیا کریں گے اگر میں یامیری اولاد میں سے کوئی اس اقرار نامے کی مخالفت کرے تو وہ حق سلطنت سے محروم ہوجائے گا ۔
مارسل لکھتا ہے کہ آزاد خیال اور پوپ کی حکم عدولی کے جرم میں پانچ ملیون اشخاص کو سولی پرچڑھادیا گیا ۔ ان کو سرحد مرگ تک پہونچنے سے پہلے مرطوب و تاریک گڑھوں میں بند کریدیا جاتا تھا ۔ 1481 ء سے پہلے 1499 ء تک یعنی 18 سال کے اندر اندر محکمہ تفتیش کے حکم پر 1020 آدمیوں کو زندہ جلادیا گیا ۔ 6860 آدمیوں کو دوٹکڑے کردیا گیا ۔ 97023 آدمیوں کو شکنجوں میں ا تنا کسا گیا کہ آخر کار ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔
قرون وسطی میں “محکمہ تفتیش عقائد” کے حکم پر تین لاکھ پچاس ہزار دانشمندوں و مفکرین کو زندہ جلادیا گیا ۔
وکٹر ہیوکو فرانس کا مشہور شاعر ورائٹر ارباب کلیسا و محکم تفتیش عقائد پر اس طرح نقد و تبصرہ کرتا ہے ۔ تاریخ ترقی بشر میں حیات کلیسا کو نہیں شمار کرنا چاہئے بلکہ اس کو صفحات تاریخ کے پس پشت قرار دینا چاہئے، کلیسا وہی تو ہے جس نے محض اس باپ کہ ستارے اپنی جگہ سے نہیں گرتے، پارنیلی کو تازیانے مار مار کر زخمی کردیا تھا اور کامپلاند کو صرف اس کے اس عقیدے کی بناء پر کہ اس دنیا کے علاوہ بے شمار اور دنیا میں بھی ہیں، ستائیس مرتبہ جیل بھیجا اور شکنجوں میں کسا، اور ہاروے کو محض اس بات پر شکنجے میں کسا کہ وہ بے چارہ یہ کہتا تھا کہ انسان کی رگوں میں خون حرکت کرتا ہے جامد خون زندہ رگوں میں نہیں رہ سکتا اور گیلیلیوں کو توریت و انجیل کے بر خلاف حرکت زمین کے عقیدے پر جیل بھیج دیا تھا ۔ یہ کلیسا وہی تو ہے جس نے کرسفر کولمبس کو ایک ایسے مسئلے پر جس کی پیش بینی ” سینٹ پال ” نے توریت وانجیل میں نہیں کی تھی جیل کی کال کوٹھری میں بندکردیا تھا، کیونکہ قانون آسمان کا کشف اور حرکت زمین کا عقیدہ لامذہبیت کی علامت تھی ۔ ایسی بات کہنا جو خلاف مشہور ہو کلیسا دشمنی سمجھا جاتا تھا، یہ کلیسا وہی تو ہے جس نے پاسکال کو مذہب کے نام پر (مونٹی) کو اخلاق کے نام پر (مولر) کو مذہب اور اخلاق کے نام پر کافر قرار دیدیا تھا ۔
کلیسا نے اپنے اثرات کا استعمال مسلمانوں کے خلاف بھی خوب خوب کیا ۔نجات بیت المقدس کے بہانے کشتوں کے پشتے لکادئے ۔ 1095 ء سے 1270 ء تک مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ لڑی گئی ان صلیبی جنگوں کی بنیاد پوپ اور راہبوں کی کینہ توزی اور تعصب تھی ان لوگوں نے دھوکا دہی کے ذریعے پوپ کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا تھا صلیبی جنگوں کے شروع ہونے سے پہلے (اربن دوم) پوپ نے راہبوں اور مذہبی پیشواؤں کی ایک انجمن بنائی تھی اسی انجمن میں مسلمانوں سے جنگ کا حتمی فیصلہ کیاگیا تھا پوپ نے تمام اسقفوں و راہبوں کویہ حکم دیا تھا کہ لوگوں کو مسلمانوں سے جنگ کرنے پر ورغلائیں اور خود بھی فرانس میں اپنے ماننے والوں کوجنگ پر آمادہ کرتا رہا ۔ بیت المقدس پر قبضہ کرنےکے لئے پہلا عظیم لشکر ایک ملیون آدمیوں پر مشتمل تھا، یہ آدمیوں کا سیلاب جب چلاہے تو معلوم ہوتا تھا کہ پورا یورپ ایشیا کی طرف متحرک ہے پہلی منزل سے لوگوں کو غارت کرنا، دریا برد کرنا، آگ میں جلانا، مثلہ کرنا شروع کردیا تھا ۔ فوجی وغیر فوجی کا کیا سوال بچوں اور عورتوں کو تہہ تیغ کردیتے تھے تین سال کے بعد 1099 ء میں بیت المقدس پر قبضہ کرلیا ۔ حالانکہ اس کامیابی میں ان کو بہت نقصان بھی اٹھانا پڑا، کیونکہ ایک ملیون لشکر میں سے صرف بیس ہزار افراد بچے تھے اور لاکھوں آدمی طاعون، بیماری، اور غیر مسلموں کے ہاتھ سے تباہ و برباد ہوگئے تھے، اس مذہبی لشکر کے وحشیانہ پن سے اطلاع کی خاطر میں اپنے محترم قارئین کے سامنے فرانس کے مشہور مورخ “گوسٹاوی لوبون” کی عین عبارت کا ترجمہ پیش کرتا ہوں، صلیبی مجاہدین کی بداعمالی و بدکرداری نے جو ان تمام حملوں میں ظاہرہوئی ان کو روئے زمین کے وحشی ترین، بے شعور ترین، اور درندہ ترین صفت کے لوگوں کی صفت میں لا کھڑا کردیا یہ نام نہاد مجاہدین اپنے ہم سوگندوں، دشمنوں، بیگناہ رعایا، لشکریوں، عورتوں بچوں، جوانوں کے ساتھ یکساں ظلم کرتے تھے اور بلاکسی تفریق کے سب کو قتل و غارت کرتے تھے، (رابرٹ) پادری جس نے چشم دید حالات بیان کئے ہیں وہ کہتا ہے ۔!
ہمارا لشکر گزرگاہوں، میدانوں، کوٹھوں پر مسلسل گشت و حرکت کرتا تھا اور قتل عام سے اس کو ایسی لذت ملتی تھی جیسے اس شیرنی کو قتل کرنے میں ملتی ہے جس کے بچے کو کوئی اٹھالے گیا ہو، ہمارا لشکر جوان و بوڑھے کے قتل میں کوئی فرق نہیں کرتا تھا، اپنی سہولت کی خاطر کئی کئی آدمیوں کو ایک رسی میں باندھ کر سولی پر لٹکا دیتا تھا، ہمارے لشکری ہر اس شخص کو قتل کردیتے تھے جو ان کے سامنے پڑ جاتا، مردہ لوگوں کا پیٹ چاک کردیتے تھے، زر و جواہر کا پتہ جہاں بھی چل جاتا تھا اس کو ڈھونڈنکالتے تھے یہاں تک کہ “بوہمانڈ” جو سردار تھا اس نے قصر میں جمع شدہ لوگوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا، پھر عورت، مرد، بڈھے، ناتواں، بیکار قسم کے لوگوں کو قتل کردیا اور جوانوں کو بیچنے کے لئے انطاکیہ روانہ کردیا، اس خون آشام فوج کا افسر “گودفرے ہارڈ وین ولے” پوپ کو لکھتا ہے اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ بیت المقدس میں ہمارے ہاتھوں کیا بلا نازل ہوئی تو بس اتنا سمجھ لیجئے کہ رواق سلیمان اور معبد میں سے ہم میں سے کسی کا گزر ہوتا تھا تو گھوڑے زانوتک خون میں ڈوب جاتے تھے ۔
یہ ان روح فرساواقعات کا معمولی سا نمونہ ہے جسے عیسائیوں نے قرون وسطی میں مفکرین و دانش مندان یورپ اور مسلمانوں کے ساتھ صلیبی جنگوں میں روا رکھا تھا ۔
یوروپی ممالک میں انقیوزیشن کے شکنجوں اور سختیوں نے مفکرین اور دانش مندوں کو لزرہ براندام کردیا اور وہ لوگ کلیسا کے اس ظالمانہ ووحشیانہ برتاؤ سے لوگوں کو نجات دلانے پر آمادہ ہوگئے ۔ ارباب کلیسا اور دانش مندوں کا جھگڑا رفتہ رفتہ سخت سے سخت تر ہوگیا ۔ ارباب کلیسا کی طرف سے مفکرین کے لئے جو اختناق فکری اور انتقاد عقائد و افکار پیدا ہوگیا تھا اس کے باوجود علوم طبیعی روز بروز ترقی کررہے تھے جس کانتیجہ یہ ہوا کہ ارباب کلیسا کو پیچھے ہٹنا پڑا اور دانش مندوں، آزاد خیالوں، اور طرفداران علم کے لئے میدان خالی ہوگیا ۔
کلیسا کی یہی بیہودہ سختیاں اور شرم آور مظالم کے سبب دانشمندوں کا ایک گروہ فطری طور پر دین سے بیزار ہوگیا اور ان کویہ غلط فہمی ہوگئی کہ دین جہالت واوہام کا طرفدار ہے اور علم و دانش کا دشمن ۔
خلاصہ یہ کہ محکمہ تفتیش کے وحشیانہ رفتار، شرم آور مظالم نے آسمانی مذاہب کو شدید دھچکا پہنچا یا، اور جاہلوں کے دل میں عام طریقے سے تمام ادیان سے نفرت بیٹھ گئی ۔
اسی طرح دولت و ثروت کی خاطر محروم و رنجیدہ افراد کے ساتھ کلیسا کی روش نے روس میں ایک شدید رد عمل پیدا کردیا اور لاشعوری طور پر کمیونسٹوں کی پشت پناہی کا سبب بنا اور کمیونسٹ لیڈر وسیع پیمانے پردین کے خلاف زہر پھیلانے لگے اور مزدور پیشہ افراد کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ مذہب تو سرمایہ داروں کی دستاویز ہے، جمہوریت سے پہلے روس میں کلیسا کے پاس جائداد منقولہ و غیر منقولہ اتنی تھی کہ اس کا حساب مشکل ہے کلیسا کی ذاتی ملکیت ملیونوں ہکتار اور بینکوں میں اس کا ذخیرہ سیکڑوں ملیون روبل طلائی تھا کلیسا اور معابد کو جنگلوں اور چراگاہوں سے وسیع فائدے حاصل ہوتے تھے ۔ ماہی گیری تجارت، صنعت وغیرہ سے بڑی بڑی آمدنیاں ہوتی تھیں ۔
فردوف اس سلسلے میں لکھتا ہے کہ یہ کلیسا جو روس کا سب سے بڑا سرمایہ دار، سب سے بڑا زمیندار، سب سے بڑا بینک دار تھا ۔ دیہاتیوں سے بہت ہی بے رحمانہ طریقے سے نفع اندوزی کرتا تھا۔ اور تمام مزدوروں کو انجام سے بے خبر ہوکر بری طرح اپنے فلاح وبہبود کے لئے استعمال کرتا تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مزدوروں اور کلیسا کے دیہاتی خادموں کے دلوں میں ان کی طرف سے کینہ پیدا ہوگیا اور اس کو رہبری کے لباس میں غلامی کے طرفدار کہتے تھے یہ عیسائیت جو ایک دن آداب و رسوم کہنہ کی حافظ تھی اپنی تمامتر سابق درخشانیوں کے باوجود آج اپنے اصول و مبانی کو مضبوط بنانے کے لئے علم و تمدن کے ہرممکن ذریعے سے استفادہ کررہی ہے ۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ تنہا کیتھولک کلیسا چار ہزار تبلیغی انجمن رکھتا ہے جو دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور یہ انجمنیں مبلغ خطیرنشرواشاعت مسیحیت کے لئے خرچ کرتی ہیں ۔ اور ان کا تبلیغی سلسلہ تمام دنیا میں پھیلاہوا ہے، حدیہ ہے کہ کانگو، تبت، افریقہ کے وحشی ترین خطوں میں ان کی تبلیغ ہورہی ہے صرف انگلستان کا کلیسا تبلیغ پر سالانہ نوسو ملیون تومان خرچ کرتا ہے ۔ ہماری ساری تبلیغات پر جو رقم خرچ ہوتی ہے اس کے مقابلے میں تنہا اس کلیسا کا خرچ کہیں زیادہ ہے ۔
اب تک صرف انجیل کا ایک ہزار سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے ۔ صرف 1937 ء میں یعنی ایک سال میں تین اداروں نے انجیل کے 24 ملیون نسخے امریکہ میں تقسیم کئے ۔
وٹیکن کا ایک اخبار جس کا نام ” اورسرواٹورےرومانو” ہے روزانہ تین لاکھ کی تعداد میں چھپتا ہے یہ علاوہ ان ماہناموں کے ہے جو ماہانہ کئی ملیون کی تعداد میں شائع ہوتے ہیں، اب تک مذہبی اداروں کی طرف سے 32 ہزار پرائمری اسکول، یونیورسٹی، اسپتال کھولے جاچکے ہیں ۔ دنیا میں چار قومی مذہبی ادارے ہیں جو صرف تبلیغات دین مسیح کی نشر واشاعت کرتے رہتے ہیں ۔ ایک وٹیکن میں ہے اور چوتھا عدیس ابابا میں کھولا گیا ہے ۔

مزید  چاند کو دیکھتی رہتی ہیں نگاہیں ساری/چاند دھرتی پہ ترا نقشِ کفِ پا دیکھے»اشعار

اصولی طور پر عیسائی تبلیغ کے تین طریقے ہیں
1) عہد جدید کے کتابوں ترجمے
2) کلیسا و گرجا گھروں کی تعمیر
3) “جمعیتہائے تبشیریہ” کے نام سے دنیا بھر میں تبلیغی جماعتوں کو بھیجنا ۔
پروٹسٹینٹوں نے بھی ضرورت سے زیادہ اقدامات کئے ہیں چنانچہ ریڈرڈائجسٹ لکھتا ہے کہ ! کلیسا کی قدیمی رسم وصولی زکوۃ کی از سر نو تجدید کرنے کے لئے امریکہ میں پروٹسٹینٹوں نے کلیسا کو حیات نو بخشنے اور عظیم انقلاب لانے میں روحانی اور مادی دونوں لحاظ سے قابل ذکر ہے ۔ اہم رول ادا کیا ہے ۔
1950 ء کے بعد سے کم از کم دن اداروں میں یہ رسم شروع ہوگئی ہے اور اس کے عجیب و غریب فائدے ظاہر ہوچکے ہیں ۔ اس کی وجہ سے بہت تبلیغی انجمنوں کا کام دگنا اور تگنا ہوگیا ہے ۔ کلیسا کے لئے سیکڑوں عمارتیں بنوادی گئی ہیں ۔ مبلغین کی جماعتیں داخلی اور خارجی طور پر بہت مضبوط ہوگئی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہوئی ہے کہ انجمنوں کی طرح افراد کو بھی یہ احساس ہوگیا ہے کہ اس قدیم طریقے کی پیروی سے کتنے نجات بخش نتائج پیدا ہوں گے ۔
عیسائی مبلغین نہ تو یہودیوں سےخوف زدہ ہیں نہ ہندوؤں سے، اورنہ بودھ مذہب سے ڈرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ سب دین ایک ایسی محدود قوم سے متعلق رکھتے ہیں جو اپنے دائرہ عمل سے آگے نہيں بڑھ سکے ۔ عیسائی مبلغین صرف اسلام سے خطرہ محسوس کرتے ہیں جس کی طرز فکر اور مخصوص خیالات سے دوست، دشمن سب ہی واقف ہیں، ویٹکن میں اسقفوں کے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے پوپ اعظم نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا: افریقہ میں عیسائیت اور مغربی اقوام کو اسلام سے جو خطرہ درپیش ہے وہ افریقہ میں کمیونسٹوں سے مغربی اقوام کو درپیش خطرے سے کہیں زیادہ ہے ۔
بیرونی ملکوں میں اگرچہ اسلام تبلیغ صفر ہیں لیکن اسلام اپنی امتیازی صفت وسیع معارف و قدرت تحرک کی بناء پر دنیا کے بعض حصوں میں خصوصا افریقہ میں بہت ترقی کررہا ہے ۔ مظلوم سیاہ پوستوں کے لئے اسلام بہترین پناہ گاہ ہے اور کلیسا اس خطرے سے چشم پوشی نہیں کرسکتا ۔
بلجیم کے دو تحقیقی اداروں نے لکھا ہے کہ: بیسویں صدی عیسوی کے ابتداء میں صرف کانگومیں چار ہزار مسلمان تھے جبکہ آج ” مانیہ ما ” اور ” کیوو ” اور ” اسٹانلی ویل ” میں مسلمانوں کی تعداد دو لاکھ 36 ہزار ہوگئی ہے ۔ مارسل کارڈر جویورپی عالم ہے اور اسلام کے مطالعے میں منفرد ہے اس کے قول کو رسالہ (پرو) چاپ راہر پیرس نے نقل کیا ہے کہ ” پہلے اسلام امیروں اور شاہزادوں کا مذہب تھا، لیکن آج مزدوروں کا مذہب ہوگیا ہے ۔ ایسے لوگوں کا مذہب جو بہتر اور آرام دہ زندگی کے لئے سیلاب کی طرح رواں دواں ہیں ۔ اب یہ بات ناقابل انکار حقیقت ہے کہ شمالی افریقہ سے جنوبی افریقہ کی طرف بڑی سرعت کے ساتھ اسلام بڑھ رہاہے اور صحیح مردم شماری سے اس کی تائيد بھی ہوتی ہے ۔
رسالہ ” ریووڈی پیرس ” مسلمانوں، بت پرستوں، عیسائیوں کی افریقہ میں مردم شماری کا ذکر کرتے ہوئے اور یہ بتاتے ہوئے کہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ لکھتا ہے: بطور کلی افریقہ کے آدھے کالے آدمیوں کو مسلمان ہی شمار کرنا چاہئے ۔ اسلام عجیب وغریب سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے ۔ ہر سال تقریبا پانچ ہزار آدمی اسلام قبول کرتے ہیں اور یہ تیزی پہلے سے نہیں تھی بلکہ تقریبا اسی صدی کے اندر اندر یہ بات پیدا ہوئی ہے ۔ 1950 ء میں جامعہ ازہر کے چار فارغ التحصیل عالموں نے شہر (مباکو) میں ایک دینی مدرسہ کھولا جو اسلام کو بجلی کی طرح پھیلارہا تھا مگر حکومت فرانس نے اس کو بند کرادیا ۔
نیلپس یونیورسٹی کے استاد و ڈاکٹر ” واکیا واگلیری ” لکھتے ہیں پتہ نہیں کیا بات ہے کہ اسلام ممالک میں غیر مسلموں کو ضرورت سے زیادہ آزادی، اور مسلمانوں کے پاس وسائل تبلیغ کی قلت کے باوجود آخری سالوں میں اسلام ایشیا اور افریقہ میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے ۔ نہ معلوم اس دین میں کونسی اعجازی قوت پوشیدہ ہے یا کونسی طاقت اس کے ساتھ مخلوط کردی گئی ہے ۔ اور نہ معلوم کیا قصہ ہے کہ لوگ روح کی گہرائیوں کے ساتھ اسلام قبول کرتے چلے جارہے ہیں اور اسلامی دعوت پر لبیک کہہ رہے ہیں ۔
عیسائیوں نے مسلمانوں کو تباہ کرنے کے اپنے سارے وسائل استعمال کرڈالے چنانچہ استاد محمد قطب لکھتے ہيں: جنوبی افریقہ میں انگریزوں کی ایک منظم کشتی رانی کی کمپنی ہے ۔اس کمپنی میں بہت سے مسلمان بھی کام کرتے تھے مگر چونکہ یہ کمپنی عیسائی ہے لہذا مسلمانوں کوکیونکر برداشت کرتی کمپنی نےمسلمانوں کو ایذا پہنچانے کا نیاڈھنگ اختیار کیا کہ مسلمانوں کو مزدوری کی جگہ شراب کی بوتلیں دینے لگی اور چونکہ مسلمانوں کے یہاں نہ صرف یہ کہ شراب نوشی حرام ہے بلکہ اس کی خرید رفروخت بھی حرام ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان شراب کی بوتلیں لے کر توڑ دیتے تھے، اس طرح بیچاروں کا کافی نقصان ہوتا تھا ۔ آخر کار ایک مسلمان قانون داں نے ان لوگوں کو مشورہ دیا کہ کہ ایسی مزدوری پر پہلے آپ لوگ اعتراض کریں اگراس کا کوئی اثر نہ ہو تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں ۔ آپ جانتے ہیں اس مشورہ پر عمل کا نتیجہ کیا ہوا؟ جیسے ہی کمپنی کو اس کی اطلاع ہوئی اس نے تمام مسلمانوں کونکال باہر کیا بشر دوستی کا مفہوم یہ ہے ۔ !
اسدور میں مبلغین اسلام کے لئے افریقہ میں بہت وسیع میدان موجود ہے ۔ اگر اسلامی مبلغین محنت و خلوص سے کام شروع کردیں تو افریقہ میں بہت زیادہ لوگ دل و جان سے اسلام قبول کرلیں گے ۔ افریقہ اس وقت ایک ایسے مذہب کی تلاش میں ہے جو جنبہ ہائے مادی و معنوی میں ہم آہنگی پیدا کرسکے ۔ اور معاشرے میں مساوات و برابری قائم کرسکے اورلوگوں کو صلح کی طرف دعوت دے سکے ۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ عیسائيت ان مسائل کو حل کرنے پر قادر نہیں ہے ۔ کیونکہ خود کلیسا نابرابری کا قائل ہے ۔ ابھی تک افریقہ میں کلیسا کی طرف سے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ ایک جگہ گورے اور کالے سب مل کر عبادت کرسکیں عمومی طور پر انگریزوں کا برتاؤ کالوں کے ساتھ غیر انسانی ہے، کانگوکے مرحوم لیڈر (لومومبا) پیرس کے ایک اخبار میں لکھتے ہیں: میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اسکولوں میں ہم کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ عیسائیت کے اصول کا احترام کیا جائے ۔ اور اسکولوں کے باہر ان اصولوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور تمام انسانی تمدنی اصول کو پیروں تلے روندا جاتا ہے اور اس کی تعلیم اور ہم سیاہ پوستوں سے یورپی لوگوں کے برتاؤ میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔
افریقہ اسلام کی سرعت انتشار سے نہ صرف عیسائی خوف زدہ ہیں بلکہ امریکہ کی تمام مذہبی انجمنیں خود امریکہ میں کالوں کے مشرف بہ اسلام ہونے سے پریشان ہیں اور اپنے تمام تر ذرا‌ئع کو ان کے درہم برہم کرنے میں استعمال کرتی ہیں ۔ آج کل شاید ہی امریکہ کا کوئی اخبار ہو جوکالوں کے خلاف تبلیغ میں مشغول نہ ہو ۔ حد یہ ہے کہ کچھ ممبران پارلمینٹ نے مسلمانوں پر (رکیک) حملہ کرنے کے بعد امریکہ کے رئیس جمہوریہ سے خواہش کی کہ سیاہ پوست مسلمانوں کی ساری انجمنیں توڑ دی جائیں اوران کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قراردیدیا جائے ۔
لیکن (بفضل الہی) سیاہ پوست مسلمانوں کی کوششوں کو جتنا جتنا روکا جارہا ہے ان کی تعداد میں اسی قدر اضافہ بھی ہوتا جارہاہے اور ان کے اقدامات اوران کی کوششیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہیں ۔اس وقت سیاہ پوستوں نے امریکہ کے 27 صوبوں میں 70 شعبے کھول رکھے ہیں ۔ اسی طرح شکاگو اور ڈیٹ رائٹ میں دو اہم اسلامی مرکز موجود ہیں ۔ان لوگوں نے اپنے بہت سے مراکز کھول رکھے ہیں ۔ متعدد مسجدیں بنا ڈالی ہیں ۔ کلمات محمد کے نام سے ایک روز آنہ اخبار بھی نکالتے ہیں اور امریکہ کے بعض شہروں میں تو یہ عالم ہے کہ جب یہ لوگ کوئی جلوس سڑک پر نکالتے ہیں تو مذہبی نشان اٹھاکے چلتے ہیں اور آگے آگے ایک منبر ہوتا ہے جس پر ” لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” لکھا ہوتا ہے ۔
تمام سیاہ پوست مسلمان اپنے دینی فرائض کو کمال عقیدت سے ادا کرتے ہیں ان کی عورتیں اسلامی پردے میں رہتی ہیں، یہ لوگ عمومی طور پر گوشت یا دوسری چیزوں کو کوشش کرکے ایسے قصاب و ایسی دوکانوں سے خریدتے ہیں جن کے یہاں چاند، ستارے کی تصویر بنی ہوتی ہے کیونکہ مسلمان ہونے کی یہ پہچان ہے کہ یہ لوگ بہت کوشش سے عربی زبان سیکھتے ہیں، اسکولوں اور کالجوں میں اپنے جوانوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ قرآن کی زبان ضرور سیکھیں ۔ان کے اندر چوری، قتل وغیرہ قسم کے عیوب بالکل نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ دشمن یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئے کہ کالوں کے اسلام نے ان کی ہر قسم کی برائیوں اور عادتوں کو چھڑا دیا ۔
مسیحی مبشرین جوافریقہ میں سرگرم تبیلغ ہیں وہ کسی قیمت پر یہ نہیں چاہتے کہ سیاہ پوست ترقی کریں اور ان کی طرح کے ہوجائیں، بلکہ وہ لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ایسے افراد تیار ہوں جو صرف کلیسا ہی کے تابع رہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کو استاد ” وسٹرمین ” نے بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں: جب کوئی کالا مسلمان ہوتا ہے تو معاشرے کے افراد میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے اور خود اس کے اندر بہت جلد خود اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ خود اپنی حیثیت کو پہچاننے لگتا ہے اور جلد ہی اس بات کا احساس کرلیتا ہے کہ اس عالم رنگ و بو کی ایک فردوہ بھی ہے اور یورپین سے محدود حد تک ارتباط رکھنے لگتا ہے ۔ وہ سیاہ پوست جو پہلے مہتروں جیسی زندگی بسر کرتا تھا اسلام لانے کے بعد ایسی عظمت کا حامل ہوجاتا ہے کہ خود یورپین اس کی تعظیم کرتے ہیں اوراس کے بر خلاف جب کوئی سیاہ پوست عیسائی ہوجاتا ہے تو اپنی حیثیت سیاہ پوست مسلمان سے بالکل جدا دیکھتا ہے ۔ کیونکہ ہم لوگوں کی (عیسائیوں) بنیادہی سیاہ پوستوں سے علیحدگی پر رکھی گئی ہے جب وہ ہمارے تمدن سے دوچار ہوتے ہیں تواس کا تحمل نہیں کرپاتے ہم نے نہ ابھی تک کالوں کو تعلیم دی ہے اور نہ خودان کو اس کا احساس ہے کہ ان کے اندر ممتاز خصوصیات موجود ہیں ۔ کیونکہ ہم نے کبھی اپنا فریضہ ہی یہ نہیں سمجھا کہ کالوں کے تمدن کی طرف توجہ دیں یاان کو ترقی دیں یا ان کی حالت کو اپنی حالت کے مطابق کریں ۔ہم ہمیشہ سیاہ پوستوں کا یورپین سے نہایت ناپسندی کے ساتھ تعارف کراتے ہیں اور ان کو ایک نہایت ہی بد صورت یورپی سمجھتے ہیں ۔ مگر اسلام ایک سیاہ افریقی کا تعارف اس طریقے سے کراتا ہے کہ وہ خود اپنی جگہ پر بھی محترم رہے اور دوسروں کی نظروں میں بھی محترم ہو ۔ وہ اجتماعی برابری جو اسلام نے ذاتا سیاہ پوست مسلمانوں کی دی ہے اس کا (عشر عشیر) بھی ہم سیاہ پوست عیسائی کے یہاں نہیں پاتے ۔
ایسے بھی یورپی ہيں جن کی نظر میں کالوں کی کوئی وقعت نہیں ہے ان کی نظر میں خس وخاشاک میں زندگی بسر کرنے والا بے دین سیاہ پوست اور عیسا ئی سیاہ پوست ميں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کسی ایسی فرصت کے منتظر ہیں کہ جس میں کالے مسلمان کالے عیسائی پر برتری کو آشکار کردیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جن افریقیوں نے آخری زمانے میں عیسائی تعلیمات کو دیکھا ہے وہ آج نہ صرف مسلمان بلکہ مبلغ اسلام ہوگئے ہیں اور چونکہ افریقیوں کو اپنے یورپی بھائیوں سے مساوات کی کوئی امید نہیں ہے اس لئے وہ اسلام سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں اور اس بات کو بھی اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ افریقہ میں اگر کوئی دین اختیار کرنے کے قابل ہے تو وہ صرف اسلام ہے ۔

مزید  اولیائے الٰہی کیلئے عزاداری کا فلسفہ کیا ہے؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.