کرم الٰھی کے دسترخوان پر

0 2

روایات میں  ماہ رمضان کو ”شھراللھ“یعنی ماہ خدا سے تعبیر کیا گیا ھے اور شھراللہ میں  داخل ھونے والے کے لئے یہ اھتمام کیا گیا ھے کہ انسان اس سے قبل دو مھینوں  یعنی رجب و شعبان جنھیں  ماہ امیرالمومنین  علیہ السلام وماہ رسول خدا(ص) یا شھر ولایت وشھر رسالت سے تعبیر کیا گیاھے میں  اپنے آپ کو آمادہ کرے تاکہ شھراللہ میں  وہ ضیافت پروردگار میں  جانے کے لائق ھو جائے ۔

رسول اکرم(ص) نے فرمایاھے:”اَیُّھاالنَّاسُ اِنَّہ قَداَقْبَلَ اِلَیْکُمْ شَھرُاللّٰھم وَقَدْ دُعِیتُمْ فِیہ اِلَی ضِیَافَةِاللّٰہ“خداکامھینہ آگیا ھے اور اس مھینہ میں  تمھیں  خدا کی ضیافت کے لئے بلایا گیا ھے ۔الٰھی دسترخوان پر انسان کو جو کچھ بھی ملے گا وہ خدا کے کرم کے سائے میں  ھوگا

 ۔خدا کی ھر عطا کریمانہ ھے اور اس حد تک کریمانہ ھے کہ اسکی لاتعداد نعمتیں  انسان استعمال کرتا ھے اور یہ محسوس بھی نھیں  کرپاتا ھے کہ یہ نعمتیں  کھاں  سے آرھی ھیں  حتّی کہ نادانی میں  ا نھیں کسی دوسرے کی طرف منسوب کر دیتا ھے اوراسی کا شکر ادا کرتا ھے ۔وہ اپنے کریم سے اتنا غافل ھے کہ واسطوں  کا شکریہ ادا کرتا ھے لیکن منبع نعمت سے بے خبر ھے ،جیسے بارش ھونے پر کوئی بادلوں  کا شکریہ ادا کرے لیکن سمندر سے بے خبر ھو ۔کرم الٰھی کا عالم یہ ھے کہ اسکی کتنی مادی اور معنوی نعمتیں  انسان کی خدمت میں  لگی ھوئی ھیں  اور انسان پوری زندگی ان نعمتوں  میں  گزار کر بھی یہ نھیں  سمجھ پاتا کہ ھم ا ن سے بھی استفادہ کررھے تھے،یہ کرم کی معراج ھے ۔

ماہ رمضان میں  انسان مھمان خدا ھوتا ھے اور میزبان مھمان کے سامنے وھی پیش کرتا ھے جو اس کے پا س موجود ھوتاھے۔ خدا کے خزانے میں  ناقص ، آلودہ اور پست چیزیں  نھیں  ھیں  ،اسکے خزانے میں  جس چیز کی فراوانی ھے وہ کمالات ھیں  اور وہ ایسا میزبان بھی نھیں  ھے جسکی عطا میں  کسی طرح کے بخل کا شائبہ ھو لھٰذا اس مبارک مھینے میں ا نسان کو اختیار ھے کہ جتنے کمالات چاھتا ھے کرم الٰھی کے دسترخوان سے حاصل کرلے۔

 قرآن اور انسان

کرم الٰھی کا دسترخوان قرآن ھے ”اَلقُرَآنُ مَآدُبَةُ اللہ“اس کتاب میں  انسانی کمالات کے تمام نسخے موجود ھیں  ۔یہ کتاب اسی مھینے میں  نازل ھوئی یعنی اس دسترخوان کو اسی مھینے میں  بچھایا گیا تاکہ مھمان کی ضیافت کا سامان فراھم ھو جائے اور جس شب میں  قرآن نازل ھوا اسی شب یعنی شب قدر میں  بنی آدم سے متعلق تمام امور کے فیصلے ھوتے ھیں ۔اسی شب میں  انسانی اور غیر انسانی مقدرات طے ھوتے ھیں ۔ ”تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَ الرُّوحُ فِیْھا بِاِذْنِ رَبِّھمْ مِنْ کُلِّ اَمْر“ اس شب میں  انسان کو اختیار ھے کہ وہ اپنے ھاتھوں  سے اپنی تقدیر لکھے اور جو کچھ چاھتا ھے الٰھی دستر خوان سے حاصل کرلے –۔

مزید  توبہ شکن

رسول اللہ (ص) کی خدمت میں  ایک بدّو عرب آیا اور اس نے قرآن سننے کی درخواست کی ۔رسول اللہ (ص) نے کسی صحابی سے قرآن سنانے کو کھا۔ اس صحابی نے سورہ”الزّلزلة “سنایا جس میں  یہ آیت موجود ھے ”فَمَن یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیراًًًًًًیَّرَہ وَمَن یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاًیَرَہ“ جس نے ذرّہ برابر بھی نیکی کی ھے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرّہ برابر بھی برائی کی ھے وہ اسے دیکھے گا۔یہ آیت سن کر وہ واپس پلٹ گیا ،صحابی کو حیرت ھوئی کی وہ صرف اتنا ھی قرآن سننے کے لئے آیا تھا !صحابی کی حیرت کو دیکہ کر رسو ل ا للہ نے فرمایاکہ یہ شخص فقیہ بن کر واپس پلٹا ھے یعنی اس ایک آیت نے اسکی زندگی میں  انقلاب برپا کر دیاھے کیونکہ اب وہ اس یقین کے ساتھ پلٹ رھا ھے کہ اس کا ھر عمل دیکھا اور محفوظ کیاجا رھا ھے ۔

اگر ایک آیت ایک جاھل عرب کو فقیہ بنا سکتی ھے تو پورا قرآن انسانی معاشروں  میں  کتنا بڑا تحوّل ایجاد کرسکتا ھے ،لیکن مشکل یہ ھے کہ ابھی ھم نے شاید قرآن کی ایک آیت کو بھی اپنی عملی زندگی میں  داخل نھیں  ھونے دیا ھے۔

محبوب کی بارگاہ میں

مھمان اور میزبان کے درمیان متعدّد قسم کے رابطے ھو سکتے ھیں  لیکن اگر یہ رابطہ عشق و محبّت کا رابطہ ھو تو ایسی مھمانی اور میزبانی میں  شیرین ترین و لطیف ترین نکتہ عاشق ومعشوق کی ملاقات اور ایک دوسرے سے ھمکلام ھونا ھوتا ھے۔عشق کی ملاقات میں  مقصود اصلی خود معشوق ھوتا ھے،نہ کہ اسکی عطا کردہ نعمتیں  اور اس ملاقات میں  عاشق و معشوق کی سب سے بڑی تمنّا یہ ھوتی ھے کی ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ ھمکلام رھیں ۔

مزید  صفات ثبوتي و صفات سلبي

روزہ کے فلسفہ و اسرار میں  سب سے عمیق فلسفہ و سرّ اپنے معبود اور معشوق سے ملاقات کرنا اور ھمکلام ھونا ھے ۔ یہ انسانیت کا بلندترین مقام اور ایک انسان کے لئے بھترین لذّت ھے۔ اس لذّت تک پھونچنے کے لئے اس نے روزہ کے ذریعے اپنے آپ کو تمام حیوانی اور شھوانی لذّتوں  سے بلند کیا ھے ۔ روزہ رکہ کر اب وہ ذھنی و تخیّلی لذّتوں  سے آزاد ھو چکا ھے اب اسے غیبت کرنے یا سننے میں  لذّت کے بجائے کرب واذیت کا احساس ھوتا ھے۔ اب اس نے اپنی نظر کی تطھیر کر لی ھے،اب وہ آب و غذا کی لذّتوں  سے بلند ھو چکاھے اس لئے کہ اب وہ وصال محبوب کی لذّت سے آشنا ھو چکا ھے۔

روایت میں  ھے ” لِلصَّائِمِ فَرحَتَان حِیْنَ ی-َفْطُرُوَحِینَ یَلْقٖی رَبَّہ عزّ و جلّ“روزہ دار کودو مواقع پر فرحت و لذّت کا احساس ھوتا ھے ۔ایک افطار کے وقت کہ خدا نے توفیق دی اورروزہ مکمّل ھو گیا،مریض نھیں  ھوا ،سفر در پیش نھیں  آیا، شیطان نے مجھ پر غلبہ نھیں  کیااور خدا نے کسی دوسرے امر میں  مشغول نھیں  کیا اس لئے کہ خدا ھر ایک کو اپنی بارگاہ میں  آنے کا موقع نھیں  دیتا، وہ جنھیں  اپنی بارگاہ کے لائق نھیں  سمجھتا انھیں  دیگر امور میں  مشغول کر دیتا ھے ، کبھی سختیوں  اور مصیبتوں  میں  مبتلا کر دیتا ھے توکبھی کثرت سے نعمتیں  دے کر مشغول کر دیتا ھے۔

روزہ دار کی خوشی کا دوسرا موقع اپنے پروردگار کی ملاقات کے وقت ھے جب وہ خدا سے ھمکلام ھوتا ھے۔ یہ ایک انسان کے لئے سب سے بڑی نعمت ھے۔روز قیامت ایک گروہ کے لئے سب سے بڑا عذاب یہ ھو گا کہ ”لَا یُکَلِّمُھُمُ اللہ یَومَ الْقِیَامَةِ“خدا ان سے کلام نھیں  کرے گا۔ روز ہ دار کبھی قرآن پڑھتا ھے تاکہ خدا اس سے ھمکلام ھو، کبھی دعا کرتا ھے تاکہ وہ خدا سے ھمکلام ھواور کبھی وہ کچھ بھی نھیں  کرتا،زبان بھی خاموش ھوتی ھے لیکن پھر بھی خدا سے ھمکلام ھوتا ھے کیونکہ خدا سے ھمکلام ھونے کے لئے زبان اور آواز کی ضرورت نھیں  ھے۔

مزید  امام علی نقی الھادی علیہ السلام کی ولادت با سعادت

اگر انسان اس نکتے کو اچھی طرح درک کر لے کہ قرآن کلام خدا ھے اور وہ جب قرآن پڑھتا ھے خدا اس سے محو کلام ھوتا ھے تو پھر وہ قرآن کو فقط ثواب کے لئے نھیں  پڑھے گابلکہ قرآنی آیات کو اپنی زندگی میں  ڈھالنے کی کوشش کرے گا کیونکہ ایک انسان جب اپنے محبوب سے گفتگو کر رھا ھوتا ھے تو وہ اپنے پورے وجود سے اسکی باتوں  کو سننے ، سمجھنے اور اپنانے کی کوشش کرتا ھے ۔انسان اور قرآن کارابطہ اتناعمیق ھے کہ

امام سجّاد علیہ السلام  فرماتے ھیں :”لَو مَاتَ مَنْ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَمَّا اسْتَوحَشْتُ بَعْدَ اَن یَکُون القُرَآنُ مَعی“اگر مشرق و مغرب میں  رھنے والے تمام افراد مر جائیں  اور اس دنیا میں  میں  تنھا رہ جاؤں اور قرآن میرے ساتھ ھو تو میں  ھرگز وحشت کا احساس نھیں  کروں  گا۔“

اسی طرح انسان اگر اس نکتہ کو بھی درک کر لے کہ دعا کرتے وقت وہ خدا سے ھمکلام ھوتا ھے اور خدا بھت قریب سے اسکی دعاؤں  کو سن رھا ھے ”وَاذَا سَئَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَاِنِّی قَرِیْبٌ “تو پھر وہ خدا کی بارگاہ میں  معمولی اور پست چیزیں  نھیں  طلب کرے گا بلکہ وہ چیزیں  طلب کرے گا جو مقام انسانیت کے شایان شان ھیں  اور یہ بھی ممکن ھے کہ وہ کچھ طلب کرنے کے بجائے صرف اپنے معبود سے ھمکلام ھونے کے لئے دعا کر رھا ھواور اگر وہ کچھ طلب کر رھا ھو تو خدا سے خدا ھی کو طلب کر رھا ھو،اس لئے کہ اگر انسان کوخدا مل جائے تو کچھ نہ ھوتے ھوئے بھی اسے سب کچھ مل گیا اور اگر خدا نہ ملے تو سب کچھ پا کر بھی اسے کچھ نھیں  ملا۔

” مَا ذَا وَجَدَ مَنْ فَقَدَکَ وَ مَاالَّذِی فَقَدَ مَنْ وَجَدَکَ۔“

پروردگارا!اس نے کیا پایا جس نے تجھے کھو دیا اور اس نے کیا کھویا جس نے تجھے پا لیا۔

   امام حسین علیہ السّلام (دعائے عرفہ)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.