پیام کربلا:قیام واصلاح

0 0

واقعہ کربلا کے حوالے سے جوکچھ لکھا گیا یاکہا گیا ہے وہ شایدہی کسی اورکے بارے میں لکھا یاکہا گیا ہولیکن چودہ صدیاں گذرنے کے باوجود آج بھی یہ واقعہ قرآن کریم اوردوسرے دینی معارف کی طرح تروتازہ اوروقت کے تقاضوں کے مطابق درس ہدایت دیتا ہوا نظر آتا ہے اوراس پرجتنی بھی وقت اورگہرائی سے نظر ڈالی جائے تونہ صرف قرآن کریم اوردوسرے معارف کی مانند لؤلؤومرجان جیسے نت نئے مطالب سامنے آتے ہیں بلکہ اس کی وسعتوں اورگہرائی کی کوئی حدوانتہا بھی دکھائی نہیں دیتی۔

یہ بات بھی مسلم ہے کہ ایک واقعہ یاکسی کتاب وغیرہ پرجس جہت سے نگاہ ڈالی جائے اسی جہت سے اس کی تبیین ووضاحت ہوتی ہے اوریہ اوربھی ثابت شدہ ہے کہ کسی واقعہ سے ہرکوئی دینی فکری وعلمی سطح کے مطابق مطالب درک کرتا ہے۔

واقعہ کربلا بھی یقیناًایسے ہی واقعات میں سے ایک ہے جس پرہرکسی نے اپنی زاویہ نگاہ ڈالنے اورذہنی سطح کے مطابق سمجھنے اوردرک کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن چندایک فہم وادراک اورکربلا کے بارے میں آراء ایسی ہیں جنھیں کسی صورت قبول نہیں کیاجاسکتا بلکہ اگرواقعہ کربلا کے بارے غلط ترین نظراوراس کے ساتھ ظلم وناانصافی قراردیاجائے تویقیناًبے جانہ ہوگا اوراگر انھیں واقعہ کربلا کوآگاہانہ یاناآگاہانہ طور پر ضررونقصان پہنچانے کی کوشش قراردیاجائے توشایدغلط نہ ہوگا اورضروری نہیں کہ ایک چیز کامخالف یااس کادشمن ہی اسے نقصان پہنچائے بلکہ بعض اوقات حامی ومحبت کرنے والے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں جیسے بعض اوقات ماں باپ بے جالاڈ پیار اورمحبت کی وجہ سے بھی اپنی اولاد کوبگاڑ بیٹھتے ہیں اوران سے محبت کے نتیجے میں خود اپنی کونقصان پہنچابیٹھتے ہیں بہرحال کربلا سے متعلق ایک نظرتویہ ہے کہ یہ بنوہاشم اوربنوامیہ کے درمیان ابتدائے اسلام سے چلی آرہی خاندانی یاقبائلی مخالفت کانتیجہ ہے دوسری یہ کہ دراصل حکومت واقتدار کی جنگ تھی تیسری یہ کہ امام حسین دراصل امام حسن  جومتحمل مزاج اورنرم طبیعت کے مالک تھے ، کے برخلاف امام حسینؑ ذراجوشیلے مزاج اورتیزطبیعت کے مالک تھے لہذاانھوں نے کئی ایک بزرگوں کے سمجھانے اورمنع کرنے کے باوجود اہل کوفہ کی دعوت پراعتماد کرتے ہوئے اورتمام ترعواقب کونظرانداز کرتے ہوئے خروج کیا۔

یہ توان لوگوں کی طرف سے آراء سامنے آتی ہیں جنھیں ہم اعتقادی اورفکری طورپرمخالفین میں سے شمارکرسکتے ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ اگرانھیں کج فہم بلکہ نافہم ترین افرادقراردیا جائے توبالکل بجاہوگا اس کے علاوہ ایک طبقہ ایسا

بھی ہے جواعتقادی طور پرتوامامیہ اثناعشریہ کہلاتا ہے لیکن فکری طور پرہم مخالف قراردے سکتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ روشن فکری کے زعم میں کج فکری کاشکارہوگئے ان کاکہنا ہے کہ کربلا اس خشونت کانتیجہ ہے جوامام حسین کے والدگرامی حضرت علی اورحضرت پیغمبراسلام نے صدراسلام میں مختلف جنگوں کی صورت میں مخالفین سے روارکھی۔

ایسی آراء کے بارے میں اظہار رائے نہ صرف نامناسب بلکہ تضیع وقت سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ جوشخص سورج کے ہوتے ہوئے دن کاانکار کرے اسے کوئی دلیل وبرھان یابحث وتمیحص قائل نہیں کرسکتی آخر یہ ہوبھی کیسے سکتا ہے کیونکہ بدیہی امورکاانکاروہی کرتا ہے جس کاذہن سالم نہ ہواورذہن سالم نہ توتودلیل کیسے قبول کرسکتا ہے لہذا ان سے بحث کاکوئی فائدہ نہیں۔ان کے علاوہ بھی کئی ایک آراء موجود ہیں لیکن ان سے بحث بھی زیادہ سودمند ثابت نہیں ہوگی لہذا انھیں چھیڑنے سے بھی گریز کرتے ہیں اس کے علاوہ کربلا کے حوالے سے ایک اورکج فکرپائی جاتی ہے وہ یہ کہ کربلا کے وقوع پذیر ہونے یاامام حسین کے قیام کے علل واسباب جاننے کی کوشش کی جاتی ہے ان لوگوں کاتمام ترہم وغم یہ ہوتا ہے کہ وہ علل واسباب بیان یافراہم کردیئے جائیں جن سے امام حسین کے قیام وخروج کاجواز مہیا ہوجائے اوریہ ثابت ہوجائے کہ امام  نے جوکچھ کیا صحیح کیالیکن فکروتحلیل میں دوبڑے مضرات مضمر ہیں ایک یہ اس میں قیام امام  کے حوالے سے دفاعی طرز اورروش اختیار کی جاتی ہے جس سے ممکن ہے کہ امام حسین کے قیام کاجواز توفراہم ہوجائے لیکن پھرسابقہ آئمہ اورآئندہ آئمہ کے طرز عمل کے بارے میں کئی قسم کے سوالات وشبھات پیداہوجاتے ہیں جن کاقانع کنندہ اورتسلی بخش جواب دینا مشکل ہوجاتا ہے ۔

اوردوسرا یہ کہ اس تحلیل کے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حالات کے ۔۔۔امام کوخروج پرمجبور کردیابالفاظ دیگر امام  نے اپنے اختیار اورمرضی سے نہیں بلکہ مجبوراً قیام کافیصلہ کیا۔

اس تحلیل کاایک پہلویہ ہے کہ امام کوبیعت یزید کے لئے پیغام بھیجاگیا بلکہ مدینہ میں ولید بن عتبہ اورمروان بن حکم نے اپنے قصرمیں بلاکریزید کی بیعت کاکہا امامؑ نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مجھے اب مدینہ میں چین سے نہیں رہنے دیں گے تومدینہ چھوڑنے کافیصلہ کرلیا اورجب اس نتیجے پرپہنچے کہ یہ لوگ مجھ سے ہرصورت بیعت لینا چاہتے ہیں ورنہ قتل کردینے کاارادہ رکھتے ہیں توامام نے سوچا کہ یزید جیسے شخص کی بیعت کرنے کی بجائے مرجانا بہتر ہے اورممکن ہے کہ یہ لوگ ویسے بھی قتل کردیں لہذا خاموشی سے قتل ہوجانے سے لڑکرمرنا بہتر ہے۔

دوسرے الفاظ میں ان لوگوں کے مطابق اگرامامکوبیعت پرمجبور نہ کیاجائے تووہ کبھی قیام یاخروج کافیصلہ یہ کرتے یعنی امام  کونہ چھیڑا جاتا تووہ بھی یزید کونہ چھیڑتے اس تحلیل کی رو سے یہ امام کی اپنی ذات پرحرف آنے یادباؤ بڑھنے کے نتیجے میں قیام کافیصلہ ہوا اگرامام  کومدینہ میں چین سے رہنے دیاجاتاتوامام  بھی یزید کوچین سے حکومت کرنےدیتے یعنی امام ؑ کوامت مسلمہ اوردین اسلام کی کسی مشکل کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے اوپرپڑنے والی مشکل کی وجہ سے قیام کافیصلہ کیایعنی اس قیام میں امام کاکوئی عمل نہیں بلکہ یزید کی سیاسی غلطی اورغلط حکمت عملی زیادہ دخیل تھی۔۔۔۔۔۔اس پرمذید بحث سے پہلے ایک اہم نکتہ کی وضاحت ضروری ہے اوروہ یہ کہ انسان کے مبانی یابنیادی نظریاتFamdamentalsاس کے عمل اورفعل میں دخیل ہوتے ہیں کیونکہ بہت سارے مبانی پرنہ صرف دوسرے نظریات وافکار کی عمارت استوار ہوتی ہے بلکہ اس پرعملی ثمرات بھی مترتب ہوتے ہیں مثال کے طور پرایک شخص اس لئے اسلام قبول نہ کرے کہ اسے قبول کرلینے کی صورت میں پنجگانہ نمازوں ، ماہ رمضان میں روزوں، حج، زکوۃٰ، خمس وجہادکے علاوہ اوربہت سارے احکام انجام دینا پڑیں گے اوربہت ساری ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پرآن پڑیں گئیں لہذا نہ ہوگا بانس اورنہ بجانے پڑے گی بانسری کے اصول کے تحت اسلام قبول کرنے سے گریز کرتا ہے یامثال کے طور پرعلم اصول فقہ میں متجری کے قابل مؤاخذہ ہونے کے بارے میں شک وتردید کاشکار ہوجاتا ہے اورکہتا ہے کہ متجری کوسزایاعذاب نہیں ہوگا اس مبنیٰ(بنیادی اصول) کے تحت وہ شخص سزا اورعذاب سے بچ جاتا ہے جواس نیت سے ایک فعل انجام دیتا ہے کہ یہ حرام ہے لیکن وہ حقیقت میں حرام نہیں ہوتا لہذا مذکورہ اصول کے تحت چونکہ اس نے کوئی حرام کام انجام نہیں دیا لہذا اسے عذاب بھی نہیں ملے گا لیکن اگرکوئی متجری کے قابل مؤاخذہ ہونے کاقائل ہوجائے تواس مبنیٰ کے تحت مذکورہ شخص سزا کاحقدار ہوگا۔

مزید  اسلام کی طرف امریکیوں کے رجحان میں غیر معمول اضافہ (حصّہ دوّم )

اسی اصول کے تحت اکثر لوگ شعوری یاپھرلاشعوری طور پراس نگاہ یازاویہ دید سے کربلا پرغور نہیں کرتے جس سے ان کی ذمہ داریوں یافرائض میں اضافہ ہوجائے اس فکر کے تحت عام طور پرتمام حلقوں میں خواہ وہ عوام ہوں یاوہ خواص ہوں دوبڑی آراء اورنظر پائی جاتی ہیں:

ایک یہ ہے کہ واقعہ کربلا کے پس منظر وپیش منظر میں جائے بغیر اسے ایک دردناک ترین اوراسفناک ترین سانحہ قراردیاجاتا ہے ایساسانحہ جس میں ایک جابر ظالم فاسق فاجراورطاقت کے نشے اورگھمنڈ میں ایک کمزور اورناتواں شخص پراوراس کے اہل خانہ پرظلم کی انتہا کردیتا ہے یہاں تک کہ اس کے شیرخوار بچوں کوبھہ تہہ تیروتیغ کردیاجاتا ہے ان کی لاشوں کوپائمال کرنے کے بعدانھیں بے گوروکفن چھوڑ دیاجاتا ان کے سرکاٹ کرنیزوں پربلند کردیئے جاتے ہیں بلکہ ان کی مستورات کوظلم کے ساتھ اسیربنالیاجاتا ہے مختصر یہ کہ ظلم کی انتہا کردی جاتی ہے ایسے سناریو میں امام کوایک انتہائی لاچار، بے بس، غریب حتیٰ فقیر سے شخص کے طور پرپیش کیاجاتا ہے جوکسی وجہ یاحالات کے جیدکے وجہ دشمنون کے نرغے میں گھرگیا ہے اوراس کی مددیانصرت کرنے والا کوئی نہیں اب ہمارا کام یہ ہے کہ ان کی یاد میں آنسوبہائیں سینہ کوبی اورزنجیر زنی کریں اوراپنے اپنے علاقائی رسم ورواج کے مطابق ہرسال اس واقعہ کی برسی منائیں۔

عام لوگوں کی اکثریت اسی فکراوررائے کی قائل ہے اورکسی حدتک خواص( اہل علم، صاحب رائے) بھی اسی روش اورفکرسے متاثر ہیں اس میں نہ توقیام امام  کے اسباب وعلل کی طرف دیکھا جاتا ہے اورنہ ان مقاصد واہداف کومدنظر رکھاجاتا ہے جن کے حصول کی خاطر امام  نے قیام کیا یہ اپنی ذمہ داری اورفریضہ عزاداری کے انعقاد میں منحصر سمجھتے ہیں عزاداری بھی وہ جس میں صرف گریہ وزاری، آہ وفغاں، سینہ کوبی اورزنجیرزنی ہواس سے زیادہ کچھ نہیں بلکہ اس سے زیادہ کوتقدس عزاداری کے خلاف اورعزاداری کی ہتک حرمت خیال کرتے ہیں۔

دوسری یہ کہ واقعہ کربلا کواس کے پس منظر کے ساتھ دیکھاجائے لیکن پیش منظر کومدنظرنہیں رکھا دوسرے الفاظ میں لوگوں کایہ سنجیدہ طبقہ کربلا اورعزاداری کوروایتی نظر سے تونہیں دیکھتا لیکن کربلا اورعزاداری کے مقاصد اوراغراض کی طرف بھی توجہ نہیں دیتایہ لوگ ان تاریخی اورسیاسی محرکات یاعلل واسباب پرنظر یں جمائے ہوتے ہیں جوقیام کاباعث بنے اہل علم اورصاحب رائے افراد کی اکثریت اسی روش اورفکر کی تابع ہے چنانچہ یہی لوگ کہتے ہیں کہ واقعہ کربلا کی بنیادسقیفہ میں رکھی گئی تھی جب رحلت رسولؐ کے بعد خلافت پرقبضہ کیاگیا اوررفتہ رفتہ اہل بیت پرحالات تنگ اورسخت کردیئے گئے اوراس کے ساتھ دینی احکام اورسنت رسول کواتنا تبدیل کرناشروع کردیا گیا اورآنے والاحکمرانوں کاکردار اتنا قبیح ومکروہ ہوتا چلا گیا کہ اب امام کاقیام کرناضروری ہوگیا تھااورامام  پریہ شرعاً واجب ہوگیا تھا کہ وہ قیام کریں۔

ان دوتحلیلوں یاطرزفکر کے نتیجے میں کوئی ذمہ داری یافریضہ عائد نہیں ہوتا حالانکہ امام نے نہ تواپنے آپ کومظلوم ثابت کرنے کے لئے قیام کیااورنہ اس لئے کہ نمازواذان کوختم یامساجدکوگرایا جارہاتھا کیونکہ امام  کوپوری طرح علم تھاکہ مجھے دردناک طریقے سے شہیدکیاجائے گاچنانچہ جب عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمراورعبداللہ بن زبیرآپ کوسمجھانے کے لئے آئے اورخروج سے بازرکھنے کی کوشش کی توآپ نے بعض کوسادہ ساجواب دیاکہ ان اللہ یرانی قتیلاً خدا مجھے قتل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے اورجب کہاگیا کہ پھربچوں اورعورتوں کوساتھ لے جانے سے گریز کریں توفرمایا خداانھیں بھی قتل ہوتے ہوئے اوراسیروقیدی اوررسیوں میں جکڑا ہوادیکھنا چاہتا ہے اوربعض اوقات صدائے ھل من ناصر کوغربت کی آواز قرار دیاجاتا ہے کہ امام کاجب سب کچھ لٹ گیا توکہاجو مجھ غریب کی مدد کرے یعنی میراساتھ دے اورمجھے ان وحشیوں کے چنگل سے نجات دلائے اگرمظلومیت اورغربت کی آواز ہی بلند کرناتھی تومدینہ سے ہی نہ نکلتے پس یقیناًامام  نے اس لئے قیام یاخروج نہیں کیا اورصدائے ھل من ناصرصدائے مظلومیت وغربت نہیں تھی بلکہ صدائے احتجاج تھی اوراگرصدائے ھل من ناصر صدائے مظلومیت تھی تووہ اس واقعہ کے بعدختم ہوگئی لیکن اگرصدائے احتجاج تھی تووہ آج بھی گونج رہی ہے۔

اسی طرح نمازواذان یاروزے وزکوٰۃ یامسجد وکعبہ کوبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں تھاکہ امام ان کوبچانے کے لئے

قیام کرتے کیونکہ تاریخ میں ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ اذانوں پرپابندی لگائی گئی ہونماز وحج کی ادائیگی سے روکاگیا ہومساجد کوگرانے کاحکم دیاگیا ہو بلکہ تاریخ میں توملتا ہے کہ قتل حسین میں شریک لوگ جلدی میں تھے کہ بروقت نماز اداکرسکیں اورتاریخی حقیقت تویہ ہے کہ بعض اوقات مسجداوراذان دین اورحق کے لئے ضرررساں اورنقصان دہ بن جاتے ہیں چنانچہ ایسی ہی ایک مسجدکومسجدضرار قراردے کر گرایا دیاگیا تھااسی طرح جب دربار یزید میں امام سجاد کلام کررہے تھے ان کی بات کوروکنے کے لئے مؤذن کواذان دینے کاحکم دیاگیا اوراذان کے ذریعے سے امام کوبات کرنے سے روکا گیا پس ایسے حالات نہیں تھے جس سے نمازواذان یامسجد کوکوئی خطرات لاحق ہوں بلکہ بعض اوقات توحکمران خود حالت نماز میں یااذان دیتے ہوئے یاحج وزیارات کرتے ہوئے نظرآئیں گے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے عبادت گاہوں یاعبادی اجتماعات میں نمایاں دکھائی دیں گے اورایسی عبادات اوراجتماعات کورواج دیں گے جوان کے اقتدار کے لئے خطرے کاباعث نہ ہو اورایسے اسلامی نعرے لگائے اورشعار بلند کرتے نظرآئیں گے جوان کے اقتدار کے لئے طوالت کاموجب بنیں۔

مزید  امام زین العابدین (ع) کے یوم شہادت پر پورا عالم اسلام سوگوار

کہاجاتا ہے کہ جب عراق پربرطانیہ کاقبضہ ہوا اوربرطانوی فوجیں بغداد میں داخل ہوئیں تووہاں موجود کمانڈرنے مساجد سے بلند ہونے والی اذانوں کی آواز دسنی، اس کے دریافت کرنے پربتایاگیا کہ یہ اذان ہے جس کامقصد نماز کے لئے بلانا ہے اس پراس نے پوچھا کہ یہ ہمارے اقتدار اورتسلط کے لئے کسی خطرے کاباعث تونہیں بتایاگیا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں تواس نے کہاکہ پھرانھیں کہو کہ یہ کام دن میں پانچ بارنہیں پچاس بارانجام دیاکرو۔

چنانچہ آج بھی ایسے حکمران مل جائیں گے جولوگوں کودھوکہ دینے کے لئے بڑے شدومدسے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کعبہ کی چھت پرچڑھ کراذان دی میرے لئے کئی مرتبہ کعبہ کادروازہ کھولا گیا اورمضاحکہ خیز بات یہ کرتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ کون مسلمان ہوگا جس کے لئے کم ازکم پانچ مرتبہ روضۂ رسول کاتہہ خانہ کھولا گیا پس مسئلہ نماز یااذان کانہیں تھا یہ توخود حکمران بھی بعض اوقات ترویج کردیتے ہیں۔

بہرحال بات یہ ہورہی تھی کہ اہل علم،صاحب رائے اورذمہ دارافراد شعوری یالاشعوری طورپراپنی ذمہ داریوں میں اضافہ سے بچنے کے لئے ایسے مبانی اختیار کرتے اورکربلا کے حوالے سے ایسے نظریات وافکار کے قائل ہوجاتے جن وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھی جان چھڑا لیں اوران پرکوئی آنچ بھی نہ آئے اوروہ شرعی مؤاخذہ سے بھی بچ سکیں لہذا وہ قیام امام ؑ کے مقاصد کے بجائے علل واسباب کی تبیین وتوضیح تک محدود رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ علت ، سبب اورمقصد میں فرق ہے۔علت اس کوکہتے ہیں جس کی موجودگی میں معلول کاوجود ضروری ہوجاتا ہے جبکہ سبب ایک معلول کے وجود کے لئے ضروری ہے لیکن اس کی موجودگی میں ضروری نہیں کہ معلول وجود میں آجائے جبکہ مقصد اس کوکہتے ہیں جوعلت ومعلول کے بعد حاصل ہوتا ہے۔اورعلل واسباب بھی دوقسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جوخودبخود پیداہوجاتے ہیں اورایک وہ خود پیدانہیں ہوتے بلکہ انھیں فراہم کیاجاتا ہے ایسانہیں تھا کہ امام کے لئے کچھ علل واسباب پیداہوگئے تھے لہذا وہ قیام کرنے پرمجبور ہوگئے بلکہ بعض خطرات کوبھانپتے ہوئے اعلیٰ مقاصد کی خاطر امام خود اسباب فراہم کیے۔

اگر ہم اس فکرورائے کے قائل ہوجائیں توپھربہت ساری ذمہ داریاں ہمارے کاندھوں پرآن پڑتی ہیں بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ اس کے قائل ہوں یانہ ہوں یہ ذمہ داریاں ہرصورت میں ہمارے کاندھوں پرآن پڑی ہیں۔

یہاں سوال یہ ہے کہ وہ کون سے خطرات تھے اوروہ کون سے اعلیٰ مقاصد تھے جن کے حصول کے لئے امام نے اتنی بڑی قربانی دی اوروہ کون ساپیغام ہے جوہمیں کربلا سے ملتا ہے امام  نے ان خطرات سے بھی آگاہ کیاجو اسلام کولاحق تھے اوران اعلیٰ مقاصد بھی بیان کیاجوان کے پیش نظرتھا۔

خطرہ ان الفاظ میں بیان کیا کہ کہ ’’اذا بلیت الاسلام فی مثل یزید فعلی الاسلام اسلام ‘‘جب یزید جیسے شخص میں مبتلاہوجائے توپھراسلام پرفاتحہ پڑھ دویعنی اس وقت اسلام شدید خطرے میں ہے اس جگہ امام  نے یہ نہیں فرمایا چونکہ اذانوں پرپابندی لگ گئی ہے نماز کی ادائیگی سے روکا اورمساجد کوگرایا جارہا ہے اس لئے میں خطرہ محسوس کررہا ہوں بلکہ فرمایا جب یزید جیسابدکردار شخص اسلام کے نام پرمسند حکومت جومسند رسولؐ ہے پرقابض وبرجمان ہوجائے تواس وقت اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے کیونکہ اس لئے کہ یہ بدکردار شخص نہ صرف معلن بالفسق والفجور(علی الاعلان فسق وفجور کاارتکاب کرنے والا) ہے بلکہ یہ بندروں اورکتوں کے ساتھ کھیلتاہے اوریہ کام مسند حکومت(مسندرسول) کامذاق اڑاتا ہے اورصرف زبان سے نہیں بلکہ محارم سے جنسی تعلقات استوار کرکے عملاً حدودالٰہی کاتمسخر اڑاتا ہے یہ معارف الٰہی کوتبدیل کرنے کے درپے ہے دین کی انتہائی گمراہ کن تشریح کررہا ہے یہ باپ کی طرح اپنے غاصبانہ قبضہ کی توجیہ قضاوقدر کے کررہا ہے کہ جب ہرکام خدا کی مرضی سے انجام پاتا ہے تومجھے اقتدار ملنے میں اللہ کی مرضی شامل ہے جب یہ اقتدار مجھے اللہ کی رضاسے ملا ہے توپھرمیری اطاعت تم سب پرواجب ہے اورمیرے خلاف بات کرنابھی ناجائز اوربغاوت کے زمرے میں آتا ہے یہ اپنے تمام قبیح مکروہ اورغلیظ گناہوں کی توجیہ اس آیت مجیدہ سے کررہا ہے کہ(ان اللہ یغفرالذنوب جمیعاً)خداوند متعال تمام گناہوں کوبخش دے گا اپنے تمام ترظلم وستم کی توجیہ صبرکاغلط معنی کرکے کرتا ہے کہ( ان اللہ مع الصابرین) اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے اورصبر کامطلب ظلم کے مقابلے میں خاموشی اورسکوت اختیار کرنا ہے یعنی چپ چاپ ظلم کی چکی میں پستے رہنے کانام صبر ہے یہ مغالطات کے ذریعے لوگوں کودھوکے میں رکھنا چاہتا ہے یہ لوگوں پراسلام کی حقیقی روح آشکار نہیں ہونے دیتا ایسے میں اسلام خطرے میں نہیں توکیا ہے؟اس سے بڑا

خطرہ اسلام کے لئے کیاہوسکتا ہے؟ جب اسلام خطرے میں ہوتو پھریہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ میرے انصار اورساتھیوں کی تعداد بہت قلیل ہے یزید جیسے شخص کی حکومت گرانے کے امکانات بہت کم ہیں میرے مارے جانے کاخطرہ ہے میرے بچوں کے تیروں سے چھلنی ہونے کاامکان ہے میرے اہل خانہ اورمستورات کواسیربنایاجاسکتا ہے ان کے سرو ں سے چادریں چھینی جاسکتی ہیں یہ سب بہانے ناقابل قبول ہیں۔اورشاید اسی وجہ سے کربلامیں ہرجہت سے ظلم ہوا اورظلم بھی اپنی انتہا کاہوااورامام نے ان میں سے کسی کوبھی اپنے قیام کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھا کہ کل کلاں کوئی یہ بہانہ یاعذر نہ تراشے کہ چونکہ آج میرے ساتھ یہ ظلم ہونے کااندیشہ موجود ہے جوکربلا میں نہیں ہوا لہذا میرے لئے قیام ضروری نہیں ہے۔

مزید  نبی مکرم ۖ حضرت ابو طالبـ کی کفالت میں

اوریہ توانتہائی سادگی اورسادہ لوحی ہوگی اگرہم یہ سمجھیں کہ چونکہ ہمیں اذان دینے، نمازپڑھنے، حج اداکرنے، عزاداری منانے اورجلوس نکالنے کی آزادی ہے لہذا ہمیں کس لئے قیام کی ضرورت ہے؟

اسی طرح اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں تدریس وتبلیغ وتالیف وتفسیر میں مشغول ہوں اورمیرا فریضہ انجام پارہا ہے اس سے زیادہ مجھ پرکوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تویہ بھی شاید سادہ لوحی ہی ہوکیونکہ امام حسین نے ان میں کسی چیز کوقیام نہ کرنے کے لئے عذریابہانے کے طورپراختیار نہیں کیالہذا یہ کسی اورکے لئے بھی بہانہ نہیں بننا چاہئے علامہ اقبالؔ نے خوب کہا:

نکل کرخانقاہوں سے اداکررسم شبیری

یقیناًخانقاہ سے مراد ایک خاص مکان نہیں جہاں دنیا سے لاتعلق ہوکرگوشہ نشینی اختیار کی جاتی ہے بلکہ جوبھی امت وقوم کے مسائل سے لاتعلقی اختیار کرے وہ خانقاہ ہی کے زمرے میں آتا ہے لہذا بعض اوقات مساجد، امامبارگاہیں، مدارس اورمکاتب بھی خانقاہ بن جاتی ہیں۔خانقاہ ایک خاص فکری کام ہے جوامت پرہونے والے ظلم سے اوروقت کے یزیدوں اوریزیدیت سے لاتعلق بنادے اوررسم شبیری یہ ہے کہ ظلم وستم اوریزیدیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جائے خواہ اس کے لئے کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔

اس کے علاوہ اپنے قیام کااعلیٰ مقصد بھی امام حسین نے خود بیان فرمایا:(انما خرجت لاصلاح امت جدی)میں نے اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے قیام کیا ہے۔جہاں تک اسلام کودرپیش خطرات کاتعلق ہے وہ توسمجھ میں آتا ہے لیکن اصلاح امت سے کیامراد ہے؟اورسوال یہ ہے کہ امت میں کون سافساد آگیا تھا جس کے اصلاح کی ضرورت تھی امت میں فساد سے مراد یہ نہیں تھی کہ لوگوں کی اکثریت اخلاقی یاعبادی لحاظ سے فاسد ہوگئی تھی بلکہ ان میں سے اکثریت احکام شرعیہ کی پابنداوراخلاقی طورپراعلیٰ اخلاق کی مالک تھی جیسا کہ خوارج کے بارے میں ملتا ہے کہ فاسد ترین لوگ یہی تھے اگرچہ عبادات ، احکام شرعیہ کی پابندی قرآن کریم کی تلاقت کے لحاظ سے ان کی تفسیر نہیں ملتی تھی طویلمسجدوں کی وجہ سے ان کی پیشانیوں پرگہرے محراب اورگھٹنے اورٹخنے اونٹ کی چمڑی کی مانند سخت ہوگئے تھے لیکن اس کے باوجود حضرت علی نے انھیں مکمل طور پرنیست ونابود کرنے کاتہیہ کیا۔

یہاں بھی فسادامت سے مراد اخلاقی یاعبادی فساد نہیں بلکہ اس سے مراد یہ تھی کہ امت نے بے شعوری کی وجہ سے لاتعلقی اختیار کرلی تھی انھیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ ان پرکون حکومت کررہا ہے؟ اس کاکردارکیسا ہے؟ وہ دین کے ساتھ کیاسلوک کررہا ہے؟ اسی فساد کی امام حسین اصلاح کرناچاہتے تھے وہ اپنے نانا کی امتکوباشعوربنانا چاہتے تھے وہ انھیں خواب خفتہ سے بیدار کرناچاہتے تھے وہ ان کی لاتعلقی کوختم کرناچاہتے تھے وہ انھیں حر بنانا چاہتے تھے امام حسین اپنے نانا کی امت کی یہ اصلاح کرنا چاہتے تھے اس کے لئے کربلا کی ضرورت تھی اس خواب خفتہ میں امت کوبیدارکرنے کے لئے خون کی ضرورت تھی کیونکہ جب فردگہری نیند سوجائے تواسے پانی کے چھینٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اورجب امت سوجائے تواسے خون کے چھینٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

پس تحفظ دین، احیائے دین، بقائے دین اورتطہیر دین کاکام صرف کربلا سے ہی ممکن ہے اصلاح امت کافریضہ کربلا بنانے سے ہی انجام پاتا ہے اوراگر مختصر الفاظ میں کربلا کاپیام بیان کرنا چاہیں تووہ یہی کہ کربلا قیام واصلاح کاپیغام دیتی ہے اوراگر اس دورمیں دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایک شخص کس طرح اس پیغام کوسنا سمجھا اوراس پرعمل کیاتووہ امام خمینی ؒ کی ذات گرامی ہے جنھوں نے اس وقت یہ نعرہ لگایا کہ’’ واللہ اسلام درخطراست‘‘ خداکی قسم اسلام خطرے میں ہے جب تمام لوگ رضاشاہ کوعالم اسلام میں واحد شیعہ رہنما قراردیتے تھے اپنے مدارس، زیارات، مساجد، عزاداری کوآزاد تصور کرتے تھے برصغیرکے انھیں علماء کی طرح جن کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا:ملاں کوہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

لیکن امام خمینی  نے ان تمام اعتراضات ، مشوروں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے جدامجد امام حسین کی طرح یہ شعار بلند کیا کہ اگرچہ نماز وروزے اوراذان واقامت کی اجازت ہے لیکن اس کے باوجود اسلام خطرے میں ہے اوراسے تحفظ وبقا کے لئے میرے خون کی ضرورت ہے یادوسرے الفاظ میں میرے قیام کی ضرورت ہے خواہ اس کے لئے جتنی بھی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے، میں شاہ ایران جیسے حکمرانوں کویزید کی طرح کبھی بھی قبول نہیں کرسکتا امام خمینی نے امام حسین کی طرح مغیرہ جیسے لوگوں کی بات کویکسر ردکردیا جن کاکہنا تھا کہ اگرفساد دیکھتے ہوتواپنی آنکھیں بندکرلو اورپھراپنے اسی قیام کے ذریعے ایک بے شعور اورحکومت وحکمرانوں سے لاتعلق امت کوباشعور بنادیا انھیں خواب غفلت سے بیدار کردیا انھیں شاہ جیسے یزید کے تسلط سے آزاد کردیایعنی پوری امت کوحر بنادیا۔

یہ تھے وہ لوگ جنھوں نے کربلا کی پکار اورصدائے ھل من ناصرپرلبیک کہاکربلا کے پیغام پرپوری طرح عمل

کیااوردل وجان سے قبول کیا اورپھرکربلا نے ان کی زندگی بدل کررکھ دی ان کی زندگیوں میں انقلاب آگیا اوران کا ھرفردحر بن گیا بلکہ ظلم وستم اوریزیدیت کاہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا واضح رہے کہ ظالم ظلم وہیں کرتا ہے جہاں ظلم سہنے والے ہوں اگرلوگ ظلم شہنا چھوڑ دیں توظلم کرنے والا ظلم چھوڑ دیں گے بلکہ وہ ظلم کرہی نہیں سکیں گے اگرامت لاتعلق رہنا چھوڑ دے توکبھی بھی کوئی شخص یزید کاروپ نہیں دھارسکے گا کبھی یزیدیت اسلام کے لئے خطرہ نہیں بن سکے گی پھرکبھی کسی کربلا میں حسین کاسجدے کی حالت میں سرجدانہیں کیاجائے گا۔

فاعتبروا یااولی الابصار

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.