پيغمبروں كے بعثت كى اہم غرض نفوس كا پاكيزہ كرنا تھا

0 0

پيغمبروں كا سب سے بڑا ہدف اور غرض انسانى نفوس كى پرورش كرنا اور نفوس انسانى كو پاك و پاكيزہ بنانا تھا_

خداوند عالم قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ہے كہ ” خداوند عالم نے مومنين پر احسان كيا ہے كہ ان سے ايك رسول ان كے درميان بھيجا ہے تا كہ وہ ان كے لئے قرآنى آيات كى تلاوت كرے اور ان كے نفوس كو پاك و پاكيزہ بنائے اور انہيں كتاب اور حكمت كى تعليم دے گرچہ وہ اس سے پہلے ايك كھلى ہوئي گمراہى ميں غرق تھے_ 

تعليم و تربيت كا موضوع اس قدر مہم تھا كہ پيغمبروں كے بھيجنے كى غرض قرار پايا اور خداوند عالم نے اس بارے ميں اپنے بندوں پر احسان كيا_ انسان كى فردى اور اجتماعى شخصيت كى سعادت اور دنيوى اور اخروى شقاوت اس موضوع سے وابستہ ہے كہ كس طرح انسان نے اپنے آپ بنايا ہے اور بنائے گا_ اسى وجہ سے انسان كا اپنے آپ كو بنانا ايك زندگى ساز سرنوشت ساز كام شمار ہوتا ہے_ پيغمبر(ص) آئے ہيں تا كہ خودسازى اور نفس انسانى كى پرورش اور تكميل كا راستہ بتلائيں اور مہم ا ور سرنوشت ساز كام كيرہنمائي اور مدد فرمائيں پيغمبر آئے ہيں تا كہ نفوس انسانى كو رذائل اور برے اخلاق اور حيوانى صفات سے پاك اور صاف كريں اور اچھے اخلاق اور فضائل كى پرورش كريں_ پيغمبر عليہم السلام آئے ہيں تا كہ انسانوں كو خودسازى كا درس ديں اور برے اخلاق كى شناخت اور ان پر كنٹرول اور خواہشات نفسانى كو قابو ميں ركھنے كى مدد فرمائيں اور ڈرانے اور دھمكانے سے ان كے نفوس كو برائيوں اور ناپاكيوں سے پاك و صاف كريں_ وہ آئے ہيں تا كہ فضائل اور اچھے اخلاق كے پودے كو انسانى نفوس ميں پرورش ديں اور بار آور بنائيں اور اپنى راہنمائي اور تشويق اور ترغيب سے ان كے مددگار بنيں_

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا ہے كہ ” ميں تمہيں اچھے اخلاق كى وصيت كرتا ہوں كيونكہ خداوند عالم نے مجھے اسى غرض كے لئے بھيجا ہے_ 

نيز پيغمبر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” ميں اسلئے بھيجا گيا ہوں تا كہ اچھے اخلاق كو نفوس انسانى ميں مكمل كروں_ 

امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” خداوند عالم نے پيغمبروں كو اچھے اخلاق كے لئے منتخب كيا ہے جو شخص بھى اپنے آپ ميں اچھے اخلاق موجو د پائے تو خداوند عالم كا اس نعمت پر شكريہ ادا كرے اور جو شخص اپنے آپ ميں اچھے اخلاق سے محروم ہو اسے اللہ تعالى كى بارگاہ ميں تضرع اور زارى كرنى چاہئے اور اللہ تعالى سے اچھے اخلاق كو طلب كرنا چاہئے_ 

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” اگر بالغرض ميں بہشت كى اميد نہ ركھتا ہوتا اور دوزخ كى آگ سے نہ ڈرتا ہوتا اور ثواب اور عقاب كا عقيدہ بھى نہ ركھتا ہوتا تب بھى يہ امر لائق تھا كہ ميں اچھے اخلاق كى جستجو كروں كيونكہ اچھے اخلاق كاميابى اور سعادت كا راستہ ہے_ 

امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” ايمان كے لحاظ سے كاملترين مومنين وہ ہيں كہ جن كے اخلاق بہتر ہوں_” رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمايا ہے كہ ” قيامت كے دن نامہ اعمال ميں كوئي چيز حسن خلق سے افضل نہيں ركھى جائيگي_ 

ايك آدمى رسول خدا كى خدمت ميں حاضر ہوا اور عرض كى يا رسول اللہ دين كيا ہے؟ آپ(ص) نے فرمايا ”حسن خلق” وہ آدمى اٹھا اور آپ(ص) كے دائيں جانب آيا اور عرض كى كہ دين كيا ہے؟ آپ(ص) نے فرمايا ”حسن خلق” يعنى اچھا اخلاق_ پھر وہ گيا اور آپ كے بائيں جانب پلٹ آيا اور عرض كى كہ دين كيا ہے ؟ آپ(ص) نے اس كى طرف نگاہ كى اور فرمايا كيا تو نہيں سمجھتا؟ كہ دين يہ ہے كہ تو غصہ نہ كرے_ 

اسلام كو اخلاق كے بارے ميں خاص توجہہ ہے اسى لئے قرآن مجيد ميں اخلاق كے بارے ميں احكام كى نسبت زيادہ آيات قرآنى وارد ہوئي ہيں يہاں تك كہ قرآن كے قصوں ميں بھى غرض اخلاقى موجود ہے_ تمہيں احاديث ميں اخلاق كے بارے ہزاروں حديثيں مليں گى اگر دوسرے موضوعات سے زيادہ حديثيں نہ ہوئيں تو ان سے كمتر بھى نہيں ہيں_ اخلاق كے بارے ميں ثواب اور خوشخبرياں جو ذكر ہوئي ہيں دوسرے اعمال كے ثواب سے كمتر نہيں ہيں_ اور برے اخلاق سے ڈرانا اور سزا جو بيان ہوئي ہے وہ دوسرے اعمال سے كمتر نہيں ہيں_ اسى لئے اسلام كى بنياد اخلاقيات پر تشكيل پاتى ہے_ مناسب نہيں كہ اسے دين كے احكام ميں دوسرا درجہ ديا جائے اور دينداروں كے لئے آرائشے اور خوبصورتى كا درجہ ديا جائے اگر احكام ميں امر اور نہى ہيں تو اخلاق ميں بھى امر اور نہى موجود ہيں اور اگر احكام ميں تشويق اور تخويف ثواب اور عقاب اور جزا ء اور سزا موجود ہے تو اخلاق ميں بھى يہى امور موجود ہيں_

پس احكام شرعى اور اخلاق ميں كونسا فرق موجود ہے؟ اگر ہم سعادت اور كمال كے طالب ہيں تو اخلاقيات سے لاپرواہى نہيں برت سكتے ہم اخلاقى واجبات كو اس بہانے سے كہ يہ اخلاقى واجبات ہيں ترك كرديں اور اخلاقى محرمات كو اس بنا پر كہ يہ اخلاقى محرمات ہيں بجالاتے رہيں_ اگر نماز واجب ہے اور اس كا ترك كرنا حرام اور موجب سزا ہے تو عہد كا ايفا بھى واجب ہے اور خلاف وعدہ حرام ہے اور اس پر بھى سزا ہوگى پس ان دونوں ميں كيا فرق ہے؟

واقعى متدين اور سعادت مند وہ انسان ہے كہ جو احكام شرعيہ اور تكاليف الہى كا پابند ہو اور اخلاقيات كا بھى پابند ہو بلكہ سعادت اور كمال معنوى اور نفسانى ميں اخلاقيات بہت زيادہ اہميت ركھتے ہيں جيسے كہ بعد ميں ذكر كريں گے_

بزرگ شناسى و خودسازي

گرچہ انسان ايك حقيقت ہے ليكن يہ مختلف جہات اور اوصاف ركھتا ہے_ انسان كے وجود كا ايك مٹى كے جوہر سے جو بے شعور ہے آغاز ہوا ہے اور پھر يہ جوہر مجرد ملكوتى تك جاپہنچتا ہے خداوند عالم قرآن مجيد ميںفرماتا ہے كہ ” خداوند وہ ہے كہ جس نے ہر چيز كو اچھا پيدا كيا ے اور انسان كو مٹى سے بنايا ہے اور اس كى نسل كو بے وقعت پانى يعنى نطفہ سے قرار ديا ہے پھر اس نطفہ كو اچھا اور معتدل بنايا ہے اور پھر اس ميں اپنى طرف منسوب روح كو قرار ديا ہے اور تمہارے لئے كان، آنكھ اور دل بنايا ہے اس كے باوجود تم پھر بھى بہت كم اس كا شكريہ ادا كرتے ہو_ 

انسان مختلف مراتب اور جہات ركھتا ہے ايك طرف تو وہ ايك جسم طبعى ہے اور اس جسم طبعى كے آثار ركھتا ہے دوسرى طرف وہ جسم نامى ہے كہ وہ اس كے آثار بھى ركھتا ہے اور دوسرے لحاظ سے وہ ايك حيوان ہے اور وہ حيوان كے آثار بھى ركھتا ہے ليكن بالاخرہ وہ ايك انسان ہے اور وہ انسانيت كے آثار بھى ركھتا ہے جو حيوانات ميں موجود نہيں ہيں_

لہذا انسان ايك حقيقت ہے ليكن يہ حقيقت وجود كے لحاظ سے مختلف مراتب اور درجات كى حامل ہے_ جب يہ كہتا ہے كہ ميرا وزن اور ميرى شكل و صورت تو وہ اپنے جسم نامى ہونے كى خبر دے رہا ہوتا ہے اور جب وہ كہتا ہے كہ ميرى شكل و صورت تو وہ اپنے جسم نامى ہونے كى حكايت كر رہا ہوتا ہے اور جب وہ كہتا ہے كہ ميرا چلنا اور شہوت اور غضب تو وہ اپنے حيوانى درجہ كى خبر دے رہا ہوتا ہے اور جب وہ كہتا ہے كہ ميرا سوچنا اور عقل اور فكر تو وہ اپنے انسان اعلى درجہ كا پتہ دے رہا ہوتا ہے پس انسان كى ميں اور خود مختلف موجود ہيں_ ايك جسمانى ميں اور ايك ميں نباتى اور ايك ميں حيوانى اور ايك ميں انسانى ليكن ان ميں سے انسانى ميں پر ارزش اور اصالت ركھتى ہے وہ چيز كہ جس نے انسان كو انسان بنايا ہے اور تمام حيوانات پر برترى دى ہے وہ اس كى روح مجرد ملكوتى اور نفخہ الہى ہے_

خداوند عالم انسان كى خلقت كو اس طرح بيان فرماتا ہے كہ ہم نے انسان كو ٹى سے خلق كيا ہے پھر اسے نطفہ قرار ديا ہے اور اسے ايك مضبوطہ جگہ رحم مادر ميں قرار ديا ہے اور پھر نطفہ كو علقہ لو تھڑا اور پھر علقہ كو نرم گوشت بنايا ہے اور پھر نرم گوشت كو ہڈياں بنايا ہے پھر ان ہڈيوں پر گوشت سے ڈھانپا ہے_ پر اس ميں روح مجرد ملكوتى كو پھونكا ہے جس سے اسے ايك نئي مخلوق بنايا ہے_ شاباش اس كامل قادر پر جو بہترين خلق كرنے والا ہے_

انسان كى خلقت كے بارے خدائے دانا فرماتا ہے_ تبارك اللہ احسن الخالقين اسى ملكوتى روح كى وجہ سے انسان كايك ايسے مقام تك پہنچ جاتا ہے كہ خداوند عالم كى طرف سے فرشتوں كو حكم ديتا ہے كہ ” ميں نے آدم (ع) كو پيدا كيا ہے اور اس روح كو جو ميرى طرف نسبت ركھتى ہے اس ميں پھونكا ہے لہذا تم سب اس كى طرف سجدہ كرو_ 

اگر انسان تعظيم كا مورد قرار پايا ہے اور خدا نے اس كے بارے ميں فرمايا ہے كہ ہم نے اولاد آدم كو محترم قرار ديا ہے اور انہيں خشكى اور سمندر ميں سوار كيا ہے اور ہر قسم كى پاكيزہ اور لذيذ غذا اس كى روزى قرار دى ہے اور اپنى بہت سى مخلقو پر اسےبرترى دے ہے تو يہ سب اسى روح ملكوتى كے واسطے سے ہے لہذا انسان اگر خود سازى يعنى اپنے آپ كو سنوارنا ہے تو اسے چاہئے كہ وہ اپنى انسانى ميں كو سنوارے اور تربيت دے نہ وہ اپنى حيوانى ميں يا جسمانى ميں كى پرورش كرے پيغمبروں كى غرض بعثت بھى يہى تھى كہ انسان كو خودسازى اورجنبہ انسانى كى پرورش ميں اس كى مدد كريں اور اسے طاقت فراہم كريں_ پيغمبر(ص) انسانوں سے فرمايا كرتے تھے كہ تم اپنے انسانى ميں كو فراموش نہ كرو اور اگر تم نے اپنے انسانى خود اور ميں كو خواہشات حيوانى پر قربانى كر ديا تو بہت بڑا نقصان تمہارے حصہ اور نصيب ميں آجائيگا_

خدا قرآن مجيد ميں فرماتا ہے ” اے پيغمبر_ ان سے كہہ دے كہ نقصان ميں وہ اشخاص ہيں جو اپنے نفس انسانى اور اپنے اہل خانہ كے نفوس كو قيامت كے دن نقصان ميں قرار ديں اور يہ بہت واضح اور كھلا ہوا نقصان ہے_ 

جو لوگ حيوانى زندگى كے علاوہ كسى دوسرے چيز كى سوچ نہيں كرتے در حقيقت وہى لوگ ہيں جنہوں نے انسانى شخصيت كو كھو ديا ہوا ہے كہ جس كى تلاش ميں وہ كوشش نہيں كرتے_(

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”ميں اس شخص سے تعجب كرتا ہوں كہ ايك گم كى ہوئي چيز كى تلاش تو كرتا ہے جب كہ اس نے اپنے انسانى روح كو گم كيا ہوا ہے اور اس كے پيدا كرنے كے درپے نہيں ہوتا_” اس سے بدتر اور دردناك تر كوئي نقصان نہيں ہے كہ انسان اس دنيا ميں اپنى انسانى اور واقعى اور حقيقى شخصيت كو كھو بيٹھے ايسے شخص كے لئے سوائے حيوانيت كے اور كچھ باقى نہيں رہے گا_

روح انسانى اور نفس حيواني

جو روايات اور آيات روح اور نفس انسانى كى بارے ميں وارد ہوئي ہيں وہ د وقسم پر ہيں ايك قسم نفس انسانى كو ايك در بے بہا اور شريف ملكوتى كہ جو عالم ربوبى سے آيا ہے اور فضائل اور كمالات انسانى كامنشا ہے بيان كرتى ہيں اور انسان كو تاكيد كرتى ہيں كہ ايسے كمالات اور جواہر كى حفاظت اور نگاہ دارى اور تربيت اور پرورش ميں كوشش كرے اور ہوشيار رہے كہ ايسے بے بہا در كو ہاتھ سے نہ جانے دے كہ اس سے اسے بہت زياد نقصان اٹھانا پڑے گا_ نمونے كے طور پر قرآن مجيد ميں آيا ہے كہ ” اے محمد (ص) آپ سے روح كى حقيقت كا سوال كرتے ہيں ان كے جواب ميں كہہ دے كہ يہ پروردگار كے عالم سے ہے اور وہ علم جو تمہيں ديا گيا ہے وہ بہت ہى تھوڑا ہے_ 

اس آيت ميں روح كو ايك موجود عالم امر سے جو عالم مادہ سے بالاتر ہے قرار ديا ہے_

اميرالمومنين عليہ السلام نے روح كے بارے ميں فرمايا ہے كہ ”روح ايك در بے بہا ہے جس نے اس كى حفاظت كى اسے وہ اعلى مرتبہ تك پہنچائيگا اور جس نے اس كى حفاظت ميں كوتاہى كى يہ اسے پستى كى طرف جائيگا_ 

آپ نے فرمايا ہے كہ ” جس شخص نے اپنى روح كى قدر پہچانى وہ اسے پست اور فانى كاموں كے بجالانے كى طرف نہيں لے جائي گي_ 

آپ نے فرمايا ”جس شخص نے روح كى شرافت كو پاليا وہ اسے پست خواہشات اور باطل تمينات سے حفاظت كردے گي_ 

مزید  طاغوت سے مقابلہ

”روح جتنى شريف ہوگى اس ميں اتنى زيادہ مہربانى ہوگي_ 

آپ نے فرمايا كہ ” جس كا نفس شريف ہوگا وہ اسے سوال كرنے كى خوارى سے پاك كردے گا_ 

اس قسم كى آيات اور روايات كے بہت زيادہ نمونے موجود ہيں_ ان سے معلوم ہوتا ہے كہ نفس انسانى ايك بيش بہا قيمتى در ہے كہ جس كى حفاظت و نگاہ دارى اور تربيت كرنے ميں كوشش كرنى چاہئے_

دوسرى قسم كى روايات وہ ہيں كہ جس ميں نفس انسانى كو ايك انسان كا سخت دشمنتمام برائيوں كا مبدا بتلايا گيا ہے لہذا اس سے جنگ كى جائے اور اسے سركوب كيا جائے ور نہ وہ انسان كے لئے بدبختى اور شقاوت كے ا سباب مہيا كردے گا_ نمونے كے طور پر جيسے قرآن مجيد ميں آيا ہے كہ ” جو شخص مقام رب سے ڈرتا ہو اور اپنے نفس كو خواہشات پر قابو پاتا ہو اس كى جگہ جنت ہے_قرآن مجيد حضرت يوسف عليہ السلام سے نقل كرتا ہے كہ انہوں نے فرمايا ہے كہ ” ميں اپنے نفس كو برى قرار نہيں ديتا كيونكہ وہ ہميشہ برائيوں كى دعوت ديتا ہے مگر جب خدا رحم كرے_

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ” تيرا سب سے بدترين دشمن وہ نفس ہے جو تيرے دو پہلو ميں موجود ہے_

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”نفس ہميشہ برائي كا حكم ديتا ہے جو شخص اسے امين قرار دے گا وہ اس سے خيانت كرے گا جس نے اس پر اعتماد كيا وہ اسے ہلاكت كى طرف لے جائيگا، جو شخص اس سے راضى ہوگا وہ اسے بدترين موارد ميں وارد كردےگا_

نيز آپ نے فرمايا ” نفس پر اطمينان كرنا شيطان كے لئے بہترين اور مضبوط موقعہ ہوا كرتا ہے_

امام سجاد عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”اے پروردگار كہ ميں آپ سے نفس كى شكايت كرتا جو ہميشہ برائي كى دعوت ديتا ہے اور گناہ اور خطاء كى طرف جلدى كرتا ہے او ربرائي سے علاقمند ہے اور وہ اپنے آپ كو تيرے غضب كا مورد قرار ديتا ہے اور مجھے ہلاكت كے راستوں كى طرف كھينچتا ہے_

اس قسم كى آيات اور روايات بہت زيادہ ہيں كہ جن سے مستفاد ہوتا ہے كہ نفس ايك ايسا موجود ہے جو شرير اور برائيوں كا سرچشمہ ہے لہذا چاہئے كہ جہاد كر كے اس كى كوشش كو سركوب كيا جائے_

ممكن ہے كہ بعض لوگ تصور كريں كہ ان دو قسم كى آيات اور روايات ميں تعارض اور تزاحم واقع ہے يا خيال كريں كہ انسان ميں دو نفس اور روح ہيں كہ ايك اچھائيوں كامنبع ہے اور دوسرا نفس حيوانى ہے جو برائيوں كا سرچشمہ ہے ليكن يہ دونوں تصور اور خيال غلط ہيں_ پہلے تو ان دو قسم ميں تعارض ہى موجود نہيں ہے دوسرے علوم ميں ثابت ہوچكا ہے كہ انسان كى ايك حقيقت ہے اور ايك روح ہے اور اس طرح نہيں ہے كہ انسانيت اور حيوانيت انسان ميں ايك دوسرے سے جدا اور عليحدہ ہوں_

بلكہ نفس انسانى ميں دو مرتبے اور دو وجودى حيثيت ہيں نيچے اور پست مرتبے ميں وہ ايك حيوان ہے كہ جس ميں حيوان كے تمام آثار اور خواص موجود ہيں اور ايك اعلى مرتبہ ہے كہ جس ميں وہ ايك انسان ہے اور وہ نفخہ الہى اور عالم ملكوت سے آيا ہے_

جب يہ كہا گيا ہے كہ نفس شريف اور قيمتى اور اچھائيوں كا مبدا ہے اس كے بڑھانے اور پرورش اور تربيت ميں كوشش كرنى چاہئے يہ اس كے اعلى مرتبے كى طرف اشارہ ہے اور جب يہ كہا گيا ہے كہ نفس تيرا دشمن ہے اس پر اعتماد نہ كرو تجھے ہلاكت ميں ڈال دے گا اور اسے جہاد اور كوشش كر كے قابو ميں ركھ يہ اس كے پست مرتبے كى طرف اشارہ ہے يعنى اس كى حيوانيت كو بتلايا گيا ہے_ جب كہا جاتا ہے كہ نفس كى تربيت اور پرورش كر اس سے مراد انسانى مرتبہ ہوتا ہے اور جب كہا جاتا ہے كہ اس كو سركوب اور مغلوب كر دے تو اس سے مقصود اس كا پست حيوانى مرتبہ ہوتا ہے_

ان دو مرتبوں اور دو حيثيتوں اور دو وجودوں ميں ہميشہ كشمكش اور جنگ رہتى ہے_ حيوانى مرتبہ كى ہميشہ كوشش رہتى ہے كہ اپنى خواہشات اور تمينات كو پورا كرنے ميں لگا رہے اور قرب الہى اور ترقى اور تكامل سے نفس انسانى كو روكے ركھے اور اسے اپنا غلام بنائے ركھے اس كے برعكس نفس انسانى اور مرتبہ عالى وجود انسانى ہميشہ كوشش ميں رہتا ہے كہ كمالات انسانى كے اعلى مراتب طے كرے اور قرب الہى كى مقام پر فائزہوجائے اس مقام تك پہنچنے كے لئے وہ خواہشات اور تمايلات حيوانى كو قابو ميں كرتا ہے اور اسے اپنا نوكر اور غلام بنا ليا ہے اس كشمكش اورجنگ ميں ان دو سے كون دوسرے پر غلبہ حاصل كرتا ہے اگر روح انسان اور ملكوتى نے غلبہ حاصل كر ليا تو پھر انسانى اقدار زندہ ہوجائيں گى اور انسان قرب الہى كے بلند مرتبے اور قرب الہى تك سير و سلوك كر تا جائيگا اور اگر روح حيوانى اور حيثيت بہيمى نے غلبہ حاصل كر ليا تو پھر عقل كا چراغ بچھ جائيگا اور وہ اسے گمراہى اور ضلالت كى وادى ميں دھكيل دے گا اسى لئے پيغمبر آئے ہيں كہ انسان كو اس مقدس جہاد اورجنگ ميں حتمى اور يقينى مدد ميں_

انسانى ارزش

انسان كى دو حيثيتيں اور دو وجود ہيں ايك وجود انسانى اور ايك وجود حيواني_ انسان كى قدر اور قيمت انسانى وجود سے ہے اور حيوانى وجود سے نہيں ہے_ حيوانى وجود تو اس كا طفيلى ہے اور در حقيقت وہ كچھ بھى نہيں ہے_ گر چہ انسان حيوان تو ہے ہى اور اسے حيوانى وجود كے لئے اس كے لوازم زندگى حاصل كرنے كو اہميت دينى بھى چاہئے_ ليكن انسان اس دنيا ميں اس لئے نہيں آيا كہ وہ حيوانى زندگى بسر كرے بلكہ انسان اس اس جہان ميں اسلئے آيا ہے كہ وہ اپنى حيوانى زندگى سے انسان زندگى كى تكميل كرے اور اس حيوانى زندگى سے انسان زندگى كا فائدہ حاصل كرے انسان دونوں انسانى حيوانى زندگى ميں كئي ايك چيزوں كا محتاج ہوتا ہے كہ جن كے تقاضے خود اس كے وجود ميں ركھ ديئے گئے ہيں_ اس لحاظ سے كہ وہ ايك حيوان ہے اور نامى ہے پانى غذا مكان لباس ہوا محتاج ہے تا كہ وہ زندہ رہے پانى اور غذا كا محتاج اور اس لحاظ سے كہ ان كو پورا كرے اسے تلاش اور كوشش كرنى ہوتى ہے_ بھوك پياس لذت پانى اور غذا كى طلب يہ اس كے وجود ميں ركھ دى گئي ہوئي ہيں اور اس لحاظ سے كہ نسل انسانى باقى رہے جنسى غريزہ اور بيوى كى طرف ميلان اس كے وجود ميں ركھ ديا گيا ہے_ انسان

اپنے باقى رہنے كا علاقمند ہوتا ہے زندگى كے باقى ركھنے ميں حيوانى زندگى اور اس كے آثار كا پابند ہے جب غذا كو ديكھتا ہے اور بھوك كا احساس كرتا ہے تو غذا كھانے كى طرف ميلان پيدا كرتا ہے اور اپنے آثار سے كہتا ہے كہ مجھے غذا حاصل كرنى چاہئے اور اسے كھانا چاہئے اور اس كے حاصل كرنے ميں كوئي مانع آڑے آرہا ہو تو اس سے مقابلہ كرتا ہے_ يقينا ايسا احساس پر انہيں ہے كيونكہ اپنى زندگى كے دوام كے لئے انسان كو كام كرنا چاہئے تا كہ كھائے اور پيئے_ اسلام ميں نہ صرف اس سے روكا نہيںگيا بلكہ اس كى سفارش بھى كى گئي ہے_ ليكن اس مطلب كو بھى جاننا چاہئے كہ حيوانى زندگى اخروى زندگى كا مقابلہ اور تمہيد ہے يہ خود انسان كى خلقت كى غرض نہيں ہے بلكہ يہ طفيلى ہے اصيل نہيں ہے_ اگر كسى نے حيوانى زندگى كو ہى اصل اور ہدف قرار دے ديا اور دن رات خواہشات و تمينات حيوانى زندگى ميں لگا رہا اور اس كى كوشش اور تلاش كرتا رہا اور اپنى زندگى كا ہدف خورد و نوش پہننا اور آرام كرنا اور شہوت رانى اور غرائز حيوانى كا پورا كرنا قرار دے ديا تو وہ ضلالت اور گمراہى ميں ہى جا پڑے گا_ كيونكہ اس نے ملكوتى روح اور عقل انسانى كو حاكميت سے دور كر كے فراموشى كے خانے ميں ڈال ديا ہے ايسے شخص كو انسان شمار نہيں كرنا چاہئے بلكہ وہ ايك حيوان ہے جو انسان كى شكل و صورت ميں ہے_ اس كے پاس عقل ہے ليكن وہ ايسى دور ہوئي ہے كہ جس سے انسانى كمالات اور فضائل كو نہيں پہچان رہا وہ كان اور آنكھ ركھتا ہے ليكن حقايق اور واقعات كو نہيں سنتا اور نہيں ديكھتا_ قرآن ايسے انسان كو حيوان بلكہ اس سے بھى گمراہ تر جانتا ہے كيونكہ حيوان تو عقل ہى نہيں ركھتا ليكن ايسا شخص عقل ركھتا ہے اور نہيں سمجھتا _

قرآن مجيد ميں ہے كہ ” اے پيغمبر اگر تيرى دعوت كو قبول نہيں كرتے تو سمجھ لے كہ يہ لوگ اپنى خواہشات نفس كى پيروى كرتے ہيں اور كونسا شخص اس سے گمراہ تر ہے جو اللہ كى ہدايت كو چھوڑ كر خواہشات نفس كى پيروى كرتا ہے اور اللہ تعالى ظالموں كو بھى ہدايت نہيں كر ے گا_قرآن مجيد فرماتا ہے _ كہ ”ہم نے بہت سے جنات اور انسان جہنم كے لئے پيدا كئے ہيں كہ وہ اپنے سوء اختيار سے جہنم ميں جائيں گے_

اس واسطے كہ ان كے پاس دل تو ہو ليكن اس سے سمجھتے نہيں_ آنكھيں ركھتے ہيں ليكن ان سے ديكھتے نہيں_ كان ركھتے ہيں ليكن ان سے سنتے نہيں يہ جانوروں كى طرح ہيں بلكہ ان سے بھى گمراہ ترين يہ غافل ہيں_

خداوند عالم فرماتا ہے كہ ” وہ شخص كہ جس نے خواہشات نفس كو اپنا خدا بنا ركھا ہے با وجوديكہ وہ عالم ہے ليكن خدا نے اسے گمراہ كر ركھا ہے اور اس كے كان اور دل پر مہرلگادى ہے اور اس كى آنكھوں پر پردے ڈال ديئے ہيں آپ نے ديكھا؟ كہ سوائے خدا كے اسے كون ہدايت كرے گا؟ وہ كيوں نصيحت حاصل نہيں كرتا_

كون سا شخص اس سے بدبخت تر ہے جو ملكوتى نفس اور اپنى انسانى سعادت اور كمالات كو خواہشات نفس اور حيوانى زندگى پر قربان كر ديتا ہے؟ اور نفس انسانى كو حيوانى لذات كے مقابلے فروخت كر ديتا ہے؟

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”كہ خسارت ميں وہ شخص ہے جو دنيا ميں مشغول ہے اور اخروى زندگى كو اپنے ہاتھ سے چھوڑ رہا ہے_

آپ نے فرمايا ” اپنے نفس كو پست كاموں سے روكے ركھ گرچہ تجھے ان امور كى طرف رغبت ہى كيوں نہ ہو اس لئے كہ جتنا تو اپنے نفس كو اس ميں مشغول ركھتا ہے اس كا تجھے كوئي عوض حاصل نہ ہوگا_

اپنے آپ كو دوسروں كا غلام نہ بنا جب كہ خدا نے تجھے آزاد خلق كيا ہے_ وہ خير جو شر كے وسيلے سے حاصل ہو وہ خير نہيں ہے اور گشايش حاصل نہيں ہوتى مگر سختى كے ذريعے سے__

آپ نے فرمايا ” وہ برى تجارت ہے كہ جس ميں تو اپنے نفس كو اس كى قيمت قراردے اور جو تيرا ثواب اور اجر اللہ كے ہاں موجود ہے اسے اس تجارت كا عوض قرار دے دے_

انسان فقط حيوانى وجود كا خلاصہ نہيں ہے بلكہ وہ ايك انسانى وجود بھى ركھتا ہے اسى حيثيت سے وہ جوہر مجرد اور ملكوتى موجود ہے جو عالم قدس سے آيا ہے اور حيواني خواہشات كے علاوہ بھى ارزش ركھتا ہے _ اگر انسان اپنى باطنى ذات اور ملكوتى روح ميں فكر كرے اور اپنے آپ كو خوب پہچانے اور مشاہدہ كرے كہ وہ عالم قدرت و كرامت علم و رحمت وجود نور و احسان خير و عدالت خلاصہ عالم كمال سے آيا ہے اور اسى عالم سے سنخيت اور مناسب ركھتا ہے_ تو اس وقت انسان ايك اور ديد سے ايك اور عالم كو ديكھے گا اور كمال مطلق كو نگاہ كرے گا اور اسى عالم كى صفات سے علاقمند ہوگا اور اس گران بہار سرمايہ كيوجہ سے اپنے حيوانيت كے پست مرتبے سے حركت كرے گا تا كہ كمال كے مدارج كے راستے طے كرے اور مقام قرب الہى تك جاپہنچے يہ وہ صورت ہے كہ اس كے سامنے اخلاقى اقدر واضح ہوجائيں گى اگر اخلاق اقدار مثل علم احسان، خير خواہي، ايثار، عدالت جو دو سخا محروم طبقے كى حمايت سچائي امانتدارى كا خواہشمند ہوا تو اس لحاظ سے اپنے آپ كو عالم كمال سے ديكھے گا اور ايسے مراتب اور اقدار كو اپنے انسانى بلند مقام كے مناسب پائيگا اور اسے اسى وجہ سے دوست ركھے گا يہاں تك كہ حاضر ہو گا كہ وہ حيوانى وجود اور اس كى خواہشات كو اس بلند مقام تك پہنچنے كے لئے قربان كر دے_

اخلاق اقدار اور مكارم روحانى اور معنوى جو ملكوتى روح انسان سے متناسب ہيں كہ ايك سلسلہ كا نام ہے اور انسان كمال تك پہنچنے كے لئے ان كى ضرورت كو محسوس كرتا ہے_

مزید  حدیث منزلت کے بارے میں مناظرہ

اور اپنے آپ سے كہتا ہے كہ مجھے انہيں انجام دينا چاہئے اور اخلاقى انجام دى جانے والى اشياء كا سرچشمہ شرافت اور كرامت نفس ہوا كرتا ہے_ اور كمال روحانى اور بلندى مقام تك پہنچنے كے لئے بجا لايا جاتا ہے_ جب انسان يہ كہتا ہے كہ مجھے راہ حق ميں ايثار كرنا چاہئے يعنى ايثار تكامل ذات اور بلندى مرتبے كے لئے فائدہ مند ہے اور ضرورى ہے كہ ايسے مرتبہ تك پہنچنا چاہئے_ معنوى كمالات تك پہنچنے كا راستہ صرف ايك ہے اور مقام انسان اس اقدار اور ان كى ضد كى پہچان ميں مساوى خلق ہوئے ہيں_ اگر انسان اپنى محبوب اور پاك فطرت كى طرف رجوع كرے اور خواہشات اور ہوينفس كو دور پھينك كر خوب غور و فكر كرے تو وہ اخلاقى فضائل اور اس كى قدر و قيمت اور اس كى ضد اسى طرح اخلاقى پستياں اور رذائل اور اس كى اضداد كو پہچان لے گا اور اس ميں تمام انسان تمام زمانوں ميں ايسے ہى ہوا كرتے ہيں اور اگر بعض انسان اس طرح كى مقدس سوچ سے محروم ہيں تو اس كى وجہ انكى حيوانى خواہشات اور ہوى نفس كى تاريكى نے اس كے نور عقل پر پردہ ڈال ركھا ہوتا ہے_ قرآن مجيد بھى فضائل اور رذائل كى پہچان اور شناخت كو انسان كا فطرى خاصہ قرار ديتا ہے جيسے فرماتا ہے كہ ” قسم نفس كى اور اس كى جس نے اسے نيك خلق كيا ہے اور انحراف اور تقوى كا اسے الہام ديا ہے جس نے اپنے نفس كى تربيت كى اسے پاك و پاكيزہ قرار ديا وہى كاميابى حاصل كرے گا اور جس نے اس كو گناہوں اور برے اخلاق سے آلودہ كيا وہ نقصان اٹھائے گا_

پيغمبر(ص) اسى غرض كے لئے مبعوث ہوئے ہيں تا كہ انسان كى فطرت كو بيدار كريں اور اس كے اخلاقى ناآگاہ شعور كو آگاہى ميں تبديل كريں وہ آئے ہيں تا كہ انسان كے فضائل اور كمالات كے طريقوں كو پہچاننے كى طرف متوجہ كريں اور اس پر عمل كر كے مقام قرب الہى كو پانے اور مدارج كمال كو طے كرنے كى مدد اور راہنمائي فرمائيں_ وہ آئے ہيں تا كہ انسان كو انسانيت كے بلند مقام اور انسانى اقدار كى ضرورت اور انكى حفاظت اور زندہ ركھنے اور قدر و قيمت كى طرف متوجہ كريں_ وہ آئے ہيں تا كہ انسان كو يہ نقطہ سمجھائيں كہ تو حيوان نہيں ہے بلكہ تو انسان ہے اور فرشتوں سے بالاتر ہے_ دنياوى امور اور حيوانى تظاہر تيرے ملكوتى بلند مقام كے شايان شان نہيں تو اپنے آپ كو اس كے عوض فروخت نہ كر_

امام سجاد سے پوچھا گيا كہ سب سے معزز ترين او رشريف ترين اور با اہميت انسان كون ہے؟ تو آپ نے فرمايا كہ ” جو انسان دنيا كو اپنے لئے اہميت نہ دے اور اس كو اپنے لئے خطرہ قرار نہ دے_

اگر انسان اپنى انسان شخصيت كو پہچانے اور اپنى انسانى وجود كو قوى قرار دے اورفضائل اور كمالات كو اس ميں زندہ كرے اور رذائل اور پستيوں پر قابو پائے تو اس وقت انسان كو يہ مجال نہ ہوگى كہ وہ انسانى اقدار كو ترك كردے اور رذائل كے پيچھے دوڑے مثلا سچائي كو چھوڑ دے اور جھوٹ كے پيچھے جائے امانت دارى كو چھوڑ دے اور خيانت كى طرف جائے_ عزت نفس كو چھوڑ دے اور اپنے آپ كو ذلت وخوارى ميں ڈالے احسان كو چھوڑ دے اور لوگ كو آزار اور تكليف دينے كے پيچھے دوڑے_

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”جو شخص اپنے نفس كى عزت كرے اور اسے معزز قرار دے اس كى نگاہ ميں خواہشات نفسانى ہيچ اور پست ہوں گي_”

پيغمبروں كى ہميشہ كوشش رہى ہے كہ انسان كى فطرت كو بيدار كريں تا كہ وہ اپنے اس گرانقدر وجود كے جوہر كو پہچانے اور اپنا تعلق اور ربط ذات خدا سے دريافت كر لے اور تمام چيزوں كو رضا اور قرب پروردگار كے حاصل كرنے ميں صرف كرے يہاں تك كہ كھانا پينا سونا جاگنا بولنا كام كرنا مرنا جينا سب كے سب پاك او راخلاقى ہوں_ جب انسان اللہ كا بندہ ہوجائے تو پھر اس كى رضا كے حاصل كرنے كے لئے كوئي اور اس كى غرض و غايت نہ ہوگى اس كے تمام كام عبادت اور اخلاق اور ذى قدر ہونگے_ قل ان صلواتى و نسكى و محياى و مماتى للہ رب العالمين لا شريك لہ و بذلك امرت و انا اول المسلمين_

اسى لئے اپنے آپ كو پہچاننا اسلام ميں ايك خاص قدر و قيمت ركھتا ہے_

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”نفس كا پہچاننا سب سے زيادہ منفعت دار فائد ہے_” آپ نے فرمايا كہ ” جس شخص نے اپنے آپ كو پہچانا اس كا كام بلند ہوگا_”

اپنے آپ كو پہچاننے سے مراد شناختى كارڈ نہيں بلكہ اس سے يہ مراد ہے كہ انسان اپنے واقعى مقام كو اس دنيا ميں پہچانے اور جان لے كہ وہ فقط خاكى حيوان نہيں ہے بلكہ وہ عالم ربوبى كا عكس اور پرتو ہے اللہ كا خليفہ اور اس كا امين ہے وہ ايك ملكوتى وجود ہے كہ جو دانا اور مختار اور آزاد خلق ہوا ہے تا كہ كمال غير متناہى كى طرف سير و سلوك كرے اور اپنى مخصوص خلقت كى وجہ سے اپنے آپ كو بنانے اور اس كيپرورش كرنے كا پابند ہے انسان اپنى اس شناخت كيوجہ سے شرافت اور كرامت كو محسوس كرتا ہے اور اپنے مقدس اور پرارزش وجود كو پہچانتا ہے اور كمالات اور فضائل اس كے لئے پر معنى اور قيمت پيدا كرليتے ہيں اس صورت ميں وہ نا اميدى اور بے فائدہ اور بيہودہ خلق ہونے سے نجات حاصل كر ليتا ہے پھر زندگى اس كے لئے پر بہا اور مقدس اور غرض دار اور خوشنما ہوجاتى ہے_

باطنى زندگي

انسان اس دنيا ميں ايك ظاہرى زندگى ركھتا ہے كہ جو اس كے جسم اور تن سے مربوط ہے_ كھتا ہے ، پيتا ہے، سوتا ہے، چلتا ہے، اور كام كرتا ہے، ليكن اس كے باوجود وہ باطن ميں ايك نفسانى زندگى بھى ركھتا ہے، اس حالت ميں وہ دنيا ميں زندگى كرتا ہے_ باطن ميں وہ كمال اور سعادت اور نورانيت كى طرف بھى سير و سلوك كرتا ہے يا تو وہ بدبختى اور شقاوت اور تاريكى كى طرف جا رہا ہوتا ہے يا وہ انسانيت كے سيدھے راستے سے بھٹكا ہوا ہوتا ہے اور تاريك وادى اور حيوانيت كے پست درجہ ميں غلطاں ہوتا ہے يا وہ كمال كے مدارج طے كر كے نور اور سرور و كمال و جمال كے راستے طے كرتا ہے يا وہ عذاب اور تاريكى ميں گر رہا ہوتا ہے گرچہ اكثر لوگ اس باطنى زندگى سے غافل ہيں ليكن وہ حقيقت اور واقعيت ركھتى ہے_

خداوند عالم قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ہے كہ ” وہ ظاہرى دنياوى زندگى كا علم تو ركھتے ہيں ليكن اخروى زندگى جو باطنى ہے سے غافل ہيں_

كسى چيز كا جان لينا يا نہ جاننا واقعيت ميں موثر نہيں ہوتا_ قيامت كے دن جب انسان كى آنكھ سے ماديت كے سياہ پردے اٹھا ليئے جائيں گے تو اس وقت وہ اپنى واقعيت اور اپنے آپ كو پہچانے گا_ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے كہ ” قيامت كے دن انسان سے كہا جائيگا كہ تو دنيا ميں اس امر سے غافل تھا ليكن آج تيرى آنكھيں تيز بين ہوچكى ہيں_

اس آيت سے معلوم ہوتا ہے كہ اخروى امراسى دنيا ميں انسان كى ذات ميں موجود ہيں ليكن انسان ان سے غافل ہے ليكن آخرت ميں جب غفلت كے پردے ہٹا لے جائيں گے تو اس وقت ان تمام امور كا مشاہدہ كرے گا_

آيات او رآيات سے يوں مستفاد ہوتا ہے كہ انسان كا نفس اس جہان ميں كئي ايك چيزوں كو بجالاتا ہے اور جن چيزوں كو وہ بجالاتا ہے وہ ہميشہ اس كے ساتھ رہتى ہيں جو آخرت ميں اس كى زندگى كا ماحصل اور نتيجہ آور ہوتى ہيں_

خداوند ارشاد فرماتا ہے كہ ” ہر نفس اس عمل كے مقابلے ميں گروى ہے جو وہ بجا لاتا ہے_

ارشاد فرماتا ہے ” ہر نفس نے جو كچھ انجام ديا ہے اسے پورا كا پورا ملے گا_

خداوند فرماتا ہے كہ ”ہم كس كو اس كى قدرت سے زيادہ حكم نہيں ديتے_ انسان نے جو اچھائيں انجام دى ہيں وہ اسى كے لئے ہوں گى اور تمام برائياں بھى اس كے اپنے نقصان كے لئے ہوں گي_

خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے كہ ” ہر نفس جو خوبياں انجام دى ہيں وہ اس كے سامنے حاضر ہوں گى اسى طرح جو برائي انجام دى ہے وہ آرزو كرے گا كہ كاش اس كے اور برے كام كے درميان فاصلہ ہوتا_

خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے كہ ” جو شخص نيك عمل انجام ديتا ہے وہ اپنے لئے انجام ديتا ہے اور جوشخص برے كام انجام ديتا ہے وہ اس كے لئے زيان آور ہونگے پھر تم سب اللہ كى طرف لوٹ آوگے_

خداوند عالم فرماتا ہے ”جو شخص ذرہ برابر اچھے كام انجام ديتا ہے وہ انہيں قيامت كے دن ديكھے گا اور جو شخص ذرہ برابر برے كام انجام ديتا ہے وہ ان كو بھى ديكھے گا_”

خداوند فرماتا ہے ” انسان كے لئے نہيں ہوگا مگر وہ جسے تلاش اور حاصل كرتا ہے اور وہ اپنى كوشش اور تلاش كو عنقريب ديكھے گا_

خدا فرماتا ہے ” جو اچھائي تم نے آگے اپنے لئے بھيجى ہے اسے اللہ كے پاس تم پاؤ گے_

خدا فرماتا ہے كہ ” جس دن مال اور اولاد تمہيں كوئي فائدہ نہيں ديں گے مگر وہ جو سالم قلب كے ساتھ اللہ سے ملاقات كرے_

پيغمبر عليہ السلام نے اپنے ايك صحابى سے فرمايا ”اے قيس تو مجبور ہے كہ اپنے لئے كوئي ساتھى بنائے جو قبر تيرے ساتھ ہوگا وہ ساتھى زندہ ہوگا اور تو اس كے ساتھ دفن ہوگا اگر تو تيرا ساتھى اچھا اور عمدہ ہوا تو وہ تيرى عزت كرے گا اور اگر وہ پست اور برا ہوا تو وہ تجھے بھى پست اور ذليل كرے گا تو قيامت ميں اسى ساتھى كے ساتھ محشور ہوگا اور تجھے اس كے متعلق پوچھا جائے گا پس كوشش كر كہ تو اپنا نيك ساتھى اپنے لئے اختيار كرے كہ اگر وہ نيك اور صالح ہوا تو وہ تجھ سے انس و محبت كرے گا اور اگر ساتھى برا ہوا تو تجھے اس سے وحشت اور عذاب كے علاوہ كچھ نہ ملے گا اور وہ تيرا ساتھى تيرا عمل ہے_

انسان اس دنيا ميں اخروى زندگى كے لئے اپنے نفس كى تربيت كرنے ميں مشغول رہتا ہے اور عقائد اور افكار اور ملكات اور عادات محبت علاقمندى اور مانوس چيزوں كى طرف توجہات اوروہ كام جو روح انسانى پر اثر انداز ہوتے ہيں تدريجا ان سے ساختہ پرداختہ اور پرورش پاتا ہے انسان كس طرح بنے ان چيزوں سے مربوط ہوتا ہے_ معارف عقائد صحيح فضائل، مكارم اخلاق محبت اور خدا سے پيوند توجہہ اور اللہ سے انس خدا كى اطاعت اور اس كى رضايت كا حصول اور وہ نيك كام بجالانا كہ جس كا خدا نے حكم ديا ہے يہ انسان كى ملكوتى روح كو مدارج كمال تك پہنچاتے ہيں_ اور مقام قرب الہى تك لے جاتے ہيں_ انسان اسى جہان ميں ايمان اور اعمال صالح كے سبب ايك پاكيزہ اور جديد زندگى حاصل كرتا ہے جو آخرت كے جہاں ميں ظاہر اور آشكار ہوگي_

خداوند قرآن ميں فرماتا ہے ” جو بھى مرد يا عورت نيك كام انجام دے جب كہ ايمان بھى ركھتا ہو تو ہم اسے پاك اور عمدہ زندگى ميں زندہ كريں گے_

انسان اسى دنيا ميں علاوہ ان نعمتوں كے كہ جن سے اس كا جسم لذت حاصل كرتا ہے وہ اخروى نعمت سے بھى بابہرہ ہو سكتا ہے اور ان كے ذريعے روح اور نفس كى پرورش بھى كر سكتا ہے اور اپنى معنوى اور اخروى زندگى كو بھى بنا سكتا ہے كہ جس كا نتيجہ آخرت كے جہان ميں ظاہر ہوگا_

امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”خدا اپنے بندوں سے فرماتا ہے اے ميرے دوست بندے دنيا ميں عبادت كى نعمت سے فائدہ حاص كرو تا كہ اسى سے آخرت كے جہان ميں فائدہ حاصل كر سكو_

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”اللہ كا دائمى ذكر كرنا روح كى عذاب ہے_

نيز حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”اللہ كے ذكر كو فراموش نہ كرو كيونكہ وہ دل كا نور ہے_

انسان كے لئے بہشت اور بہشتى نعمتيں جہنم اور جہنم كے عذاب عقائد اخلاق اور اعمال كے ذريعے سے ہى اسى دنيا ميں بنتے ہيں گرچہ انسان اس سے غافل ہے ليكن آخرت كے جہان ميں يہ سب حقيقت واضح ہوجائيگى _ امام سجاد عليہ السلام نے ايك بحيث ميں ارشاد فرمايا ہے كہ ” متوجہہ رہو جو بھى اولياء خدا سے دشمنى كرے اور خدا كے دين كے علاوہ كسى دين كو اپنائے اور ولى خدا كے حكم كو پس پشت ڈالے اور اپنى راى اور فكر پر عمل كرے وہ شعلہ ور آگ ميں ہوگا كہ جو جسم كو كھا جائيگى وہ بدن كے جنہوں نے اروح كو اپنے سے خالى كيا ہوا ہے اور بدبختى نے ان پر غلبہ كيا ہوا ہے يہ وہ مردے ہيں جو آگ كى حرارت كو محسوس نہيں كرتے اگر وہ زندہ ہوتے تو وہ درد اور آگ كى حرارت كومحسوس كرتے _ اے صحابان بصيرت عبرت حاصل كر اور اللہ كا شكريہ ادا كرو كہ خداوند عالم نے تمہيں ہدايت كى ہے_

مزید  معاشرے اور انسانوں کي تعمير ميں معلمين کے کردار کي اہميت پر تاکيد

خداوند عالم فرماتا ہے ” جو لوگ يتيموں كا مال ظلم اور ناحق سے كھاتے ہيں وہ اپنے پيٹوں ميں آگ بھرتے ہيں اور يہ آگ عنقريب شعلہ ور ہوگي_

انسان اس دينا ميں آخرت كے لئے نور و بصيرت فراہم كرتا ہے اور يا ظلمت اور تاريكى اگر اس دنيا ميں اندھا اور بے نور ہوا تو آخرت ميں بھى اندھا اور بے نور محشور ہوگا خدا فرماتے ہے جو شخص اس دنيا ميں اس كے دل كى آنكھ اندھى ہے وہ آخرت ميں بھى اندھا اور گمراہ محشور ہوگا_

علامہ طباطبائي رضوان اللہ عليہ فرمايا كرتے تھے كہ نجف اشرف ميں ايك شخص عابد زاہدانہ زندگى بسر كرتا تھا كہ جسے شيخ عبود كہا جاتا تھا كہا جاتا ہے كہ وہ ولى خدا اور اہل سير و سلوك تھے ہميشہ ذكر اور عبادت ميں مشغول رہتے تھے كبھى قبرستان وادى السلام جاتے اور كئي گھنٹوں تك گوشہ و كنار ميں بيٹھے رہتے تھے اور فكر كيا كرتے تھے اور كبھى ٹوٹى ہوئي قبروں ميں چلتے اور نئي قبر كو با دقت ملاحظہ كرتے تھے ايك دن جب قبرستان ميں سے واپس لوٹ رہے تھے كہ كئي ايك آدميوں سے ان كى ملاقات ہوگئي اور انہوں نے ان سے ان كى احوال پرسى كى اور پوچھا اے شيخ عبودى وادى السلام نے كيا خبر تھي؟ اس نے كہا كہ كوئي تازہ خبر نہ تھى _ جب انہوں نے اصرار كيا تو انہوں نے كہا كہ ميں نے ايك عجيب چيز ديكھى ہے كہ ميں نے جتنا پرانى قبروں كو ديكھا ہے ان ميں سانپ بچھو اور عذاب كى علامتيں نہيں ديكھيں_ ميں نے ان ميں سے ايك قبر والے سے سوال كيا (روايات ميں آيا ہے كہ ميت قبر ميں سانپ اور دوسرى موذى چيزوں سے عذاب ديا جاتا ہے ليكن ميں تو آپ كى قبروں ميں سانپ اور عقرب كو نہيں ديكھ رہا_ قبر والے نے جواب ديا ٹھيك ہے كہ سانپ اور بچھو ہمارى قبروں ميں نہيں ليكن تم خود ہو كہ دنيا سے سانپ اور بچھو اپنے ساتھ لے آتے ہو اور يہاں ان سے عذاب ديئے جاتے ہو_

انسانى باطنى اور نفسانى زندگى ايك حقيقى اور واقعى زندگى ہوا كرتى ہے انسان اپنى باطنى ذات ميں ايك واقعى راستہ طے كرتا ہے يا وہ سعادت اور كمال تك پہنچاتا ہے او ر يا بدبختى اور ہلاكت لے جاتا ہے وہ واقعى ايك حركت اور سير كر رہا ہے اور عقائد اور اخلاق اور اعمال سے انسان مدد حاصل كرتا ہے_

خداوند عالم فرماتا ہے كہ ” جو شخص بھى عزت چاہتا ہے _ تمام عزت خدا كے لئے اور اچھے كلمات اور(پاك نفوس) خدا كے لئے صعود كرتے ہيں اور عمل صالح كو خدا اوپرلے جاتا ہے _”

نفس كا فعلى ہونا كوشش اور كام كرنے كے نتيجہ ميں ہوا كرتا ہے_ عقائد اور اخلاق اور ملكات اور خصائل اور ہمارے اعمال سے وہ بنتا ہے جو آخرت كے جہان ميں اچھا يا برا نتيجہ جا كر ظاہر ہوتا ہے_

اپنے آپ كو كيسے بنائيں؟

علوم ميں ثابت ہوچكا ہے كہ انسان كى روح جسمانى الحدوث اور روحانى البقا ہے يعنى اس كى ملكوتى روح كى وہى اس كى جسمانى صورت ہے كہ بالتدريج تكامل كرتے مرتبہ نازل روح انسانى تك آئي ہے اور اس كى حركت اور تكامل ختم نہيں ہوگا بلكہ تمام عمر تك اسى طرح جارى اور ہميشہ رہے گا_

ابتداء ميں روح انسانى ايك مجرد اور ملكوتى موجود ہے جو عالم مادہ سے برتر ہے ليكن وہ مجرد تمام اور كامل نہيں ہے بلكہ ايسا مجرد كہ جس كا مرتبہ نازل جسم اور بدن سے تعلق ركھتا ہے يہ ايك دو مرتبے ركھنے والا موجود ہے اس كا ايك مرتبہ مادى ہے اور اس كا بدن سے تعلق ہے اور مادى كاموں كو انجام ديتا ہے اسى وجہ سے اس كے لئے استكمال اور حركت كرنا تصور كيا جاتا ہے_

اس كا دوسرا مرتبہ مجرد ہے اور مادہ سے بالاتر ہے اسى وجہ سے وہ غير مادى كام ديتا ہے ايك طرف وہ حيوان ہے اور جسم دار اور دوسرى طرف انسان ہے اور ملكوتي_

جب كہ وہ صرف ايك حقيقت ہے اور اس سے زيادہ نہيں ليكن وہ حيوانى غرائز اور صفات ركھتا ہے اور حيوانات والے كام انجام ديتا ہے اس كے باوجود وہ انسانى غرائز اور صفات انسانى بھى ركھتا ہے اور انسانى كام انجام ديتا ہے_ اس عجيب الخلقت موجود كے بارے ميں خداوند فرماتا ہے_ فتبارك اللہ احسن الخالقين_ ابتداء ميں ايك موجود خلق ہوا كہ جو كامل نہيں تھا بلكہ اپنے آپ كو بالتدريج بناتا ہے اور تربيتاور پرورش كرتا ہے_

عقائد اور افكار ملكات اور عادات جو اعمال اور حركات سے پيدا ہوتے ہيں وہ انسان كى ذات اور وجود كو بناتے ہيں اور تدريجا كمال تك پہنچاتے ہيں_ ملكات ايسے امور نہيں جو انسان كے وجود پر عارض ہوں بلكہ وہى انسان كے وجود اور ہويت كو بناتے ہيں_ تعجب انگيز يہ چيز ہے كہ افكار اور عقائد اور ملكات فقط انسان كے وجود ميں موثر ہى نہيں ہوتے بلكہ اس كے ہونے ميں بھى موثر ہيں يعنى عمل صالح كى وجہ سے جو افكار اور عقائد صحيح اور مكارم اخلاق اور عادات اور ملكات وجود ميں آتے ہيں وہ انسان كو تدريجا مراتب كمال تك پہنچاتے اور لے جاتے ہيں اور ايك كامل انسان كے مرتبہ اور قرب الہى تك پہنچا ديتے ہيں اسى طرح جہالت اور عقائد باطل اور رذائل اخلاق اور ملكات اور قساوتيں جو برے كاموں كے انجام دينے سے موجود ہوتى ہيں وہ انسانى روح كو ضعف اور پستى كى طرف لے جاتے ہيں اور تدريجا اسے حيوانيت كے مرتبے تك لے جاتے ہيں اونتيجتًا حيوانيت كى تاريك وادى ميں ساقط كرديتے ہيں اور انسان ان ملكات اور صفات حيوانى اور جہالت كے انبار اور استحكام سے اپنى باطنى ذات ميں ايك حيوان كى صورت ميں تبديل ہوجاتا ہے_ جى ہاں وہ واقعا حيوان ہوجاتا ہے اور حيوانى شخصيت پيدا كرليتا ہے وہ پھر انسان نہيں ہوتا بلكہ حيوان ہوجاتا ہے بلكہ حيوانات س بھى بدتر كيونكہ يہ وہ حيوان ہے جو انسانى طريق سے حيوان ہوا ہے گرچہ ظاہرى صورت ميں وہ انسانى زندگى بسر كرتا ہے ليكن اندرونى طور سے وہ حيوان ہے اور پھر اسے خود بھى نہيں جانتا_ حيوانات كى حيوانيت ان كى شكل و صورت سے مخصوص نہيں ہوا كرتى بلكہ حيوانى نفس بغير قيد اور شرط اور تمايلات اور غرائز حيوانى كو بجالانے كا نام ہے_ بھيڑنا اپنى شكل و صورت كا نام نہيں ہے بلكہ درندگى اور بغير قيد اور شركے غريزہ درندگى كے بجالانے اور عدم تعقل كا نام ہے_ عقل كى آنكھ اور اس كے درك كو اندھا كرديا ہے_ ايسا انسان ايك واقعى بھيڑيا ميں تبديل ہوچكا ہے_ انسان ايك ايسا بھيڑيا ہے جو جنگل كے بھيڑوں سے بھى زياہ درندہ ہے كيونكہ انسان اپنى عقلاور فہم كو درندگى كى صفت ميں استعمال كرتا ہے_ بعض انسان ايسے جرائم كا ارتكاب كرتے ہيں كہ جنہيں جنگل كے بھيڑيئےھى ا نجام نہيں ديتے كيا وہ بھيڑيئےہيں ہيں؟ نہ بلكہ وہ واقعى بھيڑيئےيں ليكن خود نہيں سمجھتے اور دوسرے بھى اسے انسان سمجھتے ہيں قيامت كے دن جب آنكھوں سے پردے ہٹاديئے جائيں گے ان كا باطن ظاہر ہو جائيگا اور يہ بھى معلوم ہے كہ جنت بھيڑيوں كى جگہ نہيں ہے بھيڑيا كبھى اولياء خدا اور اللہ كے نيك بندوں كے ساتھ بہشت ميں نہيں رہ سكتا_ ايسا بھيڑيا جو انسان كے راستے سے بھيڑيا ہوا ہے ضرورى ہے كہ جہنم كے تاريك اور دردناك عذاب ميںڈ الا جائے اور زندہ رہے_ انسان اس دنيا ميں ايك انسان غير متعين ہے جو اپنى شخصيت خود بناتا ہے يا وہ انسان ہوجائيگا جو اللہ كے مقرب فرشتوں سے بھى بالاتر ہوجائيگا يا باطنى صورت ميں مختلف حيوانات ميں تبديل ہوجائيگا يہ ايك ايسا مطلب ہے جو علوم عالى ميں بھى ثابت ہوچكا ہے اور اسے اولياء خدا بھى كشف اورمشاہدے كا ادعا كرتے ہيں اور نيز اسے پيغمبر اكرم اورائمہ عليہم السلام نے بھى فرمايا يعنى جو حقيقى انسان كو پہچانتے ہيں انہوں نے اس كى خبردى ہے_

رسول خدا نے فرمايا ہے كہ ”لوگ قيامت كے دن ايسى شكلوں ميں محشور ہونگے كہ بندر اور خنزير كى شكليں ان سے بہتر ہوں گي_ 

امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”مستكبر انسان چيونٹى كى شكل ميں تبديل ہوجائيگا جو محشر كے لوگوں كے پاؤں كے نيچے كچلا جائيگا يہاں تك كہ لوگوں كا حساب و كتاب ختم ہوجائے_ 

خدا قرآن ميں فرماتا ہے كہ ”قيامت كے دن وحشى حيوانات محشور ہونگے_ 

بعض مفسرين نے اس آيت كى يوں تفسير كى ہے كہ وحشى حيوانات سے مراد وہ انسان ہيں جو حيوانات كى شكلوں ميں محشور ہونگے ورنہ حيوانات تو مكلف نہيں ہوتے كہ جنہيں محشور كيا جائے_

خدا قرآن مجيد ميں فرماتا ہے كہ ” جن دن تمہارى جدائي اور عليحدگى كا دن ہوگا كہ جس وقت صور ميں پھونكا جائيگا اور تم گروہ گروہ ہوجاؤگے(57) _ بعض مفسرين نے اس آيت كى يوں تفسير كى ہے كہ قيامت كے دن انسان ايك دوسرے سے جدا ہوجائيں گے اور ہر ايك انسان اپنى باطنى صورت كے ساتھ اپنے دوسرے ہم شكلوں كے ساتھ محشور ہوگا_ اس آيت كى تفسير ميں ايك عمدہ حديث پيغمبر عليہ السلام سے نقل ہوئي ہے_

معاذ بن جبل كہتے ہيں كہ اس آيت يوم ينفخ فى الصور فتاتون افواجا كے متعلق ميں نے رسول خدا(ص) سے سوال كيا_آپ نے فرمايا كہ اے معاذ تم نے ايك بہت اہم موضوع سے سوال كيا ہے آپ كے اس حالت ميں آنسو جارى ہو گئے اور فرمايا كہ ميرى امت كے دس دستے مختلف شكلوں ميں محشور ہوں گے جو ايك دوسرے سے مختلف ہونگے_ بعض بندروں كى شكل ميں دوسرے بعض خنزير كى شكل ميں محشور ہونگے_ بعض كے سرزمين كى طرف اور پاؤں اوپر كى طرف ہونگے اور حركت كريں گے_ بعض اندھے اور سرگرداں ہونگے_ بعض گونگے اور بہرے ہوں گے كہ كچھ نہيں سمجھتے ہونگے_

بعض اپنى زبانوں كو چباتے ہوں گے اور پيپ اور گندگى اورخون ان كے منہ سے نكل رہا ہوگا كہ جس سے محشر كے لوگ تنفر كريں گے_بعض كے ہاتھ پاؤں كٹے ہوئے ہونگے _ اور بعض اس حالت ميں محشور ہونگے كہ آگ كے ستون سے لٹكے ہوئے ہونگے _ بعض مردار سے بدبوتر ہونگے _ بعض مس كے لباس پہنے ہوئے ہونگے جو ان كے جسم سے چپكا ہوا ہوگا_ آپ نے اس وقت فرمايا كہ جو لوگ بندروں كى شكل ميں محشور ہونگے وہ وہ ہونگے جو چغلخور اور سخن چين تھے اور جو خنزير كى شكل 

ميں محشور ہونگے وہ رشوت خور اور حرام تھے اور جو الٹے لٹكے حركت كر رہے ہونگے وہ سود خور تھے اور جو اندھے محشور ہونگے وہ ہونگے جو قضاوت اور حكومت ميں ظلم و جور كرتے تھے اور جو اندھے اور بہرے محشور ہونگے وہ اپنے كردار ميں خودپسند تھے اور جو اپنى زبان كو چبا رہے ہونگے وہ وہ علماء اور قاضى ہونگے كہ جن كا كردار ان كے اقوال كے مطابق نہ تھا اور جو ہاتھ پاؤں كٹے محشور ہونگے وہ ہمسايوں كوآزار اور اذيت ديتے تھے اور جو آگ كے ستوں سے لٹكے ہوئے ہونگے وہ بادشاہوں كے سامنے لوگوں كى شكايت لگاتے تھے اور جن كى بدبو مردار سے بدتر ہوگى وہ دنيا ميں خواہشات اور لذت نفس كى پيروى كرتے تھے اور اللہ تعالى كا جو ان كے احوال ميں حق تھا ادا نہيں كرتے تھے اور جن لوگوں نے مس كا لباس پہنا ہوا ہوگا وہ مستكبر اور فخر كيا كرتے تھے_ 

لہذا اخلاقى امور كو معمولى اور غير مہم شمار نہيں كرنا چاہئے بلكہ يہ بہت اہم امور ہيں جو انسان كى انسانى اور باطنى زندگى كو بناتے ہيں يہاں تك كہ وہ كيسا ہونا چاہئے ميں اثر انداز ہوتے ہيں_ علم اخلاق نہ صرف ايسا علم ہے كہ جو كس طرح زندہ رہنے كو بتلاتا ہے بلكہ يہ وہ علم ہے جو انسان كو كيسا ہونا چاہئے بھى بتلاتا ہے_

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.