ولایت اور ولی فقیہ

اختصار سے بیان کیا جائے تو ولایت سے مراد یہ ہے کہ اسلام، نماز، روزہ، زکات، ذاتی اعمال اور عبادات ہی کا نام نہیں ہے۔ اسلام ایک سیاسی نظام بھی رکھتا ہے جس کے تحت اسلامی قوانین کے تناظر میں حکومت کی تشکیل کا نظریہ موجود ہے۔ اسلام حکومت کو “ولایت” کا نام دیتا ہے اور جو شخص حکومت کا سربراہ ہے اسے “والی، ولی اور مولا” کہتا ہے جو لفظ ولایت کے ہی مشتقات ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں حکومت کو ولایت کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں حاکم کا عوام سے محبت آمیز، جذباتی و فکری و عقیدتی رشتہ ہوتا ہے۔ جو حکومت کودتا اور بغاوت کا نتیجہ ہو جس میں حاکم کا عقیدہ و نظریہ عوام کے نزدیک قابل قبول نہ ہو اور حاکم عوام کے احساسات و جذبات کو درخور اعتنا نہ سمجھتا ہو، جس حکومت میں حکام آج کل کے حکمرانوں کی مانند مخصوص قسم کے وسائل و اسباب سے بہرہ مند ہو اور اس کے لئے دنیوی آسائشوں سے بھری مخصوص جگہ آراستہ کی گئی ہو اور جو حکمراں کے لئے شرط کا درجہ رکھنے والی خصوصیات و کمالات کی بنا پر نہیں بلکہ وراثت کی بنیاد پر حاکم بن گیا ہو وہ نہ تو ولی ہے اور نہ اس کی حکومت ولایت کہلائے گی۔ ولایت عبارت ہے اس حکومت سے جس میں عوام اور حکام کے درمیان، فکری، عقیدتی اور جذباتی رابطہ اور محبت کا رشتہ ہو، جس میں عوام حاکم سے جڑے ہوں اس سے قلبی وابستگی رکھتے ہوں اور حاکم بھی اس سیاسی نظام اور فرائض کو الہی عطیہ اور خود کو اللہ تعالی کا بندہ سمجھتا ہو۔ ولایت میں غرور و تکبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ولایت کا اطلاق اس وقت ہوگا جب والی یا ولی کے ساتھ عوام کا نزدیکی محبت آمیز رشتہ ہو۔ یعنی والی خود عوام کے درمیان سے آئے اور ولایت و حکومت کی باگڈور سنبھالے۔ جس نظام حکومت کا تعارف اسلام نے کرایا ہے وہ آج کل رائج جمہوری نظاموں سے کہیں زیادہ عوام پسندی پر مبنی ہے۔ یہ نظام عوام کے دلوں، افکار و نظریات، احساسات و جذبات، عقائد و اقدار اور فکری احتیاجات سے جڑا ہوتا ہے۔ یہاں حکومت عوام کی خادم ہوتی ہے۔ اسلام میں حاکمیت کے نظرئے کی بنیاد یہی ہے۔

ولایت یعنی اسلامی معاشرے کی سرپرستی۔ یہ طرز حکومت دیگر معاشروں کی حکومتوں سے مختلف و متفاوت ہے۔ اسلام میں معاشرے کی سرپرستی کے مسئلے کا تعلق اللہ تعالی سے ہے۔ کسی بھی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ دوسرے انسانوں کے امور کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے۔ یہ حق اللہ تعالی کی ذات سے مختص ہے جو تمام انسانوں کا خالق، ان کی مصلحتوں سے واقف اور ان کے جملہ امور کا مالک ہے۔ بلکہ وہ تو عالم ہستی کے ایک اک ذرے کے تمام امور کا مالک ہے۔ کوئی بھی طاقت، کوئی بھی شمشیر، کوئی بھی دولت اور کوئی بھی علمی ملکہ کسی کو بھی یہ حق نہیں دے سکتا کہ وہ دیگر انسانوں کی تقدیر کے فیصلے کرے۔

اللہ تعالی اس ولایت و حکومت کے نفاذ کے لئے اپنے خاص ذرائع کا استعمال کرتا ہے۔ جب اسلامی حاکم کا انتخاب نص کے ذریعے جیسا کہ ہم حضرت امیر المومنین اور بقیہ ائمہ طاہرین علیہم السلام کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں، انجام پایا ہو یا معین کردہ معیاروں کے مطابق عمل میں آیا ہو اور اسے عوام کے امور کا انتظام سونپ دیا جائے تو یہ ولایت، ولایت الہی کہلائے گی۔ یہ حق الہی اور خدائی اقتدار ہے جو عوام پر نافذ ہوا ہے۔ اگر کوئی ولایت الہی اور خدائی اقتدار کو تسلیم نہ کرے تو اس کی حکومت کیسی بھی ہو عوام پر حکمرانی کا اسے حق نہیں ہے۔ یہ نکتہ بھی اسلامی معاشرے کی تقدیر کے سلسلے میں بڑا اہم اور حیاتی ہے۔

ولایت الہی کی خصوصیات میں ، قدرت، حکمت، انصاف اور رحمت شامل ہیں۔ جو شخص اور سسٹم عوام کے امور کا نظم و نسق سنبھالتا ہے، اسے الہی قدرت و حکمت، انصاف و مساوات اور رحمت و عطوفت کا مظہر ہونا چاہئے۔

یہ خصوصیت، اسلامی اور غیر اسلامی سماجوں کے درمیان خط فاصل کا درجہ رکھتی ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلامی معاشرے میں عدل و انصاف، علم و دانش، دین و مذہب اور رحمت و عطوفت کا بول بالا ہونا چاہئے۔ یہاں کوئی خود غرض انسان حاکم نہیں بن سکتا، ھوی و ہوس کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔

اگر مدنی معاشرے سے مراد مدینۃ النبی کا معاشرہ ہے تو ولی فقیہ اس معاشرے میں تمام امور کا مالک ہے۔ کیونکہ مدینۃ النبی میں دین کی حکومت ہے، ولایت فقیہ بھی اسی طرح کسی ایک شخص کی حکومت کا نام نہیں ہے بلکہ معینہ “معیار” کی حکومت ہے۔ کچھ معیار معین ہیں۔ جو بھی ان معیاروں پر پورا اترے گا وہ معاشرے میں ان فرائض کی انجام دہی کر سکتا ہے جو ولی فقیہ کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔

اگر مدنی معاشرے سے مراد، جمہوری معاشرہ ہے تو وہ ایسا معاشرہ ہوگا جس میں قانون کی بالادستی ہو۔ ایسے معاشرے میں بھی ولی فقیہ کو وہی قانونی مقام حاصل رہے گا۔ یعنی یہاں عوام کے بالواسطہ انتخاب سے “معیاروں” پر اسے تولا جائے گا۔ جیسے ہی اس میں کوئی معیار زائل ہوا اسے معزول کر دیا جائے گا۔ پالیسی سازی کے عمل میں ولی فقیہ بنیادی کردار کا حامل ہے، تاہم اجرائی امور میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

آئین کی رو سے ولایت فقیہ کا یہ مطلب نہیں کہ ملک کے ذمہ دار افراد کے اختیارات اور ذمہ داریاں سلب کر لی جائیں۔ ملک کے مختلف اداروں اور عمائدین کے فرائض ان سے کوئی بھی سلب نہیں کر سکتا۔ نظام حکومت میں ولی فقیہ کا مقام انجینئر کا ہوتا ہے جو اس کی درست پیشرفت پر نظر رکھتا ہے اور اسے دائیں بائیں کج نہیں ہونے دیتا۔ ولایت فقیہ کا یہی بنیادی مفہوم و معنی ہے۔ بنابریں ولایت فقیہ نہ تو محض علامتی عہدہ ہے چونکہ بسا اوقات اس کی جانب سے اہم سفارشات آتی ہیں، اور نہ ہی حکومتی امور میں اجرائی رول ادا کرتا ہے کیونکہ ملک میں اجرائی، عدالتی، اور قانون سازی کے امور کے لئے حکام معین کئے گئے ہیں جنہیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کے مطابق عمل کرنا اور جواب دہ ہونا ہے۔ اس پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑے سسٹم میں ولایت فقیہ کا کردار یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھے کہ گوناگوں کوششیں اور کارکردگی نظام کی پش قدمی کے عمل کو اہداف اور اقدار سے منحرف نہ کر دیں، اس میں دائیں یا بائيں کجی نہ پیدا ہو جائے۔ اعلی اہداف کی جانب نظام کی پیشرفت پر نظر رکھنا اور اس کی صیانت و حفاظت ولی فقیہ کی سب سے بنیادی اور اہم ذمہ داری ہے۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اسلام کے سیاسی باب اور دین کی تعلیمات کے اندر سے اس “کردار” کو اخذ کیا۔ اسی طرح تمام ادوار میں شیعہ فقہ کی تاریخ بھی گواہ ہے کہ ہمارے فقہا نے یہ “کردار” دین کے اندر سے اخذ کیا اور وہ اس کے معترف بھی رہے۔

اسلام میں انسانوں پر صرف وہی حاکمیت اور حکمرانی قابل قبول ہے جس کا تعین اللہ تعالی نے کیا ہو۔ وہی ولایت قابل اتباع ہے جس کی توثیق صاحب شریعت کی جانب سے ہوئی ہو۔ صاحب شریعت کی جانب سے توثیق کے معنی یہ ہیں کہ ولایت کے ہر درجے کے لئے اس کی مخصوص اہلیت یعنی عدالت و تقوی ضروری ہے، نیز عوامی مقبولیت بھی لازمی ہے۔ یہ مذہبی جمہوریت کے اصول ہیں جو بڑے مستحکم اور با معنی ہیں۔

بعض افراد یہ گمان کرتے ہیں کہ (اسلامی جمہوریہ ایران کے) آئین میں فقیہ کی ولایت مطلقہ کی بات کہی گئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ولی فقیہ مطلق العنان ہے، جو چاہے کرے۔ ولایت مطلقہ کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں۔ ولی فقیہ کو پوری باریک بینی اور توجہ سے قانون کا اتباع کرنا ہوتا ہے، ولی فقیہ کے لئے قانون کا احترام لازمی ہوتا ہے۔ ہاں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حکام اور امور مملکت کے ذمہ داران قانون پر عمل آوری کے سلسلے میں بعض اوقات مسائل سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ آخر یہ قوانین بھی تو انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں نا! ایسے مواقع کے لئے آئين نے راہ حل تجویز کی ہے کہ امور مملکت کے ذمہ داران کو مالیاتی قانون، خارجہ پالیسی، تجارتی، صنعتی یا تعلیمی شعبے میں مشکلات در پیش ہوں اور انہیں کوئی راستہ نظر نہ آ رہا ہو تو ایسی صورت حال میں ولی فقیہ سے رجوع کیا جائے۔ ولی فقیہ، صدر جمہوریہ، وزراء اور اراکین پارلیمنٹ سب قانون کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں اور انہیں ایسا کرنا بھی چاہئے۔

جس اسلامی معاشرے میں ولایت ہوتی ہے اس کے تمام اجزاء اور شعبے ایک دوسرے سے اور اسی طرح معاشرے کے مرکزی نقطے یعنی ولی فقیہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی وابستگی اور اتصال کا ہی نتیجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اندر سے متحد اور ایک دوسرے سے متصل ہوتا ہے۔ یہ معاشرے بیرونی دنیا میں بھی اپنے ہم خیالوں کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور دشمنوں کو زوردار ٹکر دیتا ہے۔ ولایت یعنی پارسا انسانوں کی حکومت، ایسے انسانوں کی حکمرانی جو خواہشات اور شہوت نفسانی کے مخالف ہوتے ہیں، جو نیکیاں انجام دیتے ہیں۔ اسلامی ولایت سے مراد یہ چیز ہے۔ کون سا ملک اور کون سی قوم ہے جو اس کی خواہاں نہ ہوگی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

17 − 13 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More