والدین کے ساتھ نیکی کرو؛ آیات و احادیث

0 2

مولود کعبہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کا دن یوم والد قرار دیا گیا ہے چنانچہ اسی مناسبت سے والدین کے حقوق کے بارے چند آیات کریمہ اور احادیث شریفہ کا انتخاب کیا گیا امید ہے کہ شیعیان امیرالمؤمنین خداوند متعال کے اس حکم حکمت آمیز کا پاس رکھتے ہوئے اہل بیت علیہم السلام سے اپنی محبت کا اثبات کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ و سلم اور ائمۂ اہل بیت علیہم السلام سے مروی ہے کہ “ہمارا حبدار صرف وہ ہے جو خداوند متعال کا مطیع ہو اور جو خدا کا مطیع نہ ہو وہ ہمارا دشمن ہے”۔ اور ہم جانتے ہيں کہ توحید کے بعد والدین کے ساتھ نیکی پر سب سے زیادہ تاکید ہوئی ہے اور جہاں بھی یکتا پرستی کا حکم ہے وہاں والدین کے ساتھ نیکی کا حکم بھی ہے۔

اکثر مقامات پر جہاں خدا کی عبادت و بندگی اور وحدانیت پر ایمان لانے کا حکم ہے وہیں والدین پر احسان کا حکم بھی ہے:

آیات کریمہ:

آیات کریمہ اور احادیث شریفہ سے ثابت ہو کہ نہ صرف عقوق والدین (یعنی والدین کو آزار و اذيت دینا اور انہیں تکلیف پہنچانا) حرام اور گناہان کبیرہ میں سے ہے بلکہ ان پر احسان کرنا، ان کے ساتھ نیکی کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا بھی واجب ہے اور ان واجبات کو ترک کرنا حرام ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

“وَوَصَّيْنا الْاِنْسانَ بِوالِدَيْهِ اِحْساناً”۔  

سوره احقاف ، آيت 15۔

ترجمہ: اور ہم نے انسان کو وصیت کردی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے۔

احسان یہاں حرف بـ کے ساتھ مذکور ہے جس سے مراد یہ ہے کہ یہ عمل خدا کے نزدیک اس قدر اہم ہے کہ اسے براہ راست اور بلاواسطہ انجام دینا پڑے گا۔

تفسير المنار، ج 8،ص 185. وتفسير نمونه، ج 6، ص 33۔

والدین کی شکرگزاری خدا کی نعمتوں کی شکرگزاری کی ردیف میں

والدین کے حقوق کتنے ہیں؟ کہاں تک ہیں؟ ان کی حد کیا ہے؟ ہم قرآن میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے والدین کی شکرگزاری کو اپنی نعمتوں کی شکرگزاری کے زمرے میں اور فورا بعد، ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کے حقوق کی حدود اور وسعت کس قدر ہے:

آيات کریمہ:

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُواْ لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلاَّ قَلِيلًا مِّنكُمْ وَأَنتُم مِّعْرِضُونَ.

سورہ بقرہ آیت 83۔

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا ( ہرگز) کسی کی پرستش نہ کرنا اور اپنے والدین اور اسی طرح قرابتداروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا اور لوگوں کے ساتھ اچھی باتیں کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوۃ دیتے رہنا ، لیکن تم میں تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ سب (عہد سے ) پھرگئے اور تم لوگ تو منہ موڑ لیتے ہی ہو۔

مزید  اسلامی قوانین اور کتاب خدامعصوم کی تفسیر سے

وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا۔

سورہ نساء آیت 36۔

ترجمہ: خدا کی پرستش کرو اور کسی چیز کو بھی اس کے شریک قرار نہ دو اور اپنے ماں باپ پر احسان کرو نیز اپنے اقارب، یتیموں، مسکینوں، قریبی پڑوسیوں اور دور کے پڑوسیوں اور دوستوں اور مصاحبین (ہم نشینوں اور سفر میں رہنے والے (ابناء السبیل) اور ان غلاموں پر جن کے تم مالک ہو؛ کیونکہ خداوند متعال متکبرین اور فخر فروشوں کو [جو دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے انکاریوں] کو دوست نہيں رکھتا۔

لاَّ تَجْعَل مَعَ اللّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَّخْذُولًا ٭ وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ٭ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔

سورہ بنی اسرائیل آیات 22 تا 24۔

ترجمہ: اﷲ کے ساتھ دوسرا معبود نہ بنا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور) بے یار و مددگار ہو کر بیٹھا رہ جائے گا ٭ اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو٭ اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ * وَإِن جَاهَدَاكَ عَلى أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ.

سورہ لقمان آیات 14 اور 15۔

ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں (نیکی کا) تاکیدی حکم فرمایا، جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف کی حالت میں (اپنے پیٹ میں) برداشت کرتی رہی اور جس کا دودھ چھوٹنا بھی دو سال میں ہے (اسے یہ حکم دیا) کہ تو میرا (بھی) شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ (تجھے) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ٭ اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا، اور دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھے طریقے سے ساتھ دینا، اور (عقیدہ و امورِ آخرت میں) اس شخص کی پیروی کرنا جس نے میری طرف توبہ و طاعت کا سلوک اختیار کیا۔ پھر میری ہی طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کر دوں گا جو تم کرتے رہے تھے۔

مزید  مرجعیت اور تقلید سے کیا مراد ہے؟ کیا تقلید ایک قابل مذمت امر ہے؟

احادیث:

عن منصور بن حازم عن ابي عبدالله عليه السلام قال: قلت: اي الاعمال افضل؟ قال: الصلوه لوقتها (اي وقت فضلها) و برالوالدين و الجهاد في سبيل الله.

بحار الانوار ـ جلد 45 صفحہ 75۔

ترجمہ: منصور بن حازم  کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: کون سے عمل افضل ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: وقت پر نماز ادا کرنا والدین سے نیکی کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔

قال رسول الله (صلى الله عليه وآله): من آذی والدیه فقد آذانی و من آذانی فقد آذی الله و من آذی الله فهو ملعون۔

مستدرك الوسائل، كتاب نكاح ، باب 75۔

ترجمہ: جس نے اپنے والدین کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی اور جس نے خدا کو اذیت دی وہ ملعون ہے۔

قال ابوعبدالله عليه السلام: من نظر الى ابويه نظر ماقت وهما ظالمان له لم يقبل الله له صلاة۔

اصول کافی ج 1 ص 119۔

ترجمہ: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس نے اپنے والدین کو غیظ و غضب کی نظر سے دیکھا خداوند متعال اس کی نماز قبول نہيں فرمائے گا خواہ والدین نے اس پر ظلم ہی روا کیوں نہ رکھا ہو۔

عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله) في كلام له: إياكم وعقوق الوالدين فإن ريح الجنة توجد من مسيرة ألف عام ولا يجدها عاق ولا قاطع رحم ولا شيخ زان ولا جار إزاره خيلاء إنما الكبرياء لله رب العالمين۔

الکافی الکلینی ج 2 ص 349۔

ترجمہ: امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: والدین کی نافرمانی سے بچ کر رہو کیونکہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کے فاصلے سے آتی ہے لیکن والدین کا نافرمان، صلہ رحمی کو منقطع کرنے والا اور بڈھا زنا کار شخص، اور تکبر کی نیت سے لمبا لباس پہننے والا ـ جو زمین پر کھنچ جائے ـ اس کو محسوس نہیں کرسکتا۔ بے شک تکبر صرف اللہ کے لئے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے۔

مزید  اسماء و اوصاف قرآن

والدین سے اچھا سلوک گناہوں کا کفارہ

عن ابی الحسن الرضا (ع) قال: قال رسول الله صلی الله عليه و آله و سلم: کن بارا و اقتصر علی الجنة و ان کنت عاقا فاقتصر علی النار.

اصول کافی، ج 2، ص 348. تفسیر مجمع البیان، ج 5 – 6، ص 409.

ترجمہ: امام رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک اپنائے رکھو تا کہ یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو اور تم جنت کے لائق بن سکو اور اگر تم والدین کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہو تو تو تمہاری پاداش جہنم ہے۔

قال الامام علي بن الحسين زين العابدين عليه السلام: جاء رجل إلي النّبي (صلي الله عليه و آله و سلم) فقال: يا رسول اللّه ما من عمل قبيح إلا قد عملته فهل لي من توبة؟ فقال له رسول اللّه (صلي الله عليه و آله و سلم): فهل من والديك أحد حيّ؟ قال: أبي، قال: فاذهب فبرّه. قال: فلمّا ولّي، قال رسول اللّه (صلي الله عليه و آله و سلم): لو كانت امّه.

بحار، ج 74، ص 82 / مستدرك، ج 15، ص 189 / الزهد، ص 35 / عدة الدّاعي، ص 85.

امام سجاد علیه السلام نے فرمایا: ایک شخص حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ایسا کوئی بھی بھونڈا عمل نہیں ہے جو میں نے انجام نہ دیا ہو کیا میرے لئے توبہ کا کوئی امکان ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟

عرض کیا: میری ماں دنیا سے رخصت ہوئی ہیں لیکن میرے والد زندہ ہیں۔

فرمایا: اگر چاہتے ہو کہ تمہارے تمام گناہ معاف ہوجائیں تو جاؤ اپنے باپ سے نیکی کرو۔

وہ مرد جب مسجد سے نکلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اگر اس شخص کی ماں زندہ ہوتی [تو اس پر احسان خدا کی مغفرت کے قریب تر تھا]۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.