نو ربیع الاول عید کیوں؟ ایک تحقیق

بچپن سے سنتے اور دیکھتے چلے آرہے ہیں نو ربیع الاول عید کا دن ہے اور اس کو بعض لوگ عید الزہراء سلام اللہ علیہا یا عید الشجاع کا نام بھی دیتے ہیں اور مخالفین بھی کہتے ہیں کہ اس دن شیعہ عمر بن خطاب کے قتل کا جشن مناتے ہیں جبکہ شیعہ علماء کا کہنا ہے کہ اس دن امام حسین علیہ السلام کے قاتل رو سیاہ دیا گیا ہے اور بعض لوگوں نے لکھا ہے اور مخالفین کہتے ہیں کہ شیعہ اس دن خلیفہ ثانی کے قتل کے حوالے سے عید اور جشن مناتے ہیں جبکہ شیعہ علماء کہتے ہیں کہ اس دن امام حسین کے قاتل روسیاہ عمر بن سعد کی ہلاکت کا دن ہے۔ 

بہر حال طے یہ پایا ہے کہ ہم یہاں ایک مفصل تحقیق کرکے اپنے قارئین و صارفین کو بعض حقائق سے روشناس کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آٹھ ربیع الاول 260 کو گیارہویں امام حضرت عبدالرضا امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کا دن در حقیقت محرم اور صفر کی عزاداریوں کا اختتام ہے تو نو ربیع الاول امام زمانہ حضرت م ۔ ح ۔ م ۔ د بن الحسن المہدی علیہ السلام کی امامت کا آغاز ہے

امام (عج) کی عمر اس وقت پانچ سال تھی گوکہ شیعیان آل محمد (ص) کے لئے یہ موضوع کوئی تازہ موضوع نہ تھا کیونکہ آپ (عج) سے قبل امام جواد علیہ السلام سات یا آٹھ سال کی عمر میں اور امام علی النقی الہادی علیہ السلام چھ سال کی عمر میں مقام امامت پر فائز ہوئے تھے۔ 

اور ہاں! پیغمبر خدا حضرت عیسی علیہ السلام گہوارے میں اور حضرت یحیی بن ذکریا نو سال کی عمر میں مقام نبوت پر فائز ہوئے تھے جو درحقیقت بندگان الہی کے لئے ایک آزمائش تھی۔ جیسا کا امام رضا علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں قرآن کریم سے استناد کرکے فرمایا ہے۔

دوسری جانب سے امامت کے لئے علم لدنی اور الہی دانش کی ضرورت ہے چنانچہ یہ ارادہ الہی عمر کے کسی بھی مرحلے میں ـ جب بھی اللہ ارادہ فرمائے ـ ظہور پذیر ہوسکتا ہے اور البتہ انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کے درمیان ان نمونوں اور مثالوں کا ذکر، شیعیان اہل بیت علیہم السلام کو پانچ سال کی عمر میں، حضرت بقیۃاللہ علیہ السلام کی امامت قبول کرنے کے لئے مہیا کرنے کے لئے تھا۔ 

بہرصورت یہ بذات خود حضرت امام زمانہ (عج) کے حق میں ایک الہی معجزہ ہے اور ہم شیعیان آل محمد (ص) اس عظیم واقعے کی مناسبت سے جشن مناتے ہیں کیونکہ حضرت امام مہدی (عج) حیّ و حاضر امام ہیں اور ہمارے زمانے کے امام آپ (عج) ہی ہیں اسی لئے یہ جشن ہم سب کے لئے مقدم ہے۔

البتہ شیعیان آل محمد (ص) تمام ائمہ (ع) کی ولادت پر جشن مناتے ہیں اور اس لحاظ ائمہ علیہم السلام کے درمیان فرق کے قائل نہيں ہوتے۔

اس لحاظ سے اس دن کی تکریم اور اس روز کا جشن ہمارے لئے ایک دینی فریضہ ہے اور اس روز آنحضرت (عج) کے وجود شریف کی سلامتی کے لئے دعا کریں اور صدقہ دیا جائے ۔۔۔ کیونکہ یہ خود درحقیقت اس امام کریم کی بیعت کے اعلان اور محبت کے اظہار کے مترادف ہے کیونکہ آپ (عج) پردہ غیب میں ہیں۔

پس عیدالزہراء (س) کے عنوان سے منائے جانے والے جشن کا موضوع کیا ہے؟

علماء کہتے ہیں: شیعہ دو جہتوں سے جشن مناتے ہیں اور اس کو عیدالزہراء (س) کے طور پر مناتے ہیں؛ اول یہ کہ: اس روز مہدی آل محمد (ص) نے امامت کا الہی عہدہ سنبھال لیا ہے اور وہ وہی ہیں جو اللہ کی حکومت عدل کی جلوہ گری کے وعدے کا مصداق تامّ و کامل ہیں۔ وہی جو ظلم و جور کا خاتمہ کریں گے اور مظلومین کا انتقام لیتے ہیں اور کون ہے جو اہل بیت علیہم السلام سے زیادہ مظلوم ہو جو ہر لحاظ سے مظلوم واقع ہوئے اور ان کا حق ہر لحاظ سے سلب ہوا۔ 

حضرت مہدی (عج) اللہ کے وعدے کو عملی جامہ پہنا کر حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا دل خوش نہیں کریں گے؛ اور پھر نو ربیع الاول عمر بن سعد کی ہلاکت کا دن ہے، وہی جس نے میدان کربلا میں عاشورا کے دن امام حسین (ع) اور خاندان رسول (ص) کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا جس سے سب آگاہ ہیں۔ اس نے خاک کربلا کو خاندان رسول (ص) کے مردوں کے خون سے رنگ دیا اور سیدہ ثانی زہراء اور خاندان رسول (ص) کی خواتین اور بچوں کو اسیر کرکے کربلا سے کوفہ و شام تک بازارون میں پھرایا اور ہزاروں مظالم پیروان اہل بیت (ع) پر روا رکھے۔ 

نو ربیع الاول کو مختار بن ابی عبیدہ ثقفی نے عمربن سعد ملعون کو ہلاک کرڈالا اور مختار کے حکم پر اس کا سر بدن سے الگ کردیا کیا چنانچہ نو ربیع الاول اس لحاظ سے اہل بیت (ع) اور حضرت زہراء (س) کے لئے جشن و سرور کا دن ہے۔ 

بعض لوگ نو ربیع الاول کی رات کو جو جشن اور بعض مراسمات بپا کرتے ہیں ان کا تعلق اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے قاتل عمر سعد کی ہلاکت سے ہے اور بعض لوگ تو اس سلسلے میں انتہا پسندی کی راہ پر چل کر خرافات کے قائل ہوئے ہیں جن کی کوئی تاریخی اور علمی بنیاد نہیں ہے۔ 

اس میں شک نہیں ہے کہ نہ تو نو ربیع الاول کے جشن میں اور نہ ہی دوسرے کسی جشن میں افراط و تفریط کی اجازت نہیں دی گئی اور ہر وہ عمل جو شریعت سے متصادم ہو، حرام ہے اور انسان کو کسی حالت میں بھی گناہ سے معاف نہيں کیا گیا ہے۔ اور سورہ ق کی آیت 18 میں ارشاد ہوتا ہے: “کوئی بات اس کی زبان سے نہیں نکلتی مگر یہ کہ اس کے پاس نگران تیار موجود ہیں”۔ یعنی اللہ کے نگران فرشتے انسان کے ہر فعل اور ہر اقدام اور ہر بات کو ثبت کرتے ہیں اور خدا کسی کے لئے بھی استثناء کا قائل نہیں ہوا۔ اور ہاں! حکم یہ ہے کہ نہ صرف ایک افواہ یا شبہہ بلکہ حتی بعض احادیث بھی، اگر قرآن سے متصادم ہو تو اس کو دیوار سے دے مارو۔

زبان کی آزادی اور سب کچھ بولنے کی اجازت کے بارے میں کہی گئی بات کے بارے میں بھی سورہ عنکبوت کی آیت 29 سے رجوع کرنا چاہئے جہاں ارشاد ہوتا ہے: “ارے تم مردوں سے نفسانی خواہش پوری کرتے ہو اور راہ زنی کرتے ہو اور اپنی مجالس میں کار بد (یعنی مزاح کی غرض سے بدزبانی) کرتے ہو تو ان کی قوم والوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا سوا اس کے کہ انہوں نے کہا لاؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو”۔ یعنی قوم لوط کی تین عادتیں تھیں جن میں لواطت،  رہزنی اور بدزبانی جیسے گناہ شامل تھے۔ یعنی بدزبانی اور بری اور بھونڈی باتیں دو دوسرے بڑے گناہوں کے زمرے میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ فرائض واضح ہیں۔ مجالس جشن میں بھی اور کسی بھی موقع پر بدزبانی او سب و شتم کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ 

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جنگ صفین میں معاویہ کے سب و شتم کرنے والوں سے فرمایا: تمہیں سبّ کرنے اور گالی دینے کا حق نہيں ہے ہمیں حق حاصل ہے کہ ان کے خلاف لڑیں۔

ان ایام میں بعض اعمال کا تعلق انجام دینے والوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا جواب بھی بارگاہ الہی میں وہی لوگ دیں گے اور اہل بیت (ع) کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جس میں رضائے الہی نہیں بلکہ اللہ کا غضب اور ناراضگی کے سوا کچھ نہيں ہے۔ 

اہل بیت علیہم السلام کی اعیاد عبادت کے مواقع اور الہی فرائض کی مناسبتیں ہیں اور حبّ اہل بیت (ع) اللہ کی فرمانبرداری میں ہے اور امام باقر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق: جس نے اللہ کی اطاعت کی وہ ہمارا حبدار ہے اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی وہ ہمارا دشمن ہے۔

واضح رہے کہ خلیفہ ثانی پر قاتلانہ حملہ ذوالحجۃالحرام میں انجام پایا تھا چنانچہ اس حوالے سے جو شبہہ افواہِ عوام پر ہے وہ غلط اور بے بنیاد ہے۔ 

اہل بیت (ع) کے جشن یا ایام غم میں ان کی مدح کو اہمیت دینی چاہئے اور اہل بیت (ع) کی معرفت حاصل کرنی چاہئے۔ لوگوں کو طعام دینا چاہئے۔ نہ جانے کیوں لوگوں کو طعام دینے کی سنت حسنہ کو کیوں محرم اور صفر تک محدود کیا گیا ہے۔ روایات میں ہے کہ اگر کوئی عید کے دن لوگوں کو کھانا کھلائے تو اللہ تعالی کے ہاں وہ اس شخص کی طرح ہو جس نے انبیاء عظام علیہم السلام کی میزبانی کی ہو۔ 

ان ایام میں صلۂ رَحِم، اپنوں، عزیزوں اور دینی برادران کے درمیان اختلافات اور کدورتوں کو ختم کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے سرور و شادمانی کا اظہار کرنا چاہئے اور یہ سرور و شادمانی، حسنات اور نیک اعمال سے بھرپور اور برائی اور گناہوں سے بالکل دور، امام زمانہ (عج) کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے مترادف ہے۔

عمر بن سعد بن ابی وقاص کون ہے؟

امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں ابن سعد کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے پیغام بھیجا۔ اس ملاقات میں ابوالفضل العباس علیہ السلام آپ (ع) کے ساتھ تھے اور حفص بن عمر سعد اور اس کا غلام لاحق، ابن سعد کا ساتھ دے رہے تھے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ رات گئے تک مذاکرات جاری رہے لیکن معلوم نہ ہوسکا کہ مذاکرات میں فریقین نے کیا کہا اور کیا سنا۔ لیکن بعض دوسرے مؤرخین نے لکھا ہے کہ سیدالشہداء علیہ السلام نے فرمایا: اے ابن سعد! خدا کا خوف کرو! تم جانتے ہو کہ میں کس کا فرزند ہوں پس تم میرا ساتھ کیوں نہیں دیتے ہو؟ عمربن سعد بہانہ لایا اور کہا: مجھے خوف ہے کہ یزید کی حکومت میرا گھر منہدم کرے گی۔ 

امام (ع) نے فرمایا: میں وہ گھر تمہارے لئے از سر نو تعمیر کرکے دونگا۔ 

ابن سعد نے پھر بھی بہانے کا سہارا لیا اور کہا: مجھے خوف ہے کہ وہ میرے باغ اور میری زراعت پر قبضہ کریں گے۔

سیدالشہداء علیہ السلام نے فرمایا: میں اس سے بہتر حجاز میں تمہیں دے دوں گا۔

عمر سعد نے پھر بھی بہانہ بنایا اور کہا: مجھے خوف ہے کہ وہ میرے بیوی بچوں کو کوفہ میں قتل کردیں۔

یہاں امام علیہ السلام غضبناک ہوئے اور ابن سعد پر نفرین کرکے فرمایا:

مالك! ذبحك اللّه على فراشك، ولا غفر لك یوم حشرك، فواللّه انی لارجوا ان لاتاكل من بر العراق الا یسیرا.

اللہ ذبح کروائے تم کو اپنے بستر پر! اور جس دن تم اٹھائے جاؤ اللہ تمہیں نہ بخشے، پس اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ تم عراق کی گندم سے ـ سوائے قلیل کے ـ نہ کھاسکوگے۔

عمر بن سعد نے اپنے انجام کے خوف کو چھپاتے ہوئے کہا: گندم نہیں کھائیں گے تو جو کھائیں گے!۔ (1) 

ابن حجر لکھتا ہے: ایک دن عمر بن سعد نے امام حسین علیہ السلام سے عرض کیا: بعض نادان لوگ کہتے ہیں کہ میں آپ کا قاتل ہوں۔

امام (ع) نے فرمایا: یہ نادان نہیں ہیں اور سچ کہہ رہے ہیں۔ (2) 

عمر کے باپ سعد بن ابی وقاص نے امامت ولایت کے سلسلے میں قصور کیا مگر کبھی بھی امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے میں کوتاہی نہيں کی اور سفر حج کے دوران اپنے دو عراقی ہمراہیوں کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کی فضیلت پر مبنی پانچ حدیثیں سنائیں: “حدیث برائت، حدیث ابواب، حدیث رأیت، حدیث منزلت، حدیث غدیر”۔ 

مکہ میں جب معاویہ کے بعض حامیوں نے امیرالمؤمنین (ع) کے حق میں گستاخی کی تو سعد بن ابی وقاص نے رو رو کر کہا: وہ فضائل جو امیرالمؤمنین (ع) کو اللہ نے عطا کئے تھے، اگر ان میں سے ایک فضیلت مجھ میں ہوتی تو بےشک میرے لئے بہتر ہوتی دنیا اور ان تمام اشیاء و موجودات سے جو اس میں ہیں۔ 

ابن ابی وقاص نے معاویہ کو مدینہ میں امیرالمؤمنین (ع) کی توہین کی اجازت نہ دی جیسا کہ ان ہی ایام میں عائشہ ام المؤمنین نے معاویہ کو یزید کے لئے بیعت کا مسئلہ نہیں اٹھانے دیا اور یہ دونوں معاویہ کے ہاں گردن زنی کے لائق قرار پائے اور اگرچہ آج بہت سے لوگ ام المؤمنین کے لئے بھی گریباں پھاڑتے ہيں اور معاویہ کا دامن بھی مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں لیکن معاویہ نے متعدد دیگر صحابہ کی طرح ابن ابی وقاص کو زہر دے کر اور عائشہ کو گڑھے میں گرا کر قتل کیا۔

ابن سعد نے یزید کے راستے میں جہنم کا استقبال کیا لیکن سنہ 50 یا 55 ہجری میں یزید کے باپ معاویہ نے ہی ابن ابی وقاص کو زہر دے کر قتل کیا۔ اور ابن ابی وقاص نے وصیت کی کہ “مجھے اسی لباس میں دفن کیا جائے جو میں نے بدر کے دن مشرکین کے خلاف لڑتے ہوئے پہنا تھا”۔ (3) سعد بن ابی وقاص کی گیارہ بیویوں سے 36 بیٹے بیٹیاں تھیں جن میں ایک کا نام عمر تھا۔ 

سوال یہ ہے کہ ابن ابی وقاص نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیعت سے انکار کیوں کیا اور اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ خود حکومت کے مدعیوں میں سے تھا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ 43 میں اسی موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: “أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ اثْنَانِ: اتِّباعُ الْهَوَى، وَ طُولُ الْأَمَلِ”۔ اے لوگو! میں دوچیزوں سے بہت زیادہ خائف ہوں کہ تم ان سے دوچار ہوجاؤ: ہوائے نفس کی متابعت اور طویل آرزوئیں۔ لیکن ان لوگوں نے دوسروں کی مدد بھی نہیں کی جیسا کہ فرمایا: “هم الذین خذلوا الحق و لم یـنصـروا الـبـاطل.” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو بےیار و مددگار چھوڑا اور باطل کی مدد بھی نہیں کی۔ 

جس دن خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب پر قاتلانہ حملہ ہوا اسی دن عمر بن سعد پیدا ہوا اور واقعۂ کربلا میں اس کی عمر 37 برس تھی اور چھ سال بعد 43 سال کی عمر میں مختار کے حکم پر ہلاک کیا گیا۔ 

ابن سعد کے جرائم میں ایک نہایت شرمناک جرم یہ تھا کہ اس نے فرزندان رسول (ص) پر پانی بند کردیا۔ یزید بن حصین ہمدانی (4) ـ جو شہدائے کربلا میں جاوید ہوچکے ہیں ـ نے سیدالشہداء علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آپ کی اجازت ہو تو میں ابن سعد سے پانی کی بندش کے موضوع پر بات چیت کرتا ہوں شاید کہ مؤثر واقع ہوجائے۔ امام (ع) نے اجازت دی۔ یہ شہید کربلا جب عمر سعد کے خیمے میں داخل ہوئے اور ابن سعد کو سلام نہیں کیا۔ عمر سعد اس طرز سلوک پر بہت ناراض ہوا اور کہا: یا اخا همدان! ما منعک من السلام، الست مسلما!؛ اے ہمدانی بھائی! تم نے سلام کیوں نہیں کیا؟ کیا میں مسلمان نہیں ہوں۔ فقال له: هذا ما الفرات تشرب منه کلاب السواد و خنازیرها و هذا الحسین بن على و نساؤه و اهل بیته یموتون عطشا و انت تزعم انک تعرف اللّه و رسوله؛ یزید بن حصین نے کہا: یہ فرات کا پانی ہے جس سے تمام حیوانات استفادہ کررہے ہیں، یہ حسین بن علی اور آپ (ع) کی خواتین اور بچے ہیں جو پیاس سے رو بہ موت ہیں اور تم اللہ اور رسول کی معرفت کے دعویدار ہو [اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھ رہے ہو]؟ عمر سعد نے سر جھکا کر کہا: واللّه یا اخا همدان! انی لاعلم حرمة اذاهم ولکن ما اجد نفسی تجیبنی الى ترک الری لغیری؛ اے ہمدانی بھائی! بےشک میں جانتا ہوں کہ ان کو اذیت دینا حرام ہے لیکن میری نفسانی خواہشات مجھے “رے” کی حکومت دوسروں کے حق میں، ترک کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں۔ یـزید بن حصین لوٹ کر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: “قد رضى ان یقتلک بولایة الری”، میرے مولا! ابن سعد رے کی حکومت کی خاطر آپ کے قتل کے لئے راضی ہوگیا ہے۔ (5) 

کربلا میں یزیدی لشکر کے کمانڈر ابن سعد نے پانی بند کرکے صفین میں معاویہ کی روایت زندہ کی۔ چنانچہ کربلا میں پانی کی بندش کوئی نئی بات نہ تھی۔ معاویہ نے امیرالمؤمنین کے ساتھیوں پر پانی بند کرکے اس بھونڈی روایت کی بنیاد رکھی تھی اور جب امیرالمؤمنین علیہ السلام نے مالک اشتر اور اشعث بن قیس کو بھجوا کر شریعۂ فرات کو معاویہ سے چھڑوایا تو معاویہ نے عمرو عاص سے کہا: کیا علی (ع) بھی ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ہم نے کیا؟ عمرو نے جواب دیا: ظني انه لا يستحل يستحل منك ما استحللت منه وأن الذي جاء له غير الماء. (6)؛ میرا خیال نہيں ہے کہ وہ بھی وہی کچھ روا رکھے گا جو تم نے روا رکھا کیونکہ جس چیز کے لئے وہ یہاں آئے ہیں وہ پانی کی بندش نہيں ہے۔ 

آخری بار عاشورا کی صبح کو دوسرے خطبے اور اتمام حجت کے بعد امام حسین علیہ السلام نے عمر سعد کو بلایا اور فرمایا: “اتزعم انك تقتلني و یولیك الدعی بلاد الری و جرجان؟ واللّه لا تتهنأ بذلك، عهد معهود فاصنع ما انـت صـانـع فـانك لا تفرح بعدی بدنیا ولا آخرة و كانی براسك على قصبة یتراماه الصبیان بالكوفة و یتخذونه غرضا بینهم(8)؛ تم سمجھتے ہو کہ مجھے قتل کروگے اور یہ زنازادہ شخص کا بیٹا تمہیں رے اور گرگان کی حکومت دے گا! خدا کی قسم! یہ ایک طے شدہ عہد و پیمان ہے۔ اب تم جو کرسکتے ہو کرو لیکن جان لو کہ میرے بعد کبھی بھی دنیا اور آخرت میں فرح و سرور کا منہ نہ دیکھ سکوگے اور گویا میں ابھی سے دیکھ رہا ہوں کہ تمہارا سر نیزے کے اوپر نصب کیا جاتا ہے اور کوفہ کے بچے اس کو ایک دوسرے کے پاس پھینک رہے ہیں اور اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ 

فتقدم عمر بن سعد فرمى نحو معسکر الحسین علیه السلام و قال اشهدوا لی عند الامیرانی اول من رمى واقبلت السهام من القوم کانها المطر(9) 

عاشورا کے ظہر کے بعد جب سنان بن انس لعین نے ایک تیر امام حسین علیہ السلام کی طرف پھینکا جو آپ (ع) کے گلے میں لگا اور آپ زین سے زمین پر اترے “فوقع السهم فی نحره فسقط علیه السلام”۔ عمر بن سعد نے ایک شقی سے کہا کہ اترو اور امام حسین (ع) کا کام تمام کردو۔ خولی نیچے اترا لیکن گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا حتی کہ سنان بن انس نخعی نے سرمبارک تن سے جدا کیا۔ (10) 

عمر بن سعد نے کربلا میں اشقیاء کی سپہ سالاری قبول کرنے سے قبل “کامل” نامی شخص سے مشورہ کیا جو اس کے باپ کا دوست تھا۔ کامل نے کہا: وائے بحال ہو تمہارے! کیا تم فرزند رسول (ص) کو قتل کروگے؟ اگر پوری دنیا میرے حوالے کرنا چاہیں امت محمد کا ایک فرد بھی قتل کرنے کے لئے تیار نہیں ہونگا چہ جائیکہ فرزند رسول (ص) کو قتل کرنے کا ارادہ کروں! عمر سعد نے کہا: اگر میں امام حسین (ع) کو قتل کروں تو مجھے سترہزار افراد کا امیر بنایا جائے گا۔ 

کامل نے جب دیکھا کہ عمر قتل حسین (ع) کا ارادہ کرچکا ہے تو اس نے ایک روایت اس کو یوں سنائی:

ایک دفعہ میں اور تمہارا باپ سعد بن ابی وقاص کے ساتھ شام کے سفر پر جارہے تھے۔ میری رفتار کم تھی چنانچہ پیچھے رہ گیا اور پیاس مجھ پر غالب آگئی۔ ایک راہب کے دیر میں پہنچا۔ گھوڑے سے اترا اور پانی کی درخواست کی۔ 

راہب نے کہا: کیا تم اسی امت میں سے ہو جس کے بعض بعض دوسروں کو قتل کرتے ہیں؟ 

میں نے کہا: میں امت مرحومہ سے ہوں۔

راہب نے کہا: وائےبحال ہو تمہارے روز قیامت، کہ تم اپنے پیغمبر کے فرزند کو قتل کروگے اور ان کے خاندان کو اسیر بناؤگے۔ 

میں نے کہا: کیا ہم اس عمل کے مرتکب ہونگے؟

راہب نے کہا: اور اس وقت زمین اور آسمان آہ و فریاد کریں گے اور اور آپ (ع) کے قاتل زیادہ عرصے تک اس دنیا میں زندہ نہیں رہ سکیں گے حتی کہ ایک شخص خروج کرکے ان سے انتقام لے گا۔ 

راہب نے مزید کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس کے قاتل کو جانتے ہو۔

میں نے کہا: خدا کی پناہ! کہ میں ان کے قاتلوں میں شمار ہوجاؤں۔ 

راہب نے کہا: اگر تم نہ بھی ہوئے تو تمہارے اقرباء میں سے کوئی ہوگا۔ امام حسین کے قاتل کا عذاب فرعون و ہامان سے بھی بڑھ کر ہوگا۔ اس کے بعد راہب نے دروازہ بند کردیا۔ 

کامل کہتا ہے: میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے ساتھیوں سے جاملا۔ اور تمہارے باپ ماجرا کہہ سنایا۔ اور تمہارے باپ نے کہا کہ راہب سچ کہتا ہے اور یہ کہ اس نے بھی قبل ازیں راہب کو دیکھا ہے اور اس کو بتا چکا ہے کہ “اس کا بیٹا فرزند رسول (ص) کا قاتل ہے”۔ 

کامل نے یہ بات عمر بن سعد کو سنائی اور خبر یزید کے گورنر ابن زیاد کو پہنچی تو ابن زیاد نے کامل کو بلوایا اور اس کی زبان کٹوا دی اور کامل ایک دن زندہ رہا اور دنیا سے رخصت ہو(11) 

مختار بن ابی عبیدہ ثقفی نے ایک قاصد عبداللہ بن زبیر کے پاس روانہ کیا اور کہا کہ جا کر محمد بن حنفیہ سے بھی ملاقات کرکے اور انہیں سلام پہنچا دے۔ 

محمد نے کہا: مختار ہم سے محبت کا اظہار کیونکر کرتا ہے جبکہ عمر بن سعد ابھی تک زندہ ہے اور ان کی مجلس میں بیٹھتا ہے؟ 

مختار کو پیغام ملا تو کوفہ کے امیرشرطہ (پولیس سربراہ) کو حکم دیا کہ کچھ لوگوں کو اجیر کرے تا کہ جاکر عمر بن سعد کے گھر کے سامنے سیدالشہداء علیہ السلام کے لئے عزاداری کریں۔ 

جب اس منصوبے پر عمل ہوا تو عمر بن سعد نے اپنے بیٹے حفص کو (جو کربلا کے جرائم میں شریک تھا) مختار کے پاس روانہ کیا اور کہا: “ما شأن النوائح يبكين الحسين على بابي؟؛ میرے گھر کے دروازے پر امام حسین علیہ السلام کے لئے عزاداری کرنے والوں کا یہ اجتماع کیا ہے؟ 

جب حفص مختار کے پاس پہنچا، شرطہ کے مامورین عمر بن سعد کے گھر میں داخل ہوئے اور ابن سعد کو اپنے بستر پر لیٹا پایا اور کہا: اٹھو! وہ اٹھا جبکہ لحاف میں لپٹا ہوا تھا۔ اسی وقت اس کا سر بدن سے جدا کردیا گیا اور اس کا سر فوری طور پر مختار کے پاس پہنچادیا گیا جہاں اس کا بیٹا موجود تھا۔ 

مختار نے حفص سے کہا: “هل تعرف هذا الراس؟”؛ کیا تم اس سر کو پہچانتے ہو؟ 

حفص نے کہا: ہاں! 

مختار نے کہا: کیا پسند کرتے ہو کہ تمہیں بھی اس سے ملحق کردوں؟

حفص نے کہا: باپ کے بعد زندگی میں مزید کوئی خیر نہیں ہے چنانچہ مختار نے اس کو باپ سے محلق کردیا۔ (12) 

یہ واقعہ 9 ربیع الاول کو رونما ہوا اور یوں نو ربیع الاول جشن اور عید کا دن ٹہرا۔

……….

مآخذ:

1- بحارالانوار، 44/388/ اعیان الشیعة، 1 / 595 / البدایة والنهایة، 8 / 175 / خوارزمى،1/245. 

2- تهذیب التهذیب، 7/450. 

3- اسد الغابه، 2/290 بحارالانوار، 28/130- 40/39 / پیغمبر و یاران، 3/124. 

4- شیبہ نے یہ واقعہ انس بن حرث کاہیل اور بریر بر خضیر ہمدانی کے لئے بھی نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو یہ واقعہ دو بار دہرایا گیا ہے یا پھر راویوں کے نام میں اشتباہ واقع ہوا ہے۔ 

5- کشف الغمة، 2/47. 

6- وقعه صفین، 186. 

7- ابصار، 69 / حیاة الحسین، 3/126/ اعیان الشیعه، 1/599 / حسین علیه السلام نفس مطمئنه، 164. 

8- مقتل الحسین علیه السلام خوارزمى، 2/8 / مقتل الحسین مقرم، 289. 

9- ملهوف، 42 البدایة والنهایة، 8/181. 

10- ملهوف، 52. 

11- بحارالانوار، 44/306. 

12- الامامة والسیاسة، 2/19 / طبرى، 6/62. 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.