منزلت امامت، امام رضاعلیہ السلام کی نظر میں

0 1

منزلت امامت،   امام رضاعلیہ السلام کی نظر میں
 احمدترابی            مترجم: یوسف حسین عاقلی پاروی        
  تصحیح: حجۃ الاسلام غلام قاسم تسنیمی                     پیشکش: امام حسین (ع) فاونڈیشن   

        
جو عزت و جلالت اور شان و شوکت بارگاہ امامت میں دیکھتے ہیں!یہ  دل جو اہلبیت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے لئے تڑپ رہے ہیں! یہ جو آنکھیں امام رضاعلیہ السلام کی ضریح اقدس کو دیکھ کر بے اختیار بارش برساتی ہیں اور معنویات کو سمیٹ لیتی ہیں!  یہ جوقدم  غریب طوس میں کی ضریح اقدس تک پہچنے کے لئے طولانی مسافات اور راہ کو طے کرتے ہوئے خستگی و تھکاوٹ محسوس کرتےہیں،  نہ دنوں اور ساعات کا اندازہ اور امام علیہ السلام کی بارگاہ میں احترام و ادب سے کھڑے ہو تے ہیں  تو ان زائروں گفتگو خالصتاً خدا  کے لئے ،بے ریا، تاکہ مہربان غریب نواز ہو!
ان میں سے کوئی بھی بغیر دلیل کے نہیں ہے!
    ہاں! یہ گفتگو ان معنویات سے نا آشناہو امام کو نہ پہنچانتاہو ،حکمت زیارت سے ناواقف ہو، جن کے دل نےرافت و الفت اور رحمت امام کوکشف نہ کیا ہو، ان افراد کے لئے( احترام و محبت) ایک عجیب و غریب  اور شگفت انگیز نظرآئے گی بلکہ ممکن ہے بعض آشنا اور زائرین کرام سے بھی کچھ باتیں مخفی اور سمجھ سے بالاتر ہوں، اگرچہ وہ مشتاق زیارت امام  ہوں ان کے دل سےجذبہ محبت و ولایت رضوی پھوٹ پھوٹ کر آشکار ہو لیکن ان تمام اسرار سے واقف نہ ہوں، اور یہ بات واقعیت پر مبنی اور غیر قابل انکار ہے۔
عترت، سرآمد امت

چنانچہ یہ بات واضح ہے کہ تمام امت اسلامی میں سے تمام اہل ایمان پایداری و پاسداری ایمان میں، کج فکری وغیرہ کے مقابلے کرنے میں برابر نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے بعض گروہ اس میدان عمل میں سبقت، برتری و کمال اور فضیلت کو اپنائے ہوئے ہیں۔
قرآنی آیات اور منابع روایات معتبرہ سے استفادہ ہوتاہے کہ امت اسلامی کو دیگر تمام امتوں پر جو فضیلت و فوقیت اور برتری ملی ہے تو وہ خلاف شرع کاموں سے دفاع اور غلط کاموں سے مبارزہ اور مقابلہ کرنے کی وجہ سے ملی ہے ۔لیکن اس عہدہ کے دفاع اور دین اسلام اور امت اسلامی کو کو محفوظ رکھنے اور بچانے کی اصل وجہ اہلبیت اور عترت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور یہ ہستیاں ہی تھیں جنہوں نے اس میدان عمل میں سب سے بالاتر اور بلند ترین امتیاز و منزلت حاصل کی اور تمام امتوں سے افضل و برتری کی سند پائی۔
تعجب نہ کریں
اور اس دنیا میں اگر کوئی ان تمام فضائل و مناقب او رامتیازات عترت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا منکر ہو تو کسی کو بھی تعجب کرنے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ اہل بیت علیہم السلام سے پہلے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی ، دیگر انبیاء الہی حتی کہ قرآن مبین اور دیگر کتب آسمانی کے بھی منکر تھے بلکہ معتقد تھے کہ سچ و سچائی اور صدق سے بھی دور تھے!
غافل  اور جاہل ہے جس کو آفتاب سے انکار ہے حقیقت میں خود انہوں نے اپنے آپ کو ان کے نور ہدایت اور رحمت سے محروم اور دور کیاہے!!
قبل از موضوع
عالم آل محمد حضرت امام رضا علیہ السلام کی زبان مبارک سے امامت عترت اور  اہل بیت کے مقام و منزلت کو بیان کرنے سے پہلے خود امام رضا علیہ السلام کی زبان مبارک  سے و ارثان علم و برگذیدگان کے مصداق کو بیان کرینگے۔ ایک دفعہ عراق و خراسان کے کچھ علماء جمع ہوئے اور ان کے درمیان اس آیت مجیدہ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا(1) پھر ہم نے اس کتاب کا وارث ان افراد کو قرار دیا جنہیں اپنے بندوں میں سے چن لیا۔
اس کے متعلق  گفتگو ہوتی کہ وارثان کتاب الہی اور خداکے پسندیدہ افراد کون ہیں؟
اور عراق و خراسان کےجو علماء مجلس ماموں میں تھے وہ سب اہلبیت علیہم السلام کے مکتب سے جاہل اور نابلدتھے ہر ایک نے اظہار نظر اور رائے پیش کی کہ اس آیت مجیدہ کاحقیقی مصداق امت اسلامی ہی ہے جس کو خدانے وارثان کتاب الہی اور پسندیدہ و برگذیدہ قرار دیا ہے۔
عالم آل محمد امام رضا علیہ السلام بھی وہاں اس مجلس میں تشریف فرماتھے ان جہلاء کی آراء و تحلیل کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: میں ان علماء عراق و خراسان کی باتوں سے اختلاف رکھتا ہوں اور صحیح نہیں مانتاہوں۔
چونکہ اس آیہ مجیدہ کا حقیقی اور اصل مصداق وارثان کتاب الہی اور برگذیدہ  اور خدا کےچنے ہوئے افراد ہی عترت طاہرہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مقدسہ ہیں نہ امت اسلامی ۔ اور امام رضا علیہ السلام نے اس کی دلیل کے طور پر خود قرآن سے دوسری آیت کو پیش فرمایا:
چنانچہ اسی آیت کے بعد ارشاد ہے: جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَہا  (2)یعنی وارثان کتاب الہی اور برگذیدگان تمام کے تمام اہل جنت و بہشت تھے اور تمام بہشت ان کے لے فراوان ہونگے۔
جبکہ اس آیت مجیدہ سے پہلے خداوندعالم نے امت اسلامی کو تین گروہ میں تقسیم کیا ہے۔
1- خود اپنے اوپر ظلم کرنے والے
2- میانہ رو نیکی اور ظلم کرنے والے۔
3- اور نیک و صالح لوگ ۔
پس کسی کو شک کی گنجائش نہیں کہ ان تینوں گروہ میں سے کوئی بھی دوسرے کے برابر نہ تھے اور سب بغیر حساب و کتاب اور بے چون و چرا اہل بہشت بھی نہیں ہونگے ۔بلکہ اہل تقوی و متقی اور سچے ہی دوسروں سے افضل و برتر اور امتیاز الہی کے مستحق قرار پاینگے اس حدیث کے تسلسل میں امام علیہ السلام نے قرآنی دلائل  دہیے کہ اہلبیت علیہم السلام میں ہر ایک  امت  اسلامی کا رہبر ، رسول خدا  کے مشن کو تکمیل کرنے والے    ہیں
اس کے بعد ارشاد فرمایا : کہ ان میں سے ہر کوئی عترت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سرآمد امت اسلامی ہونا، پاکیزہ و سزاواراترہونا اور شایستہ ترین امت ہونا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی راہ کو جاری و ساری اور تعلیمات نبوی کو دوام بخشنے والے اور  وارثان کتاب الہی و تبین و تفسیر کلام الہی کرنے والے ہونے کی حیثیت سے اہل ایمان و اسلام کے لئے معرفی اور پہچانوایا تھا(1)
محبت و معرفت
امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے عقیدت و  محبت اور ارادت رکھنے والوں کے دو گروہ ہوسکتے ہیں:
1- کچھ زائرین کرام امام علیہ السلام کے دلوں میں محبت اور دوستی و احترام و غیرہ بہت زیادہ ہیں لیکن  وہ اس محبت کی دلیل کو واضح  بیان نہیں کرسکتے ۔
2- دوسرا گروہ جن کے دلوں میں محبت و مقام امامت اور امامت کے مرتبے کو جاننے کے ساتھ محبت وارادت اور احترام کے دلیل کو بیان بھی کرسکتے ہیں اور مزید زیارت کرنے کی فضیلت و اہمیت اور فلسفہ و غیرہ کی بھی توضیح دسے سکتے ہیں ۔
پہلا گروہ جو صرف محبت و عقیدت کا اظہار کرتا ہے مگر دلیل کم بین نہی کرسکتا اصل میں وہ احساسات کے مالک ہیں  لیکن دوسرا گروہ جو معرفت و محبت اور عقیدت کے ساتھ سبب اور دلیل کو بھی جانتے ہیں حقیقت میں ان کے دلوں میں احساسات کے ساتھ ساتھ معرفت بھی پائی جاتی ہیں  حقیقی شیعہ وہ ہے جو اہل بیت علیہم السلام کی و عصمت و طہارت اور محبت و عقیدت کے ساتھ حقیقی معنوں میں معرفت بھی رکھے۔ کیونکہ یہ اس صورت میں ممکن ہے جب محبت و معرفت ایک ساتھ ہو اور ایک دوسرے کے معاون و مدگار ہو ں  اس وقت زائر حقیقی ہوگا اور زیارت خود حصول معرفت کےلئے ایک مقدمہ ہے جس سے زائر کا اندورنی ارتباط اور رابطہ امام سے محکم و مضبوط اور معنویت میں اضافہ ہوتاہے۔
با فضیلت زائر
عصمت و طہارت اور پاک و منزہ ہستیوں سے محبت معرفت کے ساتھ ہو یا بغیر معرفت کے دونوں نیک ہیں لیکن جس کی قیمت اور ارزش زیادہ ،وہ محبت کے ساتھ معرفت اور شناخت ہے جیساکہ زیارت جامعہ میں ہم پڑھتے ہیں: اللَّهُمَّ ۔۔۔ أَسْأَلُكَ أَنْ تُدْخِلَنِي فِي جُمْلَةِ الْعَارِفِينَ بِهِمْ وَ بِحَقِّهِمْ۔ خداوندا!! میں تجھ سے سوال کرتاہوں کہ مجھے خاندان پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی معرفت عارفین اور ان کے حق سے آشنا فرما۔
اس زیارت کے کچھ جملوں کو شیخ صدوق نے امام ہادی علیہ السلام سے نقل فرمایاہے۔
جس میں امام علیہ السلام عنوان نے زیارت کے ذیل میں زائرین محترم کے لئے کچھ توجہ طلب باتوں کی طرف متوجہ کیاہے: أُشْهِدُ اللَّهَ وَ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي مُؤْمِنٌ بِكُمْ وَ بِمَا آمَنْتُمْ بِهِ۔ خداوندا عالم اور خاندان رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمت کو شاہد او رگواہ بناتاہوں کہ جس چیز پر آپ ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں اس پر میں بھی عقیدہ و ایمان اور رکھتا کرتاہوں۔
كَافِرٌ بِعَدُوِّكُمْ وَ بِمَا كَفَرْتُمْ بِهِ۔ جو آپ کے دشمن ہیں اور جن سے آپ دشمنی اور انکار فرماتے ہیں میں بھی ان کا منکر اور دشمن ہوں۔ مُسْتَبْصِرٌ بِشَأْنِكُمْ وَ بِضَلَالَةِ مَنْ خَالَفَكُمْ۔ آپ کی شان و منزلت کا بصیرت رکھتاہوں اور آپ کے دشمنوں کی گمراہی اور ضلالت کا معترف ہوں ، ْ مُوَالٍ لَكُمْ وَ لِأَوْلِيَائِكُمْ مُبْغِضٌ لِأَعْدَائِكُمْ وَ مُعَادٍ لَهُمْ۔ آپ اور آپ کے دستوں اور موالین سے دوستی و محبت جبکہ دشمنوں سے عداوت و دشمنی اور کینہ و عناد ہوں۔ سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ۔جو بھی آپ کے لئے سلامتی والاہو، میں  بھی اس کے لئے سلامتی والاہو ں اور جوبھی آپ سے جنگ و جدال کریں میں بھی ان سے جنگ و جدال کرونگا۔ مُحَقِّقٌ لِمَا حَقَّقْتُمْ مُبْطِلٌ لِمَا أَبْطَلْتُمْ مُطِيعٌ لَكُمْ عَارِفٌ بِحَقِّكُمْ۔ جس کو آپ حق جانتے اور مانتے ہیں میں بھی حق مانوں گا  اور جس کو آپ باطل اور غلط قرار دیں میں بھی باطل مانوں گا۔
آپ کے حق سے معرفت و آگاہی اور آپ کی ہدایتوں کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری اور مطیع رہوں گا ۔یہ جملات اگرچہ زیارت اور دعا کی صورت میں پیش ہوے ہیں لیکن قرآن کریم و روایات اور احادیث میں ان معارف کے خزانوں کی طرف واضح اشارے اور صراحت  پائی   جاتی ہے۔
اعتراف فضائل
ان فضائل و مناقب اور ولایت اہلبیت علیہم السلام کا اقرار و اعتراف کرنا شیعیان علی  بن ابی طالب علیہ السلام  کے لئے آسان ہو سکتاہے لیکن جوکوئی مکتب اہلبیت علیہم السلام سے آشنا   نہ ہو تو وہ صرف حیرت و پریشانی اور ابہام کاشکار ہی نہیں ہوگا بلکہ وہ  پہلے یہ سوال ضرور پوچھے گا کہ اہل بیت علیہم السلام سے مراد کون لوگ ہیں؟ ان کے مقام و منزلت کیاہے؟ انکی دوستی و محبت اور اطاعت اور ان کے  دشمنوں اور مخالفین سے دوری کی راہ و روش اور معیار کیاہے۔۔۔؟اور کیا ان سب کا جاننا اور ایمان رکھنا ایک مسلمان پر واجب اور ضروری ہے؟
یہاں تک کہ بعض اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ  اہلبیت علیہم السلام کے ان کمالات و فضائل سے نابلند، جاہل اور ناسمجھ  و نا آشنا افراد شیعوں پر بے جا اعتراض کرتے ہیں اور کہتےہیں کہ تم شیعہ لوگ اہلبیت  علیہم السلام  کے لئے اتنے مقام و مرتبہ او راحترام کے قائل کیوں ہو؟ان میں اور دیگر تمام علماء و مسلمانوں میں کونسا فرق ہے؟ اور کیونکر ان کی مدفن کو عالی شان بارگاہ بناتے ہو اور دور و نزدیک سے ان کی زیارت کرتے ہو؟!یہاں پر ان اعتراضات کے جواب دینے میں زائرین امام رضاعلیہ السلام دوگروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں ؛
الف: بعض افراد سکوت اختیار کرتے ہیں اور ان اعتراضات اور سوالات کے جوابات دینے سے قاصر رہتے ہیں۔
ب: اور بعض حضرات اہلبیت علیہم السلام کی مکمل معرفت رکھنے کے ساتھ ساتھ ان تمام اعتراضات اور سوالوں کے مسکت اور منہ توڑ جوابات دیتے ہیں اور یہ لوگ اہل بصیرت و معرفت اہلبیت کہلانے کے مستحق ہیں اور امام رضاعلیہ السلام بھی اپنے چاہنے والوں اور زائرین سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ ان کے ماننے والے اور پیروان اہلبیت علیہم السلام تمام دشمنان اسلام اور منکرین مکتب اہلبیت علیہم السلام کو دلیل قاطع اور واضح سخن کے ذریعے مسکت جوابات دےکر ان کے منہ بند کروا دیں   تاکہ منکرین کو کبھی بھی گستاخی کرنے کی جرائت و ہمت نہ ہو سکے۔

جاننے کی بات
قارئین کرام! یہاں پر کچھ باتیں  جاننا سب کے لئے ضروری ہیں وہ یہ کہ انسان چند مختصر کتابوں کا مطالعہ کر کے کچھ معلومات حاصل کرکے کبھی بھی منکرین کو منہ توڑ جواب نہیں دے سکتا حتی کہ بحث و گفتگو تک مشکل ہے۔ ہاں یہ بات اس صورت میں ممکن ہے جب صلاحیت ہو اور اہل نظر اور جاننے والے حقیقی علماء دین و غیرہ سے مکتب اہلبیت علیہم السلام کے بارے میں معلومات و آشنائی کے بعد اور منکرین کو قانع کنند جوابات دے سکتاہے ۔کیونکہ علماء دین و غیرہ کی رہنمائی اور فہم و مطالعہ او تخصص کے ذریعے مناظرہ و غیرہ کرسکتاہے پھر کسی عالم دہر متخصص وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے۔
امام کون ہے
اس سوال کا جواب گوہر نایاب کلام امام رضا علیہ السلام سے قارئین کرام کی خدمت  مںی کرنے کی کوشش کرتے ہیں: امام علی ابن موسی الرضاعلیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
الْإِمَامُ كَالشَّمْسِ الطَّالِعَةِ الْمُجَلِّلَةِ بِنُورِهَا لِلْعَالَمِ۔ امام چمکتا آفتاب و خورشید کی مانندہے جس کے نور سے پوری جہان روشن و منور ہے۔
وَ هِيَ فِي الْأُفُقِ بِحَيْثُ لَا تَنَالُهَا الْأَيْدِي وَ الْأَبْصَارُ۔ امامت ایسی جگہ پر موجود ہے جہاں تک کسی کے ہاتھ اور آنکھیں  نہی پہنچ سکتں (مقام امام اوفق اعلی ہے) ۔الْإِمَامُ الْمَاءُ الْعَذْبُ عَلَى الظَّمَإِ۔ امام ایسے پانی اور آب کی مثال ہے جس کے پینے کے بعد کوئی پیاس اورعطش باقی نہیں رہتی۔
امام کی زبانی امامت کی ایسی تعاریف کوئی لغوی و عبث اور شاعرانہ تعابیر یا ادبی و مبالغہ امیز کلام نہیں ہے بلکہ امام کے حقیقی مقام و منزلت اور جایگاہ کو بیان کرنا مقصود ہے ۔اسی لئے امام رضاعلیہ السلام  ان جملات کے بعد مخاطبین کے اذہان میں موجود سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : امام کی نور افشانی کس حوالے سے ہے، امام کونسی پیاس  کے تشنگی کو ختم  کرنے کے لئے ہیں؟۔
وَ الدَّالُّ عَلَى الْهُدَى وَ الْمُنْجِي مِنَ الرَّدَى۔امام وہ ہے جو نجات اور ہدایت کی طرف بشریت کا ہادی و رہنما اور پستی و گمراہی سے نجات دینے والا ہوتا ہے۔ الْإِمَامُ الْأَنِيسُ الرَّفِيقُ وَ الْوَالِدُ الشَّفِيقُ والْأَخُ الشَّقِيقُ۔ امام بندگان خدا کے لئے ایک ہمدرد  دوست،  رفیق مہربان  وشفیق باپ اور    ا چھے بھا ئی   کی  کی طرح ہے ۔ والامّ البرّة بالولد الصغير، ومفزع العباد في الداہية النَّآد۔ اور امام وہ ہے جو محبت اور ہمدردی میں ایک ماں  کی مانند ہے جو اپنے فرزندپر کس انداز سے مہربان اور نیک ہوتی ہے۔
الامامُ امينُ اللّہ فِي خَلْقهِ و حُجَّتُہ علي عبادهِ و خليفَتُہ في بلادهِ والدّاعي الي اللّہ ِ، والذّابّ عَنْ حُرُمِ اللّہ۔ امام مخلق کے درمیان خدا کا امین، بندگان خدا پر حجت پروردگار اور انسانی معاشرے  میں خدا کا خلیفہ ہوتا ہے۔امام  لوگو ں  کو خدا کی طرف بلانے والا ہے اور اقدار الہی کا پاسبان ہوتا ہے۔
الْإِمَامُ الْمُطَهَّرُ مِنَ الذُّنُوبِ وَ الْمُبَرَّأُ عَنِ الْعُيُوبِ۔ امام تمام گناہوں سے دور اور تمام عیب و عیوب سے منزہ و پاک ہے۔ الْمَخْصُوصُ بِالْعِلْمِ الْمَوْسُومُ بِالْحِلْمِ نِظَامُ الدِّينِ۔ امام صاحب علم و حلم او کمال و برد باری کا مالک ہے اور امام کا وجود نظام دین او ردین کی استواری امامت پر موقوف ہے۔
 وَ عِزُّ الْمُسْلِمِينَ وَ غَيْظُ الْمُنَافِقِينَ وَ بَوَارُ الْكَافِرِينَ۔ امام  مایہ عزت و سربلندی مسلمانان عالم جبکہ کافرین و منافقین کے لئے باعث نگرانی اور حقارت ہے۔
الْإِمَامُ وَاحِدُ دَهْرِهِ لَا يُدَانِيهِ أَحَدٌ وَ لَا يُعَادِلُهُ عَالِمٌ وَ لَا يُوجَدُ مِنْهُ بَدَلٌ وَ لَا لَهُ مِثْلٌ وَ لَا نَظِيرٌ۔ امام اپنے زمانے وعصر  کا یگانہ اور یکتا ہوتا ہے؛  کو ئی عالم اس کی برابری نہی کرسکتا،اس کا کو ئی جایگزین نہی ہوتا اور نہ ہی کو ئی مثال۔
لِلْإِمَامِ عَلَامَاتٌ يَكُونُ أَعْلَمَ النَّاسِ وَ أَحْكَمَ النَّاسِ وَ أَتْقَى النَّاسِ وَ أَحْلَمَ النَّاسِ وَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَ أَسْخَى النَّاسِ۔ امام کے لئے چند علامات اور نشانیاں ہیں۔امام تمام لوگوں سے اعلم جبکہ حلم و تقوی اور حکم میں اور اسی طرح شجاعت و عبادت الہی او ر سخاوت میں بلندترین مرتبے پر فائز ہوتا ہے۔
دوسری نظر سے :
قارئین کرام !
مندرجہ بالا کلام ، امام علیہ السلام   کا کچھ گوہر بار کلام اور در خراسان کے چند موتی تھے۔
جس میں امامت کی کچھ فضائل اور خصوصیات کی طرف اشارہ تھا جبکہ ہماری روایات اور احادیث میں امام معصوم کے کمالات و فضائل اور مناقب کے سمندر موجود ہیں ان سے ہٹ کر جو گوہر بار چند موتیاں بہ صورت خلاصہ بیان ہوا   بیا     جبکہ  یہ بہت ہی عظیم اور قابل غور و دقت طلب امر ہے۔
خلاصہ
 ان خصوصیات کو ہم تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
1-    امام کی منزلت و مقام خداکے نزدیک
2-    امام کا عوام سے رابط
3-    امام کی معنوی اور علمی شخصیت
منزلت امام
امام کی منزلت خدا کے نزدیک بہت زیادہ ہے؛ چونکہ امام، عوام الناس کے درمیان امین الہی، حجت و دلیل خدا وندی، جامعہ بشری میں خلیفہ الہی، خدا کی طرف  بندگان خداکو دعوت حق دینے والے پاسدار حریم الہی اور مظہر و تجلی پروردگار ہیں۔
عوام سے ارتباط
امام لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کرنے والا، عوام الناس سے انس محبت  رکھنے والا دلسوز باپ کی مانند  سختیوں دشواریوں اور مشکلات میں لوگوں کے پناہگاہ ہے، مسلمانوں کے لئے باعث عزت جبکہ منافقین اور کافرین کے لئے باعث ننگ و عار اور رسوائی و ذلت و خواری ہیں۔
شخصیت معنوی و علمی
امام تمام انسانوں سے اعلم و افضل ہوتاہے، تمام گناہوں اور برایوں سے پاک و منزہ ہوتا ہے امام یعنی مجسمہ علم و کمال  ہوتا ہے۔
شجاعت، تقوی، پرہیزگاری، حلم و بردباری اور سخاوت میں بے نظیر   ہو سکتا ہے عبادت میں بندگان کا سردار و  رہنما ہوتا ہے۔
 اما م کا  انتخاب کون کریں؟
درجہ بالا گفتگو کے بعد سوال پیش آتاہے کہ امام کو انتخاب کون کریں عوام الناس یا خداوند متعال؟
قارئین کرام!سابقہ گفتگو کی روشنی میں امام کے لئے جن شرائط و علامات اور خصوصیات کا ذکر کیا گیاامام کا انتخاب عام آدمی یا عوام الناس نہیں کرسکتےچونکہ ان تمام صفات و کمالات او رمشخصات کا تعین کرنا بشرکا کام نہیں کہ وہ صلاحیت خلافت الہی کو مشخص کریں۔چونکہ وہ نہیں جانتاکہ کس کو امام منتخب کرے اور کس کو نہ کرے اور کس میں یہ تمام صفات، مقام علمی و معنوی پایا جاتاہے اور کون گناہوں سے پاک و منزہ ہے و غیرہ و غیرہ۔
بلکہ صرف اور صرف خداوند عالم کی ذات گرامی ہے جو تمام انسانوں کو حتی ان کے دلوں اور پانچ پشتوں سے واقف ہے وہ یہ فیصلہ کرسکتاہے کہ کس کو امامت کے منصب پر فائز کرے اور خلافت الہی کا کون مستحق ہے۔اس سوال کا ایک اور جواب خود امام رضا علیہ السلام کےکلام مبارک سے قارئین محترم کو پیش کرتے ہیں:
جب امام علیہ السلام مدینة الرسول سے وارد مرو، ہوگئے تو لوگوں کے درمیان امام کے بارے  میں چہ میگویاں اور بحث و گفتگو شروع ہوئی اور وہ اختلاف کاشکار ہوگئے تو اس وقت عبدالعزیز نامی شخص  نے امام کی خدمت اقدس میں آکر امامت کے بارے میں اختلافات کا ذکر کیا۔امام علیہ السلام نے تبسم فرماکر ارشاد فرمایا:
اے عبدالعزیز! یہ گروہ اور جماعت گمراہی اور نا آگاہی میں گرفتارہے اور اپنے ناقص نظریات سے اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔اس کے بعد امام علیہ السلام نے (امامت کو عوام انتخاب کرنا چاہیے )اس نظریہ کے بارے میں فرمایا: هَلْ يَعْرِفُونَ قَدْرَ الْإِمَامَةِ وَ مَحَلَّهَا مِنَ الْأُمَّةِ فَيَجُوزَ فِيهَا اخْتِيَارُهُمْ۔ آیا یہ لوگ امامت کی اصل حقیقت اساس و بنیاد اور مقام امامت امت اسلامی کیاہے؟ جانتے ہیں اور امامت کی صفات و خصوصات سے آگاہ ہیں، تو کس نے اور کس بنیاد پر ان کو امام انتخاب کرنے کا حق دیا ہے؟! إِنَّ الْإِمَامَةَ أَجَلُّ قَدْراً وَ أَعْظَمُ شَأْناً وَ أَعْلَى مَكَاناً وَ أَمْنَعُ جَانِباً وَ أَبْعَدُ غَوْراً مِنْ أَنْ يَبْلُغَهَا النَّاسُ بِعُقُولِهِمْ۔ بے شک امامت کی اہمیت اور قدر وقیمت زیادہ ہے اور بلند مقام رکھتی ہے۔ امامت کی شان و شوکت اور جائیگاہ و منزلت ارفع ہے، امامت کے اعلی و ارفع مقام تک انسانوں کی عقول کی پہنچ نہیں اور نہ ہی عقل  اس کا اندازہ لگاسکتی ہے۔
مقام امام
قارئین کرام!سوال یہ ہے کہ آئمہ اس مقام و مرتبے پر کیسے پہنچے ؟
جب سوال مقام و منزلت اور جایگاہ امام کے بارے میں ہو تو طبیعی طور پر یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ امام اس عالی مرتبہ و منزلت پرکےسے پےنچ اور یہ مقام و صلاحیت  ان کو کیسے ملے اور کونسے دلیل تھے؟
اس سوال کے جواب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ چیز صرف امام اور آئمہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام انبیاء  الہی جیسے حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت موسی حضرت عیسی علیہم السلام اور اسی طرح خود پیغمبراسلام حضرت محمد ابن عبداللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں بھی یہ سوال پیش ہوتارہاہے کہ تمام بندگان خدا میں سے مقام رسالت و نبوت صرف ان کو کیسے ملی اور ان کو کیوں چناگیا؟
ہمارا اعتراض
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس مسئلے کا جواب دینا صرف مذہب شیعہ سے مختص نہیں ہے بلکہ یہ سوال جو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کو مانتاہو اور ان پر ایمان رکھتاہو سب سے ہونا چاہیے اور جواب بھی سب کو دینا چاہیے حتی مسلمانوں سے ہٹ کر دیگر ادیان الہی کے ماننے والے جیسے یہودی  جو کہ حضرت موسی علیہ السلام کی رسالت کو مانتے ہیں ، عیسائی جو حضرت عیسی علیہ السلام کی معقتد ہیں سب سے سوال ہونا چاہیے اور سب کو جواب بھی دینا چاہیے۔ لیکن پھربھی مذہب تشیع اس کا جواب دیتا ہے کہ خداوندعالم کی ذات گرامی عالم الغیب والشہادہ اور تمام علوم بے پایان کی مالک ہے، اس ذات گرامی نے جب بنی نوع انسان کو خلق فرمایا تو خدا کے علم میں تھا کہ میرا یہ بندہ ہر حوالے سے میرامطیع، عبادت گزار اور پرہیزترین بندہ ہے پس یہی علم پروردگار تھا جس کی بنیاد پر انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا  گی۔اسی ذات نے علم و دانش کی بناپر بندوں میں سے کچھ کو رسالت و نبوت اور امامت کے عظیم منصب کے لئے قابل و لایق جانا اور اس منصب اور عہدے پر فائز فرمایا؛ تاکہ دوسرے بندگا ن خدا کی پاکی اور ہدایت کی طرف رہنمائی کریں۔ وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنااور ہم نے ان سب کو پیشوا قرار دیا تاکہ ہمارے حکم سے ہدایت کریں ۔
تو اس بات میں شک و شبہہ نہیں ہے کہ انبیاء الہی اور آئمہ طاہرین کا انتخاب صرف اور صرف لیاقت و شائستگی کی بنیاد پر ہواہے ۔
چنانچہ ان ہستیوں نے بھی اپنی اپنی زندگی میں مختلف آزمایشوں اور امتحانات میں ثابت کیا کہ اس منصب و مقام کے لئے لایق و شایستہ ہیں۔
جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آتش اور فرزند عزیز کی ذبح اور قربانی کے ذریعے امتحان الہی لیاجاتا ہے حضرت موسی علیہ السلام کو قدرت فرعونی کے مقابلے میں قوم بنی اسرائیل کی ہدایت کے سخت اور دشوارترین رنج و مصیبت کا امتحان لیاجاتاہے۔
حضرت عیسی علیہ السلام کو اپنی رسالت کے اجراء اور نافذ کرنے میں اتنی سختی و مقاومت کرتے ہیں  کہ تختہ دار تک جا پہنچتےہیں ۔
اور اسی طرح پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی تو تمام انبیاء الہی سے زیادہ امتحان الہی میں مبتلاہوتی ہے۔
اور بندگان خدا  تک کو اپنی رسالت اور پیغام الہی کو پہچاننے میں اتنی سختی اور مشکلات سامنا کیا  مگر پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تمام مشکلات کو صرف بندگان خدا کی ہدایت کے لئے تحمل فرما یا اور اپنے آپ کو ہر قسم کی رنج و آلام اور مصیبتوں میں ڈال دیاہے یہاں تک خداوندعالم کا واضح دستور آتاہے کہ اے میرے حبیب! اس حدتک اپنے  آپ کو زحمت اور مشقت میں مت ڈالو۔
حضرت علی ابن ابی  طالب علیہ السلامت کی پوری زنددگی خداکی عبودیت و بندگی اور وحدانیت کے اثبات  اور اسی طرح زندگی و موت کے خالق خداکے برحق ہونے کو ثابت کرتے ہوئے گزری ہے۔ اس لیے خداونددعالم نے ان کی جنگ میں کاری ضربت کو  ثقلین ( جن و انس) کی عبادت سے بہتر قر ار دیا۔ اسی طرح امام حسن علیہ السلام کی زندگی اور امام حسین علیہ السلام کی زندگی واقعہ صلح امام حسن علیہ السلام اور معرکہ کربلا و غیرہ تاریخ میں ثابت ہے بلکل اسی کی مانند دیگر تمام انبیاء الہی و صلحاء اور اوصیاء و آئمہ طاہرین علیہم السلام کی ذوات گرامی بھی امتحان الہی سے گزریں اس کے باوجود کامیابی کے درخشان چہرے یہی نظر آتے ہیں۔
اصل حقیقت تو یہ ہے کہ ذات پرودگار، انبیاء و آئمہ طاہرین علیہم السلام کی ان صلاحیتوں اور قابلیتوں سے ابتداء و آغاز خلقت بشر سے آگاہ تیے کہ ان ہستیوں کو بندگان خدا کی ہدایت  اور رہنمائی کی ذمہ داری دیتی ہے او رساتھ ہی خاص  توفیق و کرامات و معجزات کے ساتھ رسالت و امامت کی ذمہ داری بھی دینی ہے۔
امامت کیسے ثابت کریں
امامت ثابت کرنے کے  کچھ راہ اور طریقے موجود ہیں قارئین کرام ! پوری دنیا حق و باطل، الہی و شیطانی  دعوت  پر ہے چونکہ پیغمبران الہی، اور آئمہ طاہرین  علیہم السلام نے تمام خلق خدا کو اپنی طرف بلایا تاکہ لوگوں کو خدا کی طرف ہدایت کریں جبکہ ان کے ادوار اور زمانوں میں بھی جھوٹے دعوی دار ہر وقت موجود تھے جو اپنے آپ کو پیشواء، رہنما اور بعنوان ہادی معرفی کرتے تھے اور لوگوں کو دعوت دورغ و جھوٹ کے ذریعے اپنا پیرو بناتے اور گمراہی و ضلالت کے لامتناہی سمندر میں چھوڑ دیتے تھے۔
نتیجہ
خداوندعالی نے گروہ اول کو بعنوان پیشوا و رہنما و ہادی حق سے یاد کیا ہے جو لوگوں کو حق کی ہدایت و رہنمائی فرماتے ہیں۔
گروہ دوم جو لوگوں کو جہنم اور آتش کی طرف دھکیل رہاہے  ان کو  باطل پیشواء کانام دیا ہے۔
وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّار اور ہم نے ان لوگوں کوجہّنم کی طرف دعوت دینے والا پیشوا قرار د ے دیا ہے۔
پس اس وجہ سے جوکوئی جس معاشرے میں پیشوا اور امامت کا دعوی کرے اس کو بغیر کسی ثبوت، دلائل اور نشانی قبول کرکے  ان کے پیروکار نہیں بن سکتے بلکہ لازم اور ضروری ہے کہ مدعی امامت  و نبوت کے پاس مدلل ، متقن اور قانع کنندہ دلیلیں اور ثبوت ہونے چاہیے تاکہ اس پر اعتماد و یقین کیا جاسکے۔
دلایل کے اقسام
انبیاء الہی نے بندگان خدا کو جود لایل پیش کیے وہ چہار قسم کے ہیں:
1-اپنے سے پہلے سابقہ کسی نبی کی تأئید و گواہی۔
2- واضح و روشن دلائل واضح مطالب صحیح، منطقی و معقول اور قانع کنند دلائل ، فطرت اور نیاز بشر سے ہماہنگ جو کہ گزشتہ انبیاء کے معارف کے مطابق ہو ں۔
3- بہترین اخلاق الہی و انسانی سے متصف ہونا۔
4-    نبوت کے اثبات کے لئے معجزات پیش کرنا اور خداوند متعالی سے مکمل  ارتباط کا ہونا۔
قارئین کرام! یہ چار اقسام و نشانیاں جب بھی  کسی میں یکجا قرار پا ئیں تو ہمیں اطمینان حاصل ہوتاہے کہ فلان بندہ جس میں یہ صفات موجود ہیں واقعی خدا سے مرتبط ہے اور واقعی و حقیقی مدعی نبوت اور سچا نبی ہے جو ہماری خدا کی¬طرف رہنمائی و ہدایت کررہاہے۔
امامت کی دلائل
سوال: قارئین محترم!
ہمار ا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اہلبیت عصمت وطہارت علیہم السلام کی امامت کو ثابت کرنے کے لئے بھی دلائل کی ضرورت ہیں یا نہیں؟
جواب: اس سوال کا مختصراً  جواب یہ ہوگا جی ہاں ، امامت کے اثبات کے لئے بھی تمام شدہ دلائل سواے نزول وحی الہی کے، ہونے چاہیے چونکہ یہ ہستیاں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی جانشین اور پیشواء خاص الہی و دینی ہیں  تو ان کے اندر بھی ان تمام خصوصیات کا ہونا لازم ہے اور ساتھ ہی  انیش شخصیات  کا تمام اختیارات مسؤلیت، مالک علم لدنی و غیرہ کی صفات سے متصف ہونا لازمی و ضروری ہے۔یعنی ایک جملے میں ہم اس طرح بیان کرسکتے ہیں یہ ہستیاں خلیفہ الہی اور خلیفہ بلا فصل رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔
یہ منصب خلافت و امامت پروردگار عالم اپنے کمال علمی و اعلمیت کی بنیاد پر جس میں یہ خصوصیات ہو اور مقام امامت کے لئے لایق قابل اور مناسب سمجھے ان ہستیوں کو یہ مقام عطا فرماتاہے تو عقلی بات ہے کہ جو خصوصیات و صفات اللہ نے انبیاء الہی کو عطا کی ہیں وہ تمام ان کے جانشین خاص کوبھی عطا کر یں اور ان میں ان تمام صفات و خصوصیات کا ہونااس لیے بھی ضروری ہے تاکہ بندگان خدا مکمل قانع اور اطمینان و یقین کے ساتھ ان کی اتباع و پیروی کرسکیں۔
امام رضاعلیہ السلام کا فرمان
امام رضا علیہ السلام اس حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: لَمَّا كَانَ الْإِمَامُ مُفْتَرَضَ الطَّاعَةِ لَمْ يَكُنْ بُدٌّ مِنْ دَلَالَةٍ تَدُلُّ عَلَيْهِ وَ يَتَمَيَّزُهُ بِهَا مِنْ غَيْرِهِ۔
کیونکہ امام وہ  ہوتاہے جس کی اطاعت کرنا واجب ہو پس لازمی ہے کہ امامت کو واضح دلیل و برہان سے ثابت کیا جا ے کہ اس دلیل و ثبوت کے ذریعے امام حقیقی کو غیر حقیقی سے تشخیص دے سکیں۔
قرآن و حدیث سے دلیل
قارئین کرام! علامہ مجلسی نے اپنی گرانبہا کتاب بحارالانوار میں تقریباً ستر(70) آیات قرآنی نقل کی ہیں جو سب کے سب مسألہ امامت کو بیان کرتی ہیں
  ان تمام آیات کو اس مختصر مقالے میں لکھنا ممکن نہیں ہے لہذا ( مالا یدرک کلہ لایترک کلہ)۔بعنوان نمونہ صرف پانچ آیتوں کو پنچتن پاک کے نام بعنوان نمونہ آپ   قارئین کی نذر  کرتے ہیں:
امام رضاعلیہ السلام نے اپنے کسی مناظرے  کی مجلس میں ارشاد فرمایا:هُمُ الَّذِينَ وَصَفَهُمُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فَقَال : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً
یعنی اہل بیت وہی ہستیاں ہیں جن کی خدانے قرآن میں توصیف بیان کی ہے اور ان کی شان میں ارشاد فرمایا: بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت علیہم السّلام کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے(3)
اس آیت مجیدہ کی تلاوت کے بعد امام علیہ اسلام نے اس میں ذکر شدہ اہلبیت علیہم السلام کے مصداق اتم کوواضح اور روشن طریقے سے بیان فرمایا کہ یہ افراد پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہلبیت ہیں چنانچہ ارشاد فرمایا:وَ هُمُ الَّذِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص إِنِّي مُخَلِّفٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ۔
یعنی سابقہ آیت مجیدہ میں ذکر شدہ اہلبیت سے مراد وہ ہستیاں ہیں جن کی شان میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے مسلمانو! میں تمہارے درمیان دو گرانبہا اور قیمتی چیزیں چھوڑ ے جارہاہوں ایک کتاب خدا( یعنی قرآن مجید) دوسری میری عترت و اہلبیت علیہم السلام یادر کھنا! یہ دونوں کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر نہ پہنچے ۔
2- يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا أَطيعُوا اللَّهَ وَ أَطيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ
 ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں۔
قارئین کرام! اگر کوئی اس آیہ مجیدہ میں صحیح غور و فکر نہ کرے اور معارف دین مبین اسلام و روایات سے استفادہ نہ کرے تو ممکن ہے اشتباہ و گمراہی کا شکار ہوجائے۔
کیونکہ اولی الامر، سے مراد وہ افراد نہیں کہ جو صرف حکمرانی اور سلطان و بادشاہ کے طور پر لوگوں پر حکم نافذ کریں چونکہ تاریخ بشر میں ہم دیکھتےہیں کہ گذشتہ امتوں پر ظالم و جابر حکمران مسلط رہے ہیں  ان میں فرعون جیسے افراد قابل ذکر ہیں جو حوا وحوس اور قدرت طلبی کے خواہان تھے۔ اسی لیے خدانے ان کو طاغوت کے نام سے یاد کیاہے ، اور مسلمانوں کو حکم الہی ہے کہ ان کی اطاعت نہ کریں اور عدل الہی کے لئے راہ فراہم کریں۔
امام رضاعلیہ السلام نے اس بات کی ضرورت اور  اہمت  کوسمجھ کر لفظ “اولی الامر” کی حقیقی و واقعی مصداق کے طور پر ان اشخاص کی معرفی کی ہے۔
چانچہ ارشاد فرمایا:الَّذِينَ أَوْرَثَهُمُ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ حَسَدُوا عَلَيْهِمَا بِقَوْلِهِ- أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلى ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنا آلَ إِبْراهِيمَ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ آتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً يَعْنِي الطَّاعَةَ لِلْمُصْطَفَيْنَ الطَّاهِرِينَ وَ الْمُلْكُ هَاهُنَا الطَّاعَةُ لَهُمْ۔
اس قول میں اولی الامر سے مراد وہ ہستیاں ہیں جن کو قرآن نے ( وارث کتاب و حکمت اور دوسروں کے مورد حسد قرار دینے سے) یاد کیا یعنی اولی الامر وہ افراد ہیں جو وارث کتاب وحکمت ہیں اور دوسرے افراد ان سے حسد و حسادت کرینگے۔
پس ارشاد رب العزت ہے: یا وہ ان لوگوں سے حسد کرتے ہیں جنہیں خدا نے اپنے فضل و کرم سے بہت کچھ عطا کیا ہے تو پھر ہم نے آلِ ابراہیم علیہم السّلام کو کتاب و حکمت اور ملک عظیم سب کچھ عطا کیا ہے۔
اس جملے کے بعد امام علیہ السلام مزید وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
اس آیت میں ملک عظیم سے مراد اہل زمین پر حکمرانی کرنا مقصود نہیں بلکہ اس سے  مراد لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنا  ہے جولوگوں پر واجب ہوچکا ہے اور یہ  افراد خدا کی طرف سے چنے ہوے اور منتخب شدہ) کی اطاعت کریں۔
3-  قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى
 آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو۔
امام رضاعلیہ السلام اس آیت کی ذیل میں آیت کی دلالت اور مقام و منزلت اہلبیت علیہ السلام کی توضیح فرماتے ہیں۔قرآن کریم میں اس جیسی آیت مختلف انبیاء الہی جیسے حضرت نوح ، ہود، صالح، لوط، اور شعیب علیہم السلام و غیرہ کے لئے بھی ذکر ہوا ہے لیکن فرق صرف اتناہے کہ اس آیت میں پاداش و عوض رسالت انبیاء خدا پر قرار دیاہے اور مسألہ دوستی  و محبت ذوی القربی ذکر نہیں ہوا ہے۔
 وَ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ  اور میں اس تبلیغ کاکوئی اجر بھی نہیں چاہتا ہوں میری اجر ت تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔
قرآن میں حضرت ہود علیہ السلام کے بارے میں ارشاد الہی ہے: لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلَى الَّذي فَطَرَني اے لوگو! میں تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا میرا اجر تو اس پروردگار کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے ۔
دوستو! قرآن مجید نے صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ اجر رسالت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف اور صرف دوستی و محبت اہل بیت ہے۔
اس کے بعد امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے فرمایا:وَ لَمْ يَفْرِضِ اللَّهُ مَوَدَّتَهُمْ إِلَّا وَ قَدْ عَلِمَ أَنَّهُمْ لَا يَرْتَدُّونَ عَنِ الدِّينِ أَبَداً وَ لَا يَرْجِعُونَ إِلَى ضَلَالَةٍ أَبَداً۔یعنی خداوندعالمت نے اہلبیت علیہم السلام کی  دوستی و محبت کو اس لئے فرض اور واجب قرار دیا چونکہ خدا جانتاتھا کہ ااہل بیت علیہم السلامت کبھی دین مبین اسلام سے روگردانی نہیں کرینگے اور ہرگز گمراہی و کج  روی کی طرف واپس نہیں پلٹینگے۔
 اس وقت امام علیہ السلام نے مزیدفرمایا:
پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اور لوگوں کو اس آیت کی تلاوت سنانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چاہنے  والوں کے درمیان وارد ہوکر حمد وثناالہی کی و ردکے بعد فرماتے ہیں:
اے لوگو! خداوندعالم نے تم لوگوں پر ایک تکلیف واجب کی ہے کیا تم اس وظیفے کو انجام دوگے؟
اس وقت مجمع میں موجود لوگوں سے کسی نے بھی جوا ب نہیں دیا!
کیونکہ وہ لوگ گمان کررہے تھے کہ یہ تکلیف اور وظیفہ مادی اور مالی امور سے متعلق ہوگا!
روز دوم اور سوم بھی یہی مسئلہ مسلسل تکرار ہوا لیکن پھر بھی کسی نے جواب نہیں دیا اور خاموشی طاری رہی تو اس وقت رسو خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
یہ وظیفہ و تکلیف کوئی سونے، چاندی یا کھانے پینے سے مربوط نہیں ہے!
تو لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ اگر یہ امور مراد نہیں تو کیاہے؟
تواس وقت رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اوپر نازل شدہ آیت مجیدہ سنائی دوبارہ لوگوں کو نیز فرمایا میری رسالت کا اجر و پاداش صرف اور صرف میرے اہلبیت سے دوستی  و محبت ہے۔
اس آیت مجیدہ کی دوبارہ تلاوت اور توضیح کے بعد سب نے یک زبان ہوکر کہا: اس فرمان الہی کو قبول کرتے ہیں اور اس واجب کو انجام دینگے ۔ امام رضاعلیہ السلام نے مزید فرمایا: لیکن بہت سارے لوگوں نے اس پیغام الہی اور وظیفہ الہی پر عمل نہیں کیا اور اس پیمان اور وعدے کو وفا بھی نہیں کیا۔
محبت اہلبیت علیہم السلام کس لیئے؟
مذ ہب تشیع امامیہ کے نزدیک قرآن اور روایات پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  و اہلبیت علیہم السلام کی روشنی میں کوئی بھی حکم الہی اور دستور پروردگار دلیل اور مصلحت سے خالی نہیں ہے۔
اس لحاظ سے قرآن مجید میں خداوند متعال مؤمنین سے چاہتاہے کہ وہ اہلبیت علیہم السلام سے دوستی و محبت رکھیں چونکہ حتماً ویقیناً یہ حکم و دستور الہی کسی بھی مصلحت و حکمت اور دلیل سے خالی نہیں ہوسکتا۔
غیر معقول سوال
قارئین کرام! بعض نادان ،نافہم  لوگ بے  جا اشکال (اعتراض برای اعتراض )کرتے ہیں کہ اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و دستی کا حکم صرف رشتہ داری اور خونی رشتے کی وجہ سے تھا جیسے کہ عام انسان اپنے بچوں یا رشتہ داروں کو رشے کی بنیاد پر دوسروں پر ترجیح دیتا ہے، کب کب  تو اس کےلئے دوسرں کےحقوق دور فضائل   سے چشم پوشی کرتا ہےبالکل اسی طرح خداوند عالم نے بھی اہلبیت علیہم السلام سے محبت و دوستی کو واجب صرف اور صرف اس لیے قرار دیاتھا چونکہ یہ ہستیاں پیغمبر  اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رشتہ دار اور انکے خاندان سے تھے!!
اعتراض کا جواب
اس سوال کاجواب یہ ہے کہ اس قسم کے مطالب کا خداوندکی ذات مقدس سے منسوب کرنا اور نسبت دینا جہالت اور کج فکری کی علامت ہے جبکہ خداکی ذات ان سے بہت دورہے چونکہ خداوند عالم کا کسی بھی رشتہ دار نہیں ہے۔ تمام بنی نوع انسان، بندگان خدا ہیں اور سب کے سب رحمت و لطف الہی میں برابر کے شریک ہیں  اور یہ برابری تا قیامت قائم و دائم رہے گی۔
اور یہ بنی نوع انسان ہے کہ کہ جو رحمت و برکات اور عنایات الہی سے استفادہ کرنے میں مختلف ہیں، اس حوالے سے بعض شایستگی زیادہ دیکھا تے ہیں اور عبودیت و بندگی کے میدان میں دوسروں سے سبقت لے جاتے ہیں تو کچھ اپنی سستی و کوتاہی کی وجہ سے رحمت خداوندی کو دیر سے حاصل کرتے ہیں اسی لیئے خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
 إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ  بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے۔یعنی دوسروں سے حقوق الہی کی زیادہ رعایت کرنے والاہو۔
یہ دلیل ہے کہ خد اوندنے خاندان رسالت اور منتخب شدہ ہستیوں کو ااس قدر منزلت و مقام، فوقیت عطا کی ہے۔اور ان کو مورد عزت تکریم و عنایت قرار دیا اور ساتھ ہی  پاداش رسالت رسول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیا اس بات کی اصل و جہ اہلبیت علیہم السلام کا تمام امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے با تقوا اور بندگی و اطاعتت عبودیت اور حقوق و وظایف الہی کے انجام دینے کے میدان میں دوسرے تمام انسانوں سے مقدم اور اعلی مرتبے پر ہوناہے۔ خداکی نظر میں انسانوں میں ایک دوسرے کی برتری و فضیلت کا اصل معیار دینی و اخلاقی فضائیل و شرف ہے۔ خداکے نزدیک رشتہ داری و غیرہ نہیں ہے تو حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا، نسل نوح علیہ السلام سے ہوتے ہوئے بھی مورد عنایت پروردگار قرار نہیں پایا جبکہ حضرت نوح علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی میں اس کی ہلاکت سے نجات کی دعاکی اور فرمایا:  رَبِّ إِنَّ ابْني مِنْ أَهْلي وَ إِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ  
پروردگار میرا فرزند میرے اہل میں سے ہے۔( اور تیرا وعدہ اہل کو بچانے کا برحق ہے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔)
خداوند عالم نے حضرت نوح علیہ السلام کے جواب میں فرمایا: قالَ يا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ۔ ارشاد ہوا :  نوح یہ تمہارے اہل سے نہیں ہے۔
اے نوح ! وہ جوان اگرچہ تیرا  فرزند ہے مگر کافر ! اور وعدہ الہی اس کے شامل حال نہیں ہوسکتا۔
نتیجہ بحث
 سابقہ گفتگو سے اگرہم یہ نتیجہ نکالیں کہ خدانے بغیر کسی شرط و قید اور استثناء کے مؤمنین کو اہلبیت علیہم السلام سے محبت کا دستور دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خدا و ندعالم بھی ان کو دوست رکھتاہے اور خدا کے نزدیک ان افراد کا خاص مقام و مرتبہ اور منزلت و کرامت ہے اور ان کی دوسرے انسانوں سے برتری  کا سبب، مقام ارفع اہلبیت علیہم السلام اور تقوی الہی، خداشناسی، معنویت و شرافت علمی وعملی و غیرہ تھا اور جب خدانے مؤمنین سے محبت اہلبیت علیہم السلام کا تقاضا کیا تو  اس کا معنی یہ تھا کہ خدانے خود ان کی تأئید کی ہے کہ یہ ہستیاں مقام عصمت اور بلند مقام و منزلت کی مالک ہے۔
محبت کیسے حاصل کریں؟
قارئین کرام! محبت مکمل طورپر سکھینے کی چیز ہے خداوندعالم نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے مختلف آلے ابزار اور مختلف فطری و معرفتی طور طریقے خود انسان کے ہاتھوں میں دے رکھے ہیں اور اسی ہدایت کے لئے مختلف آسمانی کتابوں کے ساتھ انبیاء الہی اور پیغمبروں کو مبعوث فرمایا:
اور نازل کردہ کتابوں کے ہمراہ شریعت و معرفت کی تعلیم بھی دی اور  انھی  مکتب اولیاء الہی سے  درس لینے کا ایک آسان راستہ محبت و دوستی کا راستہ ہے۔
راہ اطاعت
قانون اور صالحین برحق کی پیروی کے لئے دو راہ اور دو صورتین ممکن ہیں ۔
1-کبھی اطاعت مجبوری اور  بغیر کسی رغبت و شوق سے اور نہ چاہتے ہوئے کی جاتی ہے۔
2- کبھی اطاعت دل سے قبول اور انتہائی شوق و رغبتت سے کی جاتی ہے۔
مثال
ماں اپنی زندگی میں صرف فرزند کے حوالے سے اپنے وظایف کو انجام دیتی ہے جبکہ اس میں بہت سے دشواریاں سختیاں اور مشکلات بھی میں ،لیکن اس کے باوجود عشق و محبت کو سیکھ لتیہ ہے اوروظایف مادری کے انجام دینے میں لذت محسوس کرتی ہے؛ کیونکہ ماں اپنے فرزند سے محبت و دوستی کرتی ہے پس انسان جب کسی سے مجبت کرے اور وہ بھی ذات الہی سے عشق ، مودت و مجبت کے بارے میں ہو تو انجام و ظایف کا معیار دینی و الہی آئیڈیل ہونا چاہیے۔
اوراگر صحیح دوستی و مجبت سکھی لیں تو نہ تنہا سختی و دشواری اور مشکلات کا پتہ نہ چلے گا  بلکہ اس کام میں لذت بخش محسوس کریگی  قرآن میں خداوندعالم نے مجبت و اطاعت کے درمیان رابےا کو اس انداز سے پیس فرمایاہے:
 قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُوني يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ   اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبّت کرتے ہو تو میری پیروی کروتوخدا بھی تم کو دوست رکھے گا۔
اس آیہ مجیدہ سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ صالحین اور خدایی بندوں کی اطاعت و پیروی ،محبت کی دو قسموں پر منحصر ہے ایک مجبت بعنوان مقدمہ اور انگیزہ و شوق ہے دوسری نتیجہ اور  ما حصل ہے۔
پس دوستو! یہاں سے معلوم ہوتاہے کہ اگر خدا نے مؤمنین پر اطاعت و مودت اہلبیت کو واجب قرار دیاہے تو اس لئے تھا کہ ان ہستیوں کی محبت و دوستی اور مودت کے ذریعے راہ اطاعت الہی و معرفت خدا اور دستورات دین مبین اسلام پرعمل کریں اور یہ کام خود بندگان خداسے مربوط ہے اور اس محبت و دوستی سے خدا اور رسول اور اہلبیت علیہم السلام کو کچھ نہیں ملے گا یعنی اگر کوئی محبت دوستی اور مودت اہلبیت علیہم السلام سے انکار کرےتو یہ منکر خود خسارے میں رہے گا ،جس طرح منکر خدا گھاٹے میں رہتاہے ،اسی لئے قرآن کا صراحت کے ساتھ اعلان ہے۔ قُلْ ما سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ  کہہ دیجئے! کہ میں جو اجر مانگ رہا ہوں وہ بھی تمہارے ہی لئے ہے میرا حقیقی اجر تو پروردگار کے ذمہ ہے۔
قارئین کرام! اگر کوئی حق کا متلاشی ہو  جان لے گا کہ مکتب  اہلبیت علیہم السلام کے معارف آسانی سے قرآن سے سمجھے جا سکتے  ہیں
اور حدیث کی روشنی میں  بھی معارف تشیع واضح طور پر آشکار ہوجائے گا کیونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی نے بحکم الہی اپنی امت سے پوری رسالت کے انجام دہی کا وظیفہ و پاداش طلب نہیں فرمایا بلکہ حقیقی پاداش تو خدا ہی دے سکتاہے مگر رسول کو دستور دیا کہ رسالت کے عوض بندگان خدا سے صرف اور صرف اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے مجبت و مودت کو طلب کرو، اصل میں اہل بیت علیہم السلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہداف و مقاصد ایک تھے اور وہ حکم قرآنی کے مطابق ،ہدایت بشر، ایمان، اخلاق معنوی اور ایمان وغیرہ کی تکمیل تھا ۔
نتیجہ
1-    مبتہ و مودت اور دوستی اہلبیت علیہم السلام دستور قرآن اور ارشاد ات نبی اکرم کے مطابق ہے۔
2-     اوریہ مجبت و دوستی  اولیاء اللہ و اہلبیت علیہم السلام حکم قرآن و دستور الہی اور ارشاد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کے ساتھ مصلحت و حکمت الہی سے بھی خالی نہیں ہے۔
اور وہ تکامل انسان و بشر ہے یعنی  دوستی سے توحید، و حی، رسالت قرآن، وظایف انسان، اور مسئلہ معاد وغیرہ سب کے سب کی معرفت ممکن ہے۔
3- مبتہ و مودت اہلبیت علیہم السلام اصل میں قرآن و رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا حکم ہے پس اسی وجہ سے خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو شرک و بدعت اور خدا کی طرف توجہ کم کرنے کا باعث بھی نہیں بنتی اور خاندان اہلبیت علیہم السلام کی اطاعت و فرمانبرداری  کوشرک در اطاعت الہی بھی نہیں کہہ سکتے ؛کیونکہ اس  کا حکم خود خدانے ہی دیاہے أَطيعُوا اللَّهَ وَ أَطيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں۔
سوال:
قابل غور اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس آیہ مجیدہ میں اولی الامر یعنی حاکم دینی اور رہبر دینی و اسلامی حکومت کے سربراہ سے مراد ناصالح غیر متدین اور گناہ سے آلودہ شخص  ہے؟ یا صالح و دین شناس ، با تقوی اور جامع الشرائط حاکم دینی ہے؟
جواب:
کسی بھی عقل رکھنے والے عاقل سے اگر پوچھا جائے تو وہ ضرور کہے گا کہ حاکم اچھا، صالح، دین شناس او ر متقی ہونا چاہے اور اسی بات پر عقلی، شرعی اور نقلی معتبر دلیل بھی دلالت کرتی ہے۔
پس ان شرایط کا حامل بعد از پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اساس دین الہی کے مطابق سوائے اہلبیت علیہم السلام کے کوئی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کسی میں یہ تمام شرایط پائے جاتے ہیں۔
4- دوستی و مجبت کا تقاضاہے کہ مودت و محبت کا تمام شرائط اور لوازم دوستی کے ساتھ اظہار کریں اور ساتھ ہی اپنی تمام زندگی اپنے گفتار و کردار، رفتار اور عمل کوخوشنودی پرودرگار کے لئے وقف کریں اور تمام اعضاء و جوارح سے خوشنودی و رضائے الہی کے ساتھ خوشنودی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور معصومین علیہم السلام کو بھی جلب کریں۔
 تمام  و اجبات کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں ،واجبات الہی و دینی کو انجام دیں، تمام گناہوں سے دوری اختیار کریں اور یہ امید و آرزو رکھیں کہ معاشرے میں معارف قرآنی پر عمل ہو اور مکارم اخلاقی اہلبیت علیہم السلام کا بو ل بالا ہوا ور تمام حاکمیت و رعیت خاندان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح ہو۔( اللَّهُمَّ إِنَّا نَرْغَبُ إِلَيْكَ فِي دَوْلَةٍ كَرِيمَةٍ تُعِزُّ بِهَا الْإِسْلَامَ وَ أَهْلَهُ وَ تُذِلُّ بِهَا النِّفَاقَ وَ أَهْلَهُ وَ تَجْعَلُنَا فِيهَا مِنَ الدُّعَاةِ إِلَى طَاعَتِكَ وَ الْقَادَةِ فِي سَبِيلِكَ وَ تَرْزُقُنَا بِهَا كَرَامَةَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَة ِ اللَّهُمَّ مَا حَمَّلْتَنَا مِنَ الْحَقِّ فَعَرِّفْنَاهُ وَ مَا قَصُرْنَا عَنْهُ فَعَلِّمْنَاه) (4)
اے میرے پروردگار ! تیری درگاہ سے امیداور آرزو مندہوں کہ حکومت باکرامت امام مہدی علیہ السلام کا مشاہد کرسکوں، جس  میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے عزت و سربلندی ہے۔
نفاق اور اہل نفاق کے لئے ذلت و خواری ہے پروردگارا! ہمیں بھی اس حکومت میں قرار اور تیری اطاعت و بندگی کی طرف بلانے والا قرار دے خداوندا! ہمیں عزت دینی او ر کرامت، دو جہان کی نعمت و رزق سے نواز۔ آمین ثم آمین۔

مزید  اچھے گھرانے کي خوبياں

——-

1.فاطر،32.
2 .رعد،23.
3 .احزاب،33.
4 . الكافی (ط – الإسلامیة)، ج 3، ص: 424.

 

منابع و مآخذ
1 -الاصول من الکافی، کلینی، محمد، تصحیح و تعلیق علی اکبر الغفاری، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1388 ہ ۔
2 -امالی، صدوق، محمد، ترجمہ کمرہ ای، تہران، اسلامیہ، 1404 ہ ۔
3 -تحف العقول عن آل الرسول، حرانی، حسن، تصحیح علی اکبر الغفاری، قم، نشر اسلامی، 1404 ہ ۔
4 -التطبیق بین السفینة والبحار، مصطفوی، جواد۔ مشہد، آستان قدس، 1403 ہ ۔
5 -عیون اخبارالرضا، صدوق، محمد، تصحیح مہدی لاجوردی، قم، طوس، 1363ش۔
6 -کمال الدین و تمام النعمة، صدوق، محمد، تصحیح و تعلیق علی اکبر الغفاری، قم، مدرسین، 1405ہ۔
7 -مسند الامام الرضا علیہ السلام ، عطاردی، عزیزاللّہ ، تہران، مکتبة الصدوق، 1392 ہ ۔
8 -معانی الاخبار، صدوق، محمد، تصحیح علی اکبر الغفاری، تہران، مکتبة الصدوق، 1379 ہ ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.