مشترکه دشمن کی نابودی اور دینی حقائق کی پاسداری

اس کره ارضی پر انسانی فطرت اختلاف و امتیاز سے ملی ہوئی ہے اور افراد انسانی اگر چہ فطری اعتبار سے بہت سے مشترکات کے حامل ہیں لیکن اس کے باوجود یہ سب ایک دوسرے سے ممتاز ہیں (آپس میںفرق رکھتے ہیں) لہذا انسانوں کے سلسلہ میں ان مشترکات و امتیازات کو مدنظر رکھ کر گفتگو کرنی چاہئے ۔ یہ پوری دنیا مشیت الٰہی اور خدائی طرز خلقت کی بنیاد پر مشترکات و امتیازات کا مجموعہ ہے۔ ان کو ایک ساتھ ملا کر دیکھنا چاہئے ۔

اسلامی کلام و فقہ اور اخلاق میں انسانوں کے مشترکات پر بھی توجہ دی گئی ہے اور ان کے امتیازات پر بھی۔

انسانی حقیقت یہ ہے کہ ان مشترکات کے باوجود انسانوں میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں جنہیں بعض جہات سے تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ میں ان میں سے بعض کی جانب اشارہ کررہا ہوں۔

اگرکلی نگاہ سے دیکھا جائے تو انسانوں کے آپسی امتیاز کو دو گروہوںمیں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

پہلا گروہ: تمام انسانوں کے بنیادی فطری امتیازات جو قہری اور غیر اختیاری ہیں۔ ہمارے درمیان بہت سے امتیازات اختیاری و اکتسابی نہیں ہیں یا اصولاً اختیاری نہیں ہیں یا خاص حالات میں اختیاری نہیں ہیں۔ مثلاً :جنسیتی اختلاف۔

بہرحال انسان جنسیتی اعتبار سے مردہے یا عورت۔ صنفی فرق ، نسلی فرق، اصلی اور مادری زبانوں کا فرق۔ بعض فرق ایسے ہیں جن میں دخالت کی جاسکتی ہے۔ سائنس کی کوشش ہے کہ بعض چیزوں کو اختیاری کردیاجائے یہاں تک کہ رنگ اور اس کے جیسی دوسری چیزوں کو بھی۔ لیکن بہرحال اگر اختیاری ہو تب بھی عام  انسانوں کے لئے ان فرقوںکے مٹ جا نے تک دست رسی حاصل کرنا بھی بہت ناچیز حد تک ہی ہوگا کیونکہ زیادہ ترخاص طبقہ اس سے فائدہ اٹھائیگا .۔ لہٰذا اصولاً بعض فرق غیراختیاری اور فطری طور پر انسانوں میں موجود ہیں جیسے نسل ، رنگ ، جنسیت ، شکل صورت و… میں اختلاف ۔

دوسرا گروہ : ایسے فرق جو کسی نہ کسی طرح انسانوں کے دائرئہ اختیار میں ہیں۔ یعنی: ہم خود یہ فرق پیدا کرتے ہیں۔ ہم انتخاب کرتے ہیں ۔ البتہ اس اختیار کے درجہ اور حدود میں بہت فرق ہے۔ فلسفی اعتبار سے اختیار ایک بہت وسیع مفہوم ہے جو تشکیکی ہے ۔ ہمارے انتخاب ہمیشہ درجہ کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہوتے ۔علمِ فلسفہ میں اس کے متعلق بحث موجود ہے.

غیراختیاری اور اختیاری امیتازات اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ۔ یہ ایک کلی نگاہ ہے انسانوں کے آپسی فرق پر۔ 

دوسری قسم میں علمی، فکری، اعتقادی، مذہبی وغیرہ فرق بھی شامل ہیں اگر چہ مثلاً دین و مذہب کے متعلق انسانوں کا درجۂ اختیار ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ۔ عام افراد جو ایک خاص دینی فضا میں پرورش پاتے ہیں ان کے لئے یہ اختیار بہت مستحکم نہیں ہوتا یعنی بہرحال اختیار کا ایک درجہ ہوتا ہے یہاں تک کہ نوبت ان انسانوں تک پہنچتی ہے جو صاحب علم و کمال ہیں۔

یقینا ان کا درجۂ اختیار بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ یہ فرق بھی دوسرے گروہ میں سے ہے جس کے مختلف مراتب ہیں اور دینی، مذہبی، گروہی، اکتسابی، ثقافتی وغیرہ امتیازات اسمیں شامل ہوتے ہیں۔

یہ میری گفتگو کے لئے ایک مقدمہ تھا۔ فقہ و معارف اسلامی میں ان دونوں امتیازات کیلئے جداگانہ اسلامی موقف ہے۔ ایک کلی نگاہ کے اعتبار سے اسلام نے دونوں قسم کے فرق یہاں تک کہ دینی و مذہبی فرق کو بھی قبول کیا ہے لیکن ان دونوں گروہوں سے اسلام کے پیش آنے کا طریقہ مختلف ہے۔

پہلی قسم کے امتیازات جو فطری اور غیراختیاری ہیں اسلام نے ان کی تائید کی ہے ”جَعَلْنَاکُم شُعُوباً وَ قَبَائِل لِتَعَارَفُوا۔۔(سورۂ حجرات١٣)

لَقَدْ خَلَقْنٰاکُمْ اَطْوَاراً” (سورہ نوح١٤ )اور دوسری آیات۔

یہ آیت ان واضح آیات میں سے ہے جس نے پہلے گروہ کے فرق کو قبول کیا ہے ۔ یہ ایک اسلامی قاعدہ ہے کہ لسانی، نسلی، قومی اور جنسیتی امتیازات، کہ ایک مرد ہے دوسرا عورت،کی تائیدکی ہے۔یہ فطری امتیازات ہیں جو خدا کے دست تدبیر اور اس کی جامع طرز خلقت کی بنا پر عالم وجود میں آئے ہیں ۔

اس مادی نظام و زندگی کی حقیقت اور اس دنیا میں انسان کی زندگی انہی امتیازات سے وابستہ ہے ۔ یہ مادی دنیا انہی امتیازات پر مبنی ہے۔ یہ دنیا امتیازات کی دنیا ہے اگر چہ مشترک چیزیں ہیں لیکن بہرحال رنگ و زبان…یہ چیزیں اس عالم میں موجود ہیں ”لقد خلقناکم اطوارا”… .آیت میں متعدد احتمالات ہیں ”انا خلقناکم …” اس آیت میں پہلے گروہ کے فرق کو قبول کیا گیا ہے۔ پہلے گروہ کے متعلق یہ پہلی بات ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ فرق اخلاقی اقدار کی بنیاد نہیں بن سکتا ہے ۔ صحیح ہے کہ ان میں سے بعض فرق خود ایک بنیاد بن سکتے ہیں اخلاقی و معنوی درجات کے لئے لیکن ذاتی طور پر یہ اخلاقی برتری کے باعث نہیں ہیں : آیت کا دوسرا حصہ ”اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقَاکُم” (سورۂ حجرات ١٣) ہے یعنی: در اصل یہ بیان کیا جارہا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اس رنگ برنگے بازار میں زندگی گزار رہا ہے ، اگر وہ یہ چاہتا ہے کہ یہ نظام باقی رہے تو اس بازار کو رنگ برنگا رکھنا ہی پڑے گا ۔ کیونکہ یہ رنگ فطری ہیں۔ انسانوںمیں صنفی، فردی، اجتماعی، نسلی فرق موجود ہیں۔ لیکن یہ اخلاقی اقدار کی بنیاد نہیں ہیں۔ اسلام نے اس پر بہت تاکید کی ہے خاص طور پر نسلی اور علاقائی امتیازات کو ختم کیا ہے۔ ”الناس…” سب ایک جیسے ہیں ، نسل و رنگ وغیرہ ممکن ہے کہ قانونی اعتبار سے ان کی کوئی حیثیت ہو لیکن اسلامی اقدار میں قاعدةً ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ قاعدةً کی قید اس لیے لگا رہا ہوں کہ یہاں پر ایک دلیل ہے جس پرمیں گفتگو نہیں کرنا چاہتا ۔

یہ گروہ اول کے متعلق تین نکات جنہیں اسلام نے بیان کیا ہے ، مشترک اور ذاتی کرامت، اخلاقی اقدار کی بنیاد بننے کی تردید اور ان کو بعنوان واقعیت قبول کرنا۔ قرآن کریم نے انسانوں کے ان فطری امتیازات کو ”نشانی” شمار کیا ہے ۔ عورت ہونا، مرد ہونا… یہ وہ حقائق ہیں جن کی تائید کی گئی ہے جیسا کہ قرآن میں اس دنیا کے تنوع کو قبول کیا گیا ہے :”من آیاتہ …” آفاق و انفس دونوں میں یہ حقائق قبول کیے گئے ہیں۔

انسان کی ذاتی کرامت اس کی اس مشترک شخصیت سے متعلق ہے۔البتہ انہیںقاعدةً اخلاقی اقدار کی بنیاد نہیں بننا چاہئے۔ یہ گروہ اول تھا کہ جس سے اب میں آگے بڑھ رہا ہوں۔

جہاں تک دوسرے گروہ کی بات ہے تو وہ یہ ایسامرحلہ ہے جہاں علم و دانش اور معرفت واخلاق کے دائرہ وجود سے حاصل ہونے والے امتیازات نیز دین ومذہب سے پیدا ہونے والے فرق کو یہاں ایک مقام پر دیکھا جا سکتا ہے ، اس دوسری قسم کا مطلب یہ ہے کہ ان بلندیوں کے انتخاب کا عمل میں آنا جو ہمیں علم و دانش کے صدقہ میں ملتی ہیں ، اور ان امتیازات کا حصول جو فطری اور اخلاقی لحاظ سے حاصل ہونے کے سا تھ دینی اور مذہبی اعتقاد کے چشمہ سے ہمیں نصیب ہوتے ہیں ۔یہ تمام ارتقائی مراحل اور ان کے نشیب  و فراز یہ سب کے سب اسلام ہی کا ایک حصہ ہیں کہ جسکا ایک ٹکڑا دیگر امتیازات اور دوسرے مفاہیم کے درمیان پائے جانے والے فرق کا دوسرا رخ ہے ۔

اس سلسلہ میں اسلام نے چند چیزوں کو بیان کیا ہے البتہ نہ صرف اس بات کی اہمیت کے پیش نظر بلکہ اسلام نے اس پر ایک حققیت پر مبنی نظر ڈالی ہے ایسی حقیقت جو طے شدہ ہے ۔ بہر کیف فکری ، علمی اور اعتقادی اعتبار سے انسانوں کے اندر اختلاف پایا جاتا ہے ۔

یہ ایک بشری حقیقت ہے  یہ اور بات ہے کہ کوئی ایسی منزل آئے جہاںا سلام پوری کائنات پر چھا جائے اور یہ اختلافات اسلامی نظام کے سائے میں کم سے کم ہو جائیں ۔ لیکن یہ ایک مسلمہ اصول کے طور پرطے شدہ بات ہے کہ اسلام تاریخ کی حرکت کو بھی اعتقادی نظر سے دیکھتا ہے البتہ اس کے اندر علمی ، فکری اور اخلاقی اختلافات اپنی جگہ ناگزیر ہیں۔

ہاں! یہ اور بات ہے کہ تاریخ کا تکامل اور اس کا رشد دین کے دائرہ کے اندر ہے ۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے کہ جو تمام اسلامی مذاہب کے درمیان جزئی امور میں ممکنہ اختلافات کے باجود ایک مشترک فکر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بلکہ علم، ٹیکنا لوجی ، اور اس کی مہارتوں کو اسلام نے اعتبار بخشا ہے اور اس سلسلہ میں شوق دلایا ہے ۔

اسلامی دائرہ اختیار کی جہاں تک بات ہے تویہاں ایک اور ظریف نکتہ یہ ہے کہ اسلام کا قطعی اور یقینی حد فاصل اور اسلامی سرحد کو دیگر سرحدوں سے جدا کرنے والی جوحد بنی وہ کفر ہے یہ اسلام کا اہم اعتقادی خط فاصل ہے جسے اسلام نے قبول کیا ہے ۔البتہ یہ اور بات ہے کہ اسلام کی سرحد سے پرے جو لوگ ہیں ان کے ساتھ بھی معاہدہ ،اور طرفین کی رضا مندی کے ساتھ بننے والے قوانین کی روشنی میں باہمی رواداری کے محور پر اتحاد قائم ہو سکتا ہے اس کے باوجود اگر فقہ ، اخلاق اور کلام اسلامی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ حد فاصل ایک اٹوٹ اور مسلمہ امر ہے ۔     یعنی دوسرے گروہ کے درمیان پائے جانے والے اعتقادی اختلافات ایسے اختلاف کی صورت میں ہیں کہ جن میں علمی اور کسی چیز میں مہارت رکھنے کی بنیاد پر ہونے والے اختلاف کو اعتقادی اختلافات کے ساتھ ساتھ واضح کیا گیا ہے لیکن علم و حکمت اور مختلف علوم میں مہارت کی ترغیب دلانے کے با وجود     ا سلا م نے اپنی حد بندی کو کفر ہی بیان کیا ہے ۔

اس سلسلہ میں اب دامن وقت کی تنگی کی بنیاد پر مزید گفتگوکی گنجائش نہیں ہے اور اس لئے میں اس بحث کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اس منزل پر پہونچے کہ اسلام کی حد بندی کفر ہے دوسری طرف یہ بات بھی ہے کہ اسلام کے اندر ایسے قوانین بھی موجود ہیں کہ جن کی روشنی میں اسلام باہمی رواداری کے ساتھ اپنی حد بندی کے باہربھی زندگی گزارنے کو قبول کرتا ہے۔

ہماری تعلیمات وحدت و اتحاداور بنیادی اصولوں پر باہمی زندگی کا سبق دیتی ہیں اور اس حد بندی کے پرے دوسری طرف اگر باہمی زندگی کا تصور ہے تو اس کی ایک ثانوی حیثیت ہے جو خاص اصول و ضوابط کے تحت زندگی گزارنے کے اسلوب کو بیان کرتا ہے ۔ لیکن یہ تیسرا گروہ جو اسلام سے عبارت ہے جہاں خیمہ اسلام ہے یہاں پر اسلام کی تمام تاکید ”وحدت” پر ہے یہ انسجام اور وحدت شرائط اور حالات کے تابع نہیں ہیں بلکہ یہ وحدت ذاتی اور درونی ہے ۔ یہاں پر جو اہم نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے دونوں گروہوں کے ما بین پائے جانے والے امتیازات کا مشاہدہ کیا ، جہاں اسلام اور کفر کی بات ہے وہاں تاریخ کی حرکت کا انداز اصولوں کے تحت آگے بڑھنے کا ہوگا ۔جہاں مشترک اصولوں کی بات نہیں ہے اور زندگی فقہی اور اعتقادی مبانی پر مشتمل نہیں ہے معنوی اور بنیادی یا فکری مشترکات بھی نہیں ہیں اور بالعموم اسلام کی حد بندی سے باہر زندگی کی بات ہے تو چاہے یہاں ایک محبت یا بنیادی اصولوں پر قائم رہنے کا رشتہ نہ بھی ہو حتی شاید بعض ثانوی احکام بھی نہ ہوں جو مسالمت آمیز زندگی کی بہت سی پیچیدگیوں کو حل کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی رواداری کی دعوت دی گئی ہے ، جبکہ جہاں خیمۂ اسلام ہے وہاں یہ بات ہے کہ الگ الگ فرقے ہیں جن میں ہر ایک خود کو حق پر سمجھتا ہے۔ان فرقوں کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ اپنی مشکلات کو حل کریں اپنے نظریات کو بیان کریں اور یہاں باہمی زندگی اور اتحاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خاص حالات میں اور مخصوص عناوین کے تحت ہم ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوں بلکہ یہاں اتحاد بنیادی ہے اور مشترک عقائد کی بنیاد پر ہے۔ ایسا اتحاد ہے کہ جس کی اسلام نے تاکید کی ہے ۔ اگر کوئی ہماری فقہ کا مطالعہ کرے اور مسلمانوں کے مختلف فرقوں کی فقہ کا جائزہ لے تو اندازہ ہوگا کہ اختلافی موارد بہت کم ہیں ، اسلام کی تاکید مشترکات پر ہے صرف ساتھ ساتھ اٹھنے بیٹھنے پر نہیں ہے بلکہ اسلام فکری ، اعتقادی اور بنیادی ،ہم آہنگی کی روشنی میں اتحاد کی بات کرتا ہے ۔

اسلامی اتحاد دو صورتوں میں جاری و ساری ہو سکتاہے ایک یہ کہ ہمارا مشترکہ دشمن ہے اس کے خلاف متحد رہنا ہے یا ہم دنیاوی مصلحتوں کا لحاظ رکھ کر انہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں اب یہ دو صورتیں ہیں ایک تو دنیاوی مصلحتیں ہیں ہم چاہتے ہیں سکون سے رہیںایک مشترک دشمن کے مقابل متحد ہونا ہے دشمن کے سامنے اتحاد مشترک عقائد اور باطنی اشتراکات سے فروغ حاصل کرتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اتحاد ان تمام مسائل پر محیط ہے، اسلامی اتحاد مشترک عقائد کی بنا پر بھی ہے اور اسلامی امت کی صلاح میں بھی ہے اور مشترک دشمن سے مقابلہ کے لئے بھی ضروری ہے ۔ لیکن ان سب سے اہم اسلامی اتحاد مشترک اعتقاد ، اور مشترک احساس کی سطح پر ضروری ہے اور اس اتحاد کی حفاظت کی ضرورت ہے یہی وہ اتحاد ہے جس کی دینی تفکر میں تاکید کی گئی ہے . یہاں پر یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اتحاد کی تین سطحیں ہیں ایسا نہیں ہے کہ یہ انسجام صرف ایک ضروری وناگزیر حالت پرہواور باقی حالات میںاس کی ضرورت نہ ہو ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مشترک دشمن کی وجہ سے اتحاد ضروری ہے لیکن اس سے بھی گہری بات کا وجود ہے جس پر تمام فرقوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے وہ اتحاد صرف دشمن کے مقابل نہیں ہے بلکہ یہ ایک بنیادی دستو رلعمل ہے ۔

یہاں پر یہ بھی خیال رہے کہ علمی فضا میں مباحث کے مابین گفتگو آزاد رہنا چاہیئے اور یہ ماحول فراہم رہے کہ علمی گفتگو مباحث اور مناظرے ہوتے رہیں البتہ ان تمام چیزوں میں دشمن کی فریب کاریوں پر بھی نظر رہنا ضروری ہے ۔

اور اس بات کا بھی خیال ضروری ہے کہ ہم اپنی فکر کی تبیین اور تشریح میں تحمیل اور زبردستی سے کام نہ لیں ساتھ ہی اپنی فکر کو تحریف ، اور کمزور ہونے سے بچائیں یہ سب وحدت اسلامی کو نقصان پہونچانے والی چیزیں ہیں ایک دوسرے کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بہت بڑی غلطی ہے ۔

یہ غلط ہے مثلاً ہم اہلسنت کی باتوںکو غلط پیرایہ میں توڑ مروڑ کر پیش کریں ادھر سے بھی حملہ ہو ہم بھی حملہ کریں اس بات کوکو ئی بھی برداشت نہیں کرے گا ۔لہذا تحریف اور اضافہ سے پرہیز ضروری ہے ۔ ایک اور بات جو یہاں بہت اہم ہے اور ہم اس میں مبتلا بھی ہیں وہ ایک دوسرے کی تکفیر اور افراط ہے جو ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ ایک دوسرے کو کافر کہنا اور افراط کا شکار ہو جانا اسلامی منطق کے ساتھ سازگار نہیں ہے ۔جو بھی اس راستہ میں آگے بڑھے گا وہ بالکل اس چیز کی طرف قدم بڑھائے گا جس سے پیغمبر (ص) نے منع کیا تھا اگر ہم اپنا مبنا دوسروں کی تکفیر بنا لیں تو یہ سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس مبنا کی کوئی بھی بنیاد نہیں ہے نہ اس کی کوئی فقہی بنیاد ہے نہ اس کی اعتقادی بنیاد ہے جبکہ بسا اوقات بہت سے افراد اسی جال میں پھنس جاتے ہیں ۔

ایک اور اہم چیز اخلاق ، فقہ اور اعتقادات کے دائرہ میں مشترکات پر متحدہونے کی تاکید ہے یہ مشترکات بھی کم نہیں ہیں ۔

 

یہاں پر یہ بات بھی اہم ہے کہ ہمارے تعلیمی ، دینی اور علمی مراکز میں تمام مذاہب اسلامی کے ما بین ایک دوسرے کے ساتھ آشنائی کی فضا فراہم ہو سکے لہذا ایسے مباحث کا ہونابہت ضروری ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ آشنائی اور رابطے کی فضا کو فراہم کر سکیں اس کے لئے تعلیمی نصاب، درسی موضوعات اور نظام الاوقات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

اس مقام پر مشترک تحقیقیں ، اور مشترک تعاون بھی ضروری ہے جسے نظر انداز کرتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ عوامی سطح پر افراط یا ان کے تعصب پر نظارت علماء ، دانشور ، اور مبانی اسلامی پر اعتقاد رکھنے والے سرکردہ افراد کا فریضہ ہے ۔

میری نظر میں یہ اہم نکات ہیں جن پر توجہ ضروری ہے ہندوستان جیسے ملک میں ان امور پر مزید توجہ کی ضرورت ہے اس لئے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جسکا ایک قدیمی اور عظیم الشان تمدن رہا ہے۔ اس ملک میں عمومی طور پر مسلمانوں کا ایک ممتاز کردار رہا ہے لہذا اس ممتاز کردار کو آپسی اختلافات کی نذر ہونے سے بچانا ہے۔ آج پوری دنیا میں اسلامی امت کو وحدت کی ضرورت ہے ترقی کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے ہندوستان جیسے ملک میں جو خود اپنی جگہ ایک عظمت کا حامل ہے مختلف مذاہب و ادیان جہاں پائے جاتے ہیں اور جسکا ایک بے نظیر تمدن رہا ہے ایسا ملک جس میں مسلمانوں نے ممتاز کردار ادا کیا ہے ظاہر ہے ان خصوصیتوں کے حامل ملک میں بیان شدہ نکات پر توجہ کرنا بہت ضروری ہے ۔

میں ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے حوزہ علمیہ اورجامعة المصطفیٰ(ص) میں یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ ہمارے حوزات اپنے شیعی مکتب کی تعلیمات پر اعتقاد رکھتے ہوئے اپنے عقائد اور مبانی پر پختہ یقین رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہمارا موقف یہ ہے کہ اپنے مشترک دشمن کے خلاف متحد ہوں ، اور اپنے مشترک مبانی پر قائم رہتے ہوئے ان پر زور دیں ۔ مذاہب اسلامی سے اپنی آشنائی کو اور زیادہ عمیق بنائیں اور میدان عمل میں اسی چیز پر عمل کریں جسے رسول خدا (ص) اور ان کے اہل بیت ، اصحاب کرام اور ائمہ علیہم السلام چاہتے تھے ۔ ہم ایک دوسرے کو پہچانیں ایک دوسرے کے ساتھ برتائو اور طرز سلوک میں اتحاد و انسجام کو مد نظر رکھیں جسے امت اسلامی کے لئے ایک ضروری امر قرار دیا گیا ہے ۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف سے عالم اسلام پر یلغار ہو رہی ہے مشکلات پر غلبہ پانے اور اسلامی امت کی ترقی نیز اسلامی تمدن کے احیا کے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہمارے طلاب ، ہمارے اساتذہ  اور ہمارے تمام دانشور حضرات ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے اور  امت اسلامی کے متحد ہونے کی راہ میں قدم بڑھائیں ۔

میں ایک بار پھر  اس بات پر تاکید کرتا ہوں کہ ہندوستان کے عظیم سرمایہ کے طور پر یہاں قریب ہزار طلاب ہیں یہ تعداد حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلاب کی تعداد ہے ضروری ہے کہ یہ عظیم سرمایہ دنیا کے تقاضوں کے مد نظر زیور تعلیم سے آراستہ ہو سکے اور اعلیٰ علمی مدارج میں ضروری مہارت کو حاصل کر سکے ان کی نظر ایک عالمی اور بین الاقوامی نظر ہو اور ہندوستان کی سطح پر اپنے دین اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ بالعموم تمام لوگوں کی خدمت کر سکیں، مسلمان جہاں بھی ہوں اپنے ملک کی آبرو اور عزت کا سبب بنیں اور میں ہندوستان کی حکومت کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ دینی حوزات کی فکر ایک عقلی ، منطقی اور غور و فکرو تدبر کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رواداری اور اچھے رابطے کی فکر کی ترجمان ہے اور ہماری سیاست بھی یہی ہے کہ بنی نوع بشر کو اتحاد و ہم دلی کا پیغام دیا جائے  ۔

شیعہ حوزات علمیہ کی سیاست ہر طرح کی افراط و تفریط سے پرہیز کرتے ہوئے بالکل واضح او ر شفاف علمی اور عقلائی محور پر آگے بڑھنا ، اور مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کی فضا فراہم کرنے کے ساتھ تمام ممالک کی ترقی میں شانہ بشانہ شریک ہونا ہے ۔ حتی اگر کوئی ملک مکمل طورپر اسلامی نہ بھی ہو پھر بھی ہماری سیاست یہی ہے اور اس کے لئے طلاب کی فکروں اوران کے وجود میں گہرائی پیدا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ جدو جہد اور سعی پیہم کی ضرورت ہے ۔ مجھے امید ہے کہ ہندوستان کے اساتذہ اور طلاب و افاضل جو کہ ایک سرمایہ ہیں معارف اسلامی کو گہرائی کے ساتھ حاصل کرنے اور ان کی  ترویج میں اور بھی بڑے قدم اٹھائیں اور مختلف علوم میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ معارف اسلامی کی ترویج میں ایک فعال کردار نبھا سکیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

پانزده − سه =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More